عمران شاہد بھنڈر
بیسویں صدی کے فلسفے کی تاریخ میں پروفیسر وائٹ ہیڈ کا نام انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کا ایک عظیم کارنامہ دو ہزار صفحات پر مشتمل ریاضیاتی منطق کی کتاب Principia Mathematica ہے جو انہوں نے اپنے شاگرد برٹرینڈ رسل کے ساتھ مل کر لکھی تھی۔ اس کے علاوہ ان کو ’’تحلیلی فلسفے‘‘ کے بانیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پروفیسر وائیٹ ہیڈ نے ایک نئے مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی، جسے Process Philosophy کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں یہ باہم مربوط اور اندرونی سطح پر ہر شے دوسری سے منسلک ہے، جس میں انسان بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ’’حقیقت‘‘ انسان سے الگ کہیں موجود ہے، بلکہ انسان اس حقیقت کا خود ایک حصہ ہے۔ وائٹ ہیڈ کے یہ خیالات ہمیں سیدھا ہیگلیائی منطق میں پہنچا دیتے ہیں جس کے مطابق ’’سچ ایک پروسیس‘‘ ہے۔ ہیگل انسائیکلوپیڈیا کے سیکشن 162 میں کہتا ہے،
’’تصور کا اصول تین حصوں پر مشتمل ہے۔
1۔ پہلا موضوعی یا ہیئتی تصور کا اصول ہے۔
2۔ دوسرا حصہ تصور کا وہ اصول ہے جو بلاواسطگی کی صفت رکھتا ہو، یعنی معروضیت۔
3۔ تیسرا خیال کا اصول ہے، موضوعی اور معروضی، یعنی تصور اور معروضیت کی وحدت، جیسا کہ مطلق سچ۔‘‘
آسان الفاظ میں یہ کہ تصور (Concept) موضوعی (Subjective) اور معروضی کی وحدت سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر تصور میں انسان شامل نہ ہو تو وہ تصور ’’مطلق سچ‘‘ نہیں کہلا سکتا۔ یہ کمال کا نتیجہ ہے جسے ہیگل نے منطقی طور پر اخذ کیا ہے۔ تاہم یہاں ایک انتہائی اہم نکتہ ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ’’سچ اپنے گہرے مفاہیم میں معروضیت اور تصور کے درمیان identity ہے۔‘‘ یہاں سوال یہ ہے کہ ہیگل کی معروضیت سے کیا مراد ہے؟ کیونکہ معروضیت انسان سے الگ تو وجود نہیں رکھتی، یہی وائٹ ہیڈ کے ’’پروسیس فلسفے‘‘ کا دعویٰ بھی ہے۔ ہیگل لکھتا ہے،
خیال بطور عمل (Process) تین مراحل سے گزرتا ہے: خیال کی پہلی صورت ’’زندگی‘‘ ہے، یعنی خیال بلاواسطہ (immediate)۔ دوسری صورت ربط یا افتراق کی ہے، اور یہاں خیال علم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جس کے دو پہلو ہیں: نظری اور عملی خیال، اور خیال کی تیسری صورت ’’مطلق خیال‘‘ کی ہے ۔ ’’مطلق خیال‘‘ دراصل نظری اور عملی کی وحدت ہے۔ عملی کا مطلب کُل سماج کی عملی فعلیت ہے، اور نظری کا مطلب ہر عملی کی فکری صورت، یعنی خیال اور عمل کی وحدت! جب تک خیال اور عمل کی وحدت نہیں ہو گی، تب تک خیال کبھی ’’مطلق‘‘ نہیں ہو سکتا۔ ہیگلیائی فلسفے میں یہی ’’مطلق‘‘ کے مفاہیم ہیں، جس کو فکری نابالغ لوگ غلط طور پر مذہب سے جوڑ دیتے ہیں۔ ’’مطلق‘‘ وہ مرحلہ ہے جس میں کُل عملی اور نظری خیال متحد ہو جائے۔ ہیگلیائی فلسفے میں ’سچ‘ کہیں گھڑا گھڑایا ہوا موجود نہیں ہوتا، جس کو صرف تلاش کرنا ہوتا ہے، بلکہ سچ کی تشکیل اور اس کی دریافت میں انسان کی اپنی عملی فعلیت کا کردار فیصلہ کُن ہوتا ہے۔ یہی خیال ہیگل کے تمام فلسفے میں کارفرما ہے۔
ہیگل کے فلسفے کا جوہر یہ ہے کہ منطق جو کہ ’’سوچ کی سائنس‘‘ ہے وہ ’’حسی تجربے‘‘ کے بغیر حقیقت کو صرف دریافت ہی نہیں کرتی بلکہ ایک یونیورسل تھیوری کی تشکیل کر سکتی ہے جو تمام زندگی اور تاریخ کا منطقی تجزیہ پیش کر سکتی ہے۔ ہیگل اس خیال کو سختی سے مسترد کرتا ہے کہ ’استقرا‘ منطقی طور پر درست یونیورسل تھیوری کی تشکیل کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہیگل نے کہا، عین وہی بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے استقرا کے بارے میں نتیجہ نکالا۔ کارل پوپر اپنی کتاب ’’دی لاجک آف سائنٹیفک ڈسکوری‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’یہ ساری کتاب نظریہ استقرا کے خلاف لکھی گئی ہے۔‘‘ پوپر مزید یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مشاہدے، اعداد و شمار اور تجربے کی بنیاد پر ایک منطقی طور پر درست یونیورسل نظریہ پیش کرنا ناممکن ہے۔ مطلب یہ کہ سوچ حقیقت کی دریافت میں خود مختار مفروضوں سے مدد لیتی ہے، جنہیں تجربی طور پر درست ثابت کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حقیقت کی دریافت کا یونیورسل منہج استقرا نہیں ہو سکتا، بلکہ ارسطو کے تشکیل کردہ استخراجی منہج کو بروئے کار لایا جائے گا۔ یہ دعویٰ بیسویں صدی کے عظیم سائنسدانوں نے کیا ہے، جن میں سٹیفن ہاکنگ، راجر پین روز، آئین سٹائن اور ہائزن برگ جیسے سائنسدان بھی شامل ہیں۔ آئن سٹائن نے 1933 میں آکسفورڈ میں دیے گئے ایک لیکچر میں کہا تھا،
’’ہمارا اب تک کا تجربہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ فطرت میں ریاضیاتی سادگی کا اصول عملی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، اس اعتبار سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ خالص فکر حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسا کہ قدما کا خیال تھا۔‘‘
آئن سٹائن قدیم یونانیوں کی استخراجی منطق کو حقیقت کی سائنسی دریافت کے عمل میں فیصلہ کُن سمجھا ہے اور استقرا کو مسترد کردیتا ہے۔ آئن سٹائن اپنی مختصر کتاب ’’دی تھیوری آف ریلیٹیویٹی‘‘ میں کہتا ہے،
’’کوئی ایسا استقرائی منہج موجود نہیں ہے جو طبیعات کے بنیادی تصورات تک لے جا سکے۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنا انیسویں صدی کے بیشتر محققین کی بنیادی فلسفیانہ غلطی تھی۔ غالباََ یہی وجہ تھی کہ سالماتی نظریہ اور میکسویل کا نظریہ نسبتاََ دیر سے قائم ہو سکے۔ منطقی سوچ لازمی طور پر استخراجی ہوتی ہے، اس کی بنیاد مفروضاتی تصورات اور مسلمات(axioms) پر ہوتی ہے۔ ہم ان مسلمات کا انتخاب اس طرح کیسے کرسکتے ہیں کہ ہمیں کامیابی کی توقع کا جواز مل سکے۔‘‘
(دی تھیوری آف ریلیٹیویٹی، ص، 27)
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ہیگل نے اپنے ’لاجک‘‘ میں ’تجربیت‘ پر ایک پورا باب رقم کیا تھا، اور اعلیٰ درجے کے منطقی دلائل سے ’تجربیت‘ کو ایک ایسے یونیورسل نظریے کی تشکیل کے لیے ناکافی قرار دیا جو حقیقت کا بحیثیت کُل یعنی ایک یونیورسل نظریہ پیش کر سکے۔ بہرحال، یہاں یہ نکتہ بھی پیشِ نظر رہے کہ ہیگل ، آئن سٹائن اور دیگر سائنسدانوں کے مناہج میں فرق ہے، اگرچہ ان کا بنیادی منہج استخراجی ہے، لیکن اس میں جزیات کا فرق پایا جاتا ہے، جب کہ استقرا بنیادی طور پر استخراجی منطق سے مختلف ہے۔ یونانی چونکہ استخراجی منطق کو بروئے کار لاتے تھے، ان معنوں میں وہ آج بھی متعلقہ ہیں۔ اسی بنیاد پر مابعد جدید فرانسیسی مفکر لیوٹارڈ نے کہا تھا کہ ارسطو جدید مفکرین سے زیادہ جدید ہے۔
یہ فقط اتفاق نہیں ہے کہ قدیم یونانی مفکرین کہتے تھے کہ سوچ حقیقت تک براہ راست رسائی رکھتی ہے، یہ یونانی فلسفیوں کی لاثانی عقلیت تھی جس کی جانب بیسویں، اکیسویں صدی کے سائنسدان رجوع کرنے کے لیے مائل ہوئے۔ سٹیفن ہاکنگ لکھتا ہے،
“جدید سائنس کی آمد تک عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ دنیا کا تمام علم براہ راست مشاہدے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، یعنی اپنے حسیاتی ادراک کی روشنی میں، لیکن جدید سائنس، جس کی بنیاد روز مرہ تجربے سے متصادم ہونے والے تصور پر ہے، جیسا کہ فینمان کا، جس کی شاندار کامیابی نے سکھایا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ حقیقت کا سیدھا سادا نقطہ نظر جدید فزکس سے مطابقت نہیں رکھتا۔”
(کائنات کی ساخت، ص، 11)
وہ پہلا فلسفی جس نے حسی مشاہدے کو کم تر قرار دیا، اور عقلی جستجو کو یونیورسل حقیقت کی دریافت کا قابل بھروسہ ذریعہ قرار دیا، وہ بلاشبہ عظیم فلسفی افلاطون ہے۔ پروفیسر وائٹ ہیڈ صحیح کہتے ہیں کہ “تمام مغربی فلسفہ افلاطون کے فلسفے کا فٹ نوٹ ہے۔” فیثاغورثین کے بعد افلاطون ایک ایسا فلسفی ہے جس نے باکمال مباحث سے یہ ثابت کیا کہ کائنات کی ساخت ریاضی کے اصولوں پر استوار ہے جسے عقلی طور پر جانا جا سکتا ہے۔ افلاطون کے ٹھیک دو ہزار برس بعد گلیلیو نے افلاطون کے یہی الفاظ دہرا دیے، اور آج سائنسدانوں کی اکثریت بشمول راجر پین روز جیسا عظیم سائنسدان اور ریاضی دان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات کی ساخت ریاضی کے اصول و قواعد کے مطابق تشکیل پائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان پہلے اپنا ریاضیاتی کام کرتے ہیں، اور بعد ازاں اس کا تجربی ثبوت حاصل کرتے ہیں۔ یہ امر حیران کن ہے کہ ریاضی کی مساواتوں کی شکل میں تیار کردہ قبل تجربی نمونے تجربے میں اپنی صداقت کو ثابت کرتے ہیں۔
نوٹ: آئن سٹائن، ہیگل اور ہاکنگ کی کتابوں سے پیش کیے گئے ترجمہ شدہ اقتباسات نیچے تبصروں میں دیکھیے۔




کمنت کیجے