سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف ایک تو عملی بغاوت ہے جو ان کے دور کے خوارجیوں نے کی تھی کہ جو ان کی بالفعل مظلومانہ شہادت کا سبب بنی اور دوسری فکری بغاوت ہے جو آج تک جاری ہے کہ جس کا مقصود ان کی ذات اور کردار پر سوالات اور اعتراضات اٹھا کر ان کی کردار کشی کی راہ ہموار کرنا ہے جبکہ وہ اس معاملے میں دربار رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براءت کا سرٹیفکیٹ پہلے ہی سے حاصل کر چکے تھے۔ ذیل میں ہم ان دونوں قسم کے باغیوں کے سوالات اور اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔
مرزا صاحب نے اپنی تحریر وتقریر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ خلافت سے ملوکیت تک کا سفر حضرت عثمان کے زمانے میں شروع ہو گیا تھا۔ یہ سارا بیانیہ اُنہوں نے مولانا مودودی کی کتاب خلافت وملوکیت سے لیا ہے۔ البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا مودودی نے اِس بیانیے کو تاریخ کی کتابوں سے ثابت کرنا چاہا جبکہ مرزا نے اِسے احادیث کی کتابوں سے نکالنے کی کوشش کی۔ آج کل ایک اور مرزا صاحب یہی خدمت تاریخ کے یک طرفہ مطالعے سے سر انجام دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ذیل میں ہم ایک ایک کر کے اُن اعترضات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کس طرح اُن تہمتوں سے بری الذمہ ہیں جو اُن کے دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کے باوصف اُن پر تھوپ دی گئی تھیں۔
مرزا صاحب کے بقول ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کے سامنے کسی صحابی نے اپنا خواب بیان کیا کہ اُنہوں نے دیکھا کہ آسمان سے ترازو اتارا گیا ۔ اُس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ اِس کے بعد ابو بکر اور عمر کو تولا گیا تو ابو بکر کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ اِس کے بعد عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ اِس کے بعد ترازو اٹھا لیا گیا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام کا چہرہ متغیر ہو گیا۔
مرزا صاحب نے اِس روایت کے ترجمے میں بریکٹ لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت عمر کے بعد معاملات میں تغیر آنے لگا تھا حالانکہ روایت میں واضح طور موجود ہے کہ حضرت عثمان کے بعد کے دور کی طرف اشارہ ہے کہ جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوا نہ کہ حضرت عثمان کا دور مراد ہے۔ اور تاریخ بھی یہی بتلاتی ہے کہ شہادت عثمان کے سانحے کے بعد ہی یہ اُمت جنگ وجدال کا شکار ہوئی۔ روایت میں الفاظ ہیں کہ «وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ» یعنی حضرت عمر اور حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو حضرت عمر بھاری پڑ گئے۔
اِس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کا دور حضرت عمر کے دور جیسا نہیں تھا۔ تو یہ بات درست ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر کا دور، حضرت ابو بکر کے جیسا نہ تھا۔ اور حضرت ابو بکر کا دور، دور نبوی جیسا نہ تھا۔ ترازو کی روایت یہی بیان کر رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حضرت عثمان کو تولا گیا ہے۔ اِس کے بعد حضرت علی کے تولنے کا ذکر حدیث میں موجود نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی کے زمانے میں مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ لہذا حدیث میں بھی واضح طور الفاظ موجود ہیں کہ حضرت عثمان کے تولنے کے بعد ترازو اٹھا لیا گیا۔
اب اِس کے بعد حدیث میں الفاظ ہیں کہ آپ علیہ السلام کو اِس پر کراہت محسوس ہوئی کہ حضرت عثمان کو تولنے کے بعد ترازو اٹھا لیا گیا یعنی آپ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اِس کے بعد مسلمانوں میں تلوار نکل آئے گی تو اِس کو آپ علیہ السلام نے ناپسند جانا۔ روایت کے الفاظ ہیں؛ کہ «ثُمَّ رُفِعَ المِيزَانُ، فَرَأَيْنَا الكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ »
اگر احادیث رسول پر جائیں تو وہ واضح طور بتلا رہی ہیں کہ حضرت عثمان کا زمانہ فتنوں سے مامون تھا اور اُن کے دورِ حکومت میں کوئی تغیر واقع نہیں ہو گا بلکہ جو کچھ بھی مسلمان فتنوں کا شکار ہوں گے، وہ سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد ہوں گے۔ کثرت سے صحیح احادیث مبارکہ سیدنا عثمان کے کردار، شہادت اور اُن کی خلافت کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں لیکن ایک خاص طبقے کے زیر اثر لکھی جانے والی کتابوں میں موجود بعض جھوٹی تاریخی روایتوں کو بنیاد بنا کر اُن کی شخصیت کی بابت اتنا جھوٹ پھیلا دیا گیا ہے کہ صحیح اور باطل کی تمیز میں فرق کرنا مولانا مودودی جیسے شخص کے لیے بھی مشکل ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف سیدنا عثمان کی شہادت کی خبر دی بلکہ اِس شہادت کے بدلے جنت کی بھی خوشخبری دی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ وہ آپ کے ساتھ مدینہ کے ایک باغ میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے اُنہیں دروازے پر بھیجا اور کہا کہ جو دروازے پر کھڑا اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، اُسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ حضرت ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ میں دروازے پر گیا تو وہاں حضرت ابو بکر کھڑے تھے۔ اُس کے تھوڑی دیر بعد کسی اور شخص کی آمد ہوئی اور اُس نے بھی باغ کے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ نے حضرت ابو موسی اشعری کو بھیجا کہ جو دروازے پر ہے، اُسے اندر آنے دیں اور اُسے جنت کی خوشخبری بھی دیں۔ حضرت ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ میں دروازے پر گیا تو وہاں حضرت عمر کھڑے تھے۔ اُس کے تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص کی آمد ہوئی اور اُس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے حضرت ابو موسی اشعری کو بھیجا کہ جو دروازے پر ہے، اُسے اندر آنے دیں اور اُسے جنت کی خوشخبری بھی دیں اور اُسے یہ بھی بتلائیں کہ یہ جنت اُس مصیبت اور آزمائش کے بدلے میں ہے جو اُنہیں پہنچے گی۔ حضرت ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ میں دروازے پر گیا تو وہاں حضرت عثمان کھڑے تھے۔ میں نے اُنہیں جنت کی بشارت دی اور آزمائش کی خبر دی تو اُنہوں نے آزمائش میں ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ کی مدد مانگی۔
اس روایت سے تین مسائل معلوم ہوئے جن میں ایک تو یہ ہے کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان تینوں جنتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ حضرت عثمان کی شہادت اللہ کی طرف سے ایک ایسی آزمائش تھی کہ جس کی خبر آپ علیہ السلام نے انہیں پہلے سے ہی دے دی تھی۔ یہ اہم نکتہ ہے کہ احادیث کے مطابق یہ شہادت، آسمانی آزمائش کا نتیجہ ہے جو اللہ کے بندوں کے درجات بلند کرنے کے لیے نازل ہوتی رہتی ہے نہ کہ اُن کی بری حکومت (bad governance) کا نتیجہ جیسا کہ اُن کے معترضین دعوی کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اُس امت میں سب سے افضل حضرت ابو بکر، اُس کے بعد حضر ت عمر اور اُس کے بعد حضرت عثمان ہیں۔
یہ تیسرا معنی اشارۃ النص سے مفہوم ہے۔ آپ اکثر وبیشتر روایات میں دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر، عمر اور عثمان کا ذکر ہے۔ حضرت علی موجود نہیں ہیں۔ احد کے موقع پر بھی اِن تین حضرات کے بارے ہی فرمان رسول میں موجود ہے۔ باغ کے واقعے میں بھی یہ تینوں حضرات ہی تشریف لائے تھے اور انہی کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ اور آسمان سے میزان اترنے والے واقعے میں بھی اِن تینوں حضرات ہی کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت میں بھی ان تینوں حضرات کا ہی ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان تین تک فضیلت قائم کرتے تھے اور اس کے بعد رک جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی روایات ہیں کہ جہاں تین ہی کا ذکر ملتا ہے۔
اس کا معنی ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان تینوں خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں میں کوئی باہمی جنگ وجدال نہ ہوا اور فتنے دبے رہے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی فتنوں کا آغاز شروع ہو گیا کہ مسلمانوں میں جنگ وجدال برپا ہوا۔ حضرت عثمان کا دور خلافت، فتنوں سے مامون ہے۔ اور یہ معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صریح احادیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حضرت عثمان کے دورِ خلافت پر اعتراض بنتا نہیں ہے۔ جو کرتے ہیں، وہ ظلم وزیادتی کے مرتکب ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں واضح طور موجود ہے کہ جب مسلمانوں میں فنتہ سر اٹھائے گا تو اُس وقت حق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا۔ حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے ایک دن ایک مجلس میں ایک فتنے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ بہت قریب ہے۔ اُسی دوران ایک شخص کا اُدھر سے گزر ہو رہا تھا جو چادر لپیٹے ہوئے تھے اور وہ حضرت عثمان تھ۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اُس فتنے کے دن یہ شخص ہدایت پر ہو گا۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں فوراً اٹھا اور حضرت عثمان کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر رسول اللہ سے سوال کیا ہے کہ کیا یہ شخص آپ کی مراد ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں یہی شخص۔ یہ روایت بھی صحیح ہے اور اس معاملے میں نص قطعی ہے کہ سیدنا عثمان اپنے مخالفین اور معترضین کے مقابلے میں حق بات پر ہیں۔
سنن ترمذی کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے غزوہ تبوک کے موقع پر کہا تھا کہ آج کے بعد حضرت عثمان کو اُن کا کوئی عمل نقصان نہ پہنچائے گا۔ جب رسول اللہ کا یہ واضح فرمان موجود ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ اگر خدانخواستہ اُن سے کوئی خطا ہو بھی گئی تھی تو بھی اُن کے خلاف بغاوت کی وجہ نہ بنتی تھی کہ وہ خطا پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے معاف شدہ ہے۔ ایک اور صحیح روایت میں ہے کہ میں اُس سے حیا نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ تو جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فرشتے حیا کر رہے ہوں، اُس کے خلاف بغاوت کیونکر جائز ہو سکتی ہے؟ اور اس پر یہ چارج شیٹ کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟
پھر یہی اُن کی فضیلت کے لیے کیا کم ہے کہ آپ علیہ السلام کی دو بیٹیاں اُن کے گھر ہیں۔ پھر اُن کی فضیلت کے لیے کیا یہ کم ہے کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اُن کی شہادت کی خبر سن کر چودہ سو صحابہ کے ساتھ قصاص عثمان کے لیے موت کی بیعت کی تھی۔ عثمان کے خون کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں میں آپ علیہ السلام بنفس نفیس شامل ہیں۔ اُن کے دورِ خلافت میں لیبیا، تیونس، مراکش، اسکندریہ، کابل، قبرص، آذر بائیجان، آرمینیہ، خراسان، طبرستان اور سجستان وغیرہ سلطنت اسلامیہ کے حصہ بنے۔ اس قدر فضائل ومناقب جس جلیل القدر صحابی کی ذات اور ان کے دور ِحکومت کے بارے مروی ہیں، انہیں ترک کر کے ہم چند تاریخی مصادر کے رطب ویابس کی طرف کیوں متوجہ ہوں!
کمنت کیجے