Home » غزالی کے پیچھے چھپنا چھور دیں !۔
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار کلام

غزالی کے پیچھے چھپنا چھور دیں !۔

امام غزالی کی جانب “میٹافزکس کی بنیاد پر تکفیر کرنے” کی بات دھرنے والے حضرات کی غلطی کو ہم گاھے بگاھے امام صاحب کی عبارات کی روشنی میں واضح کرتے رہے ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔

یہ حضرات میٹافزکس سے وہ امور مراد لیتے ہیں جو حس میں آنے والے حقائق سے پرے ہیں اور جن کے ذریعے ان حسی امور کے وجود کی توجیہہ کی جاتی ہے یا جن کی طرف ان حسی امور کو لوٹایا (reduce کیا) جاتا ہے۔ عام طور پر اس سے کچھ کلی قسم کے مقولات مراد لئے جاتے ہیں جیسے زمان، مقدار، کیف وغیرہ۔ کانٹ نے چونکہ یہ سبق پڑھایا کہ اس قسم کے میٹافزیکل امور کا انسانی ذھن کے سوا خارج میں کوئی تحقق نہیں، لہذا کانٹ سے متاثر اور غزالی سے ان پڑھ مگر ان کی عظمت کے قائل ہمارے ھیرو ورشپر مفکرین کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کسی طرح یہ دکھایا جائے کہ امام صاحب نے میٹافزکس کو پہلے ہی رد کردیا تھا اور اسے ماننے والوں کی تکفیر کی تھی۔ پھر چاہے اس کے لئے کتنی ہی دروغ گوئی سے کام لینا پڑے وہ سب روا ہے۔

لیکن ان حضرات کو یہ معلوم نہیں کہ جسے یہ میٹافزکس کہتے ہیں اس کا مصداق صرف ارسطو و ابن سینا و اہل عرفان کی باتیں نہیں بلکہ اشاعرہ و ماتریدیہ تمام حسی حقائق کو جن جواھر و اعراض میں بند یا رڈیوس کرتے ہیں، وہ بھی سو فیصد میٹافزکس ہی ہے! خود امام غزالی نے بطور اشعری کتاب “الاقتصاد” (جو “تھافت” کے بعد لکھی گئی) کے پہلے باب میں تمام موجودات کو ان تین میں بند کیا ہے: (الف) جوہر، (ب) عرض اور نہ جوہر و نہ عرض اور یہ ذات باری ہے (نعلم أن كل موجود اما متحيزاً أو غير متحيز، وأن كل متحيز إن لم يكن فيه ائتلاف فنسميه جوهراً فرداً، وإن ائتلف إلى غيره سميناه جسماً، وإن غير المتحيز أما أن يستدعي وجوده جسماً يقوم به ونسميه الأعراض، أو لا يستدعيه وهو الله)۔ یہ سب میٹافزکس ہے اور امام غزالی اسی کو بنیاد بنا کر عالم کو حادث ثابت کرتے ہوئے خدا کے وجود کی دلیل وضع فرماتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، امام صاحب نے خدا کی تنزیہہ کے باب میں جتنے امور کو گنوایا ہے وہ سب اسی میٹافزکس پر قائم کئے گئے ہیں: مثلاً یہ کہ خدا جوہر، عرض، جسم، مکان، زمان وغیرہ سے منزہ ہے، پھر نصوص میں مذکور بعض صفات باری، جنہیں اسی میٹافزکس کی بنا پر متشابھات کہتے ہیں، ان پر ہونے والی بحث بھی اس میٹافزکس پر مبنی ہے۔ اس میٹافزکس کا پرچار امام غزالی آخری دم تک کرتے رہے، آپ کی زندگی کی دو آخری کتب “المستصفی” اور “الجام العوام” دونوں میں آپ اس میٹافزکس اور اس کے احکام پر قائم رہے۔ پس اگر ابن سینا پر کفر کی وجہ میٹافزکس کو ماننا تھا تو ان مفکرین کے مطابق غزالی خود اپنے ہی فتوے کی ذد میں رہے اور انہیں تمام عمر اس کی خبر نہ ہوسکی!

اب ایک آخری بات نوٹ کیجئے۔ اگر ان لوگوں کو میٹافزکس کے انکار اور اس کے لئے اسلامی تاریخ میں کسی حوالے کا اتنا ہی شوق چڑھا ہوا ہے تو خود کو غزالی کا سجادہ نشین دکھانے کے بجائے ان بعض محدثین کا دامن پکڑیں جو جوھر و عرض کی بات کرنے والوں پر بھی بدعت کا فتوی لگاتے تھے (اور بعض لوگ اب بھی لگاتے ہیں)، ان کا اعتراض بھی یہ تھا کہ ذات باری کی صفات کی بحث میں تم ایسے امور کیوں لاتے ہو جو نصوص میں مذکور نہیں؟ ان کے نام سے یہ کانٹین منجن شاید زیادہ حفاظت سے بیچا جاسکتا ہے (لیکن “میٹافزکس کفر ہونے” کے فتوے سے آپ کو بہرحال یہاں بھی تائب ہونا پڑے گا)۔ الغرض غزالی کے پیچھے چھپنا چھوڑ دیں، اس راستے سے آپ صرف اپنا مذاق ہی اڑوائیں گے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں