علم کی بحث میں ایک مشکل یہ تصور ہے کہ علم بھی اعتقاد (belief) ہے، پھر اگلا قدم یہ کہنا ہوتا ہے کہ دیکھو اعتقاد تو مقلد ( imitator or blind follower) کا بھی ہوتا ہے، پھر اس سے اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ دیکھو ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ علم تو آگیا لیکن تصدیق (assent) نہیں پائی گئی، پھر مزید اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اعتقاد و یقین تو مشرک کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ علم کی بحث میں ایک مشہور فارمولا یوں چلتا ہےknowledge is justified true belief۔
یہ خلط مبحث حقائق کو خلط ملط کرنے سے جنم لیتے ہیں۔ علم اعتقاد (belief) نہیں ہے، علم فیکٹو سٹیٹ ہے جو حقیقت سے متعلق ہوتا ہے اور (حادث علم کی صورت میں) دلیل پر مبنی ہوتا ہے۔ اعتقاد ایک معتقد کا ذاتی حال ہے اور بس، جس کا نہ حقیقت کے مطابق ہونا اور نہ ہی دلیل پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ اعتقاد تو hallucinated شخص کا بھی ہوتا ہے لیکن اسے حاصل حال اس شخص کا حال نہیں ہوتا جو ادراک (veridical perception) سے حاصل ہوتا ہے، اسی لئے hallucinated شخص کے حال کو علم نہیں کہتے۔ اسی طرح اعتقاد جازم (firm belief) مقلد کو بھی حاصل ہوتا ہے، پھر اس نے دلیل جان لی، تو دونوں کیفیات میں اگرچہ اس کا حال مطابق واقعہ ہوتا ہے لیکن دلیل جاننے کے بعد جو حال اسے میسر ہوتا ہے اگر اس کا نام بھی کوئی اعتقاد جازم رکھتا ہے تو نام رکھنے میں جھگڑا نہیں لیکن یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں احوال یکساں نہیں ہوتے، فافھم (یہی وجہ ہے کہ مثلاً مقلد کا اعتقادی حال چھوٹے چھوٹے شبہات سے متزلزل رہتا ہے)۔ اسی لئے اہل علم کے ہاں ان کے نام بھی الگ ہیں: ایک حال کو تقلید کہتے ہیں اور دوسرے کو علم و یقین۔ خلط مبحث تب شروع ہوتا ہے جب کوئی یوں سوچتا ہے کہ دونوں کی مشترک حقیقت و ماہیت (common essence) اعتقاد جازم ہونا ہے، بس کبھی یہ دلیل کے ساتھ ہے اور کبھی بغیر دلیل کے تاہم ہر دو صورت ان کی ماہیت ایک ہی ریتی ہے، جبکہ درست بات یہ ہے کہ نہ یہ دونوں یکساں نفسی احوال ہیں اور نہ اعتقاد نامی ایک ہی فیملی کے ممبر۔ یہ وجودی طور پر (metaphysically) ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
حقائق کو خلط ملط کرنے کی اسی غلطی کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دیکھو یقین تو ان لوگوں کو بھی ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مثلاً خدا سینکڑوں ہیں یا خدا ہے ہی نہیں وغیرہ۔ ان لوگوں کو علم یا یقین حاصل نہیں ہوتا، ان کا محض اعتقاد ہوتا ہے اور اس مثال کا اعتقادی حال جہل کہلاتا ہے۔ چونکہ جہل کی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی اس لئے کہ وہ مطابق واقعہ نہیں ہوتا (دلیل کہتے ہی اس شے یا حقیقت کو ہیں جو اپنی ذات کی بنا پر کسی شے یا حقیقت پر دال ہو جبکہ جہل حقیقت کے خلاف ہوتا ہے تو اس پر کسی شے کے دلیل بننے کا کوئی مطلب نہیں)، لہذا ان لوگوں کو وہ فیکٹو سٹیٹ میسر نہیں ہوتی جسے علم و یقین کہتے ہیں۔ اس بات کو یاد رکھو کہ علم اور جہل میں اعتقاد نامی کوئی حقیقت مشترک و مساوی نہیں، یہ یکسر الگ احوال ہیں۔ جس طرح hallucinated شخص کا حال اور مدرِک کا حال یکساں نہیں ہوتا، اسی طرح جاہل اور عالم کا حال یکساں نہیں ہوتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مثلاً کسی استاد سے علم حاصل کرنے سے قبل اور بعد تمہارا حال یکساں نہیں ہوتا؟ یاد رکھنا چاہئے کہ علم و یقین کسی شے کی جانب بہت زیادہ زور دار طریقے سے اعتقاد رکھنے کو نہیں کہتے۔ اب اگر یہ سمجھ آجائے تو یہ بات بذات خود بے معنی ہوجاتی ہے کہ ایک شخص کو وہ فیکٹو سٹیٹ تو میسر ہے جسے علم و یقین کہتے ہیں لیکن اس کے ذہن و قلب میں تصدیق نہیں ہے۔ ایں خیال است محال است (اس فیکٹو سٹیٹ کا حصول اس تصدیق کو متضمن ہے، فافھم)۔
حقائق کو خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ جن مفکرین نے پہلے قدم پر علم کو فیکٹو سٹیٹ کے بجائے ذھنی ساخت کی تشکیلات وغیرہ قرار دیا ان کے ہاں علم محال ہوگیا، نتیجتاً یہ لوگ اعتقاد نام کی مختلف اقسام میں علم تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
علم کی حقیقت کی بحث میں ایک غلط فہمی لوگوں کو یہ لاحق ہے کہ علم صرف اس شے کو کہا جاسکتا ہے جو کسی شے کی مکمل حقیقت یا ماہیت کا کشف ہو۔ پھر اس کے ساتھ یہ لوگ یہ مفروضہ ملا لیتے ہیں کہ شے کی مکمل حقیقت جیسے کہ اس کا بالاخر مقصد صرف خدا جانتا ہے اور یہ اس کے نبی سے معلوم ہوسکتا ہے، اس سے گویا ثابت ہوا کہ علم کشف حقیقت نہیں بلکہ وہ ایمان سے حاصل ہوتا ہے (بعض لوگ اس بات کو اٹھا کر کانٹ کی بات سے بھی ملا دیتے ہیں جو بالکل فضول بات ہے)۔ تاہم یہ بھی خلط مبحث ہے۔ میرے سامنے اس وقت ایک شے ہے جو دیوار کہلاتی ہے اور وہ سفید ہے، یہ دونوں باتیں حقیقت اور ان سے متعلق میرا ادراک علم ہے۔ پانی مثلاً 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلتا ہے، اسے پینے سے میری پیاس بجھتی ہے، یہ بھی علم ہے۔ دنیا میں چیزیں تبدیل ہورہی ہیں (یعنی حدوث کا شکار ہیں)، یہ بھی علم ہے۔ جس چیز کو حدوث لاحق ہو وہ حادث ہوتی ہے، یہ بھی علم ہے۔ حادث کو محدث کی احتیاج ہوتی ہے، یہ بھی علم ہے۔ حادث اگر موجود ہے تو محدث بھی یقیناً موجود ہے، یہ بھی علم ہے۔ حادث کا سبب علت موجبہ ( necessitating factor) نہیں بلکہ علت موجدہ (existence granting factor) یا فاعل ہوتا ہے، یہ بھی علم ہے۔ الغرض یہ سب قضایا علم و کشف حقائق ہی ہیں، اگرچہ مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کائنات کو بنانے والے کے نزدیک اس کا یا مثلاً پانی کا مقصد کیا ہے یا پانی پینے سے مجھے اس کے بنانے والے کے ہاں ثواب ملے گا یا عقاب۔ دلیل سے میں نے پہچان لیا کہ عالم کی علت چونکہ علت موجدہ ہے، لہذا اس کے لئے افعال کرنا جائز ہے۔ پھر میں نے دلیل سے جان لیا کہ عالم کا بنانے والا انسانی اغراض سے ماورا ہے تو مجھے معلوم ہوگیا کہ انسانی اغراض کو عالم کے خالق پر پراجیکٹ کرکے اس کے افعال کی نوعیت متعین کرنا محال ہے، یہ بھی علم ہے۔ پھر ایک شخص کے اس دعوے میں سچائی پر دلیل قائم ہوگئی کہ وہ خدا کا نمائندہ ہے، تو اس کے اس دعوے کی تصدیق کرنا علم ہے اس لئے کہ یہ بھی سچ ہے۔ اس شخص نے بتا دیا کہ مثلاً تمہارے خالق کے نزدیک فلاں وقت میں تمہارا پانی پینا حرام (یعنی موجب عقاب) ہے و فلاں میں جائز ہے، اس کی اس بات کی تصدیق کرنا علم ہے اس لئے کہ خدا کی جانب سے خبر دینے میں اس کا سچا ہونا علم ہے۔ اس مقام پر یہ کہنا کہ علم صرف یہ آخری بات ہے اور صرف اسی سے پانی کی حقیقت کا کشف ہوا، یہ غلط فہمی ہے۔ اگر ایک شخص اس سچے شخص کی بات نہ مان کر افعال سر انجام دے تو یہ یقیناً جہل ہے، لیکن یہ قضیہ اپنی جگہ علم (یا ایک حقیقت کا کشف) ہے کہ مثلاً پانی 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلتا ہے۔ یہ ہے وہ درست طریقہ بحث جسے نہ سمجھنے سے بھی خلط مبحث جنم لیتے ہیں۔




کمنت کیجے