
محمد طلحہ
صدر ٹرمپ اور ابراہیمی معاہدہ (Abrahamic Accords) تجزیاتی مطالعہ
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران دو باتیں خاص طور پر نمایاں رہیں:
پہلی یہ کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لے تو یہ ان کی عزت افزائی ہو گی۔
دوسری یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب “ابراہیمی معاہدہ” (Abrahamic Accords)میں شامل ہو جائے۔ اگرچہ 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ” ابراہیمی معاہدہ” وجود میں آیا بظاہر یہ ایک سیاسی و معاشی گفتگو تھی، مگر درپردہ اس کے بڑے فکری اور تہذیبی مضمرات ہیں۔
ذیل میں اس معاہدے کی حقیقت اور اسلامی تہذیب پر اس کے مضر اثرات ملاحظہ کریں :
1۔ اسرائیل کی تسلیم شدگی کا دباؤ
امریکہ اور مغرب طویل عرصے سے مسلم ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔ سعودی عرب کو مرکزی ہدف بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کا دعویدار ہے۔
2۔ ابراہیمی معاہدہ کی حقیقت
اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ،یہودی اور عیسائی ، تینوں چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا مقتدا مانتے ہیں ، اس لئے ان کے درمیان باہمی تعاون ہونا چاھیئے ۔یہ محض سیاسی نہیں بلکہ فکری و تہذیبی منصوبہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو باقی مذاہب کے برابر کھڑا کر کے اس کی انفرادیت ختم کر دی جائے۔
3۔ مذہب کو محدود کرنے کی کوشش
یہ تو ابراہیمی معاہدہ کے لئے مدت سے زمین ہموار کی جارہی ہیں ، چنانچہ علمی سطح پر یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ مسلمان ، یہودیوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ۔ اگر یہ کوشش اسی مقصد سے ہوتی کہ کسی بھی معاشرے میں جب ان تینوں مذاہب کے پیروکار موجود ہوں ، تو وہ امن وامان کے ساتھ رہیں ، اور مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے جان ومال کا نقصان نہ کریں، اس حد تک تو غلط نہ ہوتی ۔
اور دوسرے ان تینوں مذاہب کے لئے ابراہیمی خاندان کی اصطلاح ایجاد کی گئی کہ مسلمان ، یہودی اور عیسائی سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ، اور سب ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں تو پھر نتیجہ یہ سامنے آتا کہ ان مذاہب میں حق وباطل کا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ یہ سب ایک ہی ہیں تو واضح طور پر یہ نتیجہ سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ سارے ادیان برحق ہیں اور ان میں سے کوئی بھی نجات اخروی کے لئے لازمی نہیں ہے ،اور دوسری بات کہ یہ تاثر دینا کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، سب ” ایک ہی قوم ” (امت واحدہ) ہیں ۔ یہ غلط ہے اس لئے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو کفار سے الگ مستقل امت قرار دیا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﳲ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ92
بےشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً واحِدَةً وَلٰكِن لِيَبلُوَكُم في ما آتاكُم ۖ فَاستَبِقُوا الخَيراتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم جَميعًا فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تا کہ جو (شریعتیں ) اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا وہ بات جس میں تم جھگڑتے تھے۔
یہ آیات واضح طور پر یہ بتارہی ہیں کہ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ” ایک امت ” نہیں ہیں ۔
عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مذہب کو صرف اخلاقیات اور ذاتی عقائد تک محدود رکھا جائے، تاکہ وہ سیاست، قانون اور معاشرت پر اثر انداز نہ ہو۔
4۔ امت مسلمہ کی رکاوٹ
دنیا کی تمام قوتوں کے باوجود مسلم عوام مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبردار نہیں ہو رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کو ہدف بنایا گیا ہے۔
5۔ بین المذاہب مکالمہ یا سازش؟
“مکالمہ” اور “ہم آہنگی” کے نام پر اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ ان کا دین بھی باقی مذاہب کی طرح محض ایک روایت ہے۔
6۔ ابراہیمی مذاہب کا نعرہ
یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو “ابراہیمی مذاہب” کہا جاتا ہے۔ بعض مغربی دانشور ہندو مت کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
7۔ خاندان ابراہیم ہاؤس
ابوظہبی میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ کو ایک ہی کمپلیکس میں تعمیر کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ مذاہب کی سرحدیں ختم کی جا سکتی ہیں۔
8۔ مذہبی شناخت کو مٹانے کی حکمت عملی
یہ منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں کو ان کی انفرادیت چھوڑ کر “مشترکہ مذہبیت” میں ضم کر دیا جائے۔
9۔ حضرت ابراہیمؑ کا اصل مقام
قرآن میں واضح طور پر ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
“ملۃ ابیکم ابراہیم ہو سماکم المسلمین” (الحج: 78)۔
لیکن یاد رکھئیے کہ یہ نسبت صرف اسی وقت معتبر ہے جب حضرت محمد ﷺ پر ایمان لایا جائے۔
10۔ قذافی کا متنازعہ مؤقف
1973ء کی ایک عالمی کانفرنس میں معمر قذافی نے کہا تھا کہ مسلمان کہلانے کے لیے صرف حضرت ابراہیمؑ کی نسبت کافی ہے۔
- حسین الشافعی کا دوٹوک ردّعمل
اس وقت مصر کے نائب صدر حسین الشافعی نے فوراً کہا کہ محمد ﷺ کو آخری نبی مانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا۔
12۔ ختمِ نبوت کی بنیادی شرط
اسلام کا سب سے اہم عقیدہ یہی ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس کے بغیر اسلام ادھورا اور ناقابلِ قبول ہے۔
13۔ قرآن مجید کا اعلان
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
“ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ” (آل عمران: 85)۔
اس سے واضح ہے کہ صرف اسلام ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول ہے۔
14۔ ابراہیمی معاہدہ کا اصل مقصد
یہ معاہدہ صرف امن یا سفارت کاری نہیں بلکہ اسلام کی انفرادیت کو توڑنے اور ختمِ نبوت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
15۔ امت مسلمہ کے لیے بڑا چیلنج
یہ معاہدہ مسلمانوں کے عقیدے، تہذیب اور سیاسی وجود کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
16۔ اتحادِ مذاہب کا باطل نظریہ
اسلام باقی ادیان کا احترام کرتا ہے لیکن اپنی حقانیت اور برتری پر بھی قائم ہے۔ تمام مذاہب کو برابر قرار دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
17۔ دانشوروں کی ذمہ داری
علماء و مفکرین پر لازم ہے کہ وہ اس سازش کو بے نقاب کریں اور امت کو فکری طور پر تیار کریں۔
18۔ عوام کی بیداری
عام مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی دینی شناخت اور ختمِ نبوت کے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
19۔ سیاسی قیادت کا امتحان
مسلمان حکمران اگر عالمی دباؤ میں آ کر ایسے معاہدات قبول کریں تو یہ ان کی دینی و تاریخی ذمہ داری سے فرار ہے۔
نتیجہ :
ابراہیمی معاہدہ دراصل ایک عالمی فکری منصوبہ ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی اصل سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے خلاف علمی، فکری اور سیاسی ہر محاذ پر مزاحمت ضروری ہے۔ اسلام کی حقانیت، ختمِ نبوت کی حقیقت اور امت کی انفرادیت پر ڈٹ جانا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
حوالہ جات
- قرآن مجید، سورۃ الحج: 78
- قرآن مجید، سورۃ آل عمران: 85
- روزنامہ اسلام، لاہور، 15 مئی 2025ء
- ابو ظہبی: “Abrahamic Family House” (سرکاری ویب سائٹ، 2023)
- عالمی کانفرنس سیرت النبی ﷺ، طرابلس، 1973ء (خطاب معمر قذافی)
- حسین الشافعی کا ردعمل (اخباری رپورٹس مصر و لیبیا، 1973ء)
- تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفسیر مظہری (الحج 78 اور آل عمران 85 کی تشریحات)
- معاصر علماء: مولانا زاہد الراشدی، ڈاکٹر اسرار احمد، شیخ یوسف القرضاوی کے بیانات و خطبات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد طلحہ صاحب جناح جامع اسکول اینڈ کالج ہری پور ہزارہ میں بطور لیکچرر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔




بہت خوب ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