Home » قادیانی مسئلے پر والد گرامی کا موقف : تجزیہ و تبصرہ (2)
شخصیات وافکار فقہ وقانون

قادیانی مسئلے پر والد گرامی کا موقف : تجزیہ و تبصرہ (2)

والد گرامی کے مجموعی موقف کا تجزیہ کرتے ہوئے اب ہم سب سے اہم اور بنیادی نکتے کی طرف آتے ہیں، یعنی قادیانی جماعت کی آئینی وقانونی حیثیت کیا ہے، اور کیا ان کو اپنے گروہی وجود، تشخص اور مذہبی وسماجی حقوق کے حوالے سے کوئی تحفظ دینا مسلمان معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟

یہ اس بحث کا سب سے   حساس اور contentiousسوال ہے جس کے أسباب بالکل واضح ہیں۔   ایک ایسا گروہ جو اپنی دعوت وتبلیغ کا ہدف مسلمانوں کی اجتماعی مذہبی شناخت کو  تبدیل کر کے اسے ایک نئے مبعوث من اللہ کی پیروی  کے گرد مرتکز کرنا چاہتا ہو،  اس کے وجود اور سرگرمیوں کے متعلق  معاشرے کی حساسیت اور ردعمل   کسی توجیہ یا وضاحت کا محتاج نہیں۔  پھر ایسے گروہوں کے متعلق مسلمانوں کا روایتی مذہبی قانون  بھی یہی کہتا آیا ہے کہ  ایسے گروہوں کا وجود، خصوصاً‌ جبکہ وہ منظم انداز میں تبلیغی عزائم بھی رکھتا ہو،  معاشرے میں قبول نہیں کیا جائے گا اور  مسلمانوں کا نظم اجتماعی اس کا قلع قمع کرنے پر مامور ہوگا۔

تاہم قادیانی جماعت کے متعلق  اس نوعیت کا کوئی فیصلہ کرنا مسلم اجتماعیت کے لیے ممکن نہیں  ہوا جس کے تین بڑے تاریخی أسباب گنوائے جا سکتے ہیں:

پہلا یہ کہ قادیانی جماعت کے ظہور کے وقت مسلمانوں کا کوئی سیاسی نظم اجتماعی موجود نہیں تھا جو  سیاسہ شرعیہ کے تقاضوں کو رو بہ عمل کر سکتا۔

دوسرا یہ کہ مرزا صاحب کے دعوے  تدریج کے ساتھ اور کئی طرح کی تاویلات  اور  پرفریب اصطلاحات کے پردے میں سامنے  آئے جس میں خاص طور پر  صوفیانہ روایت میں کشف والہام،  القاء،  غیر تشریعی نبوت، اور مہدویت وغیرہ  کے تصورات سے بھرپور استفادہ کیا گیا تھا۔

اور تیسرا یہ کہ  برطانوی دور میں جدید تعلیم  سے فیض یافتہ  جو ایک نیا طبقہ مسلمانوں کی سیاسی  قیادت  سنبھال رہا تھا، وہ قابل فہم وجوہ سے  مذہبی علماء سے بھی ایک فاصلہ رکھنا چاہتا  تھا  اور مسلمانوں کی داخلی فرقہ وارانہ  اور مذہبی بحثوں سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد کو   الگ رکھنا چاہتا تھا۔

ان تین اسباب سے قادیانی جماعت کو  ایک اصلاحی تحریک کے طور پر عوام الناس کے ایک بڑے حصے میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی، مسلمان علماء  کا نقطہ نظر بھی مرزا صاحب کے متعلق  کافی عرصے تک تقسیم اور تردد وتذبذب   کا عنوان رہا، اور  مسلمانوں کی نئی سیاسی قیادت میں بھی  قادیانی جماعت اپنی ایک جگہ بنانے اور سیاسی اثر ورسوخ   پیدا کرنے میں کامیاب رہی۔

مذکورہ تین اسباب میں سے پہلا سبب، یعنی نظم اجتماعی کے عدم وجود کا مسئلہ قیام پاکستان سے دور ہو گیا اور اس وقت تک مذہبی علماء کا موقف بھی احمدیوں کی قادیانی جماعت کی تکفیر کے حوالے سے کم وبیش یکسو ہو چکا تھا۔ تاہم نئی ریاست میں علماء نے قادیانیوں پر زندقہ وارتداد کے احکام جاری کرنے اور روایتی مذہبی قانون کے مطابق واجب القتل قرار دینے کے بجائے علامہ محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے اکابر علماء کی پیش کردہ دستوری ترامیم میں قادیانیوں سے متعلق جو مطالبہ پیش کیا گیا، وہ مولانا مودودی نے اپنی  کتاب  ’’قادیانی مسئلہ‘‘ میں نقل کیا ہے اور ماہنامہ الشریعہ  کے جولائی ۲۰۱۵ء کے شمارے میں بھی یہ ترامیم شائع کی گئی ہیں۔

’’ضمیمہ دوم

اس ضمیمہ میں مسلم نشستوں کے عنوان کے کالم میں پنجاب کے بالمقابل ۸۸ کی جگہ ۸۷ کا عدد درج کیا جائے اور ایک نئے کالم کا اضافہ کیا جائے جس کا عنوان ’’قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستیں‘‘ ہو۔ اس کالم میں پنجاب کے بالمقابل ایک کا عدد درج کیا جائے۔ نیز ضمیمہ دوم کی تشریحات میں حسب ذیل پانچویں دفعہ کا اضافہ کیا جائے۔

’’پنجاب میں قادیانیوں کی ایک نشست پر کرنے کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کے قادیانی بھی ووٹ دینے اور مذکورہ نشست پر رکن منتخب ہو سکنے کے مستحق ہوں گے۔‘‘

قادیانی کی تشریح یوں کی جائے:

’’قادیانی سے مراد وہ شخص ہوگا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتا ہو۔‘‘

یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بنا پر دستور بنائیں، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی آباد ہے، وہاں اس قادیانی مسئلہ نے کس قدر نازک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کر کے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہوگیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں، ان کی یہ غلطی بڑی افسوس ناک ہوگی کہ وہ جب پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں، اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے، وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آرا بھی ہیں، اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا (جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو ۔۔۔۔۔۔ الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔‘‘ (دستوری سفارشات پر مشاہیر علماء کا تبصرہ اور ترمیمات، ماہنامہ الشریعہ، جولائی ۲۰۱۵ء)

والد گرامی کے نقطہ نظر میں اس نکتے سے متعلق ہمیں تین اہم ملاحظات ملتے ہیں جو تجزیے کے متقاضی ہیں:

پہلا یہ کہ وہ علماء کی طرف سے قادیانیوں پر روایتی مذہبی قانون کے نفاذ پر اصرار کے بجائے علامہ اقبال کی تجویز قبول کرنے کو ’’اجتہاد ‘‘ کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے اور اس کی تائید کرتے ہیں۔

’’اس تاریخی حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب علمائے کرام کو نئی ریاست کی دستوری حیثیت کا تعین کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے ماضی کی روایات سے بے لچک طور پر بندھے رہنے کے بجائے وقت کے تقاضوں اور علامہ اقبال کی فکر کا ساتھ دیا ۔۔۔ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کو مرتد کا درجہ دے کر فقہی احکام کے مطابق گردن زدنی قرار دینے کے بجائے علامہ اقبال کی تجویز کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے کر ان کے جان ومال کے تحفظ کے حق کو تسلیم کرنا بھی ملک کے علما کا ایک ایسا اجتہادی فیصلہ ہے جس کے پیچھے علامہ محمد اقبال کی فکر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔‘‘  (عصر حاضر میں اجتہاد، شائع کردہ: الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ، فروری ۲۰۰۸ء، ص ۳۸)

دوسرا یہ کہ وہ اس پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ علماء نے یہ اجتہاد تو کر لیا، لیکن اس کی شرعی بنیادیں وضاحت سے اور کھول کر بیان نہیں کیں جس سے یہ سمجھ میں آ سکے کہ انھوں نے روایتی موقف سے دستبرداری کیوں قبول کی ہے، اور یہی چیز مذہبی ذہن میں الجھن اور ابہام پیدا کرنے کا موجب ہے۔

’’کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوڑن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔ ۔۔۔ قادیانیوں کے بارے میں ہم نے اجتماعی طور پر فقہی احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انھیں غیر مسلم اقلیت کے طور پر ملک میں رہنے کا حق دیا جائے گا اور ان کے جان ومال کے تحفظ کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ یہ فیصلہ جو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر کیا ہے اور ملک میں نافذ العمل ہے، ہمارے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ہے۔ میں اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کے حق میں ہوں اور اس کو قانونی اور دستوری درجہ دلوانے کے لیے عملی جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی علمی توجیہ کیا ہے اور ایسا کرنا شرعی طور پر کیا حیثیت رکھتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر علمی مباحثہ ضروری ہے اور نہ صرف علما و طلبہ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقات کے سامنے بھی اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کا شرعی جواز کیا ہے؟‘‘  (کلمہ حق، ماہنامہ الشریعہ، مئی ؍جون ۲۰۰۹)

تیسرا یہ کہ بعض تحریروں میں والد گرامی نے روایتی موقف میں اس تبدیلی کی ایک ممکنہ توجیہ یا نئے موقف کی ایک ممکنہ شرعی بنیاد واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ’’ریاست مدینہ کے کلمہ گو غیر مسلم شہری’’ کے عنوان سے ان کی تحریر قابل توجہ ہے جس میں وہ عہد نبوی میں منافقین کے حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی کی روشنی میں یہ استدلال کرنا چاہ رہے ہیں کہ ایسے گروہ جو اپنے اقرار کے لحاظ سے کلمہ گو، لیکن حقیقت میں غیر مسلم ہوں، ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں عملی اعتبار سے کافی لچک اور گنجائش ہے اور حالات ومصالح کو ملحوظ رکھتے ہوئے جزواً‌ سختی اور جزواً‌ نرمی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ دورِ حکومت میں ان کی رعایا میں دیگر غیر مسلموں کی طرح کلمہ گو غیر مسلم بھی رہتے تھے، ان کے خلاف موقع محل کے مطابق کاروائیاں کی گئی ہیں، اور بعض مواقع پر مصلحت و حکمت کے تحت کاروائی سے گریز بھی کیا گیا ہے۔ اس حوالہ سے محققین کو متوجہ ہو کر آج کے حالات و تقاضوں کے لیے طریق کار طے کرنا چاہیے۔ ہماری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا مدار حالات کے تقاضوں اور امت کے اجتماعی مفاد اور ضروریات پر ہے، جس کا تعین اربابِ حل و عقد اور دینی و علمی قیادتوں کو مل کر کرنا چاہیے۔“

https://zahidrashdi.org/5199

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں