متکلمین نے اس پہلو کو واضح کیا ہے کہ دعوی نبوت کی سچائی کی اصل دلیل معجزہ ہوتا ہے نیز انہوں نے اس پہلو سے معجزے کی وجہ دلالت کو بھی واضح کیا ہے۔ تاہم معجزے میں خرق عادت کے پہلو پر ہونے والے اعتراضات سے بچنے کے لئے بعض متاخرین نے نبی علیہ السلام کی سیرت طبیہ کے بعض پہلووں کو آپ علیہ السلام کے دعوی نبوت کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مثلاً آپ علیہ السلام کی انفرادی سیرت کے خصائص، آپ علیہ السلام کی تعلیمات کے اثرات (جیسے ناقصوں کو کامل بنا دینا) نیز اجتماعی نظم میں وسیع پیمانے پر کامیابی کے ساتھ اصلاح و انقلاب برپا کردینا وغیرہ۔
تاہم اس دلیل میں چند مشکلات ہیں:
1) ان امور سے دعوی نبوت کی سچائی کا کوئی عمومی اصول حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف حضرت محمد(ﷺ) کی نبوت کے ثبوت سے متعلق ہیں۔ ایسے بھی انبیا گزرے ہیں جن کے اصحاب کی تعداد کم رہی نیز جو دنیاوی اعتبار سے بڑے پیمانے پر اصلاح و انقلاب برپا نہ کرسکے۔ چنانچہ اس اصول پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان انبیا کے مخاطبین پر ان کی سچائی کی دلیل قائم ہوئی تھی؟ اگر ہوئی تھی، تو وہ دلیل کیا تھی؟ اتنا ہی نہیں، بلکہ اس دلیل کی رو سے خود نبی علیہ السلام کے دعوی نبوت کی دلیل بھی غلبہ دین کے بعد تام ہوئی، جو محل اشکال بن جاتا ہے جبکہ اس دلیل کو اصل (primary) دلیل کہا جارہا ہو۔
2) اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر نبی علیہ السلام کے ان امور (سیرت، اثرات و کامیابیوں) کو بذات خود ایک معجزہ نہ مانا جائے تو یہ پہلو دلیل بننے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں کیونکہ اگر یہ امور اصولاً دیگر افراد کے لئے بھی ممکن ہوں تو ان امور میں نبوت کی سچائی کی دلیل کا پہلو جاتا رہے گا۔ چنانچہ اس قسم کے دلائل دینے والوں نے اگرچہ خرق عادت کے پہلو سے بچنے کی کوشش کی ہو، تاہم سچ یہ ہے کہ یہ لوگ اس سے بچ نہیں پاتے اور یہی وجہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ مثلاً حضرت ابوبکر صدیق بھی بہت سچے تھے یا مثلاً کوئی اور شخص اگر بہت سچا ہو تو کیا وہ بھی نبی ہوتا ہے، یا کوئی اور شخص بھی اس قسم کی معاشرتی اصلاح کرنے یا اس درجے میں انقلاب لانے میں کامیاب ہوسکتا ہے، تو یہ حضرات ان امکانات کی نفی کردیتے ہیں۔ نتیجتاً یہ لوگ یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی انفرادی زندگی و تعلیمات کی کامیابی بذات خود ایک معجزہ ہے، چاہے وہ اس بات کا اعتراف نہ کریں، اور بات گھوم کر معجزے اور دعوی نبوت کی سچائی کے ربط پر آجاتی ہے۔
اگر معجزے کے اس پہلو کو ان کی دلیل سے منہا کردیا جائے تو یہ استدلال لائق اعتبار نہیں رہتا بلکہ تعرفی (tautological) بن جاتا ہے۔ ان کے استدلال کی نوعیت یہ ہوتی ہے:
• ایک خاص شخصیت (محمد ﷺ) کی زندگی اور ان کے اثرات کو دیکھ کر ایک عمومی خاکہ تیار کرنا کہ ”نبی کی زندگی ایسی ہوتی ہے“
• پھر اسی خاکے یا تعریف کو بنیاد بنا کر کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان کی زندگی اس معیار پر پوری اترتی ہے، لہذا وہ نبی ہیں۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ جس چیز کو ”نبی کی زندگی کا معیار“ قرار دیا گیا ہے، وہ پہلے ہی اسی ایک مثال (یعنی حضرت محمدﷺ کی زندگی) سے لیا گیا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس طرح یہ دلیل درحقیقت کوئی نئی چیز ثابت نہیں کرتی بلکہ وہی بات گھما کر دوبارہ کہہ دیتی ہے۔ الغرض جس چیز سے بچنے کی خاطر یہ حضرات دعوی نبوت کی سچائی کے لئے یہ دیگر پہلو پیش کرتے ہیں، وہ بالاخر معجزے کے مفہوم سے ہی سے تام ہوتے ہیں۔
آخری بات یہ سمجھنا چاہئے کہ معجزہ صرف مادی امور میں خرق عادت نہیں ہوتا، بلکہ جس بھی سطح پر عادت جاری ہو (مثلاً سماجی، حیاتیاتی، لسانیاتی وغیرہ) اس میں خرق سے عبارت ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نبی علیہ السلام کی حیات طیبہ کے مختلف پہلووں کو بطور معجزہ پیش کرتا ہے، تو یہ طریقہ استدلال درست ہے۔ لیکن اگر وہ اسے معجزے کے سوا بالذات ایک تام پہلو سمجھتا ہے، تو یہ طریقہ استدلال غیر موثر ہے۔




کمنت کیجے