Home » تسنن و تشیع : تاریخ کا جدلیاتی سفر
تاریخ / جغرافیہ تہذیبی مطالعات سیاست واقتصاد

تسنن و تشیع : تاریخ کا جدلیاتی سفر

اسلام کی سیاسی تاریخ میں اولین نزاع پیغمبر علیہ السلام کی وفات کے بعد حق حکمرانی کے حوالے سے پیدا ہوا تھا۔ پیغمبر کا خاندان یعنی بنو ہاشم اس کی توقع رکھتا تھا کہ نسبت وشرف اور دینی خدمات، دونوں کی وجہ سے یہ ذمہ داری اس کو دی جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بعد کے مراحل میں یہ نزاع پہلے سیاسی اور پھر مذہبی تقسیم کا عنوان بن گیا اور آج تک امت میں مذہبی شناخت کا ایک بنیادی حوالہ ہے۔ اس سے پھوٹنے والے فرقہ وارانہ اور سیاسی مسائل ہمیشہ امت کی داخلی وحدت کو مکدر کرنے کا ذریعہ رہے ہیں اور رہیں گے، لیکن کچھ دیر کے لیے ماضی میں جا کر یہ تصور کیجیے کہ تاریخ کا سفر اس سے مختلف راستے پر آگے بڑھتا تو آج صورت حال کیا ہوتی؟

آج ہم ایک سیاسی اور تاریخی نزاع کی قیمت مستقل فرقہ واریت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں، لیکن فرض کیجیے کہ سیاسی اقتدار حق جانشینی کے اصول پر بنو ہاشم کے سپرد کر دیا جاتا تو اس کے مضمرات آئندہ تاریخ کے لیے کیا ہوتے؟ اس انتظام کو قانونی واخلاقی سپورٹ مہیا کرنے کے لیے جس قسم کے سیاسی اور مذہبی تصورات پیدا ہوتے، وہ کس نوعیت کے ہوتے؟ کس قسم کی مذہبی وسیاسی تقسیم پیدا ہوتی؟ اور عرب سلطنت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی دوسری نسلوں اور علاقوں کے لیے وہ کس قسم کا فکری ورثہ چھوڑتی جس سے ہم آج نبرد آزما ہوتے؟

مثلاً‌ آج ہم ایک مختلف تاریخی ماحول میں اسلام کے سیاسی تصورات پر بات کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کو مسلمانوں کی تاریخ میں پیدا ہونے والے ’’ایک’’ اہم اور نمایاں رجحان کے طور پر بیان کرتے ہیں، جس سے عمومی دینی روایت کا موقف مختلف ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں کا مین اسٹریم سیاسی موقف یہی ہوتا کہ قیامت تک سیاسی اقتدار آل نبی کا حق ہے اور اس سے اتفاق نہ کرنے والے ایک ذیلی ’’فرقہ’’ سمجھے جاتے (جیسے قریش کے حق اقتدار سے اختلاف کرنے پر خوارج وغیرہ سمجھے گئے) تو آج مسلم سیاسی فکر کے سوالات، الجھنیں، چیلنجز اور پیچیدگیاں کس نوعیت کی ہوتیں؟ ہندو تہذیب کے ساتھ برہمنیت کے سوال پر ہماری گفتگو کے خط وخال کیا ہوتے؟ اور جدید جمہوری تصورات کو navigate کرنے کے فکری اور تہذیبی وسائل ہمارے پاس کیا ہوتے؟ آل نبی کی طرف سچی یا جھوٹی نسبت کے ساتھ وابستہ امتیازات اور مراعات آج سماجی سطح کے ہیں۔ لیکن اگر مسلم سیاسی فکر کی اساسی تشکیل بھی اسی تصور پر ہوتی تو آج تمام مسلم معاشروں کی سیاست میں نسل تفریق اور امتیاز کی نوعیت کیا ہوتی؟ وغیرہ وغیرہ۔

تاریخ، امکانات کے باہمی تعامل اور تصادم سے تشکیل پاتی ہے اور تاریخ کا مطالعہ اس کے ان گنت شواہد مہیا کرتا ہے کہ بہ ظاہر منفی چیزوں کے اندر سے خیر کے پہلو برآمد ہوتے رہتے ہیں۔ پھر خیر کے ان پہلووں میں سے ہی منفی پہلو بھی نکل آتے ہیں۔ تاریخ کا سفر ایسے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں