دو قومی نظریے کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان برصغیر میں سیاسی اقتدار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، سیاسی اقلیت کے طور پر نہیں۔ اس میں بنیادی دعویٰ سیاسی اقتدار کا تھا جس کی بنیاد مسلم شناخت پر رکھی گئی۔ اس کا عملی تصور ایک وفاقی جمہوری ریاست کا تھا جو مسلم شناخت کی سیاسی وحدت کو برقرار رکھنے کی لازمی شرط تھی۔ وفاقی کا مطلب یہ تھا کہ الگ الگ علاقائی اور نسلی ولسانی شناختیں اپنی شناخت اور تشخص کو قائم رکھتے ہوئے سیاسی اقتدار میں برابر کی سطح پر شریک ہوں گی۔ جمہوری کا مطلب یہ تھا کہ یہاں شہری حقوق میں کسی بھی بنیاد پر تفریق نہیں کی جائے گی اور نظم ریاست عوام کی مرضی سے ان کے مفاد کے مطابق چلایا جائے گا۔
ہم متعین طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ مختلف سیاسی اسٹیک ہولڈرز نے اس تصور کے رو بہ عمل ہونے میں کہاں کہاں بے ایمانی اور دھونس سے کام لیا ہے۔ عسکری وسیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے کبھی دل سے وفاقی اکائیوں کے مابین شراکت اقتدار میں مساوات کو قبول نہیں کیا۔ نتیجتاً جو اکائیاں تقسیم کے وقت جہاں کھڑی تھیں، آج بھی وہیں کھڑی ہیں اور ایک بڑی اکائی تو نصف صدی پہلے الگ بھی ہو چکی ہے۔
جمہوریت کا حال بھی ہمارے سامنے ہے۔ عوام کا اقتدار نہ عسکری قیادت کو قبول ہے، نہ سیاسی اور نہ مذہبی۔ عسکری قیادت اپنی منشا کا اظہار مارشل لاز اور ہائبرڈ حکومتوں کی صورت میں کرتی رہتی ہے۔ سیاسی قیادت کا طرزِ عمل تین مقبول ترین سیاست دانوں (جناب بھٹو، نواز شریف اور خان صاحب) کے رویے میں دیکھا جا سکتا ہے جن میں سے ہر ایک نے شخصی آمریت قوم پر مسلط کرنے کا خواب دیکھا، اگرچہ کامیابی کا تناسب بھٹو صاحب میں زیادہ، میاں صاحب میں اس سے کم اور خان صاحب میں اس سے بھی کم رہا۔
مذہبی قیادت نے پہلے تو یہ دیکھتے ہوئے کہ ایک ’’جمہوری’’ ریاست میں ان کی کیا جگہ ہو سکتی ہے، ڈٹ کر مخالفت کی۔ پھر کچھ طبقوں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ تو عملاً قائم ہو رہی ہے، اس امید پر اس کی تائید کی کہ وہ ’’جمہوری’’ طریقوں سے یہاں اپنی نگرانی میں نفاذ اسلام کروا لیں گے۔ پھر اس کی مشکلات دیکھتے ہوئے مختلف قسم کے ’’غیر جمہوری’’ طریقے بھی قبول کیے گئے۔ اور آج یہاں اسلام اتنا ہی نافذ ہے جتنا ڈنڈے کے زور پر کروایا گیا ہے اور جو اپنے تحفظ کے لیے بھی مسلسل ڈنڈے کا ہی محتاج ہے۔
ہماری رائے میں اگر قومی شعور میں بنیادی چیزوں کے حوالے سے یکسوئی پیدا ہو رہی ہو تو مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ نظام کی ناکامی کا نوحہ سبھی پڑھ رہے ہیں، ری سیٹ کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال میں بھی جوہری تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ کیوں نہ دو قومی نظریے کے بنیادی، فراموش کردہ اصولوں کو دوبارہ تازہ کیا جائے اور اپنی بساط بھر کوشش تعمیرِ نو میں صرف کی جائے؟ واللہ الموفق




کمنت کیجے