قانون وراثت اور تزکیہءِ اخلاق:
بقا وفلاح ہر انسان کا مقصدِ زندگی ہے۔ انسان درحقیقت لازوال بقا وفلاح کا طالب ہے، مگر اس کا حصول اس کے بس میں نہیں۔ خالق کائنات اپنی کتاب، قرآن مجید میں یہ خبر دیتا ہے کہ انسان کے لیے دائمی بقا و فلاح کا حصول ممکن ہے ۔یہ منزل اسے اس کے رب کی خوش نودی سےحاصل ہوگی، جس کے لیے اسے اپنے نفس کا تزکیہ کرنا ہوگا ۔ اس تزکیہءِ نفس کی تکمیل کے لیے خدا نے ایک ہدایت نامہ بھیجا ہے، جسے دین کہتے ہیں۔ پھرجس نے تزکیہءِ نفس سے کام نہ لیا، اپنے نفس کو آلودہ کیا، اسے ابدی خسران کا سامنا ہوگا۔
تزکیہءِنفس تین پہلوؤں سے مطلوب ہے:
تزکیہءِ اخلاق
تطہیر بدن
تزکیہءِ خورونوش
آئندہ سطور میں زیر بحث موضوع، قانون وراثت، تزکیہ ءِ اخلاق سے متعلق ہے، اس لیے تزکیہءِ نفس کے دیگر دو پہلو بحث سے خارج ہیں۔
تزکیہءِ اخلاق کا مطلب ہے کہ خدا اور بندوں کے ساتھ معاملات میں انسان اخلاقی تقاضوں کی پاس داری عدل و احسان کے مطابق کرے اور حق تلفی اور زیادتی سے اجتناب کرے۔
تزکیہءِ اخلاق سے متعلق اصولی آیت درج ذیل ہے:
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90]
“بے شک، اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔”
مالی معاملات کا تعلق عدل و احسان سے بھی ہے، اور ایتائے ذی القربی سے بھی اور منفی طور پر حق تلفی (منکر) اور زیادتی ( بغی ) سے بھی۔ یہ بنیادی طور پر بندوں سے متعلق ہیں، لیکن خدا نے ان سے وابستہ اخلاقی تقاضوں اور ان پر مبنی ضابطوں کی پابندی کا حکم دے کر انھیں خود سے بھی متعلق کر لیا ہے۔ چنانچہ ان کے بارے میں انسان خدا کو جواب دہ ہے۔ اب یہ امتحان ہے جو انسان کو درپیش ہے، جس کا نتیجہ اس کی کامیابی یا ناکامی کی دو میں سے ایک صورت میں نکلے گا۔
مال و دولت انسان کی بقا اور آسایش کا سبب ہیں۔ اس کی شدید ضرورت اس سے شدید محبت پیدا کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان اگر دوسروں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے اتر آئے تو اپنے نفس کو بخل،لالچ اور ظلم سے آلودہ کر لیتا ہے۔ چنانچہ خدا نے انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے، ازراہِ شفقت کچھ نصیحتیں کی ہیں اور کچھ حدود مقرر کیے ہیں، جن کی خلاف ورزی قابل مواخذہ اور قابل سزا جرم ٹھہرا دی ہے۔
مثلاً، ادھار کے لین دین کے معاملے کو ضبط تحریرمیں لانے اور اس کے لیے گواہ بنانےکی نصیحت کی ہے۔ گواہ بنانے میں عورت کا انتخاب کرنا پڑے تو ایک کی بجائے دو عورتوں کو منتخب کرنے کی ہدایت کی ہے کہ درپیش حالات میں ایک عورت اپنی ناتجربہ کاری کے سبب گواہی اور جرح کے موقع پر گھبرا جائے تو دوسری اس کا سہارا بن سکے۔ ان نصائح کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تنازعات کا سد باب ہے، تاکہ ان کے دل بغض و عداوت سے آلودہ نہ ہوں۔
دوسری طرف تنبیہ کی گئی کہ دوسروں کا مال باطل طریقوں سے کھانا منع ہے۔ چنانچہ کم تولنے، رشوت دے کر دوسروں کا حق مارنے، یتیم کا مال دبا لینے، اور حق مہر دینے میں بخل سے کام لینے سے منع کیا ہے۔ جوئے اور سود کو ممنوع قرار دیا ہے۔ چوری اور ڈاکہ زنی کی سزائیں مقرر کیں ہیں اور مال غنیمت کی تقسیم اور قانون وراثت دے کر مالی تنازعات کو رفع کیا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر مثبت طور پریہ حکم دیا کہ اپنے زائد مال کا ایک حصہ لازماً ضرورت مندوں کی بہبود میں خرچ کریں، بلکہ اپنی ضرورتوں سے زائد سارا مال خدا کی خوش نودی کی خاطر اس کے ضرورت مند بندوں کی بہبود میں خرچ کر دیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ کریں تو یہ نیکی کا اعلی درجہ ہے۔
درج بالا مثالوں میں معاملات کی نوعیت، سنجیدگی اور پیچیدگی کا فرق ہے جو ایک معاملے کو نصیحت و ارشاد کے دائرے میں رکھتا ہے اوردوسرے کو قانون، گناہ اور جرم کے دائرے میں لے جاتا ہے۔ چنانچہ فرد اگر اعتماد کا ماحول پا کر ادھار کا معاملہ بغیر کتابت اور گواہوں کے کرنا چاہے، یا مالی معاملات کو سمجھنے والی، پر اعتماد اور تجربہ کار خواتین دستیاب ہو جائیں اور وہ فقط انھیں گواہ مقرر کر لے، تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن قانون کے دائرے حدود اللہ ہیں جن میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی، چنانچہ قانون وراثت دینے سے پہلے اس کی فرضیت کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا:
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (النساء 4: 7)
“(تمھارے) ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں، اُس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور (تمھارے) ماں باپ اور اقربا جوکچھ چھوڑیں، اُس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک متعین حصے کے طور پر۔”
پھر قانون وراثت کے بیان کے بعد بتایا کہ یہ حدود اللہ میں سے ہے، چنانچہ جس نے اطاعت کی اسے ابدی کامیابی ملے گی اور جس نے نافرمانی کی راہ اختیار کی اسے ابدی خسران کا سامنا ہوگا:
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ (النساء 4: 13-14)
“یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن کا لحاظ کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی ٹھیرائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنھیں وہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔”
خدا کے ان ارشاد و قوانین سے خدا کی رحمت و شفقت، اس کے علم و حکمت اور اس کے عدل و انصاف کا اظہار ہوتا ہے۔
قانون وراثت کا جواز:
انسان کے اصل رشتے اس کے والدین اور اولاد ہیں۔ والدین کے رشتے سے بہن بھائی بھی اس کے قریب ترین رشتے ہیں۔ ان کی بہبود و بقا اس کی فطری خواہش ہے۔ تاہم، ان میں سے بھی وہ اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ انھیں اپنا قائم مقام سمجھتا ہے۔ ان سےجو منفعت اسے متوقع ہوتی ہے وہ دیگر اقربا سے نہیں ہوتی۔ چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کا مال اس کی اولاد کے لیے نفع رسانی کا باعث بنے، جیسے اس کی زندگی میں وہ ان کے لیے نفع کا باعث تھا۔ اسی سے یہ مسلّمہ قدر پیدا ہوئی کہ ترکے کی اصل حق دار اولاد ہے۔ اس سے بدیہی طور پر یہ طے ہوا کہ اگر کسی دوسرے کو ترکے میں سے کچھ دینا ہے تو وہ سب دینے کے بعد باقی ترکہ اولاد میں تقسیم ہوگا، چاہے اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں یا صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہوں۔ یعنی، اصلا سارا ترکہ (ماترک) اولاد کا ہے، مگر عملاً انھیں بقیہ ترکہ (مابقی) تقسیم ہوتا ہے۔ تقسیم وراثت کا یہی طریقہ ہے جو قرآن مجید نے اپنے قانون وراثت میں ملحوظ رکھا ہے۔
