قادیانی مسئلے کے حوالے سے ہم وقتاً فوقتاً علماء ومفتیان کرام کے عمومی نقطہ نظر اور اس کے علاوہ بعض خاص شخصیات کے اندازِ نظر پر بھی بات کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً قادیانیوں کی عدم تکفیر کے ضمن میں مولانا دریابادیؒ کا رجحان اور استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف بھی مختلف پہلووں سے موضوع بنتا رہا ہے۔ اسی طرح والد گرامی کے موقف کے بعض جزوی پہلووں پر بھی بات ہوئی ہے، لیکن ان کے مجموعی موقف پر تبصرہ وتجزیہ کا موقع نہیں آ سکا۔ ان دنوں ان کا موقف دینی حلقوں میں زیربحث ہے، لیکن جیسا کہ ایسی بحثوں میں عموماً ہوتا ہے، ان کے مجموعی موقف کی تفہیم اور اتفاقی یا اختلافی نکات کے تجزیے پر بات نہیں ہو رہی، بلکہ ایک طرف سے عقیدت مندی اور دوسری طرف سے تکفیری فتوے بازی کی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
والد گرامی کے معتقدین ان کے موقف کا یہ پہلو اجاگر کرنے پر زور دے رہے ہیں کہ انھوں نے عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت اور قادیانیوں کی تکفیر کی تائید میں بلامبالغہ سیکڑوں تحریریں لکھی اور اتنی ہی تعداد میں تقریریں کی ہیں، اس لیے ان کی طرف قادیانیت کے متعلق نرم گوشہ رکھنے کی بدگمانی کیسے کی جا سکتی ہے؟ دوسری طرف تکفیری گروہ کی جانب سے اس نکتے کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی، اور والد گرامی نے قادیانی گروہ کے متعلق امت کے عملی رویے میں بے اعتدالی اور الجھاو کے جن پہلووں کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کو بنیاد بنا کر انھیں قادیانی سہولت کاری کا الزام دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض حلقوں کی طرف سے صریح تکفیر بھی کی جا رہی ہے۔
گویا بحث ایک شخصیت کے دفاع یا اس کو مجروح کرنے کا رنگ اختیار کیے ہوئے ہے جس کا ظاہر ہے، کوئی حاصل نہیں نکلتا۔ ہمارے خیال میں معتقدین اور تکفیری ناقدین کو اس بحث میں مصروف چھوڑ کر، عام ناظرین کے لیے مسئلے کی تفہیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ والد گرامی کے مجموعی موقف کو درست تناظر میں سمجھ سکیں، اور استدلال کی روشنی میں اتفاق واختلاف کا فیصلہ کر سکیں۔ معتقدین یا ناقدین، اس گفتگو کے براہ راست مخاطب نہیں ہیں، لیکن وہ اس سے کچھ سیکھنا چاہیں تو ظاہر ہے، کوئی پابندی بھی نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ والد گرامی کے موقف کے دو الگ الگ پہلو ہیں جن کے باہمی امتیاز کو ملحوظ رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک پہلو، قادیانی جماعت کے متعلق ان کے اصولی موقف سے تعلق رکھتا ہے، اور دوسرے پہلو کا تعلق، قادیانیوں کے متعلق مذہبی فکر اور رویوں کی بعض بے اعتدالیوں یا الجھنوں سے ہے۔
جہاں تک ان کے اصولی موقف کا تعلق ہے تو وہ کسی قسم کے ابہام یا اشتباہ کے بغیر ان کی سیکڑوں تحریروں اور بیانات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
1۔ ختمِ نبوت اسلام کا بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے اور اس کا اجماعی مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔
2۔ جو شخص کسی بھی مفہوم میں نئی نبوت کا دعویٰ کرے، اسلامی عقیدے کے مطابق وہ جھوٹا اور کذاب ہے اور ان احادیث کا مصداق ہے جن میں امت کے اندر نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
3۔ قادیانیت اسلام کے دائرے کے اندر کوئی نیا مکتبِ فکر نہیں، بلکہ ایک الگ مذہب ہے؛ اس لیے کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد کی نبوت اور نئی وحی پر ایمان رکھتے ہیں، جبکہ ان پر ایمان نہ لانے والوں کو نبی کا منکر اور کافر بھی قرار دیتے ہیں۔
4۔ مذاہب کے معروف اور مسلمہ اصولوں کی رو سے کسی ایسے گروہ کو جو ایک بنیادی عقیدے کی تشریح میں مسلمانوں کے متفقہ عقیدے سے الگ راستہ اختیار کرے، مسلمانوں کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
5۔ قادیانیوں کے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر اصرار کا مقصد محض تلبیس ہے جس کے ذریعے سے وہ اسلامی اصطلاحات اور مسلم شناخت کے پردے میں عام سادہ لوح مسلمانوں میں نئی نبوت کے عقیدے کی تبلیغ وترویج کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
6۔ اسی اجماعی موقف کی ترجمانی پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام میں بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کے متفقہ آئینی فیصلے کے ذریعے قادیانی گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، جبکہ ۱۹۸۴ء کے قانونی اقدامات کے ذریعے اس آئینی فیصلے کی تنفیذ عمل میں لائی گئی ہے۔
7۔ یوں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا موقف محض کسی ایک مذہبی فتوے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسے امت مسلمہ کے ایک متفقہ سیاسی اور قانونی موقف کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
اصولی موقف کی وضاحت کے متعلق اب آتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف۔ یہاں دو مسئلے ہیں جن میں والد گرامی کا موقف تکفیری مفتیوں کے لیے الجھن یا تشویش یا اضطراب کا موجب ہے:
پہلا، مرزا غلام احمد کی توہین اور استہزا کا رویہ، اور
دوسرا، قادیانیوں کو مرتد اور واجب القتل کہنے کے بجائے ان کے لیے جان ومال کی حفاظت اور مذہبی حقوق تسلیم کرنا (بشرطیکہ وہ خود کو مسلمانوں سے الگ ایک مذہبی گروہ تسلیم کر لیں)۔
پہلے نکتے کے تجزیے کو ہم دو تین سوالات میں تقسیم کر سکتے ہیں:
۱۔ کیا مخالف گروہ کی کسی محترم شخصیت کا ذکر طعن وتشنیع یا تذلیل کے اسلوب میں کرنا دینی اخلاقیات اور دعوتی اصولوں کے مطابق ہے؟
۲۔ کیا مرزا غلام احمد کی توہین یا تحقیر کو قانوناً ممنوع یا مستوجبِ سزا قرار دینا چاہیے؟
۳۔ کیا قادیانی دیگر غیر مسلم مذاہب کی طرح ایک ’’مذہبی گروہ’’ ہیں جن کے مذہبی جذبات، مسلمانوں کو مجروح نہیں کرنے چاہییں؟
ان میں سے تیسرا سوال تو دوسرے نکتے (یعنی قادیانیوں کے مذہبی حقوق تسلیم کرنے) کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اس لیے اس پر ہم آگے چل کر اسی نکتے کے ذیل میں بات کریں گے۔ اس مرحلے پر پہلے دو سوالات پر ترکیز کر کے دیکھ لیتے ہیں کہ ان کی الجھنیں یا پیچیدگیاں کیا ہیں اور والد گرامی کا زاویہ نظر اس ضمن میں کیا ہے۔
مرزا غلام احمد کا ذکر توہین وتحقیر کے انداز میں کرنا جو ان کے معتقدین کے لیے دل آزادی کا باعث ہو، اس کے غیر اخلاقی اور اصولِ دعوت کے منافی ہونے کی بات والد گرامی نے پہلی دفعہ نہیں کہی۔ یہ بات چوٹی کے اکابر علماء کہہ چکے ہیں۔ ان میں سے دو بزرگوں یعنی حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا محمد حیات صاحبؒ کی تنبیہ تو والد گرامی نے خود نقل کی ہے، جبکہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا طرز عمل جناب مولانا تقی عثمانی صاحب نے ’’میرے والد میرے شیخ“ میں بیان کیا ہے۔
والد گرامی بیان کرتے ہیں:
’’اسی طرح ایک واقعہ یہ ہوا تھا کہ گکھڑ میں شاہ سلیمان کی مسجد میں جلسہ تھا، حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر تھی۔ حضرت قاری محمد انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ مجھے دو چار جملے رٹا کر سٹیج پر کھڑا کر دیا کرتے تھے۔ روڈ پر پبلک جلسہ تھا، قاری صاحب نے مجھے دو چار جملے سکھائے کہ حافظ صاحب تقریر کرو۔ تقریر میں مرزا غلام احمد کا نام آ گیا تو میں نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں دو چار سنا دیں۔ حضرت والد صاحبؒ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اٹھے، مجھے گریبان سے پکڑا اور پیچھے بٹھا دیا۔ خود مائیک پر آکر ارشاد فرمایا کہ بچہ ہے، بیوقوف ہے، جذبات میں غلط باتیں کر گیا ہے، میں معذرت خواہ ہوں۔
ان دو واقعات کے ساتھ ایک تیسرا واقعہ بھی ذکر کرتا ہوں، جنہوں نے میرا رُخ بالکل متعین کر دیا۔ میرے قادیانیت کے استاذ فاتحِ قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحب ہیں، آپؒ استاذ المناظرین تھے جنہوں نے اس دور میں قادیان میں بیٹھ کر مقابلہ کیا تھا۔ میں نے ان سے باضابطہ قادیانیت پڑھی ہے، ان سے کورس پڑھا ہے۔ گوجرانوالہ میں ہم کورس میں شریک تھے۔ آپؒ طلبہ سے کبھی کبھی تقریر بھی کرواتے تھے۔ ایک دن حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل لکھوا رہے تھے کہ فرمایا مولوی صاحب! جو پڑھا ہے اسے ذرا بیان کرو۔ میں نوجوان تھا، جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بات کا حوالہ دینے کا موقع آیا تو میں نے اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا کہ ’’مرزا بھونکتا ہے“۔ مولانا محمد حیاتؒ نے فوراً یہ کہہ کر مجھے ٹوک دیا کہ ’’ناں بیٹا ناں، ایسا نہیں کہتے، وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے۔ اس لیے بات یوں کرو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں، لیکن ان کی یہ بات اس وجہ سے غلط ہے، مجھے اس سے اختلاف ہے۔
ان تین واقعات نے مجھے بالکل ٹریک پر چڑھا دیا۔ والد صاحبؒ کہا کرتے تھے کہ لفظ نرم، لہجہ ہمدردانہ، بات مضبوط۔ موقف بے لچک ہو، زبان لچکدار ہو اور لہجہ ہمدردانہ ہو۔ اب تک الحمد للہ میں اسی ٹریک پر ہوں۔“
https://zahidrashdi.org/5588
مولانا تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں آغاز شباب میں دوسروں کی تردید کے لیے بڑی شوخ اور چلبلی تحریر لکھنے کا عادی تھا اور تحریری مناظروں میں میرا طرزِ تحریر طنز وتعریض سے بھرپور ہوتا تھا اور ’’ختم نبوت “ میں نے اسی زمانے میں لکھی تھی، لیکن اس کے شائع ہونے کے بعد ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے میرے انداز تحریر کا رخ بدل دیا اور وہ یہ کہ میرے پاس ایک قادیانی کا خط آیا جس میں اس نے لکھا تھا کہ آپ نے اپنی کتاب ’’ختم نبوت“ میں جو دلائل پیش کیے ہیں، بنظر انصاف پڑھنے کے بعد وہ مجھے بہت مضبوط معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا تقاضا یہ تھا کہ میں مرزا صاحب کی اتباع سے تائب ہو جاوں لیکن آپ نے اس کتاب میں جو أسلوب بیان اختیار کیا ہ، وہ مجھے اس اقدام سے روکتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں، وہ دلائل پر اکتفا کرتے ہیں، طعن وتشنیع سے کام نہیں لیتے، اس لیے میں اب تک اپنے مذہب پر قائم ہوں اور آپ کے طعن وتشنیع نے دل میں کچھ ضد بھی پیدا کر دی ہے۔
حضرت والد صاحبؒ فرماتے تھے کہ یہ تو معلوم نہیں کہ ان صاحب نے یہ بات کہاں تک درست لکھی تھی، لیکن اس واقعے سے مجھے یہ تنبہ ضرور ہوا کہ طعن وتشنیع کا یہ انداز مفید کم ہے او رمضر زیادہ، چنانچہ اس کے بعد میں نے ’’ختم نبوت“ پر اس نقطہ نظر سے نظر ثانی کی، اور اس میں ایسے حصے حذف کر دیے جن کا مصرف دل آزاری کے سوا کچھ نہ تھا اور اس کے بعد کی تحریروں میں دل آزار أسلوب سے مکمل پرہیز شروع کر دیا۔“ (میرے والد میرے شیخ، ص ۱۰۹)
یہاں عام ناظرین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گفتگو کی جو اخلاقیات کامن سینس سے سمجھ میں آتی ہے اور اکابر علماء بھی اس کی تذکیر کر رہے ہیں، تکفیری مفتیوں کے لیے وہ کیوں قابل قبول نہیں؟
اس کی وجہ ظاہراً وہ یہ بیان کرتے ہوئے ملیں گے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مرزا غلام احمد کو جھوٹا اور کذاب نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ قادیانی جماعت کے نزدیک توہین شمار ہوتی ہے اور اس سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ لیکن یہ استنتاج غلط بھی ہے اور والد گرامی کی طرف تو اسے قطعاً منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ اقتباسات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ والد گرامی نے بھی مرزا صاحب کا ذکر جھوٹے مدعیان نبوت ہی کے زمرے میں کیا ہے، اور یہ کوئی توہین نہیں ہے، یہ مسلمانوں کے عقیدے کا بیان ہے۔ اپنا عقیدہ بیان کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، اور اس سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو بے شک ہوتے رہیں۔
جس توہین وتحقیر یا طعن وتشنیع سے اکابر علماء منع کرتے ہیں، اس سے مراد ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کا مقصد محض نفرت کا اظہار کرنا یا لوگوں کے جذبات کو بھڑکانا یا مخالف کی قصداً دل آزاری کرنا ہو۔ اپنا موقف بیان کرنے یا بحث وجدال میں مخالف پر الزام وغیرہ قائم کرنے کے لیے جن باتوں کا ذکر ضروری ہو، وہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آتیں۔ مسلمان جب مرزا صاحب کے دعوائے نبوت کے متعلق اپنا عقیدہ بیان کریں گے تو وہ یقیناً ہوگا کہ وہ جھوٹے مدعیان نبوت میں سے ہیں۔ اسی طرح بحث ومناظرہ میں کہیں مدعا سمجھانے یا الزام قائم کرنے کے لیے مرزا صاحب کی شخصیت یا سیرت کا کوئی پہلو ذکر کرنا پڑے تو بلاشبہ وہ کیا جائے گا۔ اس نوعیت کی چیزوں کو عمومی اخلاقیاتِ دعوت کے ساتھ گڈمڈ کرنا یا امتیاز نہ کر سکنا کم فہمی کی علامت ہے۔
اصل بات جس کی وجہ سے مخصوص مذہبی طبقے قادیانی جماعت کے متعلق یہ پابندی قبول کرنے سے کتراتے ہیں، وہ ایک تو وہ الجھن ہے جو دوسرے نکتے کے تحت زیربحث آئے گی، یعنی یہ کہ کیا قادیانی ایک باقاعدہ غیر مسلم ’’مذہبی گروہ“ کی حیثیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور دوسرا، ’’تحفظ عقیدہ“ کا وہ نیا نظام ہے جس میں قیادت اور مسوولیت جدید دور میں علماء وفقہاء کے ہاتھ سے نکل کر جوشیلے خطیبوں اور کٹ حجتی کے ماہر مناظروں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ علماء وفقہاء ایسے معاملات میں دینی اخلاقیات اور دعوتی مصالح کو مقدم رکھتے ہیں، جبکہ محافظِ اسلام مناظروں اور مبلغوں کا مطمح نظر ایسا ماحول قائم رکھنا ہوتا ہے جو عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور ان کے توسط سے ان کی جان ومال پر محافظینِ دین کی گرفت پختہ رکھنے میں مددگار ہو۔ یہی اس تشویش اور اضطراب اور ’’حمیت “ کا اصل راز ہے۔
اگر کسی الزامی ضرورت کے بغیر مرزا غلام احمد کے متعلق تحقیر یا دل آزاری پر مبنی انداز اختیار کرنا اخلاقیاتِ دعوت کے منافی ہے تو اگلا سوال یہ ہے کہ جیسے دوسرے غیر مسلم گروہوں کی دل آزاری یا ان کے جذبات کی مجروحی قانوناً مستوجبِ سزا ہے، کیا مرزا صاحب کی توہین پر بھی قانوناً پابندی ہونی چاہیے؟
یہ سوال اس بحث میں ایک طرح سے والد گرامی کا اضافہ ہے اور ان کے موقف کو توجہ سے لیکن تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ والد گرامی نے ہرگز یہ تجویز نہیں کیا اور نہ مطالبہ کیا ہے، جیسا کہ تکفیری ناقدین غلط بیانی سے ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں، کہ مرزا صاحب کی توہین کو جرم قرار دیا جائے۔ انھوں نے دراصل یہ سوال اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے عالمی سطح پر پیغمبر اسلام کی توہین کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، تو اگر عالمی سطح پر اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے گا تو کیا وہ صرف مسلمانوں یا کسی بھی خاص مذہبی گروہ کی مقدس شخصیات تک محدود ہوگا، یا تمام مذہبی گروہ یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ان کی محترم شخصیات کی توہین بھی جرم ہونی چاہیے؟ اس سوال سے والد گرامی اسی بنیادی اخلاقیات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جب مسلمان، دوسرے مذہبی گروں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں تو خود انھیں بھی غیر مسلم گروہوں کی محترم شخصیات کی توہین نہ کرنے کی پابندی قبول کرنی ہوگی۔
یہاں ناظرین کو ایک تو تکفیری مفتیوں کے فہم کی سطح ملاحظہ کرنی چاہیے کہ وہ اس کو ایک تو ’’مطالبے’’ پر محمول کر رہے ہیں، اور دوسرے اس کو یہ مفہوم پہنا رہے ہیں کہ یہ مرزا صاحب کو قابل احترام انبیاء کی فہرست میں شامل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ بریں عقل ودانش بباید گریست۔ لیکن اس سے زیادہ اہم یہ نکتہ ہے کہ والد گرامی نے جو سوال اٹھایا ہے، اس کا ان مفتیوں کے پاس کیا جواب ہے؟ فرض کیجیے، آج کسی بین الاقوامی قانونی فورم پر مسلمانوں کا یہ مطالبہ زیربحث لایا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء جن کو مسلمان محترم مانتے ہیں، ان کی توہین کو جرم قرار دیا جائے، اور فرض کیجیے کہ یہ مطالبہ تسلیم کیے جانے کا ماحول بن جائے، تو کیا دوسرے مذہبی گروہ وہاں نہیں پہنچیں گے اور یہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ ان کی محترم مذہبی شخصیات کو بھی یہی اسٹیٹس دیا جائے؟
اچھا، جہاں سارے مذہبی گروہ پہنچیں گے، کیا وہاں قادیانی یہی مطالبہ لے کر نہیں پہنچیں گے؟ یہ بھی فرض کر لیجیے کہ اس فورم پر مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے انھی تکفیری مفتیوں کو بھیجا جائے تو وہ وہاں کیا موقف پیش کریں گے؟ کیا وہ یہ کہیں گے کہ نہیں، صرف مسلمانوں کی دی ہوئی فہرست تک محدود رہا جائے اور دوسرے مذاہب کا یہ حق تسلیم نہ کیا جائے؟ یا یہ کہیں گے کہ باقی تمام مذاہب کو تو اس ’’تحفظ’’ میں شامل کیا جائے، لیکن قادیانیوں کے متعلق چونکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ اور یہ ہے، اس لیے قادیانیوں کا مطالبہ نہ مانا جائے؟ یا یہ فرمائیں گے کہ ٹھیک ہے، باقی سب تو اس کی پابندی کریں، لیکن ہم چونکہ مرزا صاحب کو جھوٹا نبی سمجھتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس پابندی سے عالمی سطح پر مستثنیٰ قرار دیا جائے؟ اور پھر یہ حضرات جو کچھ بھی وہاں فرمائیں گے، وہ ان کے فتوے سے تسلیم کر لیا جائے گا؟
جہاں تک ہمارے نقطہ نظر کا تعلق ہے تو ہمیں والد گرامی کے اس استدلال سے اختلاف ہے جس کی ہم یہاں وضاحت کرنا چاہیں گے۔
والد گرامی کے استدلال سے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ معاصر عالمی سیکولر ماحول میں ’’مذہبی تقدس’’ کے اصول پر شخصیات کی توہین کو جرم قرار دینے کی بات ناقابل عمل ہے اور مسلمان اس نوعیت کی کوشش عملاً کر کے دیکھ چکے ہیں۔ جدید سیکولر قانونی نظام میں مذہبی تقدس کا اصول نظری اور عملی، دونوں طرح کی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ مسلمانوں کو اس بنیاد پر کوئی مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور اسی طرح دوسرے مذہبی گروہوں کے جذبات کے تحفظ کا ایک دوسرا قانونی اصول موجود ہے جو قابل عمل بھی ہے اور قانون کی سیکولر ساخت سے ہم آہنگ بھی ہے۔ اس سوال کا ایک تفصیلی جائزہ ہم ایک تحریر میں لے چکے ہیں (جس کا لنک کمنٹ میں دیا جا رہا ہے)۔ اس کا اختتامی پیراگراف حسب ذیل ہے:
’’مذہبی قانونی روایتوں میں، چاہے وہ اسلام ہو یا مسیحیت، توہین مذہب پر سزا کی بنیاد تقدس کی پامالی کے مذہبی تصور پر تھی۔ جدید مغربی معاشروں میں یہ تصور اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور ہیومن ازم کے فلسفے کے زیر اثر اس کی جگہ آزادی رائے کے تقدس نے حاصل کر لی ہے۔ تاہم ہیومن ازم ہی کا فلسفہ ایک دوسرے اصول یعنی انسانی جذبات واحساسات کے احترام کو بھی تقدس دیتا ہے۔ یوں مذہبی تقدس کے تصور کے تحت نہ سہی، انسان دوستی کے تصور کے تحت آزادی اظہار کے ایسے اسالیب پر قدغن عائد کرنے کی فلسفیانہ وقانونی بنیاد موجود ہے جو ایک ہی دنیا میں رہنے والے مختلف گروہوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے اور نتیجتا بدامنی اور فساد کو جنم دیتے ہوں۔
چنانچہ پچھلی تین دہائیوں پر محیط اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ تہذیبوں، معاشروں اور قانونی وسیاسی تصورات کے باہمی تعامل میں ، تصادم سے بچنے اور پرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکات کو دریافت کرنا اور یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ ایک عالمی ماحول میں قانونی ضابطے یک طرفہ طور پر کسی ایک تہذیبی روایت یا قانونی نظام پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ یہاں عملیت کا زاویہ نظر اختیار کرنا ناگزیر ہے اور کوشش کا ہدف کسی ناگوار صورت حال کے مکمل خاتمے کے بجائے اسے کم سے کم کرنے کو ہی بنایا جا سکتا ہے۔ “
اس صورت حال میں مسلمانوں کو یا دوسرے مذہبی گروہوں کو شخصیات کی اور خاص طور پر ’’انبیاء “ کا اسٹیٹس رکھنے والی شخصیات کی کوئی ’’فہرست “ قانونی سطح پر منظور کروانے کی ضرورت ہی نہیں ہے جن کی توہین جرم ہو، اور ان کے علاوہ باقی شخصیات کی توہین جرم نہ ہو۔ سادہ اصول یہ ہے کہ کسی بھی گروہ کے مذہبی جذبات کو دانستہ اور قصداً مجروح کرنا جرم ہے، چاہے وہ شخصیات کے تعلق سے ہو یا دیگر مقدسات کے حوالے سے۔ جہاں بھی مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا عمل ہو، وہاں عدالتی سطح پر مقدمے کے احوال کا جائزہ لے کر قانون کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہمارا یہ نقطہ نظر درست ہے اور مسلمان بین الاقوامی سطح پر مقدس شخصیات کی کوئی فہرست بنوانے کے بجائے صرف مذہبی جذبات کی دانستہ پامالی کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کریں تو اس سے تکفیری ناقدین کا یہ اشکال بھی دور ہو جاتا ہے کہ مسلمان کیسے ’’انبیاء “ کی ایسی فہرست کو قبول کر سکتے ہیں جس میں مرزا صاحب یا کوئی بھی دوسری شخصیت شامل ہو جو مسلمانوں کے نزدیک نبی نہیں ہے۔




کمنت کیجے