Home » کالا قانون یا کالا نظامِ طاقت
سماجیات / فنون وثقافت فقہ وقانون

کالا قانون یا کالا نظامِ طاقت

چند دن پہلے ایک مجلس میں، جو مبینہ طور پر ہنی ٹریپنگ کے ذریعے سے قانون کی گرفت میں لائے گئے سینکڑوں افراد کے مقدمات کے حوالے سے منعقد کی گئی، ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ڈاکٹر فرزانہ باری صاحبہ نے بلاسفیمی لاز کے متعلق ’’کالے قانون’’ کی وہی تعبیر استعمال کی جس کی قیمت مرحوم سلمان تاثیر کو اپنی جان کی صورت میں ادا کرنی پڑی تھی۔ اس کے ساتھ انھوں نے قانون میں ترمیم کی بات بھی کی۔ صورت حال کی تفہیم کے لیے اس کے بعض پہلووں پر بات کرنا اہم ہے۔
قانون کو ’’کالا قانون’’ کہنے کی بات مرحوم سلمان تاثیر نے بھی بنیادی طور پر اس کے غلط استعمال کے حوالے سے کی تھی اور فرزانہ باری صاحبہ کا اشارہ بھی اسی طرف ہے، لیکن حامیانِ دین متین کی طرف سے اس کا جو مطلب متعین کیا گیا، وہ یہ تھا کہ قائل نے دراصل توہین رسالت پر سزا کے قانون کو کالا قانون کہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ توہین رسالت کو جائز قرار دینا چاہتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بھی توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرتد اور کافر ہو چکا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو مرتد اور گستاخ رسول کی حیثیت سے قتل کرنا جائز ہے۔ مزید یہ کہ جس شخص نے سلمان تاثیر کو قتل کیا، وہ بھی اتنی مقدس ہستی ہے کہ اس کے اقدام پر تنقید بھی دراصل مقتول کے موقف کو جواز دینے کے مترادف اور کم وبیش توہین رسالت ہی کے ہم معنی ہے۔
اس انتہائی ’’محتاط’’ اور ’’معقول’’ ذہنی رویے کے باوجود اگر فرزانہ باری صاحب نے تعبیر کا اعادہ کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے تو ان کی جرات کو یقیناً‌ داد دینی چاہیے۔ البتہ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس تعبیر کی درست معنویت کیا محض اس نکتے سے واضح ہو جاتی ہے کہ قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ عملی استعمال کے لحاظ سے پاکستان میں سارے ہی قوانین ’’کالے قوانین’’ ہیں، بلکہ پورا عدالتی نظام ہی سیاہ کالا نظام ہے۔ اس لیے یہ پہلو تو کسی خاص قانون کو ’’کالے قانون’’ کا عنوان دینے کا مناسب جواز نہیں ہو سکتا۔
اس کے کالے پن کا اصل پہلو وہی ہے جو پچھلے پیراگراف میں ذکر کی گئی تعبیری چھلانگوں سے سامنے آتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور سے شروع ہونے والا یہ پورا سلسلہ قوانین دراصل طاقت کے شدید بھوکے مذہبی ذہن اور لبرل سوچ سے خوفزدہ ریاستی نظام کے گٹھ جوڑ سے وجود میں لایا جانے والا بندوبست ہے جس کا واحد مقصد مذہب کے عنوان سے معاشرے پر دہشت مسلط کرنا اور کسی بھی ایسی پیش رفت کا راستہ روکنا ہے جو معاشرے پر خدائی فوجداروں یا فوجداری خداؤں کی گرفت کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن سکے۔
فرزانہ باری صاحبہ نے، سلمان تاثیر مرحوم کے موقف کا اعادہ کیا، یہ ان کی جرات مندی ہے، لیکن دونوں کا تعلق اس ’’پرانے’’ طبقے سے ہے جو لبرل بیانیے کی بنیاد پر خدائی فوجداروں کو confront کر لیا کرتا تھا۔ سیاسی جماعتوں نے اب زمینی حقائق سے کافی سمجھوتا کر لیا ہے، اس لیے اسے بظاہر فرزانہ باری صاحبہ کا شخصی اسٹینڈ ہی تصور کرنا چاہیے۔ لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں لبرل نقطہ نظر کو جگہ دینے کی اہمیت کو سمجھتی یا اس کا حوصلہ رکھتی ہیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ خدائی فوجداری کے تسلط کے تناظر میں ہماری نئی نسل خود مذہب کے سماجی اور سیاسی کردار سے متعلق کیا انداز فکر اختیار کرتی ہے، اس کا براہ راست تعلق اس سے ہے کہ عوام کی (بری یا بھلی) نمائندہ قوتیں خدائی فوجداری کے monster کا سامنا کرنے کی کتنی صلاحیت یا قوت ارادی رکھتی ہیں۔ مذہبی قیادت کا کردار تو ہمارے سامنے ہے۔ وہ اصولی طور پر خدائی فوجداری کے نظریے کی موید ہے، البتہ عملی مصلحت کے لحاظ سے کبھی کبھی دانش مندی یا نصیحت کی باتیں بھی کر لیتی ہے۔ جب بھی کوئی ایسا مرحلہ درپیش ہو جس میں خدائی فوجداری کی گرفت کمزور پڑنے کا خدشہ ہو تو آنکھیں بند کر کے بتایا جا سکتا ہے کہ مذہبی قیادت کا وزن خدائی فوجداری کے پلڑے میں ہی ہوگا۔
جہاں تک ڈیپ اسٹیٹ کا تعلق ہے تو وہ تو اس بندوبست کی اصل منصوبہ ساز اور خالق ہے۔ اس کے لیے خدائی فوجدار ایک اثاثے اور آلے کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے تعلق کو کلی طور پر منقطع کرنا یا ہمیشہ کے لیے فاصلہ اختیار کرنا وہ افورڈ نہیں کر سکتی۔ بھینسیں اگر بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں تو عوام پر اپنی فوجداری مسلط کرنے کے خواہش مند تمام طبقوں کے مابین بھی مواخاۃ کا گہرا رشتہ موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے ملا ملٹری الائنس ہماری سیاست کا کوئی وقتی یا ہنگامی مظہر نہیں ہے، یہ ایک symbiotic تعلق ہے۔ اس میں کسی خاص صورت حال میں بعض خاص طبقوں اور ڈیپ اسٹیٹ کے باہمی بُعد یا تصادم وغیرہ سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ ڈیپ اسٹیٹ، سیاسی طاقتوں کی طرح یہاں بھی اپنے پاس بیک وقت مختلف آپشن رکھتی ہے اور علیٰ سبیل التبادل سب کے ساتھ معاملہ کرتی رہتی ہے۔
پس خدائی فوجداری اور نتیجتاً‌ خود مذہب سے متعلق نئی نسل کے ذہنی رجحانات کا رُخ متعین کرنے میں عوامی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والی قوتوں کا کردار بہت اہم اور مرکزی بن جاتا ہے۔ لبرل سوچ رکھنے والے افراد سبھی سیاسی پارٹیوں میں موجود ہیں۔ اہم یہ ہے کہ ان پارٹیوں کا مجموعی ماحول ان افراد کو کتنی اسپیس دیتا اور خدائی فوجداری کو کنفرنٹ کرنے میں ان کو کتنی اخلاقی حمایت مہیا کرتا ہے۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں