
ساویز ندیم
اخراجیت پسندی کامعنی یہ ہے کہ اپنے آپ کو یااپنے دین و مذہب یا مسلک،قوم و سماج یا فرقے کو حق پر سمجھنا اور دیگر تمام کو باطل یا پھر گمراہ سمجھنا۔یہ تصور نہ صرف بین المذاہب بلکہ بین المسالک بھی اس قدر پروان چڑھ چکا ہے کہ ایک ہی مذہب کے پیرو کار ایک دوسرے سے حق کی نفی کرنے پر مجبور ہیں۔ایسی صورتِ حال میں مکتب روایت نے ایک قدم بڑھا کر، اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اخراجیت پسندی کی ایسی صورت حال میں بھی دوسرے دین میں حق کا امکان قبول کرنا تو در کنار کہ ایک ہی مذہب کے مختلف منہاج و مسالک سے بھی حق کو قبول کرنا اب مزید محال ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کم از کم ہمارا معاشرہ یا اہل دانش اس کام کے لیے تیار نہیں۔ دیگر اقوام کے مذاہب کو متعصب طور پر دیکھنا ،کیاانصاف ہے؟ تقابل ادیان پر اکثر کتابوں کو اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے اہل دانش دیگر ادیان کی بدعتی موقف اور گمراہ قول و عمل پر اپنی کتاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔یعنی دیگر ادیان کے محض کرپٹ یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ منفی پہلو کو ہی اجاگر کرتے ہیں۔ اب یہی کام اگر اسلام کے ساتھ کیا جائے تو؟ کیا اسلام میں بدعتی اور گمراہ فرق یا نظریات بڑے پیمانے پر نہیں پائے جاتے،اگر کوئی ہندو یا عیسائی ان منفی اور بدعات کوا کٹھا کر کے ایک کتاب ترتیب دے اور کہے کہ یہ اسلام ہے تو کیا آپ ماننے کے لیے تیار ہیں؟ ظاہر ہے آپ کو یہ مضحکہ خیز لگے گا۔لیکن ہم پھر دیگر ادیان کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
ویسے یہ کام اسلام کے خلاف دیگر ادیان والے کر بھی چکے ہیں۔صلیبی جنگوں کے آغاز پر ہی یورپی شعراء اور پوپ نے مل کر حضور ﷺ اور اسلام کے خلاف جو ادب تشکیل دیا ہے وہ اس قدر بھیانک ہے کہ اس کو اب تک صاف نہیں کیا جا سکا۔جن حضرات کو دل چسپی ہو وہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ کا شمارہ جون 2021 میں ” انگریزی ادب میں رسولﷺ کی تصویر کشی” میں دیکھ لے۔
اس اخراجیت پسند رویے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم تحقیق میں تعصب سے کام لیتے ہیں ،جب ایک انسان صرف خود کو، پہلے سے ہی حق پر سمجھے پھر وہاں تحقیق ممکن نہیں ۔ تحقیق کا سوال پیدا ہی وہاں ہوتا ہے جب ایک مفکر کو بعض سلگتے سولات بے چین کرے ۔پھر آپ کی نظریں دیگر ادیان کی ان عبارتوں پر ٹھہر یا جم جائیں گی جہاں آپ کو کوئی منفی پہلو نظر آئے۔بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ نا سمجھی میں آپ ان کی عبارتوں کی غلط تاویل کر جائیں گے۔ہر مذہب کی کتابوں کی درست تاویل و تفسیر ان کے اہل ِاستقامتOrthodox سے پوچھنا لازم ہے۔کیا سارے عیسائی تین مطلق خداؤں کے قائل ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ان میں بھی فرق ہیں جو اس کی تاویل پیش کرتے اور صرف ایک خدا کو مطلق مانتے ہیں یعنی God ۔ہندو مت میں ذات پات کی تقسیم کو اچھالا جاتا ہے۔ اب تو ذات پات اور موروثیت ہماری سیاست سے ہوتے ہوئے مدرسہ ،منبر و محراب تک جا گھسی ہے۔ ہندو مت میں در اصل یہ ذات پات کی تقسیم نہیں بلکہ یہ ایک سماجی عمل کی تقسیم ہے۔ ہر شخص کو سماج میں وہی عمل اختیار کرنا ہے جس کی وہ صلاحیت رکھتا ہو۔یہ کوئی موروثی نظریہ نہیں یہ تو بعد میں کرپشن یا رواج قائم ہو جانے کی وجہ سے یہ چار طبقات سامنے آئے ہیں۔برہمن کوئی موروثی پوسٹ یا منصب و مسند نہیں بلکہ ویدانتی تعلیمات کے اہل کو برہمن کہا جاتا ہے۔اسے طرح کشتری ،ویش اور شودر طبقات موروثی نہیں۔ دنیا کا قدیم ترین مذہب ویدانتی ہے۔ویدانتی مذہب پر کم از کم چار ہزار سال گزر چکے ہیں۔ بدعات اور خرابی کا در آنا کوئی اچنبھا نہیں۔ نظریات کا متغیر ہونا بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ یہ ہر مذہب کے ساتھ ہوتا ہے۔اسلام پر تقریباً 15 سو سال پورے ہونے کو ہیں۔ان صدیوں میں کیا کچھ تغیر ات سامنے آچکے ہیں، آپ کو بخوبی علم ہے۔آگے کیا ہونا ہے واللہ اعلم۔
ہر سماج کا ایک شاکلہ ہوتا ،پھر ہر سماجی میں ہر انسان کا بھی اپنا شاکلہ ہوتا ہے۔شاکلہ کے بارے میں مفتی شفیع لکھتے ہیں:”…حاصل سب کا یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنے ماحول اور عادات اور رسم و رواج کے اعتبار سے ایک عادت اور طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے اور اس کا عمل اسی کے تابع رہتا ہے”۔ ہر شخص اپنی شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے۔اب ایک ہندوجو ہندوستان کے متنوع سماج کا باسی ہے،وہ پیدائشی طورپر ایک ہندو گھرانے میں آنکھ کھولتا ہے،اسی ماحول میں پرورش پاتا ہے۔ اس کا یہ ایک شاکلہ بن چکا ہے۔اب کیااس کی ہدایت کے لیے خدا نے کوئی انتظام کر رکھا ہے؟ اگرہاں تو کہاں؟ اسلام میں؟ لیکن اسلام کا تو اس کو کچھ پتا ہی نہیں۔اس ہندو کی جگہ پر پہلے خود کو رکھ کر دیکھیں کہ آیا اس کی جگہ اگرآپ ہوتے تو آپ خدا سے کیا سوال کرتے اپنی ہدایت کا؟ظاہر ہے کہ اسلام دیگر ادیان کی بنسبت باآسانی ہدایت فراہم کرتا ہے۔اب اس ہندو کا، اسلام سے متعلق اس کا تاثر اس قدر منفی بن چکا ہےکہ اس کی طرف وہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ایسا کیوں؟ اسلام کا تعارف اس کے ذہن میں مسلمانوں کے اعمال سے ہوا ہے،اس کی نظر میں اسلام اور مسلمان ایک غاصب قوم ہے، یہ مذہب اس کی نظر میں دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔بعض ان میں بالکل نیوٹرل بھی ہیں۔اصولی طور پر اسلام ایسی کوئی بھی تعلیم نہیں دیتا۔لیکن یہ اسلام کا عمومی تاثر اس کی ہدایت پر اس قدر اثر انداز ہے کہ اس مخلص کو نبی آخر الزمان کا پتا نہیں۔اسلام اور مسلمانوں کا تاثر، قیام حجت میں سب سے بڑا نکتہ ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔صدر اول میں اسلام کا عمومی تاثردر اصل اس قدر صاف ستھرا تھا کہ دو اور دو چار کی طرح کی بات تھی۔ اسلام کا عمومی تاثر اُس وقت ظلم و جبر سے نجات،انصاف کا ضامن اور ہدایت کا سر چشمہ سمجھا جاتاتھا۔ بلکہ دشمن بھی اس کی گواہی دینے پر مجبور تھے۔اس لیے کہ صحابہ نے جس سماج کو تشکیل دیا وہ معیاری اسلامی سماج تھا۔ مسلمان کا عمل غیر مسلموں پر قیامِ حجت کے لیے از خود کافی تھا۔ ان میں جو بھی سلیم الفطرت ،حق کا متلاشی تھا ،اس نے فوراً اسلام دل و جان سے قبول کر لیا۔لیکن آج صورت حال ایسی نہیں۔آج ایک ہندو ،عیسائی ،یہودی ، بدھ مت اور تاؤ مت کا پیروکار کیوں کر اسلام قبول کرے؟کیا اس کو یہ ساری تعلیمات اسلام اور مسلمانوں کے عمل سے واضح ہو چکی ہیں؟واضح جواب ہے کہ نہیں۔ تو پھر کس اصول کے تحت سارے غیر مسلمین غیر مشروط طور پر کافر و جہنمی ٹھہرتے ہیں؟مسلمانوں کے عمل نے قیام حجت پر اس قدر سیاہ پردے ڈال رکھے ہیں کہ اس سے کسی دین و شریعت کی حقانیت ثابت نہیں ہو سکتی۔البتہ صورت حال جو بھی رہی ہو، یہ بات بھی طے ہے کہ اسلام اصولی طور پر دیگر ادیان سے زیادہ اب بھی ہدایت کو با آسانی فراہم کرتا ہے۔دیگر ادیان میں ہدایت کے حصول کے لیے اگر چہ محدود راستے موجود ہیں،لیکن وہ راستے اس قدر کٹھن اور ان تک رسائی ایک عام آدمی کے لیے قریبا قریباً ناممکن حد تک پہنچ چکے ہیں۔مورتی پوچا جو ہندوستان کا سماجی اور مذہبی رواج بن چکا ہے،اگرچہ مورتی پوچا ویدانتی مذہب میں منع ہے لیکن ہندو گرو بھی بتوں کی تاویل کرتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن آج بھی ایسے آشرم قلیل مقدار میں موجود ہیں جہاں مورتی پوجا کو غلط کہا جاتا ہے۔
اب اہل علم خود ہی فیصلہ کر لیں کہ آیا مطلقاً سارے غیر مسلموں کو کافر قرار دینا کیا واقعی انصاف کا تقاضا ہے؟ یا پھر یہاں ایک محدود طبقہ کی نجات کی راہ مشروط طور پر کھلی ہے۔یہ بات تو بدیہی ہے کہ توحید پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں۔مورتی پوجابالکل غلط ہے چاہے مورتی پوجا کو تاویل کے ساتھ بھی قبول کر لیا جائے۔تاویل یہی ہے کہ مورت خدا نہیں بلکہ خدائی طاقتوں و صفات کے لیے ایک ذریعہ یا پھر ایک علامت ہے۔مناجات کے لیے ایک ذریعہ و سیلہ ہے۔ بعینہ یہی عقیدہ اہل مشرکین عرب کا بھی رہا۔جس پر خدا وند کریم نے تنبیہ کی۔
قیام حجت پر اشاعرہ اور ماتریدیہ کا موقف سامنے رہنا چاہیے۔جدید دنیا میں اشعری موقف کو اپنانا مشکل معاملہ ہے۔بعض صورتوں میں اشاعرہ کا موقف خاموش ہے یا پھر معقول تاویل نہیں۔ دوسری جانب ماتریدیہ کا موقف اس قدر مضبوط و معقول ہے کہ آج کا دور اسی کا متحمل ہے۔اشاعرہ خدا کی معرفت کو نبی کی دعوت کے ساتھ خاص کرتے ہیں جبکہ ماتریدیہ اس کو انسان کے ساتھ ہی خاص کرتے ہیں۔ یعنی نبی کی دعوت پہنچےبغیر بھی انسان اپنی فطریہ اُولیٰ یا فطریہ سلیمہ یا عہد الست کی وجہ سے خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔یا پھر وجوب النظر کے تحت جیسے کہ امام رازی اس کو استعمال کرتے ہیں۔ کائنات پر توجہ کرنے سے انسان تعجب میں مبتلا ضرور ہوتا ہے۔ نتیجتاً انسان ایک خالق مطلق کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔نبی کی دعوت کا مکلف تو وہ ٹھہرے گا جس کو نبی کی دعوت سالم حالت میں پہنچی ہو،جس کو غور و فکر کا موقع ملا ہو،جو تشکیک و تردد کے مراحل سے گزر چکا ہو۔ اس کے بغیر کسی کو مکلف ٹھہرانا انصاف نہیں۔مارٹن لنگز کا مضمون “With All Thy Mind” کا مطالعہ مذکورہ بالا سیاق میں کرنا ضروری ہے ۔اگر کسی شخص کو اسلام کی درست تعلیمات کا علم نہیں تو اس سے اسلام کا تقاضا کرنا بھی درست نہیں۔ یہ شخص اگر اپنے دین پر پورے اخلاص اور درست نہج پر کار بند ہے،مثلاً شرک سے پاک خدا وند کریم سے مناجات و عبادات کرتا رہتا ہے،سورگ نرگ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو یہ اس کی نجات کے لیے از خود کافی ہے۔یہ مضمون در اصل مکتب روایت کی اصطلاحات و عبارات کی تفہیم کے لیے ایک کڑی ہے۔ اس حوالے سے دیگر مضامین بھی شائع کیے جائیں گے۔تاکہ پہلے تفہیم حاصل کی جاسکے اور بعد ازاں مثبت یا تعمیری تنقیدکے لیے بھی راہ کھل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساویز ندیم صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسلامک سٹڈیز کے طالبعلم ہیں ۔




کمنت کیجے