ابن خلدون نے بیان کیا ہے کہ تاریخ میں کسی گروہ کو ابتداءً عصبیت کے اسباب میسر ہونے اور کچھ اوصاف کی وجہ سے ایک خاص حیثیت اور شرف حاصل ہو جاتا ہے، تاہم تہذیب کے آگے بڑھ جانے سے یہ شرف تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس گروہ میں اس کا ’’وسواس’’ باقی رہ جاتا ہے، حالانکہ اس شرف کے تاریخی اسباب مفقود ہو چکے ہوتے ہیں۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ عرب وعجم میں بہت سے گروہ اس کی مثال ہیں۔ اس میں وہ خاص طور پر بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہیں جن کو انبیاء ورسل کی وجہ سے اور پھر قبائلی عصبیت کی بدولت حکومت واقتدار حاصل ہوا، لیکن یہ سب کچھ ختم ہو جانے اور ذلت اور غلامی مسلط ہو جانے کے باوجود یہ ’’وسواس’’ ان کے قومی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔
ابن خلدون کے اس بیان میں ایک نکتے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ ایسے کسی گروہ کا پہلا دور وہ ہوتا ہے جب وہ تاریخی اسباب سے میسر ہونے والے ’’وسائل شرف’’ کو ایک تاریخی عصبیت میں بدلنے اور اس کی بقا وتسلسل کے لیے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ اسی دور میں تمام تر تہذیبی وسائل کو تخلیقی اور اجتہادی انداز میں استعمال کرنے اور نئے سے نئے وسائل پیدا کرنے کا عمل ظہور میں آتا ہے۔ پھر یہ صلاحیت مدھم پڑتی چلی جاتی ہے اور تدریجاً گروہ کے تمام طبقوں پر ’’طفیلیت’’ (parasitism) کی نفسیات غالب آنا شروع ہو جاتی ہے۔
طفیلیت کا مطلب یہ ہے کہ جو وسائل پچھلی نسلیں تخلیق کر گئی ہیں، ان کو تقدس کا درجہ دے کر ان کی بنیاد پر اپنے ’’وسواس’’ کو قائم رکھنے کی کوشش کی جائے۔ بالفاظ دیگر طفیلیت، نئے تہذیبی وسائل پیدا کرنے کے لیے درکار محنت اور جدوجہد سے گریز کی کیفیت ہوتی ہے جو بحیثیت مجموعی قوم پر غالب آ جاتی ہے۔ عوام کلچرل سطح پر اس کا شکار ہوتے ہیں، اہل علم ودانش یاد ماضی (nostalgia) میں مبتلا ہو کر اس کو فکری اور نظریاتی قالب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور حکمران طبقات مجبور ہوتے ہیں کہ ہوشیاری سے اس ’’وسواس’’ کو اپنے اقتدار کے تسلسل کے لیے استعمال کریں۔

کمنت کیجے