علم سے متعلق کانٹین کے موقف کا خلاصہ یوں ہے:
1) ڈیوڈ ھیوم بطور رپریزنٹیشنلسٹ تجربیت پسند مفکر کہتا ہے کہ علم اگر ان تاثرات (impressions) کے ادراک کا نام ہے جو مشاہدے سے ذھن میں حاصل ہوتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ “علت ہونا” جیسے احکام (predicates) کہاں سے حاصل ہوئے؟ ظاہر ہے علت کا کوئی مشاہدہ نہیں ہوتا، تو ذہن کے پاس اس جملے کی سچائی کی بنیاد کیا ہے کہ “الف ب کی علت ہے” جبکہ علم تجرباتی امپریشنز (نیز ریلیشنز آف آئیڈیاز) سے عبارت ہے اور علت یہ نہیں؟
2) کانٹ اس کی بات کو زیادہ پھیلا کر کہتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف علیت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ دیگر بہت سے کلی احکام (universal predicates) کو بھی لاحق ہے جیسے کلیت، لزوم، مقدار، نسبت، زمان، مکان وغیرہ۔ یعنی یہ سب ایسے اوصاف ہیں جو محض تجربے سے نہیں آسکتے کیونکہ تجربہ جزئی اور contingent ہوتا ہے۔ تو ان احکام کی کیا توجیہ ہے؟
3) کلی احکام کی توجیہ کا یہ مسئلہ نیا نہیں پرانا ہے۔ کانٹ سے قبل علامہ ابن سینا کی روایت میں وجود ذھنی کے مفکرین کے ہاں اس مسئلے کا حل یہ تھا کہ یہ کلی احکام جزیات سے انتزاع (abstraction) ہیں اور یہ احکام چند ایسی کلی ماہیات و امور سے متعلق ہیں جو ذھن میں وجود رکھتے ہیں نہ کہ خارج میں، لیکن یہ بہرحال خارج کے تابع ہیں۔ گویا ذھن خارجی جزیات کی کلی ساخت کو اخذ کرتا ہے (اس کا ایک اور حل اسلامی روایت میں وجودی مفکرین بھی پیش کرتے ہیں اور ان سے قبل بعض معتزلہ)۔
4) کانٹ نے کہا اس ترتیب کو الٹ دو جسے وہ اپنا کاپرنیکن انقلاب کہتا ہے: ذھن کے پاس ماقبل تجربہ کلی تصورات موجود ہوتے ہیں جنہیں جزئی امپریشنز پر لاگو کرنے سے علمی قضایا پیدا ہوتے ہیں۔ علم خارجی حقیقت کو جاننے کا نام نہیں بلکہ ہمیں جو خارج معلوم ہوتا ہے (phenomena) وہ خارجی جزیات کے ذہن کی ساخت کے مطابق منطبق ہو کر ظاہر شدہ احکام ہوتے ہیں۔ یوں علم شے فی نفسہ کو جاننے کا حال نہیں بلکہ انسانی تفہیمی ساخت سے ڈھلے ہوئے اس کے مظہر کے ادراک کا نام ہے۔ پس کانٹ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ علم اگر خارج سے حاصل ہونے والے جزئی امپریشنز کے ادراک کا نام ہے تو علمی قضایا کی تشکیل کے لئے چند کلی تصورات کو بھی علم کی شرائط کے طور پر ذہن میں فرض کرنا ہوگا۔ نتیجتاً علم بذات خود ایک ذہنی construct بن کر رہ جاتا ہے۔
5) کانٹ اپنے سے ماقبل رپریزنٹیشنلسٹ فکر کے مسئلے کا ایک حل تجویز کرنے کی فکر میں رہا ہے، یہ بھول کر کہ علم کے باب میں رپریزنٹیشنل ازم بذات خود کوئی قابل فہم و قابل دفاع موقف ہے بھی یا نہیں نیز خود اس کی سچائی و حقیقت کا مفہوم کیا ہے۔ علم کے باب میں کانٹین تجزیہ کسی فکشن یا تخیلاتی کہانی کی طرح ہے جو کچھ وقت کے لئے آپ کو متوجہ کرلیتی ہے لیکن جونہی آپ اس کہانی کی سچائی کی دلیل پر سوال اٹھاتے ہیں اس کا فکشن ہونا ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس کی ساری کہانی بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ نہ رپریزنٹیشل ازم علم کی تفہیم کا درست منہج ہے اور نہ ہی کلی علمی احکام کی توجیہ کے لئے کلی ماہیات و مقولات کا وجود فرض کرنے کی ضرورت ہے۔
6) مذہبی کانٹینز نے جب کانٹ سے یہ سبق سیکھ لیا کہ انسانی علم فی نفسہ حقیقت سے متعلق نہیں، تو انہیں اپنے مذھبی موقف کی فکر لاحق ہوئی جس کے بارے میں یہ لوگ یہ کہنا افورڈ نہیں کرسکتے تھے کہ یہ حقیقت سے متعلق نہیں۔ ساتھ ہی کانٹین سوفسطائیت نے، ہر سوفسطائیت کی طرح، علم و عقلی استدلال سے ان کا اعتبار ختم کردیا، لہذا یہ علم و عقل کو ایمان کی بحث میں حوالہ بنانے میں عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ علم و عقل سے ماورا ایمان نام کی ایک بستی آباد کی جائے جس کے بارے میں بس یہ دعوی کردیا جائے کہ وہ حقیقت سے متعلق ہے۔ چونکہ یہ بستی علم و عقل سے الگ تھلگ ہوتی ہے، لہذا یہ علم کے کسی بھی چیلنج سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ یوں یہ لوگ “کچھ چیزیں بس مان لینے کی ہوتی ہیں” نیز “عقل کی ایک فیکلٹی ماننے ہی سے متعلق ہے بلکہ عقل دی ہی اس لئے گئی ہے کہ وہ مذہبی حقائق کو بس مانے” جیسی باتیں کرکے اپنے تئیں ایمان کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرلیتے ہیں (یہ گویا ان کے آئرن ڈوم کا خول ہے جسے خود پر چڑھا کر یہ ہر علمی فتنے سے محفوظ محسوس کرتے ہیں)۔ بعض نے تو خوشی میں پھولے نہ سمائے یہ تک سمجھا کہ ہم اہل مذھب کو کانٹ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔
7) لیکن ان کی بسائی ہوئی یہ بستی دراصل اندھے اعتقادات (dogmatic beliefs) کی بستی ہے جس میں ماننے کے نام پر کچھ بھی بھرا جاسکتا ہے، یعنی ایک ایسی بستی جسے ایک ھندو، عیسائی، یہودی الغرض ہر مذہب کا مدعی “ایمانی قضئے” کے نام پر بسانے کا مدعی ہوسکتا ہے۔ کانٹین علمیات کا حاصل یہ ہے کہ یہ جو ماورائے علم و عقل بستیاں تم بسانا چاہتے ہو انہیں اپنی نجی زندگیوں میں بساؤ، اجتماعی زندگی علم و عقل کا موضوع ہوتی ہے نہ کہ dogmatic beliefs کا جن میں فصل نزاع کا کوئی عقلی و علمی طریقہ موجود نہیں اور یہ تم خود ہی مان رہے ہو۔ پس پبلک آرڈر تو سیکولر علم پر مبنی ہوگا جس کا تمہارے ڈاگماز سے کچھ لینا دینا نہ ہو، یہی کہنا کانٹین فکر کا اصل مطمع نظر ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذھبی کانٹینز جس ایمان کو بچانے کے لئے ایک محفوظ بستی بسانے نکلے تھے، اس ایمان کے تحفظ کا کام انہیں سیکولر (غیر اسلامی) نظم اجتماعی کے سپرد کرنا پڑتا ہے جو ان کے منشا کے عین برعکس ان کی بستی کو سکیڑ کر انہیں عدم تحفظ کا شکار کردیتی ہے۔
8) بعض مذھبی کانٹینز اپنے علمی موقف سے جنم لینے والے اس نتیجے کو پہچان کر اسے قبول کرلیتے ہیں، لیکن بعض کو یہ نتیجہ قبول نہیں ہوتا۔ وہ الٹے سیدھے داؤ پیچ کے ذریعے کانٹین علمیات ہی سے وحی کو علم ثابت کرنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں تاکہ ان کی بستی کی بساط لپیٹنے کا جواز خود ان کے اندر سے نہ نکلے۔ کچھ کو اس خطرے کا ادراک ہی نہیں ہوتا اور وہ کسی نشے میں دھت دو متضاد کہکشاوں میں جی رہے ہوتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ علمیات میں کانٹ کو مان کر بھی اجتماعی نظم کا سیاسی نظریہ اسلامی ہوسکتا ہے۔ ایسے مذھبی کانٹینز دراصل ایک مخمصے کا شکار ہوتے ہیں اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ ان کا مذہبی سیاسی نظریہ اپنی سرشت میں فاشسٹ قسم کا ہوتا ہے جو بس ایک اندھا اعتقاد رکھنے والی عدم تحفظ کا شکار کمیونٹی کی بالادستی چاہتا ہے نیز اپنے تصور علم کی بنا پر اپنے اس عمل کے جواز کی کوئی علمی بنیاد پیش کرنا اس کے لئے اگرچہ اصولاً ممکن نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ اس کے جواز گھڑتا رہتا ہے جیسے فاشسٹ اپنی نسلی یا قومی برتری کے لئے گھڑتے ہیں۔ کانٹین علمیاتی منہج کو unquestionable طور پر قبول کرنے والوں کے ہاں ایک میلان سیکولر لوگوں کو یہ کہنا بھی ہوتا ہے کہ چلو اگر ہمارا مذھبی اعتقاد ڈاگما ہے تو تمہارے نظریہ حیات (جیسے لبرل ازم وغیرہ) بھی ڈاگما ہی ہیں، یوں یہ “ہم بھی پاگل تم بھی پاگل” کی مساویانہ کیفیت سے سرشاری محسوس کرتے ہیں۔




کمنت کیجے