اس سے قطع نظر کہ ہمارے علمائے کرام نے لاؤڈ اسپیکر پر فتویٰ دیتے ہوئے کیا موقف اختیار کیا، اسے جائز کہا یا ناجائز، حرام کہا یا حلال، باطل کہا یا کچھ اور، میرے نزدیک یہ امر غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ انھوں نے ”ٹکنالوجی“ کو قابلِ اعتنا گردانا اور اس پر مذہبی موقف کو سامنے لانے کی کم از کم کوشش ضرور کی۔ میرے نزدیک فتوے کا صواب و خطا غیراہم ہے، اور علمائے کرام کی یہ بصیرت اہم ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر مذہبی احکام و تعلیمات کی روشنی میں موقف سامنے لایا جانا چاہیے۔ یہ بات میرے علم میں نہیں ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے آلات پر بھی کوئی فتاویٰ دیے تھے یا نہیں، لیکن مشین (اور ٹکنالوجی) پر ان کا فتویٰ آنا حد درجہ معنی خیز ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں منفی فتویٰ آنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ ہمارے علما کو اس ٹکنالوجیائی ”شے“ میں واقع ہونے والے ”عمل“ کی سائنسی حرکیات کے بارے میں صراحت سے کچھ معلوم نہ تھا، جو عام انسانی آواز کو کئی گنا بلند کر دیتی تھی، اور صاف ظاہر ہے عدمِ علم کی وجہ سے مذہبی آدمی کا پہلا ردِ عمل بوجہ احتیاط سلبی اور دور رہنے کا ہوتا ہے۔ مرورِ تاریخ میں، ٹرین پر سفر کرنے، لاؤڈ اسپیکر، جدید طبی آلات، اور کئی دیگر ٹکنالوجیز وغیرہ پر ہمارے علمائے کرام کے فتوے مذاق بن کر رہ گئے اور مرْکبِ ٹکنالوجی پر سوار جدید تاریخ ہم پر نگاہِ غلط انداز ڈالتی ہوئی ہمیں روند کر آگے بڑھ گئی۔ اس طرح ٹکنالوجی سے تعامل اور اس کے بارے میں مذہبی اور شرعی بنیادوں پر کوئی موقف تشکیل دینے کا راستہ ہی بند ہو گیا۔
اس تناظر میں دوسری اہم اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے لاؤڈ سپیکر پر فتویٰ روایت میں رہتے ہوئے اور نہایت درست محل پر دیا تھا، یعنی انھوں نے فتویٰ کے لیے مشین کو ایک ”شے“ باور کیا۔ اشیا پر احکامِ شرعی موجود ہیں اور فتاویٰ بھی۔ جیسے سؤر بھی ایک شے ہے اور شراب بھی ایک شے، اور ان دونوں پر حکم شرعی موجود ہے۔ یہ اشیا نیچر میں موجود ہیں۔ حنفی فقہی روایت میں، اصالتِ اشیا کا معرکۃ الآرا نظریہ (theory) موجود ہے جو اشیائے نیچر سے انسانی تعامل کو نظری بنیادوں پر زیرِ بحث لاتا ہے۔ اصالتِ اشیا میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی اور امام ماتریدی رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف حرمت کا ہے۔ اصالتِ اشیا کا مسئلہ اور اس کے نظری مباحث قبلِ شریعتی ہیں، کیونکہ شریعت کے آنے کے بعد اس تھیوری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ میں کسی وقت انسانی تکلیف (یعنی مکلف ہونا)، ملکیت، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی حریتِ عمل کے حوالے سے اصالت اشیا پر اپنی معروضات پیش کروں گا۔ فی الوقت میں نیچر میں اشیا کی موجودگی، اور نیچر میں مشین اور ٹکنالوجی کے ظہور کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
یہاں پر ایک تیسرے قابلِ اعتنا پہلو کا ذکر بھی ضروری ہے کہ نیچر اور اس سے بننے والی صورت حال (condition) حسی طور پر معلوم بھی ہوتی ہے اور تجربے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن جدید ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) صرف حسی اور تجربی معلوم نہیں ہے۔ نیچر، معاشرے اور تاریخ میں مشین اور ٹکنالوجیائی سسٹم کے داخل ہو جانے کی وجہ سے ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) اب نظری وسائل کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی، اور نہ اس کی تفہیم ممکن ہو سکتی ہے۔ فطری صورت حال (natural condition) میں، انسانی تجربہ اپنی حسی اور ثقہ معلومیت کی بنیاد پر اخلاق، سلوک اور عرفان کا موضوع رہا ہے۔ ٹکنالوجیائی صورت حال میں، انسانی تجربہ نہایت ہی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں سے گزرا ہے اور اس کی وجودیات ہی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ جدید انسانی تجربہ اخلاق، سلوک اور عرفان کا موضوع ہی نہیں بن سکا کیونکہ جس ٹکنالوجیائی صورت حال میں یہ سامنے آیا ہے وہ صرف حسی اور تجربی معلوم نہیں رہی۔ اس صورت حال میں، انسانی تجربہ اپنی میکانکیت میں حسی اور تجربی معلوم تو یقیناً ہے لیکن اپنی وجودیات میں وہ ”ناقابل معلوم“ رہتا ہے جب تک اسے نظری ذرائع اور وسائل سے قابل فہم نہ بنا لیا جائے۔ جدید دنیا میں ہمارے اخلاقی مواعظ، صوفیانہ اشغال اور عرفانی مہمات سب اس لیے غارت ہو گئے کہ ہم جدید ٹکنالوجیائی صورت حال اور اس میں ظاہر ہونے والے انسانی تجربے کو نظری ذرائع سے کسی ”معلوم“ میں نہیں ڈھال سکے اور نہ اسے سمجھنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ نئی صورت حال میں، نئی انسانی داخلیت سے پیدا ہونے والے جدید تجربے اور ہمارے روایتی تصوف، سلوک اور عرفان میں ساری زندہ نسبتیں ہی ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور اتنے مفید اشغال اور اہم علوم ہماری نفسی اور ذہنی زندگی سے منقطع ہو چکے ہیں۔ جدید ٹکنالوجیائی صورت حال میں، انسانی تجربہ اپنی اخلاقی اور روحانی جہتوں سے خالی ہو کر صرف ذہنی اور نفسی میکانکیت کے احوال پر استوار ہو گیا ہے۔ اسی باعث، جدید انسانی تجربہ اب صرف سیاسی طاقت کا موضوع بھی ہے اور اس کا آلہ بھی ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر اسی کے مؤثرات کا پیدا کردہ ہے۔
اس حوالے سے چوتھی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹکنالوجی اور انسانی تجربے کے مابین انٹرفیس اور تعامل کا محل پیداواری پراسیث (productive process) ہے، جسے ہم کام (work) کہتے ہیں۔ کام اب صرف ضرورت کے لیے روزی کمانے کا عمل نہیں رہا ہے، بلکہ اپنی وجودیات میں مکمل طور پر جبری ہو گیا ہے۔ سرمائے اور سیاسی طاقت کے ساتھ انسانی تعامل کی ہر نوع اب ٹکنالوجی سے جڑی ہوئی ہے۔ عہد جدیدیت میں، روزگار کے لیے کام (work) کی ہر نوع ٹکنالوجی سے مکمل توامیت رکھتی ہے۔ سرمائے کے پیداواری پراسیث میں کارکن (worker) کی شمولیت جس مشینی اور میکانکی صورت حال میں واقع ہوتی ہے وہ سو فیصد میکانکی جبر کی حامل ہوتی ہے۔ اسی طرح، جدید ریاست کے ساتھ بطور شہری انسان کا ہر تعامل بھی مکمل طور پر طاقتی اور جبری ہے۔ ٹکنالوجیائی سرمایہ ”کرنے“ کی ہر انسانی جہت پر اپنا غلبہ مکمل کر چکا ہے جبکہ جدید ریاست ”ہونے“ کی ہر انسانی جہت پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ اس صورت حال میں، انسانی تجربے میں حریتِ انسانی کی کسی جہت کے باقی رہ جانے کا سوال ہی مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس باعث، عصر حاضر میں، انسانی تجربے کی ”علمی“، اخلاقی اور روحانی تہیں اس میں سے غائب ہو گئی ہیں اور ٹکنالوجیائی استری نے انسانی تجربے کو مکمل طور پر یک پرتی، میکانکیت زدہ اور جبری بنا دیا ہے، اور اس میں نفسی ہونے کی صرف سائیکک (psychic) جہت باقی رہ گئی ہے۔ جدید سائیکک تجربہ انسانی داخلیت میں جذبے کی میکانکی حرکیات کو ظاہر کرتا ہے اور اس میں سے زندگی اور نفس کا نامیاتی پن نچڑ چکا ہوتا ہے۔ جذبہ نفسی مؤثرات کی بجائے اگر ذہنی ترجیحات پر کام کرنے لگے تو سائیکک، میکانکی اور جبری ہو جاتا ہے۔ جدید ٹکنالوجیائی ریاست اور سیاسی سرمائے کی صورت حال میں، انسانی تجربہ اصلِ وجود سے ظاہر ہونے والی کوئی ایسی آزاد شے نہیں ہوتی جو ذاتِ انسانی کا مظہر ہو، بلکہ یہ انسان کی داخلیت میں گھسنے والا مشینی ڈسپلن کا ایسا بلڈوزر ہے جو نفس انسانی کو ڈھا کر دوبارہ مشین کے نقشے پر ڈیزائین کرتا ہے۔ نئے میکانکی تجربے سے جس نئے نفس انسانی کی تشکیل ہوتی ہے وہ صرف مشین کی حرکت اور آواز سننے کی استعداد رکھتا ہے اور وہاں تک سلوک، تصوف اور عرفان کی صدائے سرمدی نہیں پہنچ پاتی۔
طبعی نیچر پر گفتگو کرنا ایک شرعی ضرورت ہے کیونکہ یہ نہ صرف اشیا کا محل ہے بلکہ انسان کا مسکن (dwelling) بھی ہے، اور حلال و حرام اور نجاست و طہارت کا مسئلہ براہ راست نیچر اور اشیائے نیچر سے جڑا ہوا ہے۔ روایتی تناظر میں نیچر جمادات، نباتات اور حیوانات کا محاط (container)/ظرف ہے۔ اس میں جمادات کی حیثیت دہری ہے کہ وہ بیک وقت محاط/ظرف بھی ہے اور محتوی/مظروف بھی۔ اس امر کو مکرر مؤکد کرنا ضروری ہے کہ طبعی نیچر کی معنویت و اہمیت دو حوالوں سے ہے: ایک یہ کہ نیچر اشیا کا محاط/ ظرف ہے، اور دوسرے یہ کہ نیچر انسان کا مسکن (dwelling) ہے۔ طبائع میں سے جمادات مادی ہونے کی حیثیت سے چونکہ بقائے حیات سے لاینفک ہیں، اور جدیدیت سے قبل انسانی ارادہ ان میں بہت خفیف حد تک مؤثر تھا، اس لیے شریعت ان کو موضوع نہیں بناتی۔ شریعت طبائع میں نباتات اور حیوانات سے انسانی تعلق و تعامل کو موضوع بناتی ہے، اور کچھ چیزوں کے بارے میں واضح احکامات رکھتی ہے۔ نیچر میں موجود اشیا سے انسان کا تعلق آلاتی (instrumental) اور جگاڑی (transactional) ہے، اور تمتع اور استفادے کی جہت سے ہے۔ انسانی مسکن (dwelling) ہونے کی حیثیت سے انسان کا نیچر سے تعلق ان دونوں پہلوؤں سے خالی ہے، اور امانت (trust) کا ہے۔ اشیا کی جہت سے نیچر انسان کے لیے بقائے حیات ہے، جبکہ مسکن (dwelling) کی حیثیت سے نیچر انسان کے لیے مدارِ حیات ہے۔
طبعی نیچر میں شر نہیں ہے، کیونکہ شر کا مستقر نفسِ انسانی ہے اور جو انسان کی ارادی توسیط سے معاشرے اور تاریخ میں داخل ہو جاتا ہے، لیکن نیچر میں داخل نہیں ہوتا۔ شریعت اشیائے فطرت یا طبائع سے ایک مسلمان کے تعلق اور تعامل کو چار جہتوں سے متعین کرتی ہے: حلال و حرام اور نجاست و طہارت۔ یعنی نیچر میں موجود اشیا سے انسان کا تعلق انھی چار سرناموں (rubrics) کے ضمن میں طے ہو جاتا ہے۔ یہ کہ نیچر انسان کا مسکن (dwelling) ہے، شریعت اس کو فروعات کا موضوع نہیں بناتی۔ لیکن یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ قرآن مجید میں ”ارض“ اور ”اشیائے ارض“ اور ”کائنات“ اور ”اشیائے کائنات“ پر بہت محکم ارشادات موجود ہیں جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے نیچر بطور مسکن (dwelling) ایک امانت (trust) ہے اور جسے اللہ تعالیٰ حیات انسانی کے قیام کے لیے تخلیق کیا:
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ۔
ترجمہ: اور بیشک ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانہ دیا اور تمھارے لیے اس میں اسبابِ معیشت بنائے، تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
اس ٹھکانے اور مسکن کے حوالے سے یہ ارشادِ باری قابل غور ہے کہ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا۔ یہ مسکنِ فطرت میں پوری انسانی وجودیات پر ایک ججمنٹ ہے، اور نصیحت ہے کہ حیاتِ ارضی میں انسان کا comportment کیا ہونا چاہیے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اسوۂ حسنہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ معاشرے، تاریخ اور نیچر میں انسان کو زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔
شریعت نے اشیائے فطرت سے انسانی تعلق و تعامل میں ارادی اخذ و استفادے کی خاص تحدید کی ہے اور اس میں تعمیم نہیں ہے۔ جدیدیت کے ظہور کے ساتھ ہی ایک بہت ہی بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف انسانی شعور کے روبرو نئے علوم کھڑے کر دیے بلکہ نیچر کو بھی ”اشیا“ اور ”مسکن“ دونوں جہتوں سے ایک نئی صورت حال (condition) سے دوچار کر دیا۔ نیچر میں متعارف کردہ جدیدیت کی ”نئی اشیا“ روایتی آلات اور طبائع کی قبیل سے نہیں ہیں۔ ان ”نئی اشیا“ کو ہم سہولت کی خاطر مشین کہہ سکتے ہیں۔ مشین کو روایتی آلات اور طبائع کے تناظر میں معرّف (define) نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مشین ان تعریفات میں سے کسی کا مصداق نہیں ہے۔ مشین، ٹکنالوجی کا ظہور ہے۔ مشین تین چیزوں کا مجموعہ ہے: مادہ، توانائی اور ڈیزائین۔ ان تین چیزوں کا ملاپ وہ بنیادی شرط ہے جو مشین کو ممکن بناتی ہے، اور ڈیزائین وہ نقطۂ اتصال ہے جہاں مادہ اور توانائی یک عمل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اہم تر یہ جاننا ہے کہ یہ ملاپ ممکن کیسے ہوتا ہے؟ ملاپ کی شرائط جدید سائنسی علم سے طے کی جاتی ہیں۔ یعنی سائنسی علم میں رہتے ہوئے یہ طے ہوتا ہے کہ مادہ کیا ہے، توانائی کیا ہے، اور ڈیزائین کیا ہے، اور یہ جاننے کے بعد ہی نیا مشینی عمل سامنے لایا جا سکتا ہے۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ توانائی مادے میں ایک نئی زمانیت (temporality) کو ظاہر کر دیتی ہے جو مکمل طور پر مقداری اور غیرفطری ہے، اور ڈیزائین مادے میں ایک نئی طرح کی مکانیت (spatiality) کو ظاہر کر دیتا ہے جو کلیتاً مقداری اور غیرفطری ہے۔ اس طرح، مشین فطری زمان و مکاں کا خاتمہ کر دیتی ہے، یعنی مشین ایک ایسی شے ہے جو اپنے ہی قائم اور طے کردہ نئے زمان و مکاں میں کام کرتی ہے۔
نیچر میں داخل ہونے والی یہ ”نئی شے“ جسے ہم مشین کہہ رہے ہیں، طبائع میں سے کسی درجۂ وجود سے تعلق نہیں رکھتی، اور نہ ان میں سما سکتی ہے۔ اس لیے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مشین کوئی نیا وجود ہے؟ مشین کوئی نیا وجود بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ مکمل طور مادی ہونے کی وجہ سے جمادات میں سے ہے لیکن فطری جمادات میں سے بھی نہیں ہے، یعنی اس میں مادہ نئی شرائط پر موجود ہے اور فطرت اس میں سے ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے مادی اور جماداتی سطح پر ایک نئی تفریع سے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ فطری جمادات میں سے ہر شے کو جمادِ سکونی کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ مادے میں توانائی اور ڈیزائین کے ظاہر ہونے سے مشین وجود میں آتی ہے اور جسے ہم جمادِ حرکی کہہ سکتے ہیں۔ جمادِ حرکی کی تفریع قائم کرتے ہی یہ طبائع میں سے خارج ہو جاتی ہے لیکن محلِ فطرت اور مادی ”شے“ ہونے کے طور پر ان میں داخل رہتی ہے۔ جمادِ حرکی ہونے کی حیثیت سے مشین کا تعلق و تعامل تمام طبائع سے یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ نیچر انسان کا مسکن ہونے کی حیثیت سے جو زمان و مکاں رکھتی ہے، مشین بطور جمادِ حرکی اس پر بھی براہ راست اثرانداز ہوتی ہے اور مسکنِ انسانی کی مادی اور جماداتی بنیادوں میں نئے زمان و مکاں کا بھونچال بھر دیتی ہے۔
نیچر میں مشین کے داخل ہوتے ہی ایک نئی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا۔ مشین ارض پر فطری طور پر قائم اس پورے نظام ہستی کو بدل دیتی ہے، اور لکم کا مصداق انسان کو نہیں رہنے دیتی بلکہ خود بن جاتی ہے۔ ہر شے کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بنایا ہے اور زیادہ کو نعمت اور کچھ کو مضرت رساں بنایا۔ ٹکنالوجی دنیا کو دیکھنے کا ایک مشینی تناظر ہے اور اس کا نقطۂ کمال مشین ہے۔ جونہی نظمِ فطرت میں مشین داخل ہوتی ہے، تو اس کے بننے اور چلنے کے لیے لازم ہے کہ دنیا کی ہر شے اس کے لیے ایک resource بن جائے۔ میکانکی قوانین فطرت کی دریافت اور مشین کی ایجاد کے لیے کام کرنے والے سارے علم کا اب واحد مقصود بھی یہ ہو جاتا کہ نیچر اور دنیا میں موجود ہر شے کو مشین کے حوالے سے دیکھا جائے اور اسے ایک resource بنا دیا جائے۔ ترقی اور صنعتی تہذیب نیچر اور دنیا میں موجود مادی انواع و عناصر کو مشین کے لیے قابلِ استعمال بنانے سے وجود میں آئی ہے۔ اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ مشین کے ظہور کے بعد خود انسان کی تمام تر نئی تشکیلات بھی مشین کے لیے ہی سامنے آتی ہیں کیونکہ نئی ٹکنالوجیائی صورت حال میں، نیچر کے ساتھ ساتھ خود انسان بھی مشین کے لیے resource بن کر ہی زندہ رہنے کی کوئی سبیل پیدا کر سکتا ہے۔
ماقبل جدیدیت، انسانی ارادہ معاشرے اور تاریخ میں مؤثر تھا، اور متعدد اشیائے فطرت پر متصرف تھا۔ انسانی ارادے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف ”معلوم“ میں مؤثر و متصرف ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ ”معلوم“ میں توسیع کا لزوم یہ ہے کہ اس میں بھی انسانی ارادہ مؤثر و متصرف ہو جائے گا۔ جدیدیت کے نئے علوم نے جمادات میں مادے سے متصل توانائی کی ایک نئی جہت دریافت کر کے معلوم میں توسیع کر دی ہے۔ توانائی مادے کا بطون نہیں ہے، یہ اس کی ایک بُعد (dimension) ہے۔ ابعاد (dimensions) کی سطح وجود ایک ہوتی ہے، جبکہ ظاہر و باطن مراتب وجود کے لیے ہے۔ مادے میں توانائی کی بُعد (dimension) دریافت ہونے سے اس میں ایک حرکت کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں اور جو ڈیزائین کے نقطۂ ملاپ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ حرکت، مادے کا جزو لاینفک ہے، اور نظمِ فطرت (natural order) میں مادہ حرکی قوت کا مفعول (object) ہے۔ مادے میں توانائی کی ایک نئی بُعد (dimension) کی دریافت سے مادی شے حرکت کا مفعول رہتے ہوئے اس کا منبع بھی بن جاتی ہے۔ حرکت کا منبع بنتے ہی مادے میں اس امر کا امکان بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ جدید سائنسی علم کی حاکمیت کے تحت ڈیزائین کی توسیعات سے مادہ حرکت کا فاعل بھی بن جائے۔ مشین، ڈیزائین کے نقطۂ اتصال پر مادے اور توانائی کی ایسی یکتائی ہے جہاں وہ توانائی کا منبع، شئیِ مفعول اور شئیِ فاعل بیک وقت ہے، اور جس پر حکومت سائنسی علم کی ہے۔
اس اطناب سے صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ مشین ایک خود حرکتی آلہ بھی ہے اور ٹکنالوجی بھی۔ ٹکنالوجی خود کو ہمیشہ ایک مشینی سسٹم کی صورت میں مرتب و منظم کرتی ہے۔ سائنسی علم اور ڈیزائین، مادے اور توانائی کو ایک سسٹم میں تشکیل دینے کا ذریعہ ہے۔ نیچر میں مشین اور ٹکنالوجی کی آمد سے نہ طبائع اپنی سابقہ فطرت پر باقی رہ سکتے ہیں اور نہ انسان کا مسکن (dwelling) علیٰ حالہٖ باقی رکھا جا سکتا ہے۔ مشین اور ٹکنالوجی اشیائے فطرت میں کسی ”نئی شے“ کے اضافے کا سادہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ صورت حال اب نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ گھمبیر بھی ہو گئی ہے۔ اس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عالم اشیا میں ٹکنالوجیائی شے کے نئے ظہورات کے روبرو شریعت کا بھی کوئی موقف ہے یا نہیں؟ جماداتِ سکونی کے حوالے سے شریعت بالمعوم خاموش ہے تو کیا جمادِ حرکی کے ظہور پر شریعت خاموش رہ سکتی ہے؟ مشین ایک شے ہے، لیکن طبائع میں سے نہ ہونے کی وجہ سے اس پر حلال و حرام اور طہارت و نجاست کا کوئی شرعی موقف بھی وارد نہیں کیا جا سکتا، لیکن بطور ایک شے، جو جمادِ حرکی ہے اور عمل انسانی اس کی براہ راست زد میں ہے، اس پر شریعت کیا حکم لگاتی ہے؟ مشین ایک شے ہونے کی جہت سے تمام فطری طبائع پر اثرانداز ہوتی ہے اور انھیں ایک resource بنا دیتی ہے، جبکہ بطور ٹکنالوجی یہ ایک شے نہیں بلکہ سسٹم ہے اور نیچر کے مسکنِ انسانی ہونے پر اثرانداز ہوتی ہے، اور نیچر کے بقائے حیات اور مدار حیات ہونے کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ مشین اور ٹکنالوجی جو طبعی نیچر اور مسکنِ انسان کو جذری سطح پر متاثر کرتے ہیں، شریعت کا موضوع ہوں گے یا نہیں؟
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ انسانی ارادہ ”معلوم“ تک محدود اور اس میں مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ جدید سائنسی علوم نے منطقۂ جمادات میں ”معلوم“ کو وسعت دی ہے اور اب انسانی ارادہ جو ماقبل جدیدیت عہد میں معاشرے اور تاریخ میں مؤثر تھا، اب جمادات میں بھی مؤثر ہو گیا ہے، اور نباتات، حیوانات اور انسان پر اس کی اثراندازی بھی مادی اور جماداتی جہت سے ہے۔ انسانی ارادے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ انسان میں عموماً دو طرح کی حرکات کو جنم دیتا ہے: ایک میکانکی اور دوسری قدری۔ لیکن مسلمان کے لیے ارادے کا یہ تناظر ناکافی ہے کیونکہ ارادہ ایک تیسری حرکت کا سبب بھی ہے جو مکمل طور پر روحانی ہے جیسے عبادات۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی ارادہ تین طرح کی حرکت کا سبب بننے کا امکان اور استعداد رکھتا ہے: میکانکی، قدری اور روحانی۔ ارادے سے پیدا ہونے والی میکانکی حرکت مکمل طور پر نیچر کی جبری تحدیدات میں ہی واقع ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے، اور حریت کے سوال کا محل نہیں ہے۔ سائنسی علم سے مادے اور جمادات میں توانائی کی بُعد (dimension) دریافت ہونے کے بعد، انسانی ارادہ بھی اپنی صرف میکانکی جہت سے ان میں مؤثر ہو گیا ہے اور مشین اور ٹکنالوجی میں ظاہر ہونے والی حرکت بھی مکمل طور پر میکانکی اور جبری ہے۔ نیچر جو انسان کے میکانکی، قدری اور روحانی افعال کے ظہورات کا محل ہے، یعنی نیچر جہاں انسانی اعمال صالحہ ظاہر ہوتے ہیں، عین اسی محل میں غیرمعمولی اور تقریباً لامحدود میکانکی عمل کے حامل جمادِ حرکی کے ظہور سے طبائع، مسکن اور خود انسانی عمل پر جو اثرات مرتب ہوں گے، کیا شریعت ان سے لاتعلق رہ سکتی ہے؟
انسانی ارادے کے حوالے سے یہاں ایک پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ انسانی ارادہ میکانکی افعال میں بھی ظاہر ہوتا ہے، جیسے چلنا، بیٹھنا وغیرہ۔ میکانکی ہونے کے اعتبار سے انسانی فعل خیر و شر کا موضوع نہیں ہے۔ سائنسی علوم نے جمادات میں مادے اور توانائی کی جو نئی جہت دریافت کی ہے اس میں انسانی ارادہ میکانکی جہت سے فعال ہوا ہے، قدری یا روحانی جہت سے فعال نہیں ہے۔ اس لیے مشین یا ٹکنالوجی پر کوئی بھی قدری اور حکمی ججمنٹ نہیں دی جا سکتی۔ دوسرے لفظوں میں، ٹکنالوجی خیر و شر کے تناظر میں شریعت کا موضوع نہیں بن سکتی یعنی عالم فطرت میں مشین اور ٹکنالوجی کو جس طرح حلال و حرام اور طہارت و نجاست کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا، بعینہٖ یہ خیر و شر کا موضوع بھی نہیں ہے۔ عالم فطرت انسان کے میکانکی، قدری اور روحانی افعال کے ظاہر ہونے کا محل ہے، اور اسی محل میں جماد حرکی کی ”تخلیق“ میں انسانی ارادہ صرف اور صرف میکانکی جہت سے مؤثر اور فعال ہوا ہے جبکہ اس نئے عمل میں انسان اور مشین ایک توامیت پیدا کر لیتے ہیں۔ اس توامیت میں انسانی فعل پر خیر و شر کی ججمنٹ ٹکنالوجی تک لازماً توسیع پائے گی اور یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ ٹکنالوجی انسان کے اعمال خیر و شر میں ایک غیرمعمولی مشدد (intesifier) کا کردار ادا کرتی ہے۔ لہٰذا، عقلی اور میکانکی ہونے کی وجہ سے سائنسی علم اور ٹکنالوجی پر value neutral ہونے کی ججمنٹ ہی لائی جا سکتی ہے۔ قدر اور عبادت کا براہ راست اور کلی تعلق صرف اور صرف انسان سے ہے اور کسی مشین اور ٹکنالوجی پر، اور اس کے عقب میں کام کرنے والے سائنسی علم پر، کوئی بھی قدری اور عباداتی ججمنٹ /حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ جدید انسان کی میکانکی داخلیت جن احوال پر استوار ہے وہ عقلی اور سائنسی علوم کے مؤثرات سے پیدا ہوئی ہے اور ٹکنالوجی میں جو افعال و طلسمات ظاہر ہوتے ہیں وہ اس نئے انسان کے ”اعمالِ صالحہ“ ہیں۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ سائنسی علم کی توسیعات سے، انسان کے میکانکی ارادے کی توسیعات ممکن ہو سکی ہیں۔ اس طرح معاشرے اور تاریخ کے بعد، جن میں انسانی ارادہ ہمیشہ مؤثر رہا ہے، جدیدیت نے جمادات میں جمادِ حرکی کی ”تخلیق“ سے ایک ایسا منطقہ پیدا کر دیا ہے جہاں اب انسانی ارادہ ایک نہایت طاقتور مؤثر کے طور پر سطحِ میکانکیت پر فعال ہے، اور انسانی فعل بھی مشین اور ٹکنالوجی سے آنولی (umblical) تعلق میں جڑا ہوا ہے۔ جمادِ حرکی کی سطح وجود پر انسانی ارادے کی میکانکی جہت مؤثر و فعال ہے، جو سائنسی دریافت سے مشینی ایجاد تک ہے۔ دریافت اور ایجاد کے بعد، مشین عمل کی توامی حرکت پذیری کی وجہ سے انسانی ارادہ اپنی قدری جہت سے بھی ناگزیر طور پر اس سے متعلق ہو جاتا ہے۔ خیر و شر کا مسئلہ چونکہ براہ راست انسانی ارادے سے متعلق ہے اور انسانی فعل مشین اور ٹکنالوجی میں ملفوف ہو یا مشین اور ٹکنالوجی انسانی فعل میں ملفوف ہو، یہ عمل خیر اور عمل شر کی شدت اور نتیجہ خیزی پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، انسان کا میکانکی ارادہ مادے اور جمادِ حرکی کی وجودیات میں مؤثر ہے جبکہ انسان کا قدری ارادہ فعل انسانی کے طور پر مشین کی فعلیات سے متعلق ہے۔
مشین اور ٹکنالوجی کے عالمِ نیچر میں داخل ہونے سے طبائع کا نظمِ فطرت علی حالہٖ برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ جمادِ حرکی نباتات و حیوانات کی مادی جہت سے ان میں بھی ایک اصولِ حرکت کو داخل کر دیتا ہے۔ جمادِ حرکی نیچر کے بعد معاشرے میں بھی ایک حرکی میکانکیت کو داخل کرنے کا سبب بنتا ہے، اور جو معاشرے میں فطری طور پر موجود انسان کی نامیاتی میکانکیت سے تعامل میں آ جاتی ہے، اور انسان کا نظمِ معاشرت دباؤ کا شکار ہو کر بالآخر ادھڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ جمادِ حرکی اور ٹکنالوجی کی اصل بھومی سرمایہ دارانہ ریاست اور سیاسی سرمایہ ہے، اور ان کی مستقل جائے توطن بھی ہے۔ اور یہی وہ محل ہے جہاں جماد حرکی بطور مشین اور ٹکنالوجی اپنے بڑے مظاہر پیدا کرتا ہے اور جو بنیادی طور پر تاریخی ہیں۔ یعنی سائنسی علم اور ٹکنالوجی کی اصل معنویت صرف اسی صورت میں قابل فہم ہیں اگر ان کو سیاسی طاقت اور پیداواری عمل کے ضمن میں زیر بحث لایا جائے۔ اس وقت مشین اور ٹکنالوجی انسان کی نئی داخلیت سے لے کر تاریخ کے بڑے مظاہر کا سبب بننے کی صلاحیت پیدا کر چکی ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جمادِ حرکی توانائی کا منبع بنتے ہی حرکت کا مفعول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا فاعل بننے کے امکانات بھی پیدا کر چکا ہے۔ جب تک جمادِ حرکی میں مادے کی kinetic جہت غالب رہی، اس کے بڑے مظاہر میکانکی عمل کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ ڈجیٹل ایجادات کے بعد، جمادِ حرکی پر توانائی کی جہت غالب آ چکی ہے۔ اب جمادِ حرکی عمل کا مفعول بننے کے ساتھ ساتھ، علم کا منبع بننے کی استعداد بھی پیدا کر چکا ہے۔ علم کا منبع بننے کے ساتھ ہی اب جمادِ حرکی کا خود فاعل بننا ایک حقیقت بن چکا ہے۔ جمادِ حرکی نے اپنی kinetic جہت سے نیچر اور اشیائے نیچر پر اپنا غلبہ مکمل کر لیا ہے، اور یہی نیچر بطور طبعی وجود انسان کا مسکن ہے۔ ڈجیٹل جمادِ حرکی زبان پر بالکل ویسے ہی غالب آ چکا ہے جیسے میکانکی جمادِ حرکی نیچر پر غلبہ مکمل کر چکا ہے۔ زبان انسانی شعور کا مسکن ہے۔ اس طرح جمادِ حرکی نے مادے اور زندہ مادے (living matter) پر غلبے کے بعد اے آئی کی صورت میں زبان پر اپنے غلبے کو مکمل کر لیا ہے۔ سادہ لفظوں میں، مشین اپنی میکانکی جہت سے انسان کے طبعی وجود کے مسکن یعنی نیچر پر اپنا غلبہ مکمل کر چکی ہے، اور اب ڈجیٹل بنتے ہی وہ انسانی شعور کے مسکن یعنی زبان پر اپنے غلبے کو مکمل کر رہی ہے۔ یہ ایک بالکل نئی صورت حال ہے اور عین اس نئی صورت حال میں انسان رہنے اور مسلمان بننے کے لیے شرعی رہنمائی ضروری ہے۔
ہماری طویل فقہی روایت کے تناظر میں لاؤڈ سپیکر پر جو فتویٰ دیا گیا وہ اصالتِ اشیا ہی کے ذیل میں تھا لیکن اس میں مذکور زمرات اس ”نئی شے“ پر فتویٰ کے لیے ناکافی تھے۔ روایتی تناظر میں، فتویٰ شے پر متصرف انسانی فعل کی کچھ اشیا کے حوالے سے تحدید کرتا تھا۔ کسی چیز کا حلال یا حرام ہونا یا طاہر و نجس ہونا ایک قطعی مذہبی حکم ہے۔ اب انسان کو ایک ایسی نئی صورت حال کا سامنا ہے کہ خود شے یعنی جمادِ حرکی میں فعل پیدا ہو گیا تھا، بلکہ اس میں ایک ایجنسی کے آثار بھی صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ شے ہونے کی حیثیت سے جماد حرکی شے ہی ہے، لیکن حامل علم اور فاعلِ فعل بھی ہے جیسے کہ لاوڈ سپیکر میں آواز کو بلند کر دینے کا فعل، جیسے کہ اے آئی کا ”کلام“ کرنے فعل اور ”علم“ دینے کا فعل۔ لاؤڈ سپیکر سے قبل، انسانی آواز کی بلندی اور پستی فطری تحدیدات اور انسانی استعدادات میں محصور تھی۔ اب انسان سے متعلق رہتے ہوئے، یہ فعل مشین سے متعلق ہو کر ٹکنالوجیائی بھی ہو گیا ہے۔ جدیدیت سے قبل جمادات صرف مفعولی حرکت کر سکتے تھے۔ لیکن جمادِ حرکی نے توانائی کا منبع بن کر افعال کا مفعول و فاعل بننے کی استعداد پیدا کر لی ہے۔ افعالِ جماد، شے کی خالص مادی جہت سے میکانکی ہیئت میں نمودار ہوئے تھے اور جو شریعت میں حلال و حرام اور طاہر و نجس ہونے کا موضوع نہیں ہے۔ جماداتِ حرکی سے میکانکی افعال کا صدور نیچر، معاشرے اور تاریخ میں داخل ہونے والی ایک بالکل ہی نئی چیز ہے۔ انسان کے عملی صادرات میکانکی، قدری اور روحانی زمروں میں منقسم ہوتے ہیں جبکہ مشین صرف میکانکی افعال سامنے لاتی ہے۔ انسان کا میکانکی فعل بھی نامیاتی پن لیے ہوئے ہوتا ہے جبکہ مشین کا میکانکی فعل اس سے خالی ہوتا ہے۔ یہ نامیاتی پن انسانی فعل کی طبعی فطرت ہے اور ٹکنالوجی فعل کو میکانکی بناتے ہوئے اس کو بھی خارج کر دیتی ہے۔ ڈجیٹل اے آئی کی آمد سے انسانی شعور زبان کے جس منطقے میں اپنے مظاہر سامنے لاتا ہے وہ بھی اب مکمل مغلوب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ نیچر انسان کے اعمال صالحہ کے ظاہر ہونے کا محل ہے، زبان (language) انسان کے ذکر کرنے کا محل ہے۔ اب جمادِ حرکی نیچر اور زبان پر اپنا مکمل تسلط قائم کر چکا ہے۔ اعمال صالحہ پر نجات کا دار و مدار ہے جبکہ ذکر اللہ سے تعلق کا ذریعہ ہے۔ جمادِ حرکی نے ان دونوں کی ہیئت اور شرائط قیام کو بدل دیا ہے، اور ایسا ہو نہیں سکتا کہ شریعت انسانی زندگی پر اتنے جذری اثرات کے بارے میں ہماری رہنمائی نہ کرتی ہو۔
گزارش ہے کہ نیچر سے مسلمان کا تعلق اب صرف حلال و حرام، طاہر و نجس اور تمتع کا نہیں رہا کیونکہ خود نیچر کی نیچر بدل کر ٹکنالوجیائی ہو گئی ہے اور لفظ سے حضور معنی نچڑتا جا رہا ہے کیونکہ وہ بُھربُھرا کر بکھر گیا ہے۔ ٹکنالوجی افعال فطرت، افعال انسانی اور شعور انسانی کی ایک نئی تقویم ہے۔ ٹکنالوجی اپنی نہاد کی وجہ سے سرمایہ دارانہ طاقت اور سیاسی سرمائے کے ساتھ ایک آنولی تعلق پیدا کر چکی ہے، اور ٹکنالوجیائی پیداواری عمل نے انسان کی ہر معاشی سرگرمی کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور ٹکنالوجیائی ریاست انسان کے شعور و وجود پر اپنے تسلط کو مستحکم کر چکی ہے۔ میکانکی، معاشی اور سیاسی جبر انسانی جسم اور انفس کی مکمل تشکیل یا مکمل تخریب کی قدرت حاصل کر چکا ہے۔ اس نئی ٹکنالوجیائی صورت حال میں ہر اس انٹرفیس کو نظری طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے جو انسان اور ٹکنالوجی میں اس وقت قائم اور فعال ہو چکا ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے بعد انسان پر یہ امر روشن ہو سکتا ہے کہ اس مشکل صورت حال میں شریعت کیونکر انسان کو انسان رہنے میں مدد دے سکتی ہے اور اعمال صالحہ کو کیونکر باقی رکھا جا سکتا ہے۔
جمادِ حرکی بطور مشین اور ٹکنالوجی بہت تیزی سے ایک سسٹم کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور نباتات، حیوانات، معاشرے اور تاریخ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس طرح جمادِ حرکی، نیچر جو بقائے حیات اور مدارِ حیات کے طور پر انسان کا مسکن (dwelling) ہے، اور معاشرہ و تاریخ جو اعمال صالحہ کے ظہورات کا محل ہے، ان سب کی شرائطِ ہستی کو جذری سطح پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس میں دو سوال اہم ہیں۔ ایک یہ ہے کہ کیا یہ نئی پیدا شدہ صورت حال (condition) شریعت کا موضوع ہے بھی کہ نہیں؟ دوسرا سوال ڈجیٹل ٹکنالوجی کے حوالے سے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسانی زبان کو کس حد تک باقی رکھا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی شعور، نفسی احوال اور علم کا براہِ راست تعلق زبان سے ہے۔ اس سوال کا جواب چونکہ بہت طوالت کا باعث بن سکتا ہے اس لیے ابھی پہلے سوال کا جواب عرض کر رہا ہوں۔ میری معلومات کی حد تک، شرعی خطاب میں یہ کوئی شرط ہے ہی نہیں کہ انسان فطری صورت حال (natural condition) میں زندہ ہے یا ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) میں، اس لیے اول صورت حال میں شرعی احکام کا باقی رہنا اور مؤخر الذکر صورت حال میں ان کا ساقط ہو جانا یا بدل جانا ایک بالکل لغو موقف ہے۔ انسان کی تاریخی صورت حال جو بھی ہو اس کے مکلف اور مخَاطبِ شریعت ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس طرح یہ موقف بھی نہایت لغو ہے کہ انسان کو ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) سے نکال کر واپس فطری صورت حال (natural condition) میں لے جانا ضروری ہے تاکہ اسلام کو قابل عمل بنایا جا سکے۔
گزارش ہے کہ شرعی مکلف کی پانچ شرائط بیان کی جاتی ہیں: صاحبِ عقل ہونا، بلوغ حاصل ہونا، صاحبِ قدرت و استطاعت ہونا اور اختیار ہیں۔ صاحبِ عقل، صاحبِ قدرت اور اختیار سے مراد یہ ہے کہ انسان ان ملکات کا حامل ہو، اور ان کے معروف فطری مظاہر سامنے لا سکتا ہو۔ ٹکنالوجی کا ان ملکات کے معروف فطری مظاہر سے کچھ لینا دینا نہیں ہے کیونکہ اس پہلو سے ٹکنالوجی ان پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ ٹکنالوجی کا اثر فی نفسہٖ ان ملکات پر ہوتا ہے ان کے مظاہر پر نہیں، اور وہ یہ ہے کہ ٹکنالوجی ان کی خلقی ہیئت کو بدل دیتی ہے۔ شریعت مخَاطبِ شرعی میں اس قدر جذری نوعیت کی تبدیلیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ یہ تبدیلیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب انسان اور مشین آنولی تعامل میں کام کرتے ہیں، اور سیاسی ارادے سے انسان کے اس تعامل کا تعین نظری وسائل اور شریعت کی رہنمائی سے ازسرنو کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ تعامل انسان کے انسان ہونے سے ہم آہنگ ہو۔ اس میں ٹکنالوجیائی کام (work) کے متداول مادی زمان و مکاں کو موضوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انسانی زمان و مکاں کو ممکن بنا سکیں۔



کمنت کیجے