Home » مسئلے کا حل یا پیوندکاری؟
اسلامی فکری روایت تاریخ / جغرافیہ فقہ وقانون

مسئلے کا حل یا پیوندکاری؟

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شریعت نے عورت کے لیے وراثت میں حصے مقرر کرکے اسے ملکیت کا جو حق دیا ہے وہ بہت سے دیندار گھرانوں میں بھی خواتین کو میسر نہیں ہوتا، اور اگر کبھی انھیں ان کے شرعی حصے دیے بھی جائیں، تو ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات ختم کردیے جاتے ہیں۔ غیر شادی شدہ خاتون اگر کاروبار کرے، تو عموماً اس کے کاروبار پر اس کے بھائیوں کا قبضہ ہوتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو، تو کاروبار شوہر کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ نوکری کی صورت میں بھی اس کی تنخواہ دوسروں کے تصرف میں ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ گھریلو خاتون ہو جو نوکری یا کاروبار کے بجائے ساری توجہ اور توانائی گھر پر صرف کرے، تو اس صورت میں تو وہ ویسے ہی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ طلاق کو ہمارے معاشرے میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور مطلّقہ خاتون کے لیے اس کے اپنے سگے بہن بھائی بھی اجنبی ہوجاتے ہیں۔ بیوہ کا حال اس سے بھی برا ہوتا ہے، دوبارہ شادی آسانی سے نہیں ہوتی اور اسے والدین یا بھائیوں کے گھروں میں ’دوسرے درجے کے شہری‘ کی طرح زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کو ان باتوں میں مبالغہ لگتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں میں صورتحال ایسی نہیں ہے۔ تاہم ان باتوں کو جوں کا توں قبول کیا جائے، تب بھی سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل اسلامی احکام پر عمل کرنے سے پیدا ہوئے ہیں یا ان کی خلاف ورزی سے؟ ان مسائل کا حل اسلامی قانون کی ایک اور خلاف ورزی میں تلاش کرنا چاہیے، یا حل اسلامی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عائلی امور میں اسلامی اصولوں کو نظر انداز کرکے جب بھی قانون سازی ہوئی یا عدالتی فیصلے آئے، مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگئے۔ یتیم پوتے کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی قانون نے تفصیلی نظام دیا ہے لیکن اس نظام کو قبول کرنے کے بجائے 1961ء کے آرڈی نینس کے ذریعے اس کے لیے وراثت کا حق تخلیق کیا گیا اور مسلمانوں کے قانونِ وراثت میں ہندو رواج کے تصور ’قائم مقامی‘ کی پیوند کاری کی گئی۔ نتیجے میں یتیم پوتے کا مسئلہ کیا حل ہونا تھا، دیگر ورثا کے حقوق بھی پامال ہوگئے۔ اسی طرح طلاق کے اسلامی قانون میں مغربی تصورات کی پیوند کاری کے نتیجے میں لوگوں نے طلاق کے بعد سابق بیویوں کے خلاف زنا کے پرچے کٹوانے شروع کردیے جس کا ملبہ حدود آرڈی نینس پر ڈال دیا گیا، حالانکہ مسئلے کی جڑ عائلی قوانین کی دفعہ 7 میں تھی اور سپریم کورٹ نے ’علی نواز گردیزی بنام کرنل محمد یوسف‘ مقدمے میں یہ قرار دے کر کہ ’قانون یہ سمجھتا ہے کہ طلاق واپس لی جاچکی ہے اور وہ بدستور میاں بیوی ہیں‘ مسئلے کو مزید گمبھیر کردیا تھا۔ 1988ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے ’بشیراں بنام محمد حسین‘ مقدمے میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں قرار دیا کہ طلاق بھی موثر تھی اور اس کے بعد کیا گیا نکاح بھی درست تھا۔ یوں سابق بیویوں کے خلاف زنا کے پرچے کٹوانے کا سلسلہ جو ’لبرل قانون سازی‘کی وجہ سے شروع ہوا تھا اسلامی شریعت کی وجہ سے رک گیا۔ تاہم عائلی قوانین آرڈی نینس بدستور نافذ رہا اور دیگر مسئلے بھی برقرار رہے۔
آرڈی نینس کی عمر تو 120 دن ہوتی ہے لیکن اس آرڈی نینس کو مارشل لا کے دوران جبراً نافذ کیا گیا، پھر ایک اور مارشل لا کے ذریعے اس کو آئینی تحفظ فراہم کرکے اس کے مسلسل نفاذ کو یقینی بنایا گیا۔ 1980ء میں پشاور ہائی کورٹ کی شریعت بنچ نے ’مسماۃ فرشتہ‘ مقدمے میں اس کی دفعہ 4 کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا، تو اپیل میں سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر شریعت بنچ کے پاس یہ مقدمہ سننے کا اختیار ہی نہیں تھا، اس فیصلے کو ختم کردیا۔ 1994ء میں سپریم کورٹ نے ’ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل‘ مقدمے میں قرار دیا کہ آئین کی دفعہ 227 میں توضیح کے اضافے کے بعد سے آئین میں ’مسلم شخصی قانون‘ سے مراد ریاست کا بنایا ہوا قانون نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی وہ تعبیر ہے جسے ہر فرقے نے اپنے لیے اختیار کیا ہے۔ پس ایک جانب یہ طے پایا کہ سنی فقہ کو اہلِ تشیع پر، اور شیعی فقہ کو اہلِ سنت پر نافذ نہیں کیا جاسکتا؛ اور دوسری طرف یہ بھی قرار پایا کہ وفاقی شرعی عدالت نکاح و طلاق اور متعلقہ امور پر کی گئی قانون سازی کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس فیصلے نے ’مسماۃ فرشہ‘ مقدمے کا فیصلہ غیر مؤثر کردیا۔
اس کے بعد شرعی عدالت نے اس آرڈی نینس کی متعدد دفعات کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی اور پھر دسمبر 1999ء میں ’اللہ رکھا بنام وفاقِ پاکستان‘ مقدمے کے فیصلے کے ذریعے وراثت اور طلاق کے متعلق دفعات کو اسلامی شریعت سے متصادم قرار دیا۔ اس کے باوجود یہ قانون 26 سال بعد بھی آج تک صرف اس وجہ سے ملک میں نافذ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف کی گئی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں سماعت نہیں ہورہی!
طلاق کا غیر اسلامی قانون جبراً نافذ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل اپنی جگہ، لیکن ان مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ’عدالتی خلع‘ کے نام سے ایک ایسا نظام وضع کرنے سے ہوا جس نے ’تنسیخِ نکاح کے قانون 1939ء‘ کو یکسر غیر مؤثر کردیا۔ 1967ء میں ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ مقدمے کے فیصلے کے بعد ’آٹو میٹک خلع‘ کا سلسلہ شروع ہوا اور خواتین کو شوہروں کی جانب سے مسائل کی صورت میں بھی شوہروں کو ذمہ دار قرار دینے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے نکاح کا بندھن ختم کرکے مقدمہ ’نمٹانے‘ کی پالیسی اختیار کی گئی۔ ایسی صورت میں ’آزادی کی قیمت‘ خاتون کوہی ادا کرنی ہوتی تھی۔ پھر عدالتوں نے اصل غلطی کو سنوارنے کے بجائے خلع کی قیمت سے ہی جان چھڑانے کی طرف توجہ کی اور ہم اسلامی قانون سے مزید دور ہوگئے۔
دیگر ممالک سے ہی تصورات ادھار لینے ہیں، تو اردن میں موجود دو اداروں کی طرف کیوں نہ دیکھا جائے؟ یہ دونوں ادارے اسلامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہیں اور عثمانی خلافت کے دور سے رائج ہیں۔ ’قاضی حقوق القاصرین‘ کا کام اپنے زیرِ اختیار علاقے میں ان لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے جو خود اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے، جیسے یتیم، بیوہ، مطلقہ وغیرہ؛ جبکہ ’الاصلاح الاسری‘ کا تعلق خاندانی تنازعات کے غیر عدالتی حل سے ہے۔ حیرت ہے کہ ہر معاملے میں ’تنازعات کے متبادل حل‘ پر زور دینے والے ہمارے بہت سے فاضل ججوں کی توجہ اس امر کی طرف کیوں نہیں جاتی کہ عائلی تنازعات میں ہمارے قانون نے ’اصلاح‘ اور ’متبادل حل‘ کا دائرہ بہت ہی محدود کیا ہوا ہے اور اس وجہ سے ہر چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ عدالت میں جا پہنچتا ہے جہاں اس کے فیصلے میں، نہ کہ حل میں، کئی سال لگ جاتے ہیں!
ڈیڑھ سو سال سے پہلے جب عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ’شادی ایک سول معاہدہ ہے‘، تو اس کے نتائج آج تک ہمارا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ اب جبکہ عدالتیں اس معاہدے کو ’شراکتی کاروبار‘ قرار دے رہی ہیں، تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ وقانون کے چیئرمین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

(mushtaq.dsl@stmu.edu.pk)

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں