Home » ریاست و تعلیم : وحید مراد صاحب کی خدمت میں (4)
تعلیم و تعلم شخصیات وافکار

ریاست و تعلیم : وحید مراد صاحب کی خدمت میں (4)

اب مجھے بھی جناب وحید مراد کی تحریر پر اپنی رائے دینے کا لطف آنے لگا ہے، اور کہیں کہیں تو ”ایلس ان دا ونڈرلینڈ“ کی سنسنی تازہ ہو جاتی ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جناب وحید مراد کا کہنا ہے کہ ”حقیقی سوال ریاست کا نہیں بلکہ مقصدِ تعلیم کا ہے۔ ہم یہ طے ہی نہیں کر سکے کہ تعلیم سے ہم چاہتے کیا ہیں۔ اگر ہمارا مقصد صرف روزگار یا سماجی مرتبے کا حصول ہے تو موجودہ نظام کامیاب ہے، لیکن اگر مقصد ایک باکردار، باشعور اور تخلیقی انسان پیدا کرنا ہے تو ہمیں حقیقی تعلیم کی طرف بڑھنا ہو گا۔ رٹے کے اس نظام نے علم کو انسان سازی کے بجائے محض سماجی مسابقت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جب تک تعلیم کا مقصد انسان کی تکمیل اور شعور کی بیداری نہیں بنتا، تب تک ہر اصلاح خواہ وہ ریاستی ہو یا انقلابی، سطحی ہی رہے گی۔“
میری آرزو ہے کہ ہمارے ممدوح محترم کسی بھی سوال کو حقیقی قرار دے کر بات تو شروع کریں، لیکن وہ شاید ادھر آنا ہی نہیں چاہتے۔ انھوں نے بہت سے بے گھر سوالوں کو اپنی تحریر میں پناہ دے کر خدا ترسی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن سوالوں کی آبادکاری تو علمی مباحث میں ہوتی ہے اور اور ہماری تہذیب کے اجڑے دیار میں ایسے مکان اب باقی نہیں رہے۔ اس لیے پرانی منزلوں کے لیے نئے راستوں کی ضرورت ہے۔ انھوں نے جتنے سوالات اکٹھے کیے ہیں، ان میں سے کسی پر بھی بات چلائی جا سکتی ہے، لیکن وہ ”اگر“ اور ”مگر“ کی تاسف انگیز گفتگو سے آگے نہیں بڑھتے۔ اس طرح کی گفتگو کا حاصل کچھ نہیں ہوتا جب تک ہم اس کو انسان کے زندہ مسائل سے متعلق کرنے میں کامیاب نہ ہوں اور کسی نتیجے پر نہ پہنچیں کیونکہ یہیں سے عمل کے راستے نکلتے ہیں۔ مثلاً، انھوں نے ایک بار پھر اصلاح کا ذکر کیا ہے اور اسے ریاستی یا انقلابی کہا ہے۔ یہ اپروچ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہست و باید کی باہمی نسبتیں مکمل طور پر ختم ہو جائیں کیونکہ تاریخ کا جبر انسانی شعور اور عمل دونوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
گزارش ہے کہ میرے جس شذرے کے جواب میں انھوں نے تین اقساط تحریر فرمائی ہیں اور جہاں سے بات شروع ہوئی تھی ہم وہاں سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بات نہیں کرنا چاہتے اور تاریخ اور معاشرے کے کسی مظہر یا شعور کے کسی حال پر کوئی موقف بھی نہیں بنانا چاہتے۔ ہم شعور کی ایجنسی سے تہی ہیں، اور اپنے سے باہر تاریخ اور اپنے اندر وہم کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ سوال وہیں کا وہیں ہے جس کا جواب فوری مطلوب ہے۔ تاریخی حالات کسی کی رائے کے تحت نہیں ہوتے اس لیے یہ سوال کہ تعلیم عامہ ایک سیاسی فیصلہ ہے ایک صورت حال کو زیر بحث لانے کا ہے۔ اگر تعلیم عامہ سیاسی فیصلہ وغیرہ نہیں ہے تو میری گزارشات بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اگر تعلیم عامہ ایک سیاسی فیصلہ اور اس کے نتائج سے تشکیل پائی ہے تو ہمارے ممدوح محترم کے ارشادات کی کوئی معنویت باقی نہیں رہتی۔
یہاں وہ رٹے کا بھی ذکر کرتے ہیں، بلکہ اس پر انھوں نے ایک کتاب تصنیف کی ہے۔ روایتی اور جدید تعلیم میں بنیادی تصور انسان کو جانے بغیر مختلف تعلیموں کے بارے میں کوئی بامعنی بات نہیں کی جا سکتی۔ تعلیم عامہ کی تشکیل ایک سسٹم کے طور پر ہوئی ہے، اور اس کی ایجنسی جدید ریاست ہے۔ روایتی تعلیم ایک سسٹم نہیں تھی، مذہبی تعلیمات سے جڑی ہوئی تھی، اس لیے اس کی ایجنسی استاد تھا اور پوری تعلیم میں تذکیر اور ذکر (recollection) کی روح سرایت کیے ہوئے تھی، اور جس کا بنیادی ترین مقصد بدلتے ہوئے زمانے میں علم اور عمل میں ہدایت کا استمرار تھا۔ اسی باعث روایتی تعلیم میں جس انسانی ملکے پر انحصار تھا وہ حافظہ تھا۔ انسانی حافظے، شخصی تعمیر اور روایت کی نسبتیں واضح کرنے کا ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے لیکن یہ ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ روایت کے تصور ہی میں زمان موجود ہے، اور یہ temporality اور اس کے مؤثرات کے گہرے شعور سے مملو ہے۔ لہٰذا علم اور تعلیم میں ایسے وسائل و آلات بہم پہنچائے گئے جو انسانی شعور اور عمل پر زمانی تبدیلی کے اثرات پر روک لگا سکیں، تاکہ انسان ہونے کی ہدایتی معنویت کو compromise کیے بغیر زمانے میں باقی رکھا جا سکے۔ روایتی تعلیم میں حافظے کی مرکزیت کا یہ معنی ہرگز نہیں تھا کہ اس کا وقوف (congnition) سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ مذہبی اور عقلی تعلیمات سے مزین و مشحون حافظہ، وقوف (congnition) کی فعلیت اور اس کے دائرۂ کار کا مہیمن ہو۔ حافظے اور وقوف کا مابینی تعلق فطری ہے اور تعلیم اس تعلق کی ایک خاص نہج پر استواری کا طریقۂ کار ہے۔ روایتی تعلیم حافظے اور وقوف کے فطری تعلق کو نامیاتی وحدت میں تبدیل کر دیتی تھی۔ روایتی تعلیم میں حافظہ ایک سکونی (static) اصول کے طور پر ہے جبکہ وقوف (congnitioin) اس تعلیم کا حرکی اصول تھا۔ گو کہ ہماری علمی اور تعلیمی روایت کی استعماری دست برد کا ابھی تک کوئی خانہ زاد اندازہ نہیں لگایا گیا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی تہذیب نے علم کی بہت بڑی روایت پیدا کی جس کا کوئی دوسری تہذیب مقابلہ نہیں کر سکتی۔ روایتی تعلیم میں انسان کا انسان بننا اور انسان رہنا اہم تھا اور تصور انسان عبدیت تھا۔
جدید تعلیم اور علم کے تصور اور عمل میں جدید ریاست کی مرکزیت تحریک تنویر کے ساتھ ہی قائم ہو گئی تھی، اور انسانی شعور اور نفس (شخصیت) کی تشکیل کے وسائل اور ذرائع نامیاتی اور اخلاقی نہیں رہے تھے بلکہ میکانکی اور ٹکنالوجیائی ہو گئے تھے۔ ٹکنالوجیائی سرمایہ داری نظام میں انسان کی اہمیت بطور ایک resource کے بہت تیزی سے بڑھتی چلی گئی تھی اور تعلیم میں ذہانت اور وقوف اہمیت اختیار کرتے چلے گئے، اور حافظے کی اہمیت کم سے کم ہوتی گئی۔ وقوف کے عروج اور حافظے کے زوال میں کتابوں کی کثرتِ اشاعت نے بھی اپنا رول ادا کیا، دوسرے معنوں میں ٹکنالوجی تشکیلاتِ شعور میں بھی بہت اہمیت اختیار کر گئی۔ معاشرے میں روایت کی تخریب اور فرد میں حافظے کی تدمیر متوازی عمل تھے جس میں مینؤل نے حافظے کی جگہ لے لی اور انسانی شخصیت کے نامیاتی پن میں کمی کی وجہ سے بیگانگی کا نیا مظہر سامنے آیا۔ انسانی شخصیت اور ذہن کی تعمیر میں بنیادی چیز وہ نسبتیں ہیں جو تعلیمی ذرائع سے حافطے (memory) اور وقوف (congnition) میں قائم کی جاتی ہیں۔ جدید تعلیمی عمل سے یہ فطری اور نامیاتی نسبتیں بہت کمزور اور موہوم ہو چکی ہیں۔ روایتی تعلیم میں، تدریس اور آموزش کا بنیادی فریضہ حافظے کی تزئین اور بھرپائی تھی اور یہ کوئی میکانکی عمل نہ تھا کیونکہ ایسا حافظے کی تشکیل وقوف (congnition) سے زندہ اور فعال تعلق کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ جدید تعلیم میں حافظہ اور وقوف دونوں کو حرکی اصول بنا دیا گیا کیونکہ انسان کی تشکیل خود اس کے اپنے لیے بے معنی ہو گئی اور اس کی ذات سے خارج میں مادی اور معاشی مؤثرات کے لیے ایک resource کے طور پر زیادہ ضروری ہو گئی۔ جدید تعلیم حسی دائرے میں موجود data کی مسلسل وقوفی ترتیب نو ہے اور جو حافظے کو حرکی بنائے بغیر ممکن نہیں ہے۔
حافظہ، وقوف (congnition) اور تخیل سے مساوی نسبتیں رکھتا ہے۔ جدید تدریسی وسائل سے صرف حافظہ ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ انسانی تخیل کی موت بھی واقع ہو گئی ہے۔ جدید تعلیم کا واحد مقصد ہی وقوف (congnition) یعنی جاننے کے پورے عمل کو انفس سے خارج میں مادی اور معاشی ضروریات میں کھپا دینا ہے کیونکہ انسان سے خارج یعنی آفاق میں کوئی راستہ ماورا کی طرف نہیں جاتا۔ جدید تعلیم کا دوسرا بڑا مقصد انسانی انفس سے ماورا کے طرف جانے والے ہر راستے کو مکمل طور پر بلڈوز کر دینا ہے، اور یہ راستے حافظے اور تخیل سے ہوتے ہوئے ماورا کی طرف نکلتے ہیں۔ تعلیمی ذرائع سے حافظے کی غارت سے انسان کی اخلاقی جہت کمزور ہو جاتی ہے، اور تخیل کے خاتمے سے مذہب اور آرٹ باقی نہیں رہتا۔
رٹا روایتی معنوں میں حافظے کی تزئین و تشکیل کا نام نہیں ہے۔ جدید تعلیم کا بنیادی مقصد حافظے اور تخیل کی قیمت پر وقوف (congnition) کو مضبوط بنانا ہے۔ رٹا ایک ایسی آموزش ہے جس میں محتویٰ کا تعلق حافطے اور وقوف دونوں سے یکساں کمزور ہو جاتا ہے اور تخیل کی عمودی جہت کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ بھی مادی resource کے طور پر باقی رہتا ہے۔ حافظہ ایک ملکہ ہے جبکہ یاد اس کا فعل ہے۔ رٹے کا حافظے سے تعلق واجبی ہوتا ہے اور اس کی بنیاد یاد ہوتی ہے یعنی حافظے کو صرف اس حد تک استعمال کیا جاتا ہے جتنا یاد کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ حافظہ انسانی شخصیت کے نفسی پہلو (affective        aspect) کا مرکز ہوتا ہے، اس لیے اس کی تشکیل نو اصل میں انسان کی تشکیل نو ہے۔
جناب وحید مراد فرماتے ہیں کہ ”جب مذہب کو تعلیم یا ریاست کے سانچے میں ڈھالنے کی بات کی جاتی ہے تو یہ اعتراض عام طور پر سامنے آتا ہے کہ مذہب اپنی روحانیت کھو کر محض ایک “آلاتی” یا رسمی شے بن جاتا ہے۔ یہ خیال بظاہر درست محسوس ہوتا ہے مگر اس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ مذہب اور دنیا دو الگ دائرے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب، عقل اور معاشرت انسان کے ایک ہی شعوری تجربے کے مختلف پہلو ہیں۔ اس موضوع کا صحیح فہم اسی وقت ممکن ہے جب ہم ان تینوں کے باہمی تعلق، تضادات اور تکمیلی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر گفتگو کریں۔
”اصل سوال یہ نہیں کہ مذہب، تعلیم یا ریاست میں شامل ہو یا نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ ان تینوں کے مابین اخلاقی اور فکری توازن کس طرح قائم کیا جائے تاکہ روحانی اقدار، عقلی آزادی اور سماجی ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہ بنیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کریں۔ اگر تعلیم محض سیکولر ہو تو انسان خالی القلب رہ جاتا ہے اور اگر صرف مذہبی ہو تو سوال اور جستجو کی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ انسانی تربیت کی تکمیل ان دونوں کے توازن ہی سے ممکن ہے۔“
گزارش ہے کہ تاریخی حالات کے زیر اثر معاشروں کی علمی استعداد بھی متاثر ہوتی ہے اور انسانی شعور ایسی علمی ہیئتوں میں الجھ جاتا ہے جن کی حیثیت اوہام کی طرح ہوتی ہے، اور اس طرح کے علوم شعور اور عمل میں productive نہیں بن پاتے۔ مثلاً، جناب وحید مراد نے میری ایک پوسٹ کا جواب لکھا جس میں واقعاتی صورت حال کو عرض کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ تعلیم عامہ بنیادی طور پر ایک سیاسی فیصلہ ہے اور یہی فیصلہ اس سماجی اور معاشی حقیقت کا تشکیل کنندہ ہے۔ اس گزارش میں التباس کا امکان (illusion) تھا کہ رسی کو سانپ سمجھ لیا گیا ہو یا سانپ کو رسی کہہ دیا گیا ہو، اور گفتگو کو اسی قضیے پر آگے بڑھنا چاہیے تھا۔ مجھے یہ حیرت ہے کہ اس میں یہ سوال کیسے پیدا ہو گیا کہ ”… یہ خیال بظاہر درست محسوس ہوتا ہے مگر اس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ مذہب اور دنیا دو الگ دائرے ہیں۔“ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مذہب اور دنیا کا ایک دائرے یا دو دائروں سے متعلق ہونے کا زیر بحث سوال سے کیا تعلق ہے؟ جو واقعاتی یا حقیقی یا تاریخی صورت حال ہے اور جو موجود ہے اور روزمرہ کارفرما ہے، جس پر روزانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور کروڑوں لوگ اس کا حصہ ہیں، اس کے بارے میں ہمارے ممدوح محترم ابھی فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ ہے بھی یا نہیں؟ ایسا علم جو ہست و باید سے بے نیاز ہو انسانوں کے لیے کبھی بھی کسی بھی سطح پر مفید نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کے بدنصیبی اور محرومی کو بڑھا دیتا ہے۔ میں ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ یہاں معاملہ گھٹنے اور آنکھ سے کہیں آگے کا ہے۔ مجھے کچھ کچھ اعضائے رئیسہ کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
ہمارے ممدوح محترم میرے عرض کردہ شاید پیش پا افتادہ اور روزمرہ حقائق کی طرف التفات نہیں فرمانا نہیں چاہتے کیونکہ انھیں زیادہ بڑی حقیقتوں کا علم ہو گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”حقیقت یہ ہے کہ مذہب، عقل اور معاشرت انسان کے ایک ہی شعوری تجربے کے مختلف پہلو ہیں۔“ کسی مکالماتی تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہو سکتا ہے، اور اس کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ لیکن ہمارے ہمہ قسم متداول علوم امر واقعہ سے تو کوئی صاحب سلامت رکھتے نہیں اور حقیقت نفس الامر کی طرف لپکتے ہیں اور اس کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔ مذہب تاریخ میں اترنے والی الوہی حقیقت ہے، عقل ایک انسانی ملکہ ہے جبکہ معاشرت روزمرہ زندگی کا ایسا معمول اور تجربہ ہے جس سے قانون اور سیاسی طاقت خارج ہو۔ لیکن ہمارے ممدوح محترم کی ندرتِ شعور کا کمال یہ ہے کہ وہاں ان تینوں کا ملن واقع ہو گیا۔ علامہ اقبالؒ نے ایک سیاسی بوالعجبی کا ذکر کیا تھا، اور یہ علمی بوالعجبی ہے اور رشتے میں اس کی چھوٹی ہمیشرہ معلوم ہوتی ہے۔ پتہ نہیں ایسی الل ٹپ تحریروں کا ہمیں کیا علمی فائدہ ہو سکتا ہے، اور ایسی ہمشیرگانِ بے نسب سے ہماری جان کب چھوٹے گی۔
ہمارے ہاں لکھی جانے والی تحریروں میں ظاہر ہونے والی association         of           ideas بہت کڈھب ہوتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ تصورات کا میلا سا لگ گیا ہے۔ وہ میلے کی ایک مشہور کہانی ہے کہ وہاں ایک مراثی کا کمبل گم ہو گیا تھا لیکن ہمارے علمی میلوں میں ردائے تہذیب ہی تار تار ہو جاتی ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں نے جو روزمرہ مشاہدہ عرض کیا تھا وہ کسی جعلی سوال سے پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ہمارے ممدوح محترم اصل اور حقیقی سوالات کے تعاقب میں پورا میلا گھومنے پر بضد ہیں۔ اب پھر ممدوح محترم ایک اور ”اصل“ سامنے لاتے ہیں کہ ”اصل سوال یہ نہیں کہ مذہب، تعلیم یا ریاست میں شامل ہو یا نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ ان تینوں کے مابین اخلاقی اور فکری توازن کس طرح قائم کیا جائے تاکہ روحانی اقدار، عقلی آزادی اور سماجی ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہ بنیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کریں۔“ اگر ”اصل“ اور ”حقیقی“ سوالات کا تانتا یونہی بندھا رہا تو نہ جانے جوابات کہاں سر چھپائیں گے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ممدوح محترم کے مذکورہ توازن کے حصول کے لیے ہمیں کوانٹم تھیوری آف گریویٹی کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ یہ کوئی تکوینی قسم کا توازن معلوم ہوتا ہے۔
دراصل، انسانی علم مدرکات کے اظہار کا نام ہے۔ حسی مدرکات براہ راست مظاہر سے جڑے ہوتے ہیں اور ان کا شمار بدیہیات میں ہوتا ہے۔ نظری مدرکات مظاہر کی پنہانی نسبتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ نظری مدرکات عموماً علم کی بنیاد بنتے ہیں اور انھی کے اظہار کے لیے تحریریں لکھی جاتی ہیں۔ یہ بات کہنے کی بھی ضرورت نہیں کہ اپنے اپنے دائروں میں اخلاقی اور جمالیاتی مدرکات بھی غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ لیکن اخلاقی، جمالیاتی اور نظری مدرکات میں امتیازات کا خاتمہ علم کی موت ہے۔ انسانی کلیت سے جڑے ہوئے مدرکات کو الگ الگ زیربحث لانا ایک مشکل امر ہے، لیکن یہ علم کی ضرورت اور معنویت ہے ورنہ شاعری اور تھیوری میں امتیاز باقی نہیں رکھا جا سکتا۔ نظری مدرکات کا اظہار ہمیشہ تصورات میں ہوتا ہے اور اسی باعث اس میں پیچیدگی اور ادق پن داخل ہو جاتا ہے۔ جمالیاتی اور نطری مدرکات کے اظہار کے پیرائے بھی بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ہست براہ راست انہی نظری مدرکات سے جڑا ہوتا ہے جبکہ باید کا تعلق زیادہ تر اخلاقی اور جمالیاتی مدرکات سے ہوتا ہے۔ گزارش ہے کہ association         of           ideas کے پہلے سے طے شدہ ”قوانین“ کے بغیر نظری مدرکات اظہار پا ہی نہیں سکتے۔ کچھ خاص تہذیبی حالات کی وجہ سے، اردو میں متولد نظری مدرکات اکثر اسپیشل نومولود ہوتے ہیں۔ اردو میں ظاہر ہونے والے نظری مدرکات ہر طرح کے معروض سے لاتعلق ہوتے ہیں، اور اکثر ہست و باید کے شماریاتی ملغوبے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایسی خوبصورت اور الل ٹپ تحریریں اسی طرح کی کتابوں کے مطالعے پر مبنی ہوتی ہیں۔
اردو میں اظہار کی ایک اور صفت کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ شاعری کے غلبے کی وجہ سے ہمارا قومی ذہن consistent اور constant انداز میں کام نہیں کر سکتا اور مرگی کے جھٹکوں کی طرح اپنی کارکردگی سامنے لاتا ہے۔ ذہنی کارکردگی کا یہ اسلوب نظری تحریروں کا آغاز ہی نہیں ہونے دیتا۔ مرگی زدہ جمالیاتی ادراک شاعری کی ضرورت ہو سکتی ہے جہاں ان مل بے جوڑ پیکرات کا اظہار قابل قبول اور داد پذیر ہوتا ہے۔ اسی باعث ہمارے ہاں نثر میں لکھی جانے والی کتابوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ وہ جتنی بے سروپا ہوں گی اتنی ہی مقبول ہوں گی۔ اس میں سیاست، فکشن اور غیرفکشن ہر طرح کی تحریریں شامل ہیں۔ مثلاً اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، اور اسی طرح کے دیگر مصنفین کی تحریروں نے ہمارے قومی شعور کی فطری ساخت ہی کو فنا کر دیا ہے۔ ہر معروض سے منقطع مکشوفات، خواب نگر کی مہمات، لنڈورے تصورات کے بیانات، ہچکیاتے تجربات کے پیکرات اور مسخ شدہ احساسات کے میلے میں بھلا نظری مدرکات کی کیا اوقات ہو سکتی ہے؟

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں