
مبین قریشی
قرآنِ مقدس کے مطالعے میں ایک پہلو اکثر ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ پہلو محض ادبی یا فصاحتی نہیں بلکہ نفسیاتی قرائن سے جڑا ہوا ہے۔ عام طور پر مفسرین و محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن مقدس نے جو الفاظ منتخب کیے وہ کس قدر فصیح، بلیغ اور بامعنی ہیں۔ لیکن اس زاویے پر بہت کم گفتگو ہوئی ہے کہ وہ الفاظ جو اہلِ عرب کی روزمرہ زبان میں کثرت سے استعمال ہوتے تھے، اور موقع و مضمون کے اعتبار سے بھی موزوں و فطری تھے، وہ قرآن مقدس میں کیوں موجود نہیں ہیں؟
یہ سوال محض لسانی نہیں بلکہ نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ اپنی مادری زبان کے وہ الفاظ جو متکلم و مخاطب روزانہ استعمال کرتے ہوں، موقع بھی فطری طور پر انھی کا تقاضا کرتا ہو، موضوع بھی انھی سے متعلق ہو، مگر پھر بھی وہ الفاظ مسلسل 23 برس تک خطبات کی نوعیت کے کلام میں حذف رہیں—یہ ایک غیر معمولی اور غیر فطری امر ہے۔
چند مثالیں:
* قرآن مقدس میں جہاد، قتال اور دفاع کے مضامین مسلسل چلتے ہیں، مگر “سیف” یا “مہند” جیسا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا۔ حالانکہ تلوار ہر شخص کے پاس موجود تھی اور روزمرہ اس پر نظر بھی پڑتی اور گفتگو میں اس کا ذکر بھی عام تھا۔
* وضاحتی اور خطابی گفتگو میں “یعنی” جیسا لفظ عرب بار بار استعمال کرتے ہیں، مگر ضرورت اور موقعہ کے باوجود بھی قرآن میں یہ لفظ کہیں نہیں استعمال ہوا۔
* حکمرانی، عدل، شوریٰ اور نظم سے متعلق موضوعات و خطبات موجود ہیں، قبائلی معاشرت کو مرکزیت میں بھی بدلنا ہے مگر “سیاسہ” جیسا بنیادی لفظ غائب ہے۔
* غلامی اور آزادی کے مباحث موجود ہیں، مگر “حریہ” کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔
* قبائلی معاشرے کے رسوم و رواج زیرِ بحث ہیں، مگر عُرف کے باوجود کسی قبیلے کا نام لے کر خطاب نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے “بنی آدم”، “ناس” اور “قوم” جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔
* طہارت اور انسانی جسم کے موضوعات موجود ہیں، مگر “بدن” کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہورہا۔
* شاعری اور سخن فہمی عرب معاشرت کا لازمی و غالب حصہ تھی، مگر قرآن میں “حب” اور “مودت” جیسے الفاظ تو ہیں، “عشق” جیسا عام شعری لفظ کہیں نہیں آیا۔
اگر اس معاملے کو ریاضیاتی یا منطقی زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ نفسیاتی قرائن کے اعتبار سے پرکھا جائے تو ایک دیانتدارانہ نتیجہ سامنے آتا ہے: وہ الفاظ جو رسول اللہ ص اور آپ ص کے مخاطبین روزانہ بولتے تھے، اور جن سے متعلق موضوعات قرآن مقدس میں موجود ہیں، مگر ان کا 23 سال تک مسلسل اور بامعنی حذف اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ خطبات رسول اللہ ص کے نہیں بلکہ ماورائی ہیں۔




کمنت کیجے