Home » نئی دینی زبان کی ضرورت
زبان وادب کلام

نئی دینی زبان کی ضرورت

وسیم رضا ماتریدی

زبان محض الفاظ، قواعد اور جملوں کا نظام نہیں۔ انسان زبان کے ذریعے صرف اپنی بات بیان نہیں کرتا، بلکہ اپنے وجود کو بھی معنی دیتا ہے۔ ہم جس طرح دنیا کو دیکھتے، اپنے آپ کو سمجھتے، اپنے دکھ، محبت، خوف، امید، تنہائی اور خدا سے تعلق کو محسوس کرتے ہیں، ان سب کی تشکیل میں زبان شریک ہوتی ہے۔ اسی لیے میرے نزدیک زبان کا مسئلہ بنیادی طور پر انسانی وجود اور معنی کا مسئلہ ہے، اور جب ہم ’’دینی زبان‘‘ کی بات کرتے ہیں تو یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں زبان کو ایسی حقیقتوں کی ترجمانی کرنا ہوتی ہے جو محسوس دنیا سے ماورا بھی ہیں اور انسانی وجود کے سب سے داخلی تجربے سے وابستہ بھی ہے۔

میرے لیے دینی زبان کا سوال صرف یہ نہیں کہ مذہبی متون میں استعمال ہونے والے الفاظ کے لغوی یا اصطلاحی معنی کیا ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ دین انسان سے کس زبان میں گفتگو کرتا ہے؟ خدا، وحی، محبت، خوف، امید، قرب، دعا، توبہ، معرفت، فنا، بقا، آخرت اور غیب جیسے حقائق انسانی شعور میں کس طرح معنی اختیار کرتے ہیں؟ اور وہی الفاظ، جو ایک عہد کے انسان کے لیے زندگی سے بھرپور تھے، دوسرے عہد کے انسان کے لیے کبھی اجنبی، رسمی یا بے اثر کیوں ہو جاتے ہیں؟

یہیں سے میرے نزدیک ’’دینی زبان‘‘ کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔دین اپنی اصل میں محض معلومات کا مجموعہ نہیں۔ وہ انسان کو ایک نئی خبر دینے کے ساتھ ایک نئی نگاہ، ایک نیا شعور اور ایک نئی نسبت کے ساتھ نئی تہذیب بھی عطا کرتا ہے۔ وہ انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ خدا ہے؛ وہ انسان کو خدا کے حضور کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔ وہ صرف آخرت کی خبر نہیں دیتا؛ وہ موجودہ زندگی کو آخرت کے شعور میں دوبارہ مرتب کرتا ہے۔ وہ صرف محبت کا حکم نہیں دیتا؛ وہ انسان کے اندر محبت کی ایک ایسی کیفیت پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں دوسرے انسان، کائنات اور خود اپنی ذات کے معنی بدل جائیں۔

اسی لیے دینی زبان کو صرف احکام، عقائد اور اصطلاحات کی زبان سمجھ لینا میرے نزدیک اس کے دائرۂ معنی کو بہت محدود کر دینا ہے۔ دینی زبان خبر بھی دیتی ہے، سوال بھی اٹھاتی ہے، ضمیر کو بیدار بھی کرتی ہے، انسان کو اپنے باطن میں اترنے کی دعوت بھی دیتی ہے، اسے متنبہ بھی کرتی ہے، امید بھی دیتی ہے، اور کبھی ایسا سکوت بھی پیدا کرتی ہے جس میں لفظ ختم ہو جاتے ہیں مگر معنی تو ہنوز باقی رہتا ہے۔

وجودی تناظر میں دین کا بنیادی مخاطب ’’انسان‘‘ ہے؛ لیکن انسان بطور ایک مجرد تصور نہیں، بلکہ وہ انسان جو خوف میں مبتلا ہے، جو اپنی شناخت کھو رہا ہے، جو محبت کا محتاج ہے، جو تنہائی سے گزرتا ہے، جو موت سے ڈرتا ہے، جو کامیابی کے باوجود اندر سے خالی ہو سکتا ہے، جو اپنے وجود کا مفہوم تلاش کرتا ہے، اور جو کبھی ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے جس کا جواب نہ بازار کے پاس ہوتا ہے، نہ ٹیکنالوجی کے پاس، نہ محض مادی کامیابی کے پاس:
میں کون ہوں، میں کیوں ہوں، اور میری زندگی کس طرف جا رہی ہے؟۔میری نگاہ میں دینی زبان کو اسی انسانی سوال تک دوبارہ پہنچنا ہوگا۔

ہماری ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم نے دین کی زبان کو بعض اوقات اس کی اصل وجودی حرارت سے جدا کر دیا ہے۔ جو زبان کبھی دلوں کو بدلتی تھی، وہ کہیں کہیں محض اصطلاحات کی زبان بن گئی؛ جو کلام انسان کو خدا کے سامنے لرزا دیتا تھا، وہ صرف مباحث کی عبارت رہ گیا؛ جو تصور انسان کے وجود میں انقلاب پیدا کرتا تھا، وہ تعریف، تقسیم اور مناظرے کا موضوع بن گیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ علمی اصطلاحات، فقہی تعبیرات، کلامی مباحث یا روایتی زبان غیر ضروری ہیں۔ ان سب کی اپنی جگہ، تاریخ اور علمی قدر ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دین کی پوری حقیقت صرف انہی تعبیرات میں محصور ہے، اور ہر زمانے کے انسان سے اسی اسلوب میں گفتگو کرنا کافی ہوگا۔

زبان ایک زندہ مظہر ہے۔ زمانہ بدلتا ہے تو انسان کے سوالات کا اسلوب بھی بدلتا ہے۔ اضطراب وہی رہتا ہے مگر اس کے نام بدل جاتے ہیں۔ تنہائی وہی رہتی ہے مگر اس کی سماجی صورتیں بدل جاتی ہیں۔ معنی کی طلب وہی رہتی ہے مگر انسان اسے کبھی شناخت کے بحران، کبھی ذہنی انتشار، کبھی بے معنویت، کبھی وجودی خلا اور کبھی روحانی تشنگی کے نام سے بیان کرتا ہے۔

اگر دینی فکر انسان کے انہی زندہ سوالات تک رسائی کھو دے تو دین موجود ہوتا ہے مگر دینی خطاب مؤثر نہیں رہتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں میں ’’دین کی نئی زبان‘‘ کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔

نئی زبان کا مطلب نیا دین نہیں۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ روایت کو ترک کر دیا جائے یا دین کے ثابت حقائق کو عصر کے ذوق کے تابع کر دیا جائے۔ نئی زبان سے میری مراد یہ ہے کہ ازلی حقیقت کو عصرِ حاضر کے انسانی تجربے میں قابلِ سماعت بنایا جائے۔ وہی توحید ہو، مگر انسان اسے اپنے وجود کی مرکزیت کے طور پر بھی محسوس کر سکے۔ وہی نبوت ہو، مگر رسول اللہ ﷺ کی ذات محض تاریخی سیرت کا موضوع نہ رہے بلکہ آج کے منتشر انسان کے لیے زندہ انسانی نمونہ بنے۔ وہی ذکر ہو، مگر اسے صرف ورد کی صورت میں نہیں بلکہ منتشر شعور کو مرکز میں واپس لانے کے عمل کے طور پر بھی سمجھا جا سکے۔ وہی توبہ ہو، مگر اسے محض گناہ کے بعد کی ایک رسمی کیفیت نہیں بلکہ وجود کی سمت درست کرنے کی واپسی کے طور پر بھی دیکھا جائے۔

تصوف کی اصل قوت بھی میرے نزدیک اسی مقام پر ظاہر ہوتی ہے۔تصوف دین کو صرف بیان نہیں کرتا؛ اسے تجربے میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ خدا کے متعلق گفتگو سے انسان کو خدا کی طرف سفر میں داخل کرتا ہے۔ محبت کے تصور سے محبت کے ذوق تک، ذکر کے لفظ سے حضور کی کیفیت تک، علم سے معرفت تک، اور شریعت کی ظاہری پابندی سے اس کے باطنی معنی تک لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن تصوف بھی اگر صرف اپنی تاریخی اصطلاحات کی تکرار بن جائے تو نئی نسل کے لیے اس کا وجودی پیغام پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ آج کے انسان کو ’’فنا‘‘، ’’بقا‘‘، ’’معرفت‘‘، ’’قرب‘‘، ’’سلوک‘‘ اور ’’ذکر‘‘ کے الفاظ صرف تعریفوں کے ذریعے نہیں، بلکہ اپنے زندہ انسانی تجربے سے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اسے یہ دکھانا ہوگا کہ خود پرستی سے نجات کیا ہے، انا کی مرکزیت ٹوٹنے کا تجربہ کیا ہے، حضور کیا ہے، بامعنی زندگی کیا ہے، تعلق میں اخلاص کیا ہے، اور خدا کے ساتھ نسبت انسان کے خوف، تنہائی اور بے معنویت کو کس طرح نئی صورت دیتی ہے۔

میری گزشتہ دو سالوں سے اب تک کی تحریری کاوشوں میں اسی سوال نے مختلف شکلوں میں میرے ساتھ سفر کیا ہے۔’’گیان رس‘‘ میں بھی بنیادی طور پر میں نے باطن، معرفت، شعور اور انسانی تجربے کے اُن پہلوؤں کو زبان دینے کی کوشش کی جنہیں محض خشک علمی بیان اپنے اندر مکمل طور پر سمو نہیں سکتا۔اسی طرح یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسان اپنی ذات، اپنے وجود اور اپنی معنویت کو کیسے پہچانے، اور مذہبی شعور اس شناخت کی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

گیان رس کے ساتھ میری دیگر تحریروں کے پس منظر میں ایک سوال مسلسل موجود رہتا ہے کہ:کیا ہم دین کو ایسی زبان میں دوبارہ بیان کر سکتے ہیں جو جدید انسان کے ذہن ہی سے نہیں، اس کے وجود سے بھی گفتگو کرے؟میرے نزدیک یہی ہمارے عہد کی ایک اہم علمی اور روحانی ذمہ داری ہے۔

دینی زبان کا مطالعہ اس لیے ضروری نہیں کہ ہم صرف یہ طے کریں کہ مذہبی عبارت حقیقت، استعارہ، علامت یا تمثیل میں سے کس دائرے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر میرے نزدیک اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ دینی زبان انسان کے اندر کیا پیدا کرتی ہے۔کیا وہ امید پیدا کرتی ہے؟کیا وہ خوف کو معنی دیتی ہے؟
کیا وہ انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کرتی ہے؟کیا وہ اسے دوسروں کے دکھ کے لیے حساس بناتی ہے؟کیا وہ اسے خدا کے حضور جواب دہ بناتی ہے؟کیا وہ اس کے اندر محبت، تواضع، خدمت اور حضور پیدا کرتی ہے؟اور سب سے بڑھ کر، کیا وہ اسے ایک بامعنی انسان بناتی ہے؟کیونکہ ایک زبان اپنے ثمرات سے بھی پہچانی جاتی ہے۔

وہ مذہبی زبان جو انسان کو خدا کے نام پر متکبر بنا دے، اپنے ہی بھائی سے کاٹ دے، سوال سے خوف زدہ کر دے، دل کی لطافت چھین لے اور زندگی کو محض ممنوعات اور نزاعات میں تقسیم کر دے، اسے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ دینی زبان جو انسان کو خود شناسی، خدا شناسی، محبت، ذمہ داری، خدمت اور رحمت کی طرف لے جائے، وہ اپنے اصل روحانی سرچشمے کے زیادہ قریب ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی بات بھی سمجھنا ضروری ہے: دینی معنی انسان تک زبان سے باہر نہیں پہنچتا۔وحی اپنی اصل میں متعالی ہے، مگر انسان اسے زبان، شعور، تاریخ اور انسانی فہم کے افق میں سنتا اور سمجھتا ہے۔ مقدس جب انسانی زبان میں خطاب کرتا ہے تو لفظ ایک دروازہ بن جاتا ہے۔ اس دروازے کے ایک طرف متعالی حقیقت ہے اور دوسری طرف محدود انسانی شعور۔یہی وجہ ہے کہ قراءتیں پیدا ہوتی ہیں، تفسیریں وجود میں آتی ہیں، تاویلات مختلف ہوتی ہیں، اور ایک ہی متن مختلف انسانوں، تہذیبوں اور زمانوں میں معنی کے نئے نئے امکانات ظاہر کرتا ہے۔

اس تنوع کو ہمیشہ دین سے انحراف نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض اوقات یہی تنوع اس امر کی علامت ہوتا ہے کہ متن زندہ ہے اور انسان کے نئے سوالات کے ساتھ دوبارہ گفتگو کر رہا ہے۔

البتہ ہر تاویل درست نہیں ہوتی۔ نئی زبان پیدا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ متن کو اپنی خواہش کے مطابق بدل دیا جائے۔ اس کے لیے روایت کا علم، زبان کا شعور، وحی کے داخلی نظام سے واقفیت، انسانی تجربے کی تفہیم اور ایک گہری اخلاقی ذمہ داری ضروری ہے۔

میرے وجودی نقطۂ نظر سے مستقبل کی دینی فکر کو تین جہات کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا: وحی، انسانی وجود اور زندہ تجربہ۔وحی کے بغیر مذہبی زبان اپنی بنیاد کھو دے گی۔
انسانی وجود سے کٹ کر وہ اپنی معنوی تاثیر کھو دے گی۔اور زندہ تجربے کے بغیر وہ محض کتابوں کی زبان بن کر رہ جائے گی۔

دین کی نئی زبان وہ ہوگی جو روایت کی گہرائی بھی اپنے اندر رکھے اور موجودہ انسان کی دھڑکن بھی سن سکے؛ جو عقل سے گفتگو کرے مگر دل کو فراموش نہ کرے؛ جو علمی ہو مگر بے روح نہ ہو؛ جو صوفیانہ ہو مگر مبہم نہ ہو؛ جو جدید ہو مگر اپنی اصل سے منقطع نہ ہو۔

میری اپنی علمی و فکری کاوش ابھی اس سفر کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ ’’گیان رس‘‘،اس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے اور ما بعد ’’وجودی شناخت‘‘، ’’تجدیدِ شناخت‘‘ اور ’’دین اور وجودی تشنگی‘‘ میں بھی میں نے اس نئی زبان کو سمجھنے، پرکھنے اور کسی حد تک پیدا کرنے کی کوشش کررہاہوں ۔ لیکن یہ کام چند کتابوں سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ میرے نزدیک یہ ایک پورا فکری منصوبہ ہے جس میں دین، انسان، زبان، وجود، تصوف اور عصرِ حاضر کے سوالات کو دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے بٹھانا ہوگا۔

شاید ہمارے عہد کا مسئلہ یہ نہیں کہ دین خاموش ہو گیا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ شور بہت بڑھ گیا ہے، اور انسان وہ زبان بھولتا جا رہا ہے جس میں اس کا دل خدا کی آواز سن سکتا تھا۔دینی زبان کی تجدید کا اصل مقصد شاید یہی ہے:”خدا کی ازلی دعوت کو انسان کے موجودہ وجود میں دوبارہ قابلِ سماعت بنانا”۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں