جناب اطہر وقار اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں فرماتے ہیں ”کسی مسلم اکثریتی سماج میں سیاسی حکام کو صرف عدل تک محدود کرنا اور تقویٰ کی شرائط کو ثانوی حیثیت دینا،سیاسی لحاظ سے سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے کیونکہ جدید معاشرت میں عدل کے بیشتر پیمانے اور اطلاقی سپیسز سیکولرائزیشن کی مرہون منت ہے۔ تقویٰ اور عدل کو علیحدہ کرنا، مذہب اور سیاست کی علیحدگی کی ایک صورت ہے جو کہ جس کا نتیجہ سیکولر ایمینٹ سپیس کے پھیلاؤ کے صورت میں نکلے گا۔“
مجھے جناب ممدوح کی اس بات سے جزوی اتفاق ہے کہ ”سیاسی حکام کو صرف عدل تک محدود کرنا اور تقویٰ کی شرائط کو ثانوی حیثیت دینا“ درست موقف نہیں ہے۔ لیکن دین میں عدل اور تقوی کے پہلے سے قائم امتیازات کو نطرانداز کرنا اور حفظِ مراتب کو نظرانداز کرنا بھی کوئی درست مذہبی پوزیشن نہیں۔ جو چیزیں اپنے شرعی امتیازات کے ساتھ موجود ہیں، عصر حاضر میں ان کی معنویت کو سمجھنا اور ان کی انسانی فکر و عمل سے نسبتوں کو علم میں سامنے لانا بھی ایک جائز سرگرمی ہے۔ کیا شریعت میں نماز اور روزے میں امتیازات پہلے سے قائم ہیں یا نہیں ہیں حالانکہ وہ دونوں ہی عبادات میں داخل ہیں؟ جیسے نماز کے احکام روزے پر وارد نہیں ہیں، اسی طرح تقویٰ کے احکام عدل پر وارد نہیں ہیں اور نہ ان میں کوئی دوئی ہے، کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ ہم عصر دنیا میں تقویٰ اور عدل کے امتیازات کو سامنے لانا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ ریاست اور سیاسی سرمائے کا عہد ہے اور اسلامی مواقف نگاہوں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں۔
اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ ممدوح محترم کا سیکولرائزیشن کے حوالے سے موقف درست نہیں ہے۔ سیکولرزم سیاسی طاقت اور آئیڈیا کی ایک خاص حرکیات کا نام ہے، جس میں سیاسی طاقت آئیڈیا کو پیدا کر کے اپنا جواز تو بناتی ہے لیکن اسے اپنی وجودی تشکیل سے خارج رکھتی ہے۔ یعنی سیکولرزم میں تصور /آئیڈیا سیاسی طاقت کا جواز فراہم کرنے کی وجہ سے ہمیشہ آلاتی ہی رہتا ہے۔ اس طرح سیکولرزم صرف افکار کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سیاسی طاقت اور سرمایہ جو تاریخی صورت حال (condition) پیدا کرتے ہیں وہ زیادہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جناب ممدوح کا یہ فرمانا کہ ”جدید معاشرت میں عدل کے بیشتر پیمانے اور اطلاقی سپیسز سیکولرائزیشن کی مرہون منت [ہیں]۔“ بالکل درست ہے، اور وہ condition میں پیدا ہونے والی سیکولرائزیشن کی طرف توجہ دلا رہے ہیں، اور یہ بھول رہے ہیں کہ یہ condition جدید سیاسی طاقت اور سرمائے کی deployment سے پیدا ہوئی ہیں۔ اس صورت حال کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ عدل اور تقویٰ کو ساتھ رکھا جائے یا الگ کر دیا جائے۔ جناب ممدوح افکار کے تجزیے اور condition کی تفہیم میں خلط مبحث فرما رہے ہیں۔ اطہر وقار صاحب کا یہ فرمانا کہ ”تقویٰ اور عدل کو علیحدہ کرنا، مذہب اور سیاست کی علیحدگی کی ایک صورت ہے۔“ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی کہے کہ نماز اور زکٰوۃ کو الگ الگ عبادات سمجھنا سیکولرائزیشن ہے۔ ہماری پوری مذہبی سیاست اسی طرح کے الل ٹپ افکار و نظریات سے پیدا ہوئی ہے، اور اپنی ناسمجھی میں مسلم معاشروں میں سیکولرائزیشن کی بنیادی قوت کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ہمارے سیاسی ملاؤں نے دین کے اجتماعی احکام کو جدید سیاسی طاقت کا آلۂ کار بنا دیا، یعنی ہمارے سیاسی علما نے مذہب اور جدید سیاسی طاقت میں وہی نسبتیں پیدا کی ہیں جو مغرب میں نظریے اور سیاسی طاقت میں قائم ہو چکی تھیں۔ مذہب کو سیاسی طاقت کا جواز بنانا سیکولرائزیشن ہے جبکہ مذہب کو سیاسی طاقت کی تشکیل پر حکم بنانا شرعی تقاضا ہے۔
کسی بھی مذہبی معاشرے میں، سیکولرائزیشن اس وقت سامنے آتی ہے جب سیاسی طاقت سے متعلق چیزوں کو اس سے غیرمتعلق کر دیا جائے اور غیر متعلق چیزوں کو اس سے متعلق کر دیا جائے۔ مذہبی معنوں میں، سیکولرائزیشن کا مطلب ہے عقیدے کو جبری بنا دینا، جیسا کہ مغرب میں مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاست میں ہوا اور ہمارے ہاں تحریک اصلاح و ج.ہا.د میں سامنے آیا اور جس نے مابعد مذہبی سیاست کو ایک نمونہ فراہم کیا۔ مغربی معاشروں میں witch-hunting اور برصغیر کے معاشرے میں ”شرک“ اور ”توہین“ سے پیدا ہونے مظاہر اس وقت سامنے آئے جب سیاسی طاقت اور عقیدے میں توامیت اور متوازیت پیدا ہو گئی۔ اس کا ناگزیر نتیجہ مذہبی عقیدے کے خاتمے کی صورت میں سامنے آتا ہے جو کسی علمی مکالمے کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ عقیدے میں سیاسی طاقت کی کارفرمائی کا ثمر ہوتا ہے۔ معاشروں میں سیکولرائزیشن کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے سیاسی کے ساتھ ساتھ معاشی سوال بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ شرعی تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آزاد مارکیٹ کا داعی ہے یا سیاسی مارکیٹ کا داعی ہے؟ سیکولرزم افکار و خیالات کی بحث ہے، جبکہ سیکولرائزیشن ایک تاریخی، معاشی اور معاشرتی عمل ہے جو انسانی زندگیوں کو واقعاتی سطح پر مذہب سے کاٹ دیتا ہے۔ یعنی سیکولرائزیشن کا براہ راست تعلق انسانی صورت حال (human condition) سے ہے۔ مغرب میں سیکولرائزیشن کا آغاز ہی مارکیٹ کو ریاست کے تابع کرنے اور سرمائے کو سیاسی بنانے سے ہوا ہے۔ میں سیکولر افکار کے عقائد پر اثرات کو بخوبی سمجھتا ہوں، لیکن آپ ایسے افکار کا کیا کریں گے جب تاریخ نے ایسے مؤثرات کو انسانی معاشروں میں ایک روزمرہ حقیقت بنا دیا ہو جن کے ہوتے ہوئے مذہبی عمل تو دور کی بات ہے، کوئی نامیاتی انسانی عمل ہی باقی نہ رہ سکتا ہو؟
گزارش ہے کہ عدل فتویٰ کے تابع نہیں ہے جبکہ تقویٰ فتویٰ کے تابع ہے۔ جدید معنوں میں، عدل ایک سیاسی تصور ہے اور یہ براہ راست فطرت معاشرہ کے تابع ہے، اور مقاصد فطرت کی نگہبانی میں شریعت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ فتویٰ کا بنیادی مقصد امتثال امر میں ہیئت حکمی کی حفاظت ہے۔ عدل اجتماعی کی کوئی خاص ہیئت حکمی نہیں ہوتی کیونکہ اساسی تاریخی مؤثرات انسانی معاشروں کے سیاسی اور معاشی پہلوؤں میں ہی ظاہر ہوتے ہیں، اور ان کی تفہیم اور تعین میں فتویٰ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کام نظری علوم کا ہے تاکہ دینی تناظر میں ان مؤثرات کی تفہیم اور تعین کو ممکن بنایا جا سکے، اور مطالباتِ شریعت پر عمل کرنے کے راستے بنائے جا سکیں۔ تقویٰ کے احکام اجتماعی عدل پر وارد کرنے سے سیکولرائزیشن کا راستہ کھل جاتا ہے۔ تحریک مجاہدین کے سیاسی اور مذہبی تصورات نے ہماری پوری دینی اور تاریخی روایت کو بالکل ہی الٹ دیا ہے اس لیے جدید عہد میں ہمیں دینی رہنمائی کا تعین کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
سیکولرائزیشن بنیادی طور پر ایک تاریخی اور معاشرتی عمل کا نام ہے، اور اس کا سب سے بڑا مظہر کسی بھی معاشرے کے معاشی عمل کا تبدیل ہو جانا ہے۔ سیکولرائزیشن کی فکری تشکیلات اس عمل کے مابعد ہیں۔ ہمارا دین جس معاشی عمل کا داعی ہے اور جو ہمیشہ ہماری تہذیب کی بنیادی سرگرمی رہی ہے، اس کا تو دنیا میں اب کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا ہے۔ کیا اس پر گزشتہ دو سو سالہ مذہبی روایت میں کوئی گفتگو ملتی ہے؟ ایک ان پڑھ مسلمان بھی الحمد للہ یہ جانتا ہے کہ سود حرام ہے اور زکٰوۃ کا نظام نافذ ہونا چاہیے، اور ہمارے سیاسی علما کا کل علم بھی یہی ہے جسے وہ سیاسی نعرے کے طور پر دہراتے رہتے ہیں تاکہ اپنی طبقاتی تشکیل کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس سے جدید تاریخی عمل کی واقعاتی صورت حال اور جدید سماجی علوم کو سمجھنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ سیاست بازی کا زور ہے اور مذہبی سیاسی عمل ہی ہمارے ہاں سیکولرائزیشن کا سبب سے بڑا انجن بن گیا ہے۔
اس میں اہم بات یہ ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لیے سیاسی طاقت ضروری نہیں ہے ورنہ ہر آدمی کا خلیفہ بننا ضروری ہو جاتا۔ ہمارے ہاں تقویٰ اور اخلاقی خودی کا بحران اسی لیے پیدا ہوا ہے کہ مذہب کی سیاسی تعبیر کے سوا کچھ باقی بھی تو نہیں رہا اور ہر آدمی یہاں خلیفہ بننا چاہتا ہے، اور عبد اور متقی بننے میں اب کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تقویٰ کے برعکس، عدل کے قیام کے لیے سیاسی طاقت ضروری ہے۔ اور اس میں ترتیب یہ ہے کہ طاقت کا حصول اولاً ضروری ہے، اور حصول کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سیاسی طاقت اور سرمائے کی تشکیل نو کی جا سکے۔ اب تو ہم باتیں ہی کر سکتے اور وہ بھی کرنا نہیں آتیں۔




کمنت کیجے