اولاد کے علاوہ دیگر قریبی رشتہ دار جیسے والدین، بہن بھائی، اور زوجین کو بھی ترکے میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے، کیونکہ انسان اپنی پرورش، حمایت، معاونت اور رفاقت کے مختلف فوائد ان سے بھی حاصل کرتا ہے۔ اولاد اگر نہ ہو تو ان رشتوں کی قدر اور منفعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ بہن بھائیوں کو اولاد کی جگہ دیتا ہے، کیونکہ ان سے اسے وہ منفعت متوقع ہوتی ہے جو اولاد سے حاصل ہوتی ہے۔ بہن بھائی بھی نہ ہوں تو والدین، خاص طور پر والد یہ منفعت مہیا کرتا ہے۔ منفعت کی اس ترتیب سے اصل وارث اولاد، پھر بہن بھائی اور پھر والدین بنتے ہیں۔ قرآن مجید کے قانون وراثت میں یہی ترتیب ملحوظ ہے۔
اصل وارثوں میں سارا ترکہ (مابقی) تقسیم ہو جاتا ہے، سوائے یہ کہ ورثا عورتیں ہوں۔ ان کے لیے ترکے میں مخصوص حصے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی کفالت کی ذمہ داری ہے، جسے میت کے بعد خاندن کا جو شخص اٹھاتا ہے، اسے بقیہ ترکے کا حق دار ٹھیرایا گیا ہے۔
زوجین کا تعلق اگرچہ نسبی نہیں مگر رفاقت کے اعتبار سے سب سے قریبی ہے۔ تاہم، یہ تعلق چونکہ اٹل نہیں، طلاق سے ختم ہو سکتا ہے اور شوہر کی وفات کی بعد عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے، اس لیے رفاقت کی منفعت انھیں ایک دوسرے کی وراثت کے ایک حصے کا حق دار تو بناتی ہے مگر اصل وارث نہیں بناتی۔ اس لیے ان کا مقررہ حصہ کل ترکے میں سے دیا جائے گا۔
ترکے میں ورثا کے حصے اگر بلا امتیاز مساوی مقرر کیے جاتے تو عدل کے تقاضے پورے نہ ہوتے۔ مورث کے لیے ورثا کی خدمات، ان کی منتوع ضروریات اور ان کی رفاقت اور کفالت کے منافع یکساں نہیں۔ ان امتیازات کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے حصے مقرر ہونے چاہییں۔ مگر ان حصص کی حتمی اور منصفانہ تقسیم، جو سب کے لیے قابل قبول ہو، انسان کے علم و عقل کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ یہ معاملہ خدا کی طرف سے طے کر دیا جائے تاکہ سچے مومنین خدا کے علم و حکمت پر اپنے ایمان کے سبب اس پر صاد کریں گے اور ان کے دلوں میں دیگر ورثا کے لیے کدورت پیدا نہ ہو۔ نیز، یہ قانون ان کے ایمان و اطاعت کی آزمایش بنے، جس کا نتیجہ انھیں آخرت میں ملے گا۔
فرد کی وصیت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل:
فرد کی وصیت یا کسی عمومی قانون کی عدم موجودگی میں اولاد سے اپنے حصے وصول کرنا دیگر اقربا کے لیے باعث نزاع ہونا لازم ہے۔ قانون وراثت کی عدم موجودگی میں ابتداءً انفرادی وصیت ہی سے دفع نزاع ممکن ہے۔ چنانچہ قانون وراثت دینے سے پہلے خدا نے بھی فرد پر لازم کیا کہ وہ اپنے والدین اور دیگر اقربا کے حصوں کے لیے وصیت کر جائے:
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (البقرۃ 2: 180)
“(اِسی طرح مال کے نزاعات سے بچنے کے لیے) تم پر فرض کیا گیا ہے کہ تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آ پہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور قرابت مندوں کے لیے دستور کے مطابق وصیت کرے۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر یہ حق ہے۔ ”
یہاں اولاد کے لیے وصیت کرنے کا نہیں کہا گیا، کیونکہ ان کا اصل وارث ہونا بداہتاً طے تھا۔ چنانچہ والدین اور اقربا کا حصہ نکالنے کے بعد بقیہ وراثت اولاد میں تقسیم ہو جاتی تھی۔
یہی معاملہ ولایت و دوستی کے حصے کا تھا۔ عرب کے خاص رواج کے مطابق جس شخص یا قبیلے کے ساتھ وابستگی اختیار کر لی جاتی تھی، اسے وراثت میں بھی شریک سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے لازما وصیت کی جاتی تھی۔ تاہم، قانون وراثت کے بعد اولیا کا حصہ ختم کر دیا گیا، سوائے یہ کہ کوئی اپنے ولی کے لیے کوئی وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے:
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا (الاحزاب 33: 6)
“مگر رحمی رشتے رکھنے والے خدا کے قانون میں دوسرے تمام مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، الاّ یہ کہ اپنے تعلق کے لوگوں سے تم کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ اِسی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔”
قانون وراثت دیے جانے سے پہلے فرد پر لازم تھا کہ اپنے احساس عدل کے مطابق اپنا ترکہ تقسیم کرے۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ ورثا موصی کے ذاتی احساس عدل پر مبنی تقسیم سے اتفاق کریں۔ انفرادی وصیت نزاعات کا بالکلیہ خاتمہ نہیں کرسکتی تھی۔ رقابت و خفگی رحمی رشتوں کو قطع اور نفوس کو آلودہ کر سکتی تھی، جو تزکیہءِ نفس اور مقصد دین کے خلاف تھا۔ اس لیے ضروری ہوا کہ خدا کی طرف سے عدل عمومی پر مبنی ایک قانون وراث دیا جائے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ موصی نے واقعی عدل سے کام لیا ہو۔ چنانچہ ترکے کی تقسیم کا سارا اختیار موصی کے پاس ہو تو اس کی طرف سے حق تلفی یا جانب داری کے ثبوت کے بعد بھی اس کی وصیت نافذ ہوتی، جس سے ورثا کے درمیان نزاع پیدا ہوتا۔ انسانی تاریخ ایسے الم ناک نزاعات کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چنانچہ قانون وراثت دیے جانے سے پہلے مجاز اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ موصی کی طرف سے حق تلفی کے ثبوت پر وصیت میں اپنے طور پر اصلاح کر دے:
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرۃ 2: 182)
“جس کو، البتہ کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو اور وہ اُن کے درمیان صلح کرادے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔”
یہ بھی ممکن تھا کہ کوئی وارث وصیت ہی کو تبدیل کرنے کی سازش کرے:
فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرۃ 2: 181)
“پھر جواِس وصیت کو اِس کے سننے کے بعد بدل ڈالے تو اِس کا گناہ اُن بدلنے والوں ہی پر ہو گا۔ (اُنھیں یاد رکھنا چاہیے کہ) یقینااللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔”
اس صورت میں نزاع کا فیصلہ بھی مجاز اتھارٹی کرتی۔ تاہم، مجاز اتھارٹی بھی انسانی علم و عقل کے دائرے ہی میں عمل پیرا ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ تسلیم تو کر لیا جاتا ہے مگر اس کے لیے دلوں کی رضامندی حاصل نہیں کی جا سکتی اورکدورت رفع نہیں ہو سکتی۔چنانچہ ضروری تھا کہ موصی کی طرف سے حق تلفی ثابت ہونے پر ترکہ خدا کی طرف سے دیے گئے قانون کے مطابق تقسیم ہو۔
اگر صاحب مال ہی یہ چاہے کہ اس پر کوئی الزام نہ آئے اور معاملہ کوئی اور اتھارٹی طے کردے تو بھی ضروری تھا کہ عدل عمومی پر مبنی قانون وراثت موجود ہو۔
درج بالا وجوہات سے خدا کی طرف سے قانون وراثت دیا گیا۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اسے تسلیم کریں اور اگر وہ سچے ایمان والے ہیں تو اس پر خوش دلی سے راضی بھی ہوں۔ اس طرح ورثا کے دلوں کی کدورتوں کو رفع کر دیا گیا جس سےتزکیہ نفس کی راہ آسان بنا دی گئی۔
قانون وراثت دیے جانے کے بعد فرد پر اپنے مال میں وصیت کرنے کا لزوم ختم ہو گیا، کیونکہ اب جو وصیت نہیں کرے گا، اس کا ترکہ خدا کی وصیت، یعنی قانون وراثت کے مطابق تقسیم ہو جائے گا۔
تاہم، ترکے کی تقسیم کا سارا اختیار قانون کو دے دیا جاتا تو انفرادی احوال کے تنوعات کے لیے گنجایش ختم ہو جاتی ہے ،اور یہ بھی عدل کے خلاف ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ عدل عمومی عدل حقیقی کو مستلزم ہو۔ چنانچہ قرآن مجید کےقانون وراثت میں مورث کے حق وصیت کی اولیت دیتے ہوئے، خدا نے اپنی وصیت (قانون وراثت) کو موخر کیا، کیونکہ موصی اپنے ورثا کے حالات کے مطابق انفرادی وصیت کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔ اس کی اس وصیت پر کوئی قدغن بھی نہیں لگائی۔ چنانچہ وہ تمام ترکے کی وصیت کر سکتا ہے۔ البتہ اسے نصیحت کی ہے کہ ورثا میں سے کسی کو شعوری طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے اور عدالت میں ثابت ہو جائے تو سورہ بقرہ کی آیت 182 کے تحت اس کی وصیت کالعدم قرار پائے گی اور قرآن مجید کے قانون وراثت کے مطابق تقسیم عمل میں آئے گی۔
تقسیم وراثت کی بنیاد:
کسی بھی قانون کی طرح تقسیم وراثت کے عمومی قانون کی تشکیل کے لیے کوئی ایسی بنیاد یا معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا جو انفرادیت کی حامل ہوں۔ اقربا سے محبت وشفقت اور ان کی خدمت و ضرورت انفرادی نوعیت رکھتی ہیں، جن میں تنوع پایا جاتا ہے۔ اقربا سے محبت و شفقت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، ان سے حاصل ہونے والی خدمات متنوع اور ان کو درپیش ضرورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کے لحاظ سے مورث ان کے لیے وصیت کرنا چاہے تو اس کی وصیت کی گنجایش انفرادی وصیت میں رکھی گئی ہے۔ قانون وراثت میں اس کو معطل نہیں کیا گیا۔ مورث کی وصیت پر کوئی قید نہیں لگائی گئی ۔ چنانچہ خارج سے اس پر کوئی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ سورہ النساء کی متعلقہ آیات میں وصیت کا بیان کسی قید کا تقاضا کرتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے، سوائے رشتہ داری کی بنیاد پر وصیت کے۔ محض رشتہ داری کی بنیاد پر ورثا کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ رشتہ داروں کے حصے خدا نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر مورث چاہے تو بہ شرط عدل اپنی پوری جائیداد کے لیے وصیت کر سکتا ہے۔ چنانچہ ورثا میں سے کسی کا حق خدمت یا اس کی ضرورت متقاضی ہو تو ان کے لیے ایسے ہی وصیت کی جا سکتی ہے جیسے غیر ورثا کے لیے۔
“قرابت” تقسیم وراثت کے لیے ایک معروضی بنیاد بن سکتی تھی۔ لیکن اس صورت میں ورثا کی جنس، یعنی مرد عورت ہونےاور ان کے مورث اور اس کے لواحقین کے حق میں مفید و مضر ہونےکا فرق بھی موثر نہیں رہتا۔ اس لحاظ سے یکساں تقسیم خلاف عدل ہوتی۔ نیز، مورث کو اپنے مضر ورثا کو عاق کرنے کا اختیار نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ اس کا وارث اسے قتل کر دے تو اسے بھی وراثت سے محروم کرنے اور اس طرح مورث کو اس کے ضرر سے محفوظ رکھنے کی کوئی بنیاد اس قانون میں نہ ملتی۔ اس صورت میں مضر وارث کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے خارج سے دفعِ ضرر کے عمومی قانون کا سہارا لینا پڑتا۔ یوں بہرحال، قانون میں ایک نقص کا اعتراف کرنا پڑتا۔
قرآن مجید نے تقسیم وراثت کے قانون کی بنیاد قرابت نافعہ کو بنایاہے۔
ارشاد ہوا ہے:
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (النساء 4: 11)
“تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ منفعت تم سے قریب تر ہے۔”
ورثا کی منفعت ان کی خدمت، حمایت، رفاقت اور کفالت کی صورتوں میں حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ منفعت بھی ہے جو مرنے والا اپنی زندگی میں ان سے حاصل کرتا ہے اور وہ بھی جو اس کے پس ماندگان کے لیے مرحوم کے قریبی رشتہ داروں سے متوقع ہوتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ورثا صرف عورتیں ہوں۔ ان کی کفالت عام طور پر قریب ترین مرد رشتہ دار کرتا ہے، اس لیے ان عورتوں کا حصہ دینے کے بعد بقیہ ترکے کا وراث اسے بنایا گیا ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات فرمائی ہے :
ألحقوا الفرائض بأھلھا، فما ترکت الفرائض فلأولٰی رجل ذکر.(رقم ۶۷۴۶)
’’وارثوں کو اُن کا حصہ دو، پھر اگر کچھ بچے تو وہ قریب ترین مرد کے لیے ہے۔”
اولاد کی منفعت:
اولاد کا حقِ وراثت فطری بنیاد رکھتا ہے۔ ان کی کفالت و بہبود انسان کی ذمہ داری ہے۔ یہی چیز انھیں میت کے ترکے کا اصل حق دار بناتی ہے۔ البتہ ان کے درمیان ترکے کی تقسیم کی ان کی منفعت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔اولاد سے ملنے والی خدمت، حمایت اور کفالت دیگر اقربا کی نسبت مقدم ہے۔ ان کی خدمت سے راحت، ان کی حمایت سے دفاع اور بڑھاپے کی ناتوانی میں ان سے کفالت کی سہولت میسر آتی ہے۔
خدمت میں بیٹے اور بیٹیاں مساوی ہیں، جب کہ حمایت اور کفالت بیٹوں کی ذمہ داری ہے۔ بیٹیاں اپنے شوہر کے گھر سدھار جاتی ہیں، ان پر والدین کی کفالت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے بیٹے بیٹیوں سے انفع ہوتے ہیں ،اور اسی لیے وراثت میں بیٹوں کا حصہ بیٹیوں سے دوگنا ہے۔
بیٹوں اور بیٹیوں کے حق وراثت میں ایک اور دو کے تناسب کا فرق اس صورت میں بھی برقرار رکھا گیا ہے جب وارث صرف ایک بیٹی ہو۔ چنانچہ اسے ترکے کے نصف کا مستحق قرار دیا گیا ہے، بہ خلاف ایک بیٹے کے، اسے پورے ترکے کا حق دار بنایا گیا ہے۔
اسی طرح بیٹیاں دو ہوں تو وہ دو تہائی ترکے کی مستحق ہیں۔ یہ اس لیے کہ وارث اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو تو ایک نسبت دو کے لحاظ سے ایک بیٹی ایک تہائی ترکے کی مستحق ہوتی ہے۔ اس حساب سے دو بیٹیاں مل کر دو تہائی کی حق دار بنتی ہے۔ البتہ، دو سے زائد بیٹیوں کی صورت میں بھی وہ دو تہائی ہی کی حق دار ٹھیرائی گئی ہیں۔ اس مقدار کو اس لیے نہیں بڑھایا گیا کہ لڑکیوں کو کفالت کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ جو شخص میت کی جگہ اس کا قائم مقام بن کر ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے، بقیہ ترکہ اسے دیا جائے۔ یہ ذمہ داری عام طور پر قریب ترین مرد رشتہ دار ادا کرتا ہے۔ اس کی یہ منفعت اسے بقیہ مال کاحق دار بناتی ہے۔




کمنت کیجے