عمران شاہد بھنڈر
مابعد الطبیعات وجود اور اس کی ماہیت کو اس کی کُلیت میں جاننا ہے۔ وجود سے مراد ہر وہ شے ہے جو موجود ہے، قطع نظر اس کے کہ کوئی شے ابھی مشاہدے میں نہیں آئی۔ مثال کے طور پر جیمس ویب ٹیلی سکوپ میں کیے گئے مشاہدے کے بعد کائنات سے متعلق جو حقائق سامنے آئے وہ کبھی مابعد الطبیعات کا حصہ تھے، کیونکہ ان کا تعلق بھی وجود بحیثیت کُل کے ساتھ تھا، لیکن اس سے قبل وہ مشاہدے میں نہیں آ سکے تھے۔ لہذا وجود کے تمام پہلوؤں کو ان کے جوہر میں جاننا مابعد الطبیعات کہلائے گا۔
علیت (causality) فلسفے کا دریافت کردہ یا تشکیل کردہ ایک مقولہ ہے، جس کی تمام تجربی سائنسوں میں بہت اہمیت رہی ہے۔ سائنس دان آج بھی اس سوال کا جواب دینے میں مصروف ہیں کہ اگر بِگ بینگ ایک حقیقت ہے تو پھر بِگ بینگ کی علت کیا ہے؟فلسفی نے کبھی ’’علتِ اولیٰ‘‘ کی ماہیت بتانے کی کوشش نہیں کی، مگر سائنسدان ان معنوں میں فلسفیوں سے زیادہ اس علت کا سراغ لگانے کی تڑپ رکھتے ہیں جو بِگ بینگ کا باعث بنی ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ فلسفی وجود، کائنات، حقیقت کا اس کی کُلیت میں علم حاصل کرنے کی خواہش کرے تو وہ مابعد الطبیعاتی کہلائے، اور اگر سائنسدان وجود، کائنات، حقیقت کا ’’مکمل‘‘ علم حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس کو مابعد الطبیعات کے دائرے سے خارج کر دیا جائے۔ دونوں کی خواہش ایک ہی ہے، صرف مناہج کا فرق ہے۔ فلسفی اس کے لیے منطقی منہج کو بروئے کار لاتے رہے ہیں، جب کہ سائنسدان’’ پُراسرار‘‘ ریاضیاتی مساواتوں کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ اکثر سائنسدان یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ’’فلسفہ مر چکا ہے۔‘‘ وہ احباب جو فلسفے سے مخاصمت رکھتے ہیں وہ سٹیفن ہاکنگ کا یہ قول اکثر دہراتے ہیں۔ افسوس مگر اس بات کا ہے کہ ان لوگوں کو سرے سے ہی علم نہیں کہ سٹیفن ہاکنگ نے یہ کیوں کہا کہ ’’فلسفہ مر چکا ہے۔‘‘ سٹیفن ہاکنگ کا یہ اقتباس دیکھتے ہیں،
’’سائنس کی تاریخ میں ہم نے درجہ بہ درجہ بہتر سے بہتر تھیوریاں یا نمونے دریافت کیے ہیں، افلاطون سے لے کر نیوٹن کی کلاسیکی تھیوری اور کوانٹم تھیوری تک۔ یہ سوال فطری ہے کہ کیا یہ سلسلہ انجام کار ایک آخری نقطے پر کائنات کی ایک مطلق تھیوری پر پہنچتا ہے جس میں تمام قوتیں شامل ہوں اور جو ہمارے ہر ممکنہ مشاہدے کی پیش بینی کرے، یا ہم ہمیشہ بہتر سے بہتر تھیوری تلاش کرتے رہیں گے، لیکن کبھی ایسی تھیوری تک نہیں پہنچیں گے جس میں مزید بہتری کی گنجائش نہ ہو؟ ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی قطعی جواب موجود نہیں ہے۔‘‘
(ہاکنگ، کائنات کی ساخت، ص، 12)۔
اقتباس میں موجود ’’آخری‘‘ یا حتمی یا’’ مطلق‘‘ سچائی تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یعنی سائنسدانوں میں ’’مطلق سچ‘‘ کی تلاش کی مابعد الطبیعاتی خواہش موجود تو ہے، لیکن ابھی تک اس کے بارے میں ’’حتمی طور پر‘‘ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سائنس محض ایک منہج ہی نہیں ہے، جس کا مقصد صرف جاننا ہے، بلکہ اس منہج کو بروئے کار لا کر اپنی مابعد الطبیعاتی خواہش کی تسکین کی جاتی ہے۔ہاکنگ جانتا ہے کہ انسان کے اندر کائنات کو جاننے کا بے پناہ تجسس پایا جاتا ہے۔ انسان اپنی حقیقت کو بھی جاننا چاہتا ہے۔ یہ سب قدیم مابعد الطبیعات کے بنیادی سوالات ہیں، جن کو ہاکنگ دہراتاہے،
’’ہم اس دنیا کی تفہیم کیسے کر سکتے ہیں جس میں خود کو پاتے ہیں؟ کائنات کا طرزِ عمل کیا ہے؟ حقیقت کی نوعیت کیا ہے؟ یہ سب کہاں سے آیا؟ کیا کائنات کو ایک خالق کی ضرورت تھی؟ ۔۔۔۔۔روایتی طور پر یہ فلسفے کے سوالات ہیں، لیکن فلسفہ مر چکا ہے۔۔۔ ہماری جستجوئے علم میں دریافت کی مشعل سائنسدانوں کے ہاتھ میں آگئی ہے‘‘
(کائنات کی ساخت، ص، 10)۔
یہ ہی وہ نکات ہیں جن کی جانب میں توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، کہ یہ تمام سوالات کبھی فلسفے کا موضوع تھے، لیکن اب یہ سائنس کا موضوع ہیں۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے کہ جس پر میں اصرار کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ سائنس مابعد الطبیعات بن چکی ہے، بلکہ یوں کہیں کہ سائنس کی حقیقت کی جستجو کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ سائنس مابعد الطبیعات ہی کہلائی جانی چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس صرف مشاہدے پر انحصار نہیں کرتی بلکہ کُلی طور پر تجریدی تھیوریاں تشکیل دیتی ہے، اور کائنات، وجود کے ان حصوں کے بارے میں پیش گوئیاں کرتی ہے جو کبھی مشاہدے میں نہیں آئے ہوتے۔ ان معنوں میں سائنس کے اندر مابعد الطبیعاتی تڑپ کسی بھی دوسرے مضمون سے زیادہ ہے۔
ہاکنگ نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ اس نوعیت کے ہیں کہ ہر انسان ان کے جوابات تلاش کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام سوالات مابعد الطبیعاتی نوعیت کے ہیں۔ ان کو کسی ’’تجربے‘‘ میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ان کے منطقی اور سائنسی جوابات ہی تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مابعد الطبیعات کے چند مزید سوالات یہ ہیں: کیا آزاد ارادے کا وجود ہے؟ جبر و قدر کیا ہیں؟ اخلاقیات کی اساس کیا ہے؟ اخلاقیات کیوں ضروری ہے؟ وغیرہ۔ ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جدید سائنس کی تمام دریافتوں اور ایجادات اور ان کا انسانی زندگی سے تعامل اس نوعیت کا ہے کہ اس کے کُل سماجی زندگی پر گہرے اثرات ثبت ہوتے ہیں۔ ان معنوں میں اخلاقیات سے متعلق تمام سوالات کا جواب دینا صرف فلسفیوں کا کام نہیں ہے بلکہ سائنسدانوں کی بھی ذمہ داری ہے جس کو وہ ادا کرتے رہے ہیں۔ آئن سٹائن کے اخلاقیات پر مضامین، سائنسدانوں کی ماحولیات پر کانفرنسیں، انسان کو جنگوں کی تباہی سے بچانے کے لیے اخلاقی جواز پیش کرنا، یہ سب روایتی مابعد الطبیعات کے موضوع رہے ہیں، جن پر آج کے سائنسدان کُھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ایمانوئیل لیویناس نے کہا تھا کہ مابعد الطبیعات نہیں بلکہ ’’اخلاقیات فلسفہ اوّل ہے۔‘‘میں اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ اخلاقیات کا سوال بنیادی طور پر ایک مابعد الطبیعاتی سوال ہے، بے شک خدا کی جگہ انسان ہی کیوں نہ مرکزیت اختیار کرے۔ مابعد جدید مفہوم میں جہاں کہیں مرکزیت کا تصور ہو گا وہاں مابعد الطبیعات کا غلبہ ہے۔
یہ امر باعثِ حیرت نہیں ہے کہ ہاکنگ تاریخِ فلسفہ کے عظیم مابعد الطبیعاتی عقلیت پسند فلسفیوں کے سوالات کو دُہراتا ہے۔ وہ کہتا ہے،
’’کائنات کو عمیق ترین سطح پر سمجھنے کے لیے ہمیں نہ صرف یہ جاننا ہو گا کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، بلکہ یہ بھی کہ کیوں کام کرتی ہے؟
۔نیست کی بجائے کچھ ہست کیوں ہے؟
۔ ہم وجود کیوں رکھتے ہیں؟
۔ قوانین کا یہ مخصوص سیٹ کیوں ہے اور کوئی اور سیٹ کیوں نہیں ؟
(کائنات کی ساخت، ص، 13)۔
فلسفے کے طالب علم جانتے ہوں گے کہ پہلے دو سوالات سترھویں صدی کے عقلیت پسند جرمن فلسفی گوتلوب لائبنیز نے اٹھائے تھے۔ ان سوالات کا جواب مختلف فلسفیوں نے دینے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اب یہ سوالات، جو کہ اپنی اساس میں مابعد الطبیعاتی ہیں، ان کا براہِ راست جواب دینے کی ذمہ داری سائنسدانوں نے سنبھال لی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عہدِ حاضر میں موجود زیادہ تر سائنسدان فلسفے کے حوالے سے بالکل کورے ہیں، اور ان سوالات کے جوابات دینے کے لیے فلسفے کا گہرا علم ہونا اشد ضروری ہے، بصورتِ دیگر یہ سائنسدان سائنسی حاصلات کو بہت جلد مذہب کے گرداب میں پھنسا دیں گے، جس سے نکالنے کی استعداد ان میں موجود نہیں ہے۔




کمنت کیجے