بشکریہ روزنامہ 92
1937ء میں قائد ِ اعظم نے پورے ہندوستان میں مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کرکے اسے ڈرائنگ روم سے نکال کر حقیقی معنوں میں عوامی جماعت بنانے کی مہم شروع کی تو صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی قیادت کسی جاگیردار کے بجائے ایک عالمِ دین مولانا محمد شعیب کے حصے میں آئی۔ 1938ءمیں بھی آپ کو صوبائی صدر چنا گیا۔ آپ کی قیادت کے اثر سے مسلم لیگ اور علمائے کرام کے درمیان دوریاں ختم ہونے لگیں ۔ مولانا محمد شعیب اور آپ کے بھائی مولانا مدرار اللہ مدرار کا تعلق مشہور صوفی بزرگ حضرت حاجی صاحب ترنگ زئی کے ساتھ تھا انگریزوں کے خلاف عملی جہاد میں بھی مصروفِ عمل تھے اور ساتھ ہی پختونوں میں تعلیم کی ترویج کی منظم کوششیں بھی کررہے تھے۔ عملی سیاست کا آغاز دونوں بھائیوں نے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1936 ء تک کانگرس کےساتھ اشتراک عمل جاری رکھا لیکن مسلمانوں کے حقوق کے معاملے پر کانگرس اور صوبہ سرحد میں سرخ پوشوں کی حکومت کے ساتھ ان کا اختلاف ہوا اور دونوں نے ان سے علیحدگی اختیار کی ۔
مولانا مدرار نے 1935ء میں تحریکِ ختمِ نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا اور مقدمات کا سامنا کیا ۔ روزنامہ ”احسان“ لاہور ، 22 جون 1935ء کی رپورٹ کے مطابق 18 جون 1935ء کو عدالت نے ان کے مقدمےمیں حکم ِ امتناعی جاری کیا کہ تا اختتام ِمقدمہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال اور کذاب کہہ سکتے ہیں اور مسلمانوں کو مرزائیوں سے علیحدہ رہنے کی تلقین کرسکتے ہیں ۔
مولانا شعیب اور مولانا مدرار نے 1940ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کی جس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی اور اس موقع پر قائدِ اعظم سے تفصیلی ملاقات بھی کی۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے پاکستان کو ہی منزلِ مقصود مان کر صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں مسلم لیگ کا پیغام پھیلانے کی ذمہ داری اٹھائی۔
26اپریل 1942ء کو مولانا مدرار نے مردان میں صوبہ سرحد کے ممتاز علمائے کرام کو اکٹھا کرکے ایک نئی جماعت ”جمعیتِ علماے سرحد“ کی بنیاد رکھی۔ آپ کو اس جماعت کا جنرل سیکرٹری چنا گیا ۔ ”جمعیتِ علمائے ہند“ کے برعکس ”جمعیت علمائے سرحد“ نے واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا موقف اپنایا ۔ قائدِ اعظم نے مولانا مدرار کے نام اپنے مکتوب میں اس پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا ۔
جنوری 1943 ء میں مولانا مدرار کو مسلم لیگ ضلع مردان کا سیکرٹری اطلاعات اور صوبائی مسلم لیگ کی مجلس ِ عاملہ کا رکن چنا گیا ۔ اسی سال دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں آپ نے مسلم لیگ صوبہ سرحد کے مندوب کی حیثیت سے شرکت کی اور قائدِ اعظم سے تفصیلی ملاقات کی جس میں قائدِ اعظم نے آپ کو قبائلی علاقوں میں بااثر مشائخ تک مسلم لیگ کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی ۔
چنانچہ دہلی سے واپسی کے بعد مولانا مدرار اور مولانا محمد شعیب نے مہمند، صافی ، باجوڑ اور چارمنگ کا دورہ کیا اور مشہور پیرِ طریقت بابڑہ ملا صاحب کے فرزندِ اکبر اور جانشین جناب حضرت گل صاحب تک قائدِ اعظم کا خصوصی پیغام پہنچایا ۔ حضرت گل صاحب نے پاکستان کے حصول کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ اپریل 1944ء کے ہندو اخبارات میں ان قبائلی دوروں کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ گویا قبائل کو پھر انگریزوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہو ۔ اسی دورے کی رپورٹ پر قائد ِ اعظم نے مولانا مدرار کو پھر ایک مکتوب لکھا اور نواب زادہ لیاقت علی خان اور مولانا ظفر احمد انصاری کے ساتھ آئندہ تفصیلی لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے کہا ۔
1945ء میں حیدرآباد سندھ میں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی نے کل ہند جمعیت علمائے اسلام کانفرنس منعقد کروائی جس میں مولانا مدرار اور مولانا محمد شعیب نے شرکت کی اور جمعیت علمائے سرحد کو باقاعدہ طور پر ”جمعیت علمائے اسلام“ میں ضم کیا ۔ اسی سال مولانا مدرار نے مانسہرہ میں ”پاکستان کانفرنس“ کی صدارت کی اور پاکستان کا پیغام ضلع ہزارہ کے علمائے کرام اور عوام تک پہنچایا ۔
1946ء کے انتخابات ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے بہت اہم تھے۔ 9 سال قبل 1937ء کے انتخابات میں کانگرس کے حمایت یافتہ سرخ پوشوں نے صوبائی اسمبلی کی 37 مسلم نشستوں میں 36 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ مسلم لیگ نے صرف ایک نشست لی تھی ۔ مولانا مدرار اور دیگر علماء کی کوششوں کے نتیجے میں 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے 18 نشستیں لے لیں ۔ کچھ دنوں کے بعد مردان سے منتخب ہونے والے سرخ پوش رکن اسمبلی کا انتقال ہوا ور اب دونوں جماعتوں کے ارکان کی تعداد برابر ہوگئی ۔ ضمنی انتخابات کا مرحلہ نہایت اہم تھا کیوں کہ ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ بھی قریب آلگا تھا اور ان انتخابات نے ریفرنڈم سے قبل ریفرنڈم کی حیثیت حاصل کرلی ، یہاں تک کہ وزیر اعلی عبد الجبار خان (ڈاکٹر خان صاحب) نے اعلان کیا کہ اگر یہ نشست ان کی جماعت نی جیت سکی، تو وہ مستعفی ہوجائیں گے ۔ مولانا مدرار اور ا ن کے ساتھیوں کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی اور مسلم لیگ یہ نشست جیت گئی ۔ مولانا ظفر علی خان نے اس پر پوری نظم لکھی جو ”زمیندار“ میں شائع بھی ہوئی، اور اس کا مطلع تھا:
کانگرس کو دی ہزیمت لیگ نے مردان میں
ہوگیاساماں نئی رونق کا پاکستان میں
ڈاکٹر خان صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کیا اور دوسری طرف ہندوستان کے فیصلے کا وقت بھی قریب آلگا ۔ اس موقع پر سرحد مسلم لیگ نے سول نافرمانی کا آغاز 18 فروری 1947ء کو مردان سے ہی کیا ۔ عبد القیوم خان کی گرفتاری کے بعد مولانا مدرار نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی اور 3 مارچ 1947ء کو مردان کی پانچ عدالتوں پر مسلم لیگ کا جھنڈا لہرایا اور انگریز ججوں کو نکال کر عدالتوں پر قبضہ کیا ۔ بعد میں انھیں بھی گرفتار کیا گیا اور پھر پاکستان کے قیام کے اعلان کے بعد جب سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تو آپ کو بھی رہا کیا گیا ۔
رہائی کے بعد ایک نئے ولولے کے ساتھ آپ نے ریفرنڈم کے لیے عوامی مہم چلائی ۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی نے ریفرنڈم کے لیے اپنی تقاریر اور جلسوں کا آغاز 24 جون 1947ء کو مردان سے ہی کیا ۔ معلوم حقیقت ہے کہ ریفرنڈم میں 97 فی صد سے زائد لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈال کر صوبہ سرحد کے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ سنایا ۔
ستمبر 1948ء میں قائدِ اعظم کی وفات پرمولانا مدرار نے ایک عظیم الشان مشاعرہ کانفرنس منعقد کروائی جس میں صوبہ سرحد کے نامی گرامی پشتو شعرا نے شرکت کرکے قائدِ اعظم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ اس مشاعرے کا مصرعہ طرح تھا:
مونگ لہ د قائدِ اعظم پہ قدم تلل دی پکار
(ہمیں قائدِ اعظم کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے)
میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مولانا مدرار میرے دادا تھے۔ اللہ تعالیٰ قائدِ اعظم پر اور تمام بانیانِ پاکستان