Home » جدید عقلی علوم، اسلام اور علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر
اسلامی فکری روایت تاریخ / جغرافیہ تہذیبی مطالعات کلام

جدید عقلی علوم، اسلام اور علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر

فیس بک پیج، ”معارف“ میں ۳/جنوری کو سائنس اور اسلام کے ”موضوع پر خاص اہمیت کا حامل“ ایک مضمون شائع ہوا ہے جو ”ایک اہم مفکر“ جناب ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی کا تحریر کردہ ہے، اور جو ”ایک دانشور، مصنف اور محقق ہیں“۔ مضمون کا عنوان ہے: ”سائنس اور اسلام کے مباحثہ میں علی گڑھ اسکول [مکتب فکر] کا نقطۂ نظر“۔ محولہ مضمون میں گزشتہ چند دہائیوں میں مسلم مفکرین نے اس موضوع پر جو دادِ سخن دی ہے اس کا ایک خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور آخر میں علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر بھی دیا گیا ہے۔ اس تفصیل کو مضمون میں ہی ملاحظہ کرنا مناسب ہو گا۔ یہ مضمون بہت سادہ اور سلیس زبان میں خیرخواہی کے جذبے کے تحت لکھا گیا ہے تاکہ اس کو سمجھنے کے لیے دماغ کی ضرورت نہ پڑے۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس میں کوئی علمی اور فکری بات بھی نہیں کہی گئی تاکہ ہر کس پریشانی سے محفوظ رہے۔ مضمون کی مجموعی چتون اتفاق رائے قائم کرنے (consensus        building) کی ہے، جو بنیادی طور پر ایک سیاسی سرگرمی ہوتی ہے اور علم وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن بظاہر اس میں ایک علمی موقف بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے مصنف نے اسلامی ”ورلڈ ویو“ قرار دیا ہے۔
میری فوری دلچسپی علی گڑھ اسکول کے ”نقطۂ نظر“ سے ہے جو مضمون کے آخر میں بیان کیا گیا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ علی گڑھ اسکول سے مراد سی۔ ایس۔ او۔ ایس۔ کا ادارہ اور اس سے جڑے ہوئے احباب ہیں جو مولانا مودودیؒ کی فکر سے متاثر ہیں۔ اس ادارے میں شامل افراد اصلاً activists کا ایک ”منظم گروہ“ ہے اور اسے ”فکری اسکول“ محض تسلی کے لیے کہا جا رہا ہے۔ جناب کرمانی فرماتے ہیں کہ ”سی۔ ایس۔ او۔ ایس۔ کی تشکیل اور ان افراد کی اس سے وابستگی نے بھی اسے ایک فکری اسکول کی حیثیت سے ابھارا تھا“۔ اس طرح بنیادی طور پر یہ کوئی علمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سیاسی سرگرمی ہے جس کا بنیادی مقصد ”ذہن سازی“ ہے۔ جب ہم سے کوئی مشین سازی وغیرہ نہیں ہو پاتی تو ”سائنسی اصولوں“ پر ذہن سازی اور انجمن سازی شروع کرتے ہیں جس کا اصل مقصد ”مذہب سازی“ کے کام کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اس طرح ہم ذہن، مشین اور مذہب تینوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ علی گڑھ اسکول والوں کا خیال ہے کہ activism، سیمنار، تنظیم سازی، ڈکلریشن، قرارداد وغیرہ سے تہذیبی مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔ یہاں ضمناً ”ذہن سازی“ پر گھڑی بھر کے غور کرنا ضروری ہے۔ اس عمل کا علم یا اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہ ایک ”سیاسی“ یعنی طاقت کی ترجیحات پر ہونے والی سرگرمی ہے، اور ”انسان سازی“ سے مکمل تضاد رکھتی ہے۔ جدیدیت جو تصورِ انسان رکھتی ہے اور اس کے پاس طاقت اور سرمائے کے جو ذرائع دستیاب ہیں ان میں ”ذہن سازی“ اولیت اور مرکزیت رکھتی ہے۔ انسانی کردار کی تقویٰ اور تسلیم و رضا پر تشکیل کا جدید ذرائعِ ذہن سازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جدیدیت کا ایجنڈا ”ذہن سازی“ ہے جبکہ مذہب کا مقصود ”انسان سازی“ ہے۔ اول الذکر کام علم کی نئی تشکیلات اور جدید تعلیم کی حرکیات سے سامنے لایا جاتا ہے جبکہ انسان سازی کا، اگر یہ ترکیب استعمال کی جا سکتی ہو، واحد ذریعہ دینی اقدار ہیں۔ خیر۔
مجھے جناب کرمانی کے اس موقف پر بہت حیرت ہوئی ہے کہ ”بیسویں صدی میں سائنس پر اسلامی تنقید کے باب میں حسین نصر کا مقام بہت بلند ہے، سائنسی فکر اور طریق کار کے بعض پہلوؤں پر حسین [نصر] کی تنقید دراصل اُس نقصانِ عظیم کی بنا پر ہے جو انسانی فکر و نظر اور معاشرتی و اخلاقی اقدار کو سائنس کے اِرتقاء اور اُس کی فکر کے نتیجہ میں اٹھانا پڑا ہے، سائنسی فکر نے جس طرح روایتی اقدار، نظریۂ علم اور ذرائع علم کی نفی کر کے خالص مادّیت پر مبنی نظریات اور اقدار کو پروان چڑھایا اُس کے نتیجہ میں اِنسان اپنے ماضی سے بتدریج دور ہوتا گیا اور اِس طرح معاشرہ اور انسانی ذات بڑے زبردست انتشار کا شکار ہو گئی“۔ جناب کرمانی کو یقیناً معلوم ہو گا کہ جناب حسین نصر perennialist ہیں، اور سائنس پر ان کی تنقید کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جناب حسین نصر جدید باطنی فکر کے حامل ہیں۔ perennialism اصلاً عنفوانی فطرت (primordial        nature) سے اخذ کردہ روایت کا تصور ہے جو قطعی شرک ہے۔ پرانے زمانے میں مشرکین اجرامِ فطرت کی پرستش کرتے تھے لیکن ان لوگوں نے جدید سائنس کی پیروی میں نیچر کی طرف اپنی اپروچ تبدیل کی ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر modern         paganists ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک اصل ”ہادی“ نیچر ہے۔ جس طرح جدید سائنس نیچر میں قوانینِ فطرت کو ساری اور کارفرما دیکھتی ہے، اور ان کو دریافت کرتی ہے، بعینہٖ یہ perennialist عین اسی نیچر میں الوہی ”ہدایت“ کو ساری اور خفتہ (dormant) دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول اس ”الوہی ہدایت“ کا وصول کنندہ نہ انسان ہے اور نہ تاریخ بلکہ طبعی فطرت ہے اور جس پر اس ”الوہی ہدایت“ کے آثار ارتسامات کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ ان ارتسامات کو یہ لوگ روایت (Tradition) کہتے ہیں اور ان کے نزدیک نبی ایسا شخص ہوتا ہے جو ان ارتسامات کو ”پڑھ“ کر اپنا مذہب بناتا اور لوگوں پر پیش کرتا ہے۔ اپنے تصورِ روایت کی تفصیل یہ اپنی pure        metaphysics میں بیان کرتے ہیں جسے ان لوگوں نے اٹھائی گیروں کی طرح مختلف مذاہب کی عرفانی روایتوں سے جمع کر کے بھان متی کے اصول پر جوڑا ہوا ہے اور جو لغویاتِ محض کا مجموعہ ہے۔ یہ لوگ سائنس، خاص طور پر industrialism پر اپنے تصورِ روایت کے تناظر میں کھڑے ہو کر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صنعت کاری اور ٹکنالوجی نیچر کی primordial        purity کی بےحرمتی کرتی ہے اور ان کے ”ہادی“ کی شکل بگاڑ دیتی ہے۔ صنعت کاری طبعی فطرت پر مرتب ہونے والے الوہی ارتسامات کو مٹا دیتی ہے اس لیے قابل مذمت ہے۔ جناب کرمانی خود فرما رہے ہیں کہ ”حسین نصر بنیادی طور پر رینے گینوں کی فکر کے حامل ہیں اور اپنی تنقیدی کاوش میں انہوں نے جن نکات کو اہمیت دی ہے ان کا ناقدانہ جائزہ درج ذیل ہے“ لیکن اس جائزے میں سے روایت کا تصور غیرحاضر ہے جو نہ توحید کو باقی رہنے دیتا ہے اور نہ رسالت کو۔ لیکن یہ چونکہ میری گزارش کا فوری موضوع نہیں ہے اس لیے مزید تفصیل عرض نہیں کر سکتا۔
سی۔ ایس۔ او۔ ایس۔ کے تحت اسلام اور سائنس کے مباحثے میں علی گڑھ اسکول کا بنیادی علمی موقف تین متفقات پر سامنے لایا گیا ہے۔ جو یہ ہیں: ”(۱) قرآن کریم عقل کو اپیل کرنے والی مذہبی کتاب ہے اور وہ سائنس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ (۲) سائنس انسانی فلاح کا ذریعہ تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ طاقت، غلبہ اور تشدّد کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔ (۳) جدید سائنس کا جس طرح سے ارتقا ہوا ہے اس نے اسے اقدار سے خالی بلکہ قدروں کا مخالف بنا دیا ہے۔“ یہ متفقات وعظ کا بآسانی موضوع بن سکتے ہیں لیکن ان کی بنیاد پر کسی علم کی تشکیل ممکن نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن کریم ایک ایسی چیز کی (یعنی جدید سائنس) حوصلہ افزائی کرتا ہے جو خیر اور شر دونوں کے مظاہر رکھتی ہے اور نہ صرف اقدار سے خالی ہے بلکہ اقدار کی مخالف بھی ہے۔ یہ موقف نہ مذہبی ہے اور نہ عقلی و علمی۔ ہم قرآن مجید کو سائنس کی حمایت میں بھرتی کرنے میں بہت پرجوش ہوتے ہیں لیکن اس سوال پر غور نہیں کرنا چاہتے کہ جدید سائنس جس طاقت اور سرمائے کے نظام کی آلۂ کار ہے وہ باطل کی تاریخی تشکیل کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں سیاسی اور معاشی نظام اور سائنس کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ بہرحال، ان متفقات سے قرآن مجید اور سائنس دونوں کی جو تفہیم سامنے آتی ہے اس پر ان جید مفکرین کو خراج تحسین ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔
محولہ بالا متفقات کی بنیاد پر سی۔ ایس۔ او۔ ایس۔ نے سنہ ۱۹۸۴ء میں ایک اعلامیے کی طرف پیش رفت کی۔ علی گڑھ مفکرین کا خیال ہے کہ یہ اعلامیہ ”بنیادی طور پر اس اسلامک ورلڈ ویو کی ترجمانی کرتا ہے جس کے زیر اثر ماضی کے مسلم معاشرہ میں سائنس کی نشو و نما ہوئی تھی اور جو آج بھی اس کی ترقی کی ضمانت دے سکتا ہے“۔ اس خوش فہمی سے پھوٹنے والے کئی شگوفوں کا اس ورلڈ ویو میں ذکر کیا گیا ہے جو نو نکات پر مشتمل ہے، اور یہ خوش فہمی جلد ہی ایک باقاعدہ اسکول آف تھاٹ کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ اعلامیے میں فرمایا گیا ہے کہ ”سائنس اجتماعی مقاصد کے حصول کا ایک ادارہ بھی ہے اور انفرادی عزائم کی بجا آوری کا ایک ذریعہ بھی“۔ معلوم نہیں کہ جید مفکرین اس سے کیا مراد لیتے ہوں گے لیکن عرض ہے کہ جن کو یہاں ”اجتماعی مقاصد“ فرمایا جا رہا ہے وہ بنیادی طور پر طاقت اور سرمائے سے متعلق ہیں، اور اس دائرے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل سائنس میں رہتے ہوئے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ ان مسائل کی جڑ طاقت اور سرمائے کے نظام میں ہے اور ان کو وہیں اڈریس کیا جانا چاہیے۔
جناب کرمانی فرماتے ہیں کہ ”… سائنس کو قدروں سے محفوظ سمجھنا صحیح نہیں ہے بلکہ ایک بڑی حقیقت کا انکار کرنا ہے۔“ ہمارے ہاں اسلام اور سائنس کے مباحثے کی اصل جڑ سائنس ”میں“ اقدار کا سوال ہے۔ ہمارے مفکرین اپنی گہری cognitive        dissonance اور بے بصیرتی کی وجہ سے طاقت اور سرمائے کے نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کو سائنس سے منسوب کر کے اقدار کا سوال کھڑا کر دیتے ہیں۔ جدید سائنس بطور علم طاقت اور سرمائے کے نظام کی قوت کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے لیکن اس نظام کی ”روح“ وہ سیاسی اور معاشی افکار ہیں جو وجودی نوعیت کے ہیں اور اس نظام کے بنیادگزار ہیں۔ ان افکار کی حیثیت ”اقدار“ کی طرح کی ہے، اور وہ سائنسی سرگرمی کو بھی گہرے انداز میں متاثر کرتے ہیں۔ ان افکار کی عدم تفہیم سے جدید سائنس کی درست معنویت بھی ہاتھ سے جاتی رہی ہے۔ ویسے تو اس اعلامیے کے تمام نکات تفصیلی گفتگو کے متقاضی ہیں لیکن میں صرف سائنس اور اقدار کے مسئلے پر کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔
اس میں کیا شک ہے کہ اقدار انسان کا بنیادی ترین مسئلہ اور اس کا سب سے بڑا میدان جنگ ہیں۔ یہ کہنا کہ ”اقدار انسان کا مسئلہ ہیں“ اور یہ کہنا کہ ”اقدار عقلی علم کا مسئلہ ہیں“، دو بالکل ہی مختلف بیانات ہیں۔ عرض ہے کہ علم کے حوالے سے انسان کے سامنے صرف دو ہی امکانات ہیں: ایک یہ کہ وہ حامل عقل ہستی کے طور پر ”علم“ کی تشکیل کرے، اور اسلامی تہذیب کی علمی روایت اسی پر دلالت کرتی ہے۔ دوسرے یہ کہ عقل خود کو ایک فاعل علمی (knowing        subject) کے طور پر قائم کر کے، اور انسان کو اس میں سے خارج کر کے علم کی تشکیل کرے۔ تحریکِ تنویر سے انسان اور فاعل علمی میں ایک تقسیم قائم ہو گئی تھی اور اس تحریک کے قائم کردہ فاعل علمی سے انسان خارج ہے، اور اس کا موضوع لابدی طور پر آفاق اور طبعی فطرت ہے۔ یہ فاعل علمی (knowing        subject) انسان کے مساوی نہیں ہے، اور اقدار اس کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ اپنی خود طے کردہ تحدیدات میں ریاضیاتی منطق پر کام کرتا ہے۔ تنویری علوم میں جو چیز فوری طور پر intelligible ہے وہ یہی فاعل علمی ہے جو خاص تاریخی حالات کی وجہ سے بتدریج attentuate ہوتا چلا گیا ہے۔ مغربی ادب و فن میں مرگِ مصنف (death        of           the         author) کا تو باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے، لیکن فلسفے اور عقلی علوم میں یہ فاعل علمی بھی اب قریب المرگ ہے۔ ادب اور فن میں مرگِ مصنف کی موت کا اعلان کرنے میں سیاسی اور معاشی رکاوٹیں نہیں تھیں اس لیے جلد سامنے آیا۔ عقلی اور فلسفیانہ علوم کے فاعل علمی کی موت کے اعلان میں زبردست سیاسی اور تہذیبی رکاوٹیں ہیں اس لیے تاخیر ہو رہی ہے۔ عقلی علم، بھلے وہ کلاسیکل علم الکلام ہو یا جدید سائنس، value        neutral ہوتا ہے اور اس کے سوا کچھ ہو بھی نہیں سکتا ہے۔ یہی صورت حال ٹکنالوجی کی ہے کہ وہ بھی قطعی value        neutral ہے۔ جدید عقلی علوم/سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیادی ترین تشکیل ایک نظام کے تحت ہی سامنے لائی جا سکتی ہے، اور یہ نظام سیاسی اور معاشی ہے۔ اقدار/افکار کے مسائل اس نظام میں ہیں اور انھیں وہیں اڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ قدری مسائل کو طاقت اور سرمائے کے نظام سے سائنس پر منتقل کرنا پرلے درجے کی بےبصیرتی اور نادانی ہے اور اول درجے کی عقل دشمنی۔
اب سوال یہ ہے ہمارے ہاں جدید عقلی علوم یعنی سائنس اور اقدار کا مسئلہ پیدا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا بنیادی سبب تو مسلمانوں میں مرگِ خرد ہے کیونکہ ہم مذہب کو عقلی اور دنیا کو مذہبی بنانا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے میں عقل کا واحد انجام اس کی موت ہے، اور یہ منصوبہ سائنس اور مذہب دونوں میں متوازی چل رہا ہے اور کشتوں کے پشتے لگے جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے مذہب کو بالکل تبدیل کر دیا ہے اور عقل سے دشمنی میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہم گزشتہ کئی صدیوں سے عقل کے خلاف برسرپیکار ہیں، لیکن مسلم عقلیت کی تہذیبی تشکیل کے امکانات پر غور کرنے کے تیار نہیں ہیں۔ ہماری اقدار کا منبع ہدایت یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات پاک اور قرآن مجید ہے، عقل نہیں ہے۔ سائنس کا منبع عقل ہے، قرآن مجید نہیں ہے۔ ہم اقدار کو انسان میں داخل کرنے کی بجائے سائنس میں داخل کرنے پر بضد ہیں۔ چونکہ ہم عقل کا کوئی تصور ہی سرے سے نہیں رکھتے اس لیے یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ہم کسی چیز کو عقلی فرض کیے بغیر (مثلاً مذہب کو) اس سے اقدار وصول نہیں کرنا چاہتے اور کسی چیز کو مذہبی فرض کیے بغیر (مثلاً جدید علوم) اس سے سائنس نہیں لینا چاہتے۔ ہم گٹر میں پڑے ہیں لیکن اپنے بارے میں ہمارا خیال وراء الورا سے بھی آگے کی کوئی چیز ہے۔ ہم میں یہ استعداد ہی باقی نہیں رہی کہ جدید سائنسی اور فلسفیانہ عقل کا سوال اٹھائے بغیر ہدایت سے اقدار قبول کر سکیں حالانکہ ہمارا دعویٰ تسلیم و رضا کا ہے۔ ہم میں ایسی کوئی استعداد بھی باقی نہیں رہی کہ سائنس کو اس کی شرائط علم پر قبول کر سکیں۔ ہماری ضد ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی قدری ہونی چاہیے۔ ہم اپنی دینی اقدار سائنس میں گھسیڑنا چاہتے ہیں اور پھر الٹے ہاتھ سے انھیں وہاں سے وصول کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو تسلی دے سکیں کہ ہماری دینی اقدار بھی سائنس کی طرح عقلی ہیں۔ ہم یہ سوال اٹھانے کی کوئی دینی غیرت بھی نہیں رکھتے کہ ہم اقدار خود دین سے حاصل کر کے ان پر عمل کیوں نہیں کرتے، اور یہ کہ سائنس کو کلمہ پڑھوانا ہی کیوں ضروری ہے؟ ہم جب مذہب کی بات کریں تو بھی کچھ کچھ ہوتا ہے کیونکہ عقل ستاتی ہے اور جب سائنس کی بات کریں تو بھی کچھ کچھ ہوتا ہے کیونکہ مذہب ستاتا ہے۔ اگر پوچھیں کہ کیا ہوتا ہے تو بس اتنا بتا سکتے ہیں کہ مذہب سائنسی ہوتا ہے اور سائنس مذہبی ہوتی ہے۔ جب عقل کو موت آ جائے تو پھر ایسا کچھ ہی ہوتا ہے۔
امام عالی مقام ابوحامد الغزالی رحمۃ اللہ علیہ جب یہ فرماتے ہیں کہ علم الکلام ”میری کوئی ضرورت پوری نہیں کرتا“ تو اس سے یہی مراد ہے کہ عقلی علم انسان کی کوئی انفسی اور قدری ضرورت پوری نہیں کرتا۔ عقلی علم بھلے وہ علم الکلام ہو یا جدید سائنس وہ انسان کی کوئی بھی قدری ضرورت پوری نہیں کر سکتا، کیونکہ عقل اور عقلی علم کوئی قدر پیدا ہی نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم اپنی اقدار سائنس سے جنوانے پر بضد ہیں۔ علم الکلام مخاصمانہ علم سے عقیدے کا دفاع کرتا ہے اور خود عقیدہ نہیں ہے، لہٰذا مکمل طور پر سلبی ہے، مقصود بالذات نہیں ہے، اور انسان کی کوئی بھی قدری ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔ جدید علوم میں کارفرما عقل بطور فاعل علمی کے نزدیک انسانی انفس اس کا بنیادی مسئلہ ہی نہیں ہے، اور اس کے روبرو آفاق ہی ہے جو اس کا دائرہ کار بھی ہے اور وہ اسی میں الجھی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے انسان کی انفسی ضروریات اقدار سے ہی پوری ہو سکتی ہیں۔ ہم دینی اقدار کو جب تک اپنی عقل کے بٹھنڈہ کا پھیرا نہ لگوا لیں ہمیں قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔
گزارش ہے کہ عقلی علم صرف عقلِ معروف کی معلوم شرائط پر ہی سامنے لایا جا سکتا ہے۔ اپنے نوزایئدہ ورلڈ ویو میں جناب کرمانی فرماتے ہیں ” … اس کـا مـطـلـب یـہ ہـوا کـہ اگـر مـذہـب کـی مـخـالـفـت پـر مـبـنی روایـت سـائنـس کـی ایـک مـضـبـوط عـمـارت کـھـڑی کـر سکتـی ہـے تـو کـوئـی وجـہ نـہـیـں کـہ مـذہـبـی روایـت اتـنی یـا اس سـے زیـادہ و مـضـبـوط اور تـوانـا سـائـنـس کـو جـنـم نـہ دے سکـے یـا اس کـی حـوصـلـہ افـزائـی اور پـرورش نـہ کـر سکـے۔ چـنـانـچـہ عـلـی گـڑھ اسـکـول اسـلام کـی مـذہـبـی اور فکری روایات کو ایک آفاقی سائنس کے ارتقاء کے لیے انتہائی حوصلہ افزا پاتا ہے۔“ اس میں کچھ شک نہیں کہ عقلی علم کی تشکیل میں تاریخی حالات اور تہذیبی مقاصد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن وہ اس کے عقلی ہونے کی بنیادی فعلیت کو compromise نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہر علمی منصوبے کا بنیادی مقصد علوم میں عقل کی عین اسی بنیادی فعلیت کو فنا کرنا ہے۔ عقل ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ عقل کوئی باربرداری کا جانور نہیں ہے کہ جو چاہو اس پر لادتے چلے جاؤ۔ عقل اس طرح کی فرمائشیں قبول نہیں کرتی۔ ہر تہذیب اپنی موت کی شرط پر ہی عقل سے دستبردار ہو سکتی ہے اور جو ہمارے حالیہ تاریخی تجربے سے ظاہر بھی ہے۔ عقلی علم سے اس کی آلیت (instrumentality) کبھی منفک نہیں ہو سکتی اور اس لحاظ سے علم الکلام اور سائنس ایک ہی طرح کے آلاتی عقلی علوم ہیں۔ مغرب نے اپنے عقلی علوم میں نگاہِ عقل کو انفس سے آفاق کی طرف پھیر دیا اور ایک ایسی عقلیت کی تشکیل کی جس نے مغرب کے سیاسی غلبے اور جدید معاشی پیداواری عمل کو ممکن بنا دیا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ جدید عہد میں ہم نے کلاسیکل علم الکلام ہی کو اپنا عقیدہ بنا لیا ہے۔ جدید علم الکلام کی وجہ سے ہمارا عقیدہ بھی ختم ہو گیا اور سائنس نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔
ہم سائنس اور اقدار کے مسئلے میں ہی ایسے الجھے ہیں کہ عقلی علوم میں پیدا ہونے والے اصل مسئلے کی طرف کبھی دھیان نہیں جا سکا، اور کوئی صاحبِ علم اس کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔ اور یہ عین وہی مسئلہ ہے جس کا کلاسیکل علم الکلام نے نہایت کامیابی سے سامنا کیا تھا۔ یہ مسئلہ ہمارے عقیدۂ توحید کا ہے۔ اسے مختصر یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ عقیدہ، عقلی علم میں نہیں ڈھلتا یعنی عقلی علم کی شرائط پر یہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر اسے عقلی علم بنا دیا جائے اور یہ discursive بیان میں آ جائے تو اس سے تنزیہہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور ایمان اور عقیدہ دونوں ہی صاف ہو جاتے ہیں۔ ہر عقلی علم تشبیہی ہوتا ہے، لیکن توحید تشبیہی نہیں ہو سکتی۔ عقلی علم میں توحید کو تشبیہ سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب کے لیے کلاسیکل علم الکلام سے رجوع کرنا چاہیے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں