Home » پاکستان کے تہذیبی و سیاسی مسائل
اردو کتب مطالعہ کتب

پاکستان کے تہذیبی و سیاسی مسائل

سبط حسن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے بائیں بازو کے صف اول کے مفکرین میں ہوتا ہے۔ دانشور اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا وہ کئی اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے۔ ان میں ایک رسالہ ‘لیل و نہار ‘ ان کی ادارت میں شائع ہوا۔ اس کے ساتھ وہ ایک ادبی پرچہ ‘پاکستانی ادب’ سے وابستہ رہے۔ لیل و نہار اور پاکستانی ادب میں سبط حسن کے لکھے اداریوں کو احمد سلیم صاحب نے مرتب کیا ہے۔ جس کو مکتبہ دانیال نے ‘پاکستان کے تہذیبی و سیاسی مسائل ‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔
ان اداریوں کا دورانیہ ۱۹۵۷ تا ۱۹۵۹, ۱۹۷۰ تا ۱۹۷۱ اور پھر ۱۹۷۴ تا ۱۹۷۷ ہے۔ ان اداریوں کو احمد سلیم صاحب نے چار مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا دور ۱۹۵۷ تا ۱۹۵۸ تک کے جمہوری دور کے متعلق ہے۔ کتاب کا آدھے سے زیادہ حصہ اس دور کے اداریوں پر مشتمل ہے۔
دوسرا حصہ ایوبی دور کے بارے میں ہے۔ یہ مختصر حصہ ہے۔
تیسرا دور یحیی خان کے مارشل لاء کے زمانے کے اداریوں کا ہے
چوتھا دور بھٹو صاحب کے دور میں لکھے اداریوں سے متعلق ہے۔
یہ اداریے اس دور کے ملکی مسائل اور اس وقت کے زیر بحث موضوعات کی ایک جھلک ہیں۔ بالخصوص پہلا حصہ جو کہ جمہوری دور کا ہے۔ جہاں وزراء اعظم کی تبدیلیاں معمول تھا۔ یہ اداریے حسین شہید سہروردی ، ابراہیم اسمعیل چندریگر اور ملک فیروز خان نون کے ادوار میں لکھے گئے۔ ان میں بھی چندریگر صاحب کا زمانہ بہت قلیل ہے تو اس دور کا اداریہ بھی شاید ایک دو ہی ہیں۔
پہلے دور کے اداریوں میں آزادی کی قدر اور تحفظ اور قائد اعظم کے پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک جگہ سبط حسن نے لکھا کہ آزادی کا تحفظ فقط حکومت کی نہیں بلکہ قوم کے تمام باشندوں کا مشترکہ فرض ہے اور یہ جہد مسلسل والا کام ہے۔ آزادی اور اس کا تحفظ آج بھی ملک کا بنیادی مسئلہ ہے۔ بلکہ سبط حسن نے جب یہ لکھا تو ہم کو آزاد ہوئے دس سال ہوئے تھے۔ اس وقت کی نسل نے براہ راست آزادی حاصل کی تھی لہٰذا ان کو اس کی قدر تھی اور وہ اس کے تحفظ کے لیے مستعد بھی تھے مگر آج کے دور میں ہم کئی طرح کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی دباؤ تو ایک طرف ملک کے اندر کچھ محکموں کی بے لگام آزادی اور بے باک قانون شکنی نے ملک اور ملک کے باشندوں کی آزادی اور اس کے تحفظ پر بہت سے سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔
جب یہ اداریے لکھے گئے تو اس وقت تقریباً نو سال کی تگ و دو کے بعد ملک میں آئین بنا تھا جس کو سبط حسن نے قوم کی اجتماعی کامیابی قرار دیا۔اس آئین کے نفاذ کے بعد سب سے بڑا مرحلہ انتخابات کا درپیش تھا۔ان انتخابات کے صاف اور شفاف انعقاد کے لیے اداریوں میں مسلسل مطالبہ کیا گیا ہے۔ مگر افسوس کے یہ مطالبہ پورا نہ ہوا۔ ان اداریوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا الیکشن کمیشن اس وقت بھی اپنے پیشہ ورانہ امور میں کافی سست اور غیر سنجیدہ ثابت ہوا۔
اس سے قبل ملک میں صوبائی انتخابات ہوئے تھے ان کا سرسری سا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بارے میں سبط حسن نے جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ان انتخابات میں حکومتی مشینری کا بھرپور استعمال ، دھاندلی اور اپنی مرضی کے عملے جیسے مسائل جو ہم آج بھی سنتے ہیں اس وقت بھی موجود تھے۔ اس بارے میں زیادہ تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ان مسائل میں مزید اضافہ ہوا اور آج ہم پاکستان میں ایک ایسی حکومت کو دیکھ رہے ہیں جس کو عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کیا مگر مقتدرہ کی طاقت اور حمایت کے ساتھ وہ ملک پر مسلط ہیں۔
اس دور میں حکومتوں کی تبدیلیاں کثرت سے ہوئیں۔ ان اداریوں کے پڑھنے کے بعد اس کی ایک بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ سیاست دان متوقع انتخابات کے موقع پر حکومتی مشینری کو اپنے زیر دست رکھ کر مرضی کے نتائج لانا چاہتے تھے۔۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات اور پھر لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان میں لگاتار حکومتیں بدلیں۔ اس کے بارے میں ایک اداریے میں سبط حسن لکھتے ہیں کہ یہ تبدیلی کبھی بھی پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں ہوئی۔
اس وقت ملک میں جمہوری اقدار کمزور ہوئیں۔ جس پر ایک اور جگہ سبط حسن اظہار افسوس کرتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری اقدار وقت کے ساتھ ساتھ قوم میں آتی ہیں۔ لیکن آزادی کے دس سال کے عرصے میں جس کا ذکر سبط حسن نے کیا ہے اس کے مطابق قوم نے کوئی جمہوری سفر نہیں کیا۔بلکہ وقت کے ساتھ اہل اقتدار نے جمہوریت کو کمزور کیا۔ بدقسمتی سے یہ ہی صورتحال آج بھی ہے۔ آج بھی ہم جمہوریت کے سفر میں بہت پیچھے ہیں۔ جیسے اس دور میں سیاسی مخالفین کے اوپر مختلف طرح کے گھناؤنے الزامات لگائے جاتے تھے۔ آج صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔ اس وقت بھی حکومتی طاقت کے زور پر سیاستدان اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کرتے تھے آج صورتحال اس سے زیادہ خراب ہے۔ اس وقت شاید چادر اور چار دیواری کے تقدس کا تو خیال کیا جاتا ہوگا اب تو اس کے اتنے مظاہرے ہو چکے ہیں کہ اب کوئی نیا واقعہ نیا لگتا نہیں۔ پہلے سیاستدان آپس میں لڑتے تھے مگر اب تو مخالف سیاسی جماعت کے کارکنوں پر بھی حکومت اور طاقت کے زور پر تشدد ہوتا اور جان سے مارنا بھی بہت آسان ہو چکا ہے۔
اس دور میں صرف مرکز میں ہی نہیں حکومتیں بدل رہی تھیں بلکہ صوبوں میں بھی یہ ہی صورتحال تھی۔ پنجاب میں مسٹر گورمانی کے ہاتھوں گورنر راج اور مشرقی پاکستان میں مسٹر عطاء الرحمٰن کی حکومت کا جس طرح سے تختہ الٹا گیا۔ اس کے بارے میں بھی اداریے موجود ہیں۔ کیسے راتوں رات سیاسی وابستگیاں تبدیل ہوئیں اور اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوئی۔ یہ سب پڑھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ہم پاکستان کے ماضی نہیں بلکہ حال کی تاریخ پڑھ رہے ہیں۔ اب بھی اقتدار کی رسہ کشی میں جس طرح سے لوگ اپنا ضمیر بیچتے ہیں اور اپنے ہی محسنوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپتے ہیں، ان اداریوں کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریت تو پرانی ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
پاکستان میں قائد اعظم کے قیادت کا جو خلا پیدا ہوا اس کا بھی ذکر ہے۔ قائد اعظم کی اصول پسندی اور ایمانداری کا سبط حسن نے متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔ وہ پاکستان کے دونوں حصوں میں مقبول تھے۔ ان کے بعد پاکستان کو ایسی قیادت نہ مل سکی جس کو پورے ملک میں مقبولیت حاصل ہو۔ کئی رہنما مشرقی پاکستان میں تو مقبول تھے جیسے کہ حسین شہید سہروردی مگر پاکستان میں ان کی مقبولیت چند دوستوں تک تھی۔مغربی پاکستان میں بھی کوئی ایسا رہنما نہیں تھا جو مشرقی پاکستان میں مقبول ہو۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں سیاستدانوں کی یکطرفہ مقبولیت ایک ایسی چیز تھی جس کا اظہار اس وقت سبط حسن نے کردیا۔ اس بات کو سنجیدہ نہ لیا گیا۔ جس کے بعد اس کا بڑا نتیجہ ستر کے انتخابات میں سامنے آیا جب ملک کے دونوں بازوؤں میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کو اکثریت ملی جس کی دوسرے صوبے میں کوئی نمائندگی ہی نہ تھا۔ جمہوری اقدار تو پہلے سے زوال پذیر تھیں تو اس کے بعد اس چیز نے اس خلیج کو مزید وسیع کیا۔ جس کے بعد وہ بحران پیدا ہوا جس کا نتیجہ ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں ہوا۔
سبط حسن نے اپنے ایک اداریے میں ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی ہے جس کو مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں جگہ مقبولیت حاصل ہو۔ وہ سیاسی جماعت جس کی ملک کے تمام حصوں میں نمائندگی ہو ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے ایک نعمت ہے۔ بدقسمتی سے ہماری مقتدرہ اور جمہوریت دشمن طاقتوں نے ایسی سیاسی جماعتوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ آج بھی دیکھا جائے وہ جماعت جس کی ملک کے ہر صوبوں میں نمائندگی اور ووٹ بینک ہے وہ ہماری مقتدرہ کو قبول نہیں ۔۔اس نے اس جماعت کے اندر پھوٹ ڈال کر اس کے اندر سے جماعتیں نکالیں۔ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ایسی سیاسی جماعتوں کی ناصرف حوصلہ افزائی ہونی چاہیے بلکہ وفاق کی مضبوط کے لیے ایسی جماعتوں میں غیر فطری اور غیر قانونی طریقے سے پھوٹ ڈالنے والوں کا بھی شدید احتساب ہونا چاہیے۔ جس ضرورت کو سبط حسن اس وقت محسوس کر رہے تھے، آج بھی ملک کو اس کی ضرورت ہے۔
اس وقت ون یونٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مغربی پاکستان میں اس کے بارے میں چھوٹے صوبوں میں کافی تحفظات پائے جاتے تھے۔ سبط حسن نے اس کی طرف اشارہ تو کیا ہے مگر اس پر زیادہ گفتگو کرنے سے اس لیے گریز کیا کہ اس سے کہیں موقع انتخابات میں کوئی تعطل نہ آ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کو برقرار رکھنا ہے یا ختم کرنا ہے اس کا فیصلہ عوامی نمائندگان کو کرنا چاہیے۔
دوسری بحث جدا گانہ اور مخلوط انتخابات کے بارے میں تھی۔ ویسے تو اس وقت کے ماحول میں اس پر بحث کوئی عجیب بات نہیں مگر ایک بات کافی عجیب تھی کہ جدا گانہ انتخابات کے حامیوں کی ایک دلیل یہ تھے کہ مخلوط انتخابات سے پاکستان کے اسلامی تشخص کو خطرہ ہوگا۔ حالانکہ پاکستان جیسا جہاں واضح مسلم اکثریت تھی کے بارے میں ایسی بات مضحکہ خیز تھی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پاکستان میں مذہب کا چورن بہت شروع سے بیچا جا رہا ہے۔ دوسری دلچسپ بات کہ یہ مسئلہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں زیادہ اہم تھا جہاں اقلیت بنسبت مغربی پاکستان میں زیادہ تھی لیکن اس کا میدان سخن مغربی پاکستان تھا۔ حالانکہ بعد میں یہ بھی طے ہو گیا کہ مغربی پاکستان میں جُداگانہ انتخابات اور مشرقی پاکستان میں مخلوط انتخابات ہوں گے۔
ایک اور اداریے میں پولیس کے تشدد سے قیدیوں کی موت کے بارے میں ہے۔ایک قیدی کریم بخش پولیس حراست میں جان کی بازی ہار گیا تھا۔ پولیس کے ادارے میں نظم و ضبط کا فقدان اور ماورائے قانون قتل اب ایک مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے اس جانب کبھی سنجیدگی سے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب پولیس حکمرانوں کا سب سے اہم ذریعہ ہے جس سے وہ اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ چن چن کر اہم عہدوں پر اپنے وفادار بندوں کو لگایا جاتا ہے اور ان سے غیر قانونی طریقے سے اپنا کام نکلوایا جاتا ہے۔ جعلی پولیس مقابلے میں بھی مخالفین کو مروانا بھی کچھ حکمران ٹولے کا معمول ہے۔
اس دور میں بھی گرانی کا مسئلہ ملک کو درپیش تھا۔ جہاں پر لوگ اپنے مرضی سے اشیاء کی قیمتیں طے کرتے تھے۔ حکومت ان کے انسداد میں بے بس نظر آتی دکھائی دیتی ہے۔ کئی اداریوں میں تاجروں کی من مانی اور حکومت کے کھوکھلے دعووں پر بات کی گئی ہے۔ اس دور کے مالی حالات بھی خراب تھے۔ فروری ۱۹۵۷ کے ادارہے جب بجٹ پیش ہوا اس وقت ملک کی کل آمدنی ایک ارب ۳۹ کروڑ تھی جس میں سے ۸۱ کروڑ دفاع پر ۳۲ کروڑ نظم و نسق اور ۱۱ کروڑ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک کے بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ دفاعی بجٹ کے لیے مختص ہوتا تھا۔ اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کا پاکستان کے بننے کے بعد کا جارحانہ رویہ ہے۔جس کے بعد پاکستان سیکورٹی سٹیٹ بننا پڑا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا۔
قیام پاکستان کے بعد ایک بڑا مسئلہ مہاجروں کی آبادکاری کا تھا۔ یہ مسئلہ ۱۹۵۷ اور ۵۸ میں بھی ابھی تک حل نہیں ہوا تھا۔ اس پر سبط حسن نے تمام سابقہ حکومتوں پر تنقید کی ہے اور کہا کہ کسی نے بھی اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ سب اس کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے موخر کرتے رہے۔
اس دور کے تعلیمی مسائل پر بھی سبط حسن نے لکھا ہے۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد کالجوں میں داخلے کے لئے طلباء کو جو مشکلات پیش آئیں ان کا ذکر ہے۔ اس میں جو لوگ اثر و رسوخ والے تھے ان کے بچوں کے تو داخلے بآسانی ہو گئے مگر کئی ذہین اور محنتی بچے سفارش اور پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہے۔
پھر ایلیٹ سکولوں کا بھی ذکر کیا کہ وہاں پر تیار ہونے والے طلباء کی کھیپ کی کیسے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ ان میں احساس برتری ڈالا جاتا ہے جہاں وہ دوسرے لوگوں کو کمتر خیال کرتے ہیں۔ ان ہی درسگاہوں سے بڑی تعداد میں لوگ افسر شاہی کا حصہ بنے گی۔ یہ ایک آلارم تھا جو سبط حسن نے بجایا جس پر شاید غور نہیں کیا گیا۔ اس نے بعد میں ایک المیہ کی شکل اختیار کی۔ ہماری افسر شاہی میں ایسے لوگ اوپر آئے جنہوں نے انگریزوں والی ذہنیت سے باقی لوگوں کو دیکھا۔
اس وقت کی حکومتوں کی تعلیم کے حوالے سے عدم توجہی پر بھی سبط حسن نے لکھا۔ اس وقت تعلیمی اداروں میں کیا چل رہا تھا۔ کیسے طلباء کا استحصال ہو رہا تھا۔ ان سب کی ایک جھلک سبط حسن نے دکھائی ہے۔
اس دور کے اداریوں کو پڑھا جائے تو اس وقت کی سیاسی صورتحال کی کوئی اچھی تصویر تو سامنے نہیں آتی۔ سیاسی بے چینی ، عدم استحکام اور جمہوری روایات کی کمزوری واضح نظر آتی ہے۔ ان چیزوں کو سامنے رکھ کر فوجی اشرافیہ نے مارشل لاء نافذ کیا۔ مگر بعد میں جو اس کا نتیجہ نکلا وہ زیادہ بھیانک تھا۔ اب یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ اس وقت بھلے حالات کتنے خراب ہوں مگر ان کا حل آئین کے مطابق انتخابات تھے ناکہ فوجی حکومت، جس کے بعد حالات زیادہ خراب ہوئے۔
اس دور کے پاکستان کے اندرونی معاملات کے ساتھ ساتھ خارجہ امور پر بھی کچھ اداریے ہیں۔ جن میں پاک بھارت کشیدگی پر بات کی گئی ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت اور کشمیر پر پنڈٹ نہرو کی منافقانہ پالیسی اور ہٹ دھرمی پر ان پر شدید تنقید کی گئی ہے اور پاکستان کے موقف کی سبط حسن نے ترجمانی کی ہے ۔
اس وقت پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر بنا تھا۔ اس حوالے سے سبط حسن نے حکومت کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔ سبط حسن کہتے ہیں کہ بغداد پیکٹ میں شامل ہو کر ہم نے عربوں سے اپنے تعلقات کشیدہ کیے۔ سیٹو سے ملیشیا، برما، چین اور انڈونیشیا سے ہمارے تعلقات متاثر ہوئے۔ یہ سب ہم نے مغربی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے کیا اور ہمیں امید تھی کہ مغرب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہماری مدد کرے گا مگر ہمارے مسلم اور قریبی ممالک سے تعلقات تو کشیدہ ہوئے مگر مغربی ممالک نے کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر فیصلہ کن دباؤ نہیں ڈالا۔ وہ زبانی جمع خرچ پر ہی کام چلاتے رہے۔
مغربی ممالک اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے عدم توازن کا شکوہ سبط حسن نے کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان برابری کی بجائے اپنی سالمیت کا سودا کر رہا ہے۔ جو ان کے مفادات کے لیے خود کو استعمال کروا رہا ہے۔ اس کے بدلے میں حاصل ہونے والی بیرونی امداد کے بارے میں بھی سبط حسن نے بات کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بیرونی مدد پاکستان کی ضرورت کے لئے ناصرف کافی ہے بلکہ اس کا مجموعی طور پر ہمارے سماج اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس کے بعد ایوب خان کے دور کے لکھے گئے اداریے ہیں۔ ان کا دورانیہ ۱۹۵۸ تا ۱۹۵۹ ہے۔ مطلب کہ یہ ایوب خان کے شروع کے دور کے لکھے اداریے ہیں۔
ایوب خان کے شروع کے دور میں زرعی اصلاحات ، خاندانی منصوبہ بندی ، بلدیاتی اداروں کی بحالی اور پھر نئی آئین سازی جیسے مسائل پر سبط حسن نے بات کی ہے۔
زرعی اصلاحات کے بارے میں وہ پہلے دور میں بھی بات کرتے رہے ہیں۔ ملکی پیداوار میں اضافے کے لیے انہوں نے اس ناگزیر کہا تھا۔ ایوب دور میں زیادہ سے زیادہ زمین کی حد مقرر کرنے کی بات ہوئی تو کچھ لوگوں نے اس کو اسلام کے خلاف کہا، چونکہ سبط حسن سوشلسٹ نظریات کے حامل تھے ان کے نزدیک تو ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایک اداریے میں انہوں نے حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے زرعی کمیشن سے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایسے تمام رکاوٹیں جو پچھلے گیارہ سال میں درپیش آئیں ہیں ان کی پرواہ نہیں کرے گا اور اپنا کام جاری رکھے گا۔
بلدیاتی اداروں کی بحالی کے اقدام کی بھی تحسین کی ہے۔ یہ ملک کا المیہ ہے کہ فوجی ادوار میں بلدیاتی اداروں کو تھوڑے سہی مگر کام کرنے دیا گیا۔ جس سے عام آدمی کے مسائل میں کچھ کمی ہوئی اس کا سسٹم پر اعتماد بنا جبکہ جمہوری ادوار میں ایسے ادارے تباہ ہوئے۔ حالانکہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کا لازمی جز ہیں اور یہ جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں۔
نئے آئین کے حوالے سے ایوب خان کے وزیر قانون منظور قادر نے ماہرین کے ایک کمیشن کی بات کی تو اس سے سبط حسن نے اختلاف کیا ہے کہ اگر یہ کام چند ماہرین کے ذریعے ممکن ہوتا تو قائد اعظم اور قائد ملت کے دور میں یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سابقہ حکومتیں ناکام ضرور ہوئیں مگر اس کا مطلب جمہوریت کی ناکامی ہرگز نہیں کیونکہ جمہوریت کو کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا اور آئین پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔
سبط حسن نے ایک اور زبردست بات کی ہے کہ اس ملک کو پیچھے دھکیلنے میں غریب اور انپڑھ لوگوں کا کردار نہیں بلکہ ان لوگوں کا کردار ہے جو پڑھے لکھے ہیں کیونکہ فیصلہ سازی کے منصب پر یہ لوگ براجمان ہیں۔ یہ ایک دردناک سچ ہے پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار ان پڑھ لوگ نہیں تھے بلکہ یہ تباہی ان اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھوں ہوئی جنہوں نے اپنے علم کی بجائے اپنے ذاتی مفادات اور حکام بالا کی خوشنودی بجا لانا ضروری سمجھا۔ آج بھی ہمارے ہاں ملک کو تباہ کرنے والی اشرافیہ کو ایسے اعلیٰ دماغوں کی مشاورت میسر ہے جو ان کو ایسے داؤ پیچ بتاتے ہیں جس سے اس بدبودار نظام کو مزید تقویت ملتی ہے اور وہ اس ملک کا خون نچوڑنے سے باز نہیں آتے۔
ایک اداریے میں سبط حسن نئی آنے والی فوجی حکومت کے بارے میں خوش گمان دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ملکی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے جو پچھلی حکومتوں میں نظر نہیں آتی۔ سبط حسن صاحب کی یہ رائے تو ایوب حکومت کے ابتداء کی ہے۔ ایوب حکومت کے بعد ملک کہاں پہنچا۔ اس کے بارے میں بھٹو دور کے ایک اداریئے میں اس دور کو سیاہ دور کہا ہے۔ نئی حکومت آتے ہی کچھ پھرتیاں دکھاتی ہے، شاید یہاں بھی یہ سلسلہ ہو جس کی سبط حسن نے تعریف کی ہو۔
ایک اداریے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے بارے میں ہے۔ نصاب تعلیم کو قومی زبان میں منتقل کرنے کی بحث اس وقت کی ہے۔ سبط حسن اس کے حامی ہیں ساتھ ہی انگریزی کی اہمیت پر بھی انہوں نے لکھا کہ علوم کی اشاعت میں انگریزی نے حصہ ڈالا ہے اس تک اُردو زبان نہیں پہنچ سکی۔ اُردو کے ساتھ ساتھ سبط حسن نے علاقائی زبانوں کے فروغ کی بھی بات کی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمیں قومی زبان میں اپنے نصاب کو مرتب کرنا چاہیے لیکن انگریزی نے جس رفتار کے ساتھ علوم میں ترقی کی ہے۔ اس کے بغیر جدید دور کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایوب دور میں مسئلہ تبت پر بھارت اور مغربی ممالک نے چین کی مخالفت کی۔ اس پر سبط حسن نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا جو کشمیر پر قبضہ کیے ہوئے بیٹھا ہے۔ حالانکہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں جبکہ تبت تاریخی طور پر چین کا حصہ تھا۔ جس کو باقی ساری دنیا نے بھی تسلیم کیا۔ سبط حسن نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ چین نے وہاں پر جبر کا مظاہرہ کیا مگر کسی صوبے کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ملکی سالمیت کو پارہ پارہ کرکے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کا اعلان کر دے۔
مجموعی طور سے مغرب کے منافقانہ رویے پر سبط حسن نے جا بجا تنقید کی ہے کہ جہاں ان کے مفادات ہوں وہاں یہ اپنے ہی طے کردہ اصولوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ اصول وہاں ہی اہم ہوتے ہیں جو ان کے مفادات کی حفاظت کریں.
ایوب دور میں پاکستان رائٹرز گلڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کو بھی سبط حسن نے اچھے الفاظ میں یاد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں تو ادیبوں کی مختلف انجمنیں ہیں مگر قومی سطح کا کوئی فورم موجود نہیں تھا جہاں ادیبوں کی نمائندگی ہو سکے۔ رائٹرز گلڈ سے ایک فورم میسر آ گیا ہے۔ رائٹرز گلڈ کے اوپر بعد میں لگاتار تنقید بھی ہوئی کہ حکومتی سرپرستی میں قلم فروش ادیبوں کی کھیپ تیار ہوئی۔ ان الزامات میں کتنی صداقت ہے اس سے قطع نظر میرے خیال میں اپنے ادیبوں کی معاشی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کے تخلیقی کاموں کو سراہنا حکومت کے فرائض میں سے ہے۔ اس میں ان کو آزادی ہونی چاہیے ان پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے ہی حکومت کا اپنے حق میں رائے سازی ہموار کرنے جیسے مقاصد سے بھی ادیبوں کو دور رکھنے کی ضرورت ہے۔
تیسرا حصہ یحیی خان کے مارشل لاء کے زمانے کا ہے۔ اس میں ۱۹۷۰ کے انتخابات کے بعد کا ایک اداریے ہے جس میں سبط حسن نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے کئی بڑے سیاسی ناموں کا ذکر کیا جو انتخابات میں شکست کھا گئے۔ سبط حسن نے ان انتخابات کو رجعت پسند اور ترقی پسند قوتوں کے مابین مقابلہ قرار دیا جس میں عوام نے رجعت پسندوں کو مسترد کردیا۔
اس اداریئے میں سبط حسن نے اس خوش گمانی کا اظہار کیا کہ عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی ملکر نئے آئین کے لیے آپس میں تعاون کریں گی۔ تاریخ شاہد ہے کہ سبط حسن کی خوش گمانی غلط فہمی ثابت ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے آئین سازی میں تعاون کی بجائے حکومت میں حصہ مانگ لیا۔اس کے بعد ملک کا نقشہ ہی بدل گیا۔
انتخابات سے پہلے مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا جس نے کئی لوگوں کو نگل لیا۔ اس بارے میں بھی ایک تحریر موجود ہے۔ اس سیلاب کی تباہیاں شدید تھیں جس کا احساس اس اداریئے کو پڑھ کر بھی ہوتا ہے۔ وہیں حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے پر بھی سبط حسن نے بات کی ہے۔ یہ قدرتی آفت ضرور تھی مگر مناسب منصوبہ بندی سے اس کے نقصان بالخصوص جانی نقصان کو کم کیا جانا ممکن تھا۔
سیلاب کی تباہیوں اور اس کی امداد کے سلسلے میں یحییٰ حکومت کو سول اداروں پر اس قدر بد اعتمادی تھی کہ انہوں نے اس کی ذمہ داری کے حوالے کرنے کی بات کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سول اداروں کو کبھی پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔ کبھی ان کو مضبوط بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
سیلاب کے حوالے سے ایک اور بات جو ان تحریروں سے ظاہر ہوتی ہے کہ مرکزی حکومت نے مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی کوئی زیادہ رابطہ نہیں کیا۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ امدادی کارروائیاں کے نام پر وہاں غیر ملکی قوتیں اپنا راستہ بنا رہی ہیں۔ شاید یہ بات درست بھی ہو مگر اس کی وجوہات میں حکومت کی اپنی نااہلی اور بے حسی کا بھی بڑا ہاتھ ہے
یحیی خان کے دور میں ایک اور بڑا واقعہ کراچی میں پیش آیا جہاں پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ کو ائیر پورٹ کو ایک ٹرک نے کچل دیا۔ یہ سب دانستہ طور پر ہوا۔ ٹرک ڈرائیور کا ہدف پورا وفد تھا جس میں سر فہرست پولینڈ کے صدر تھے۔ ٹرک ڈرائیور کا نام فیروز تھا وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھا۔اس نے یہ حملہ دراصل کمیونزم کے حامیوں کے خلاف کیا تھا۔ اس وقت کے ماحول میں اشتراکیت پر بحث عروج پر تھی۔ مذہبی فکر سے وابستہ لوگوں کی اشتراکیوں کے ساتھ فکری محاذ پر کشمکش تو جاری تھی مگر یہ کشمکش اس قدر نفرت میں بدل گئی کہ بیرون ملک کے ایک عہدیدار کو مار دیا گیا۔ پاکستان کے لیے یہ واقعہ ایک افسوسناک باب ہے۔ فیروز کے اس فعل کو اس کا ذاتی فعل قرار دیا گیا۔ یقیناً یہ اس کا ذاتی فعل ہوگا مگر ریاست نے بعد میں اس ہی جماعت اسلامی کو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا۔ لہٰذا اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ حکومت نے خود بھی جماعت اسلامی کو اس واقعے کے بعد نکلنے کا راستہ دیا۔
چوتھا حصہ جو بھٹو دور کا ہے پاکستانی ادب میں سبط حسن کے شائع ہونے والے اداریوں پر مشتمل ہے۔ان کا دورانیہ ۱۹۷۴ تا ۱۹۷۷ ہے۔
پاکستانی ادب کے اجراء کے مقاصد میں ایسے ادب تخلیق کیا جائے جو الف لیلوی محلوں کے رنگین خواب دکھانے کی بجائے معاشرے کے حقیقی مسائل پر گفتگو کرے۔ توہم پرستی کی بجائے جمالیاتی ذوق کو بلند کرنے والا ادب تخلیق کیا جائے۔
ان اداریوں میں ایک مضمون علامہ اقبال کے بارے میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش کا تعین پاکستان بننے کے ۲۷ سال بعد ہوا۔ اس بارے میں درست بات کیا ہے اس پر ماہرین اقبال ہی زیادہ روشنی ڈال سکتے ہیں۔
سبط حسن نے کہتے ہیں کہ ہم یقیناً اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ اقبال اس سر زمین پر پیدا ہوئے۔ وہ پہلے اُردو شاعر ہیں جنہوں نے انسان کو اس کے جوہر ذاتی کی طرف متوجہ کیا۔ اقبال کی شاعری سب سے بڑا موضوع انسان اور اس کی صلاحیت ہے۔ وہ غلامی اور اطاعت بندگی کو انسان کے لیے موت سمجھتے تھے کیونکہ یہ انسان کی قدرت کی طرف سے عطاء کردہ بے پناہ صلاحیتوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ اقبال کی فکر کی مختلف جہات پر سبط حسن نے کافی اچھی گفتگو کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
سبط حسن علاقائی زبانوں کے فروغ کے حامی تھے اس کے ساتھ وہ علاقائی ثقافتوں کے احیاء اور ترقی کی بھی بھرپور حمایت کرتے۔ اس حوالے سے سندھ حکومت نے سندھی تہذیب کے بارے میں ایک سیمنار کیا۔ جس سندھی تہذیب کے تاریخ جو کہ پانچ ہزار سال پرانی ہے پر بات ہوئی۔ اس کی سبط حسن نے خوب حمایت کی، اس پر نوائے وقت کے کالم نگار مرغوب صدیقی نے سبط حسن اور باقی لوگوں پر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ سندھی تہذیب کا موہنجو دڑو سے رشتے جوڑنا مسلم دشمنی ہے۔انہوں نے سبط حسن کے سوشلسٹ نظریات کو بنیاد بنا کر بھی ان پر تنقید کی۔ سبط حسن نے اس کا جواب دیا ہے۔
ایک مضمون ن م راشد کے ایک مکتوب کے جواب میں ہے جس میں انہوں نے ترقی پسندی اور کمیونزم کے چولی دامن کے ساتھ کا ذکر کیا تھا کے جواب میں ہے۔ جس میں انہوں نے راشد کی اس بات کی تردید کی ہے اور کہا کہ کمیونزم کی تاریخ اگر کارل مارکس سے شروع کی جائے تو اس سے پہلے بھی ترقی پسند قوتیں موجود تھیں جو سماجی جمود کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ اداریہ خالصتاً ایک ادبی پارہ ہے جس میں ادبی پیرائے میں راشد کے مکتوب کا سبط حسن نے جواب دیا ہے۔
ایک اور اداریہ بہت اہم ہے جس میں پاکستانی ادیبوں پر بات کی گئی ہے کہ وہ معاشرے میں ہونے والے مظالم پر خاموش رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خالص ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی اور ظلم اور حکومتی جبر پر کبھی کچھ نہیں لکھا بلکہ کبھی اس کو موضوع ہی نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک ان مسائل پر بات کرنا ادب کی کوئی خدمت کی نہیں۔ یہاں سبط حسن نے ایوب دور کی پابندیوں کا ذکر کیا جس کے بعد کئی ادیب کوئی چیز لکھتے ہوئے یہ سوچتے کہ یہ بات حکام کو بری نہ لگے۔سبط حسن اپنے آپ کو بھی ان میں شامل کرتے ہیں جو ایوب خان کے جبر و استبداد سے نہ لڑے۔ انہوں نے راہ فرار اختیار کی۔ اس راہ فرار نے ہمارے ادیبوں کی عادت بگاڑ دی اور وہ معاشرے پر حکومتی جبر سے لاتعلق ہو گئے۔
ویسے اس دور کے مقابلے میں آج کے دور کو دیکھا جائے جب سینسر کی اس طرح کی پابندیاں نہیں مگر حکومتی جبر اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی گلوکار کوئی ایسا گانا بھی گا کے جس میں مقتدرہ کی معتوب شخصیت کا اشارۃً ذکر ہو تو گلوکار کو اٹھوا کر اس سے اپنے حق میں گانا گنوایا جاتا ہے۔ ویسے تو ضیاء الحق کے دور کو بدترین جبر کا دور کہا جاتا ہے مگر اس دور میں بھی جالب اپنی مزاحمتی شاعری کرتے تھے لیکن اب تو علاقائی سطح کے بھی ادیب مقتدرہ کی مرضی کے خلاف بات کریں تو ان کے لیے خوف کا ماحول ہے۔ جہاں تک آمروں کے خلاف ادیبوں کی خاموشی کا تعلق ہے یہ بہت اہم مرض کی جانب سبط حسن نے توجہ دلوائی ہے۔ اس نے بعد میں بھی ہمارے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
سبط حسن کے یہ اداریے پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے بہت معاون ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطالعے سے اس وقت کے معاشرے کی ریت اور سیاسی منظر نامے پر زیر بحث موضوعات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ان اداریوں میں چونکہ تسلسل نہیں اس لیے اس کو دور کی مکمل تصویر کشی تو قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ہمیں بہت سے جھلکیاں ضرور مل جاتی ہیں جس سے ہمیں بہت کچھ جاننے کو مل سکتا ہے۔

 

راجہ قاسم محمود

راجہ قاسم محمود پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں اور مختلف علمی وفکری موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔
rajaqasimmehmood@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں