Home » آئمہ احناف کا تضاد یا عمار صاحب کا ناقص فہم ؟
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار

آئمہ احناف کا تضاد یا عمار صاحب کا ناقص فہم ؟

جناب عمار خان ناصر صاحب نے قرآن و سنت کے تعلق کی بحث میں اپنے استاد جناب غامدی صاحب کے موقف کو تقویت پہنچانے کے لئے نسخ القرآن بالسنۃ کی بحث میں احناف کے دلائل پر نقد کیا ہے۔ اس بحث میں سورۃ نحل کی آیت 44 (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ)ایک مرکزی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ اس آیت میں تبیین سے مراد صرف قرآن کو بلا کم و کاست پہنچا دینا ہے، یہاں قرآن کی اس شرح و وضاحت کی بات نہیں ہورہی جو احادیث میں مذکور ہیں۔ جناب عمار صاحب نے تبیین سے متعلق غامدی صاحب کے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب میں یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ اصولیین احناف و جمہور کے ہاں “نسخ القرآن بالسنۃ” کی بحث چند اطلاقی نوعیت کی مثالوں کو حل نہ کرسکنے کی بنا پر پیدا ہوئی تھی (اور چونکہ مکتب فراہی نے ان مثالوں کو اب حل کردیا ہے، لہذا اس بحث کو حرف غلط سمجھ کر اگنور کردینا چاہئے، اس پر ہم پہلے بھی تبصرہ کرتے رہے ہیں)۔ اپنے اس مقدمے کو مضبوط دکھانے کے لئے انہوں نے جمہور اور احناف کے ان دلائل پر تبصرہ بھی فرمایا ہے جو اس موقف کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ احناف کے دلائل کا محاکمہ کرتے ہوئے وہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورۃ نحل کی آیت 44، جس سے نسخ کے بیان ہونے کو ثابت کیا جاتا ہے، اس سے متعلق ان کے اقوال متضاد بھی ہیں اور مضطرب بھی۔ انہوں نے بالخصوص امام سرخسی اور امام جصاص کی عبارات کا سہارا لے کر یہ کہا ہے کہ کبھی یہ حضرات  اس آیت میں تبیین سے مراد صرف قرآن کا ابلاغ و اظہار مراد لے لیتے ہیں اور کبھی اس توضیح و تفصیل کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہیں جو آپﷺ کی جانب سے سنت میں مذکور ہے۔یہاں ائمہ احناف کے بارے میں ان کے اس مقدمے کے پہلے حصے پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔

امام سرخسی کی عبارت

سب سے پہلے بیان کی بحث سے متعلق ایک مسئلے کی نوعیت سمجھنا چاہئے۔ اصولیین کے مابین یہ بحث ہوئی کہ بیان کی حقیقت کیا ہے؟

  • بعض نے کہا کہ یہ علم دینے یا وضاحت کرنے کا فعل ہے۔ اس پہلو سے بیان کو “مراد واضح کرنا” قرار دیا گیا، یعنی وضاحت لانے کا فعل یا عمل (act         of         clarifying)۔ چنانچہ اصول فقہ کی کتابوں میں جب بیان کی وضاحت میں کہا جائے کہ یہ “اعلام، تعرف، فعل المبین، ایضاح المعنی، ایضاح المراد و ایضاح المقصود” وغیرہ ہے تو ان الفاظ کے ذریعے اس کے “فعل ہونے” کی حیثیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے (یہاں نوٹ کرلیجئے کہ ان الفاظ کا غامدی صاحب کی اس تعبیر سے دور کا بھی واسطہ نہیں جسے وہ “اظھار الشیء” کہہ کر صرف قرآن کو بلا کم و کاست پہنچانا کہتے ہیں اور اس مفہوم کو ائمہ اصول کی عبارات پر چسپاں کرتے ہیں)۔
  • بعض نے کہا کہ یہ اس دلیل کو کہتے ہیں جس سے علم حاصل ہوتا ہے۔ اس معنی میں بیان “مبین بہ” کہلاتا ہے، یعنی وہ چیز جس کے ذریعے سے بیان ہوا۔
  • بعض نے کہا کہ یہ اس علم و وضوح کا نام ہے جو اس فعل و دلیل سے حاصل ہوتا ہے، اس اعتبار سے بیان کا مطلب دلیل کا “مدلول” ہے۔

ان میں اختلاف تضاد کا نہیں بلکہ اعتبارات وحیثیات کا ہے جس میں کبھی ایک اور کبھی دوسری حیثیت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہر گروہ کے اپنے اپنے دلائل ہیں جن میں جانا یہاں مقصود نہیں، ہمیں صرف ایک خاص عبارت کو سمجھنا ہے جس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ حنفی اصولیین نے بالعموم پہلی حیثیت کو ترجیح دی ہے، اور اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ سورة النحل کی آیت “لتبين للناس ما نزل إليهم” میں تبیین سے نبی کی جانب سے “بیان کا فعل” سر انجام دینا مراد ہے نہ کہ مخاطبین میں علم و وضوح پیدا کرنا۔ اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ بیان اگر اس علم کا نام ہو جو مخاطب میں پیدا ہوتا ہے تو مطلب یہ بنے گا کہ جب تک مخاطب کے دل میں وہ علم پیدا نہ ہو اس وقت تک کسی کو کلام کا مبین نہیں کہا جاسکے گا اور نتیجتاً یہ ماننا ہوگا کہ بطور مبین نبی کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ ہر شخص کو اس طرح بات سمجھائے یہاں تک کہ اس میں علم و وضوح پیدا ہوجائے، گویا اگر کسی خاص شخص کو بات سمجھ نہ آئی تو نبی کا وظیفہ بیان پورا نہ ہوگا۔ ظاہر ہے یہ نبی کی ذمہ داری نہیں، لہذا کہنا ہوگا کہ بیان کی حقیقت “علم دینے کا فعل” ہے اگرچہ بعض مخاطبین کو اس سے وضاحت حاصل نہ ہو۔ بیان مخاطب کو حاصل ہونے والا علم نہیں بلکہ مبین کی جانب سے کیا جانے والا وہ فعل ہے جسے “اظھار المعنی” کہتے ہیں، اس بات کو امام سرخسی یوں کہتے ہیں:

وَالأَصَح هُوَ الأول أَن المُرَاد هُوَ الْإِظْهَار فَإِن أحدا من الْعَرَب لَا يفهم من إِطْلَاق لفظ الْبَيَان الْعلم الْوَاقِع للمبين لَهُ وَلَكِن إِذا قَالَ الرجل بَين فلَان كَذَا بَيَانا وَاضحا فَإِنَّمَا يفهم مِنْهُ أَنه أظهره إِظْهَارًا لَا يبْقى مَعَه شكّ وَإِذا قيل فلَان ذُو بَيَان فَإِنَّمَا يُرَاد بِهِ الْإِظْهَار أَيْضا وَقَول رَسُول الله إِن من الْبَيَان لسحرا يشْهد لما قُلْنَا إِنَّه عبارَة عَن الْإِظْهَار وَقَالَ تَعَالَى {هَذَا بَيَان للنَّاس} وَقَالَ تَعَالَى {علمه الْبَيَان} وَالْمرَاد الْإِظْهَار وَقد كَانَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مَأْمُورا بِالْبَيَانِ للنَّاس قَالَ تَعَالَى {لتبين للنَّاس مَا نزل إِلَيْهِم} وَقد علمنَا أَنه بَين للْكُلّ۔ وَمن وَقع لَهُ الْعلم ببيانه أقرّ وَمن لم يَقع لَهُ الْعلم أصر۔ وَلَو كَانَ الْبَيَان عبارَة عَن الْعلم الْوَاقِع للمبين لما كَانَ هُوَ متمما للْبَيَان فِي حق النَّاس كلهم (اصول السرخسی: 2 / 26 – 27)

مفہوم: “زیادہ صحیح بات پہلا قول ہی ہے کہ اس سے مراد اظہار کرنا ہے کیونکہ جب عرب میں سے کوئی شخص مطلقاً لفظ ‘بیان’ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ اس سے مراد بیان سننے والے کے دل میں علم کا واقع ہونا ہے بلکہ جب کوئی کہتا ہے کہ ‘فلاں نے فلاں بات کو واضح بیان کیا’، تو اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس نے اسے اس طرح ظاہر کردیا کہ اس کے بعد شک باقی نہ رہا۔ اور جب کہا جاتا ہے کہ ‘فلاں شخص صاحبِ بیان ہے’، تو اس سے بھی مراد یہی ہوتی ہے کہ ‘وہ اظہار کرنے والا (یعنی یہ فعل کرنے والا) ہے’۔ اور رسول اللہﷺ کا فرمان ‘بے شک بعض بیان جادو کی طرح اثر رکھتا ہے’، یہ اس بات کی دلیل ہے جو ہم نے کہا کہ اس سے مراد اظہار کرنے کا فعل ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان {هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ} اور فرمان {عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} میں بھی مراد اظہار (کا فعل) ہی ہے۔ رسول اللہﷺ لوگوں کے لیے بیان کرنے پر مامور تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سب کے لیے بیان کردیا۔ پس جنہیں اس بیان کے ذریعے علم حاصل ہوا انہوں نے ایمان کا اقرار کیا اور جن کو علم حاصل نہ ہوا وہ کفر پر اصرار کرتے رہے۔ اگر بیان سے مراد وہ علم ہوتا جو سننے والے کے دل میں پیدا ہوتا ہے تو نبیﷺ کو سب لوگوں کے حق میں بیان کرنے والا نہ کہا جاسکتا۔”

ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ یہاں ایسا کوئی موضوع زیر بحث نہیں کہ آیا لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ کا مطلب صرف قرآن کو بلا کم کاست پہنچا دینا ہے (جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں اور جس کی رو سے یہاں تبیین کا مطلب صرف “تلاوت قرآن” ہے) یا اس میں قرآن کی توضیح و تفصیل بھی شامل ہے۔ اب دیکھتے ہیں عمار صاحب نے اس مقام کو کیسے پڑھا ہے۔

جیسا کہ ذکر ہوا کہ احناف کے دلائل کا محاکمہ کرتے ہوئے وہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورۃ نحل کی آیت 44، جس سے نسخ کے بیان ہونے کو ثابت کیا جاتا ہے، سے متعلق ان کے اقوال متضاد ہیں، یعنی احناف کبھی اس آیت میں تبیین سے مراد صرف قرآن کا ابلاغ و اظہار مراد لے لیتے ہیں اور کبھی اس توضیح و تفصیل کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہیں جو آپﷺ کی جانب سے سنت میں مذکور ہے۔ ان کے مطابق ائمہ احناف کے بعض اقوال کی رو سے اس آیت میں تفصیل و توضیح شامل نہیں بلکہ مطلب قرآن کو لوگوں تک پہنچا دینا ہی ہےاس لئے کہ احکام کی تشریح و تفصیل جو احادیث میں وارد ہوئی وہ تمام لوگوں سے متعلق نہیں اور سب لوگوں تک اس کا ابلاغ بھی نہیں کیا گیا۔ اس کی مثال میں وہ امام سرخسی کی درج بالا عبارت کا ایک حصہ یوں لائے ہیں (ترجمہ ان کا کیا ہوا ہے):

وقد كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم مأمورًا بالبيان للناس، قال تعالىٰ: ﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ﴾، وقد علمنا أنه بين للكل ومن وقع له العلم ببيانه أقر ومن لم يقع له العلم أصر ولو كان البيان عبارة عن العلم الواقع للمبين لما كان هو متممًا للبيان في حق الناس كلهم

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے پر مامور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس چیز کو بیان کرو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے قرآن کو سب کے لیے بیان کیا اور جن کو آپ کے اس اظہار وتبلیغ کا علم ہوا، انھوں نے اقرار کیا اور جن کو نہیں ہوا، انھوں نے (اپنے کفر پر) اصرار کیا۔ اگر بیان کا مطلب وہ علم ہوتا جو مخاطبین کو حاصل ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کے حق میں اس کو بیان کرنے والا قرار نہ دیا جا سکتا (جب کہ آیت کا اسلوب یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ بیان سب لوگوں سے متعلق ہو)۔

امام سرخسی کی کتاب کے اس مقام سے یہ معنی تبھی اخذ کئے جاسکتے ہیں جب عبارت کو بیان کی بحث سے متعلق درج بالا تین اعتبارات کے پس منظر سے نکال کر کسی مقصد کی برآوری کے لئے تختہ مشق بنا لیا جائے۔ جناب عمار صاحب کو اندازہ تھا کہ صرف عبارت نقل کردینے سے قاری کے لئے ان کا مطلب اخذ کرنا ممکن نہیں، تو آپ نے عبارت پر اپنے اس فہم کو لاگو کرنے کے لئے آخر میں ایک طویل بریکٹ کا اضافہ بھی کردیا “(جب کہ آیت کا اسلوب یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ بیان سب لوگوں سے متعلق ہو)” اور ترجمے میں ایسے الفاظ بھی لکھ دئیے جس سے “قرآن پہنچانے” کا تاثر مضبوط ہو۔

امام جصاص کی عبارت

امام سرخسی کی عبارت سے کئے جانے والے اس مقدمے کا حال دیکھ چکنے کے بعد کہ آپ بعض مقامات پر “لتبین للناس سے صرف قرآن کو پہنچا دینا مراد لیتے ہیں”، اب آئیے امام جصاص کی عبارت کی جانب جسے عمار صاحب نے اسی مقدمے میں ائمہ احناف کا تضاد دکھانے کی خاطر پیش کیا ہے۔

یہاں بھی ایک بیک گراؤنڈ بحث ذہن نشین ہونا ضروری ہے۔ اصولیین کے مابین بحث ہوئی کہ کیا یہ جائز ہے کہ شارع کسی حکم سے متعلق کوئی ضروری وضاحت فوری بتانے کے بجائے اسے مؤخر کردے؟ بعض گروہوں کا کہنا تھا کہ تاخیر عن وقت الخطاب جائز نہیں کہ یہ ابانت کلام کے خلاف ہے (غامدی صاحب کا نظریہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے، اگرچہ انہیں اس کا شعور نہ ہو)۔ اس کے برعکس جمہور اہل سنت کے نزدیک تاخیر عن وقت الخطاب تو جائز ہے لیکن تاخیر عن وقت الحاجة جائز نہیں۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ شارع ابتدائی خطاب کے ساتھ فوری طور پر وہ وضاحت نہ بتائے اور اسے مؤخر کردے لیکن یہ جائز نہیں کہ مکلف پر اس فعل پر عمل کرنا تو واجب ہوگیا (یعنی اسے اس پر عمل کی حاجت آن پڑی) لیکن شارع کی جانب سے حکم کی تفصیلات نہ بتائی جائیں۔ جمہور اہل سنت کے مابین اختلاف ہوا کہ تاخیر عن وقت الخطاب کی کونسی صورتیں جائز ہیں۔ احناف کے نزدیک چونکہ عام کی دلالت اپنے عموم پر قطعی ہے لہذا ان کے نزدیک عام کی تخصیص میں تاخیر جائز نہیں (ایسے تاخیری بیان کو وہ نسخ کہتے ہیں) جبکہ جمہور متکلمین کے نزدیک یہ جائز ہے۔ احناف و جمہور کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مجمل و مشترک کا بیان الی وقت الحاجة مؤخر ہونا جائز ہے۔

امام جصاص نے ایک باب “الْقَوْلِ فِي تَأْخِيرِ الْبَيَانِ” باندھ کر اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے احناف کے موقف کو واضح کیا ہے۔ آپ اس گروہ کی جانب سے دلائل پیش کرتے ہیں جن کے خیال میں تاخیر عن وقت الخطاب جائز نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ عام کی تخصیص مؤخر ہونے کی ممانعت پر ایک دلیل اس گروہ کی جانب سے یہ دی گئی ہے کہ سورہ نحل کی آیت 44 (لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إلَيْهِمْ) نیز آیت يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إلَيْك مِنْ رَبِّك کی رو سے نبیﷺ پر تبلیغ و اظہار لازم تھا، پس ثابت ہوا کہ آپﷺ کے لئے اس میں تاخیر جائز نہیں کہ اس تاخیر سے الله کے حکم کی مخالفت کرنا لازم آتی ہے۔

اس کے آپ نے متعدد جواب دئیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

  • اس آیت میں اس مقدمے کی دلیل موجود نہیں اس لئے کہ آیت لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إلَيْهِمْ میں اس چیز کو پہنچانے اور ظاہر کرنے کا حکم ہے جو نازل ہوچکا، رہا کسی عام حکم کی وہ تخصیص جو ابھی نازل ہی نہیں ہوئی اس کی فی الفور تبلیغ و اظہار کا ثبوت اس آیت سے نہیں نکلتا، لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ اسے مؤخر کرکے نبی اللہ کی مخالفت کرنے والے ہوں گے ۔
  • یہ دلیل پیش کرنے والے کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ تخصیصی بیان بھی بذاتِ خود نازل شدہ حکم میں شامل ہے تاکہ کہا جاسکے کہ رسولﷺ نے اسے فوراً ظاہر کرنا ہے جبکہ بحث اسی میں ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی عام حکم نازل کرے لیکن اُس کی مراد (یعنی تخصیص) بعد میں بیان کرے؟ آیت میں اس کی ممانعت پر کوئی دلیل موجود نہیں، یہ محل نزاع ہی کو دلیل بنا لینا ہے۔
  • مزید یہ کہ اگر اس سے مراد تخصیص کا بیان بھی ہوتا، تو بھی اس یہ لازم نہ آتا کہ اسے فوراً ظاہر کیا جائے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کہا جائے کہ “میں نے تمہیں یہ دراہم اس لیے دیے کہ ان سے کپڑا خریدو یا انہیں اپنی ذات پر خرچ کرو”، اس جملے میں اس پر دلالت نہیں پائی جاتی کہ یہ کام اسی وقت اور فوراً کیا جانا ہے۔

اب آپ کی عبارت ملاحظہ کرلیجئے (مفہوم اوپر بیان ہوچکا)

وَهَذَا لَا دَلِيلَ فِيهِ عَلَى مَا ذُكِرَ لِأَنَّ قَوْله تَعَالَى: {لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إلَيْهِمْ} [النحل: 44] إنَّمَا يَقْتَضِي الْمُنَزَّلَ بِعَيْنِهِ وَالْمُنَزَّلُ مُبَيَّنٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَ إظْهَارَهُ وَتَرْكَ كِتْمَانِهِ، وَلَا دَلَالَةَ فِيهِ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بَيَانَ الْخُصُوصِ.

وَأَيْضًا: فَإِنَّهُ احْتَاجَ أَنْ يُثْبِتَ أَوَّلًا أَنَّ الْبَيَانَ مِمَّا نَزَلَ إلَيْهِ حَتَّى يُبَيِّنَ، وَكَلَامُنَا مَعَ الْمُخَالِفِ فِي: هَلْ جَائِزٌ أَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ تَعَالَى بَيَانَ الْعُمُومِ (إذَا كَانَ مُرَادُهُ الْخُصُوصَ) وَلَيْسَ فِي الْآيَةِ امْتِنَاعُهُ فَلَا مَعْنَى لِلِاحْتِجَاجِ بِهَا فِي ذَلِكَ.

وَأَيْضًا: فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ الْمُرَادُ بَيَانَ الْخُصُوصِ لَمَا دَلَّتْ عَلَى وُجُوبِهِ عَلَى الْفَوْرِ كَمَا تَقُولُ: أَعْطَيْتُك هَذِهِ الدَّرَاهِمَ لِتَشْتَرِي بِهَا ثَوْبًا أَوْ لِتُنْفِقَهَا عَلَى نَفْسِك لَا دَلَالَةَ فِيهِ عَلَى إرَادَةِ ذَلِكَ فِي الْحَالِ (الفصول فی الاصول: 2 / 53)

اس عبارت میں بھی یہ بات کہیں زیر بحث نہیں کہ آیت لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إلَيْهِمْ میں صرف قرآن کو بلا کم و کاست پہنچانا مراد ہے، تاہم عمار صاحب نے یہاں بھی عبارت کے سیاق کو یکسر اگنور کرتے ہوئے اس مقام پر عبارت کے درج ذیل الفاظ سے یہ معنی اخذ کرلیا ہے کہ علامہ جصاص یہاں “صرف قرآن پہنچانے” کی بات کررہے ہیں نہ کہ قرآن سے متعلق وہ توضیحات جو حدیث میں مذکور ہیں:

أن قوله تعالىٰ ﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ﴾ إنما يقتضي المنزل بعينه والمنزل مبين وإنما أراد إظهاره وترك كتمانه، ولا دلالة فيه على أنه أراد بيان الخصوص

جبکہ علامہ جصاص یہاں یہ جواب دے رہے ہیں کہ اس میں عام کی تخصیص وغیرہ کی تاخیر عن الوقت الخطاب کی ممانعت کی دلیل موجود نہیں اس لئے کہ اس آیت سے جس چیز کی تبلیغ و اظہار کا حکم ثابت ہوتا ہے یہ بعینہ وہ حکم ہے جو نازل ہوا، جو نازل ہی نہیں ہوا اس کی فی الفور تبلیغ و اظہار کا استدلال اس سے کیسے نکل آیا؟ عمار صاحب کے بقول اس مقام پر امام جصاص یہ کہہ رہے ہیں کہ اس آیت سے تاخیر عن وقت الخطاب کی ممانعت کی دلیل اس لئے غلط ہے کیونکہ یہ آیت یہ کہتی ہے کہ نبیﷺ نے صرف قرآن پہنچانا ہے، رہے حدیث میں مذکور تخصیصی اقوال تو وہ یہاں مراد ہی نہیں۔ عبارت کو یہ مفہوم پہنانا سیاق کلام میں بالکل بے ربط ہے اور اس کا متعلقہ استدلال کے جواب سے کوئی تعلق نہیں۔ تضاد دکھانے کی جلدی میں عمار صاحب اس پر بھی غور نہ کرسکے کہ کسی حکم سے متعلق مؤخر تخصیصی بیان صرف حدیث میں نہیں آسکتا بلکہ قرآن میں بھی ہوتا ہے، گویا عمار صاحب کے مطابق امام جصاص کے نزدیک اس آیت کی رو سے وہ مؤخر تخصیصی اقوال ظاہر کرنا نبی پر لازم نہیں جو قرآن میں آئے، فیا للعجب!

اس کے بعد عمار صاحب نے چند دیگر حوالوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ امام سرخسی اور امام جصاص وغیرہ نے عین اس کے برعکس اسی آیت کے تحت ان تفاصیل و توضیحات کو بھی تبیین کہا ہے جس کی نفی امام سرخسی درج بالا عبارت میں کر آئے! دراصل ان اقوال کو سمجھنے میں بھی ان سے چوک ہوئی ہے اس لئے کہ وہاں بھی انہوں نے متعلقہ بحث کا نکتہ ٹھیک سے نہیں سمجھا، البتہ اس پر الگ سے بات کریں گے ان شاء اللہ۔ چنانچہ وہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“خود سرخسی نے اس بحث کے علاوہ دوسرے مقامات پر آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے جن کا حوالہ اوپر دیا جاچکا ہے (جن میں سے ایک عبارت درج بالا ہے)، اس میں ’مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ‘ کا مصداق قرآن ہی کو مانا گیا ہے۔”    (نسخ القرآن بالسنۃ: امام شافعی کے موقف پر اصولیین کے معارضات (۲)، ماھنامہ اشراق، ستمبر 2024)

مزید لکھتے ہیں:

“(اس بحث سے) حنفی اہل علم کے استدلال کے داخلی تضادات خود ان کے اپنے کلام سے بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔”

الغرض یہ ہیں ائمہ احناف کے وہ دو اقوال جن سے عمار صاحب نے اپنے استدلال کی عمارت کا یہ حصہ تعمیر کیا کہ بعض مقامات پر ائمہ احناف صرف قرآن بلا کم و کاست پہنچانے کی بات کرتے ہیں نہ کہ اس کی توضیح و تفصیل۔ درج بالا عبارات کے ایسے فہم پر مبنی نتیجے کو ائمہ احناف کا تضاد کہنا ہے یا عمار صاحب کا ائمہ احناف کی متعلقہ بحثوں کا سوئے فہم، اس کا فیصلہ ہم اہل علم پر چھوڑتے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں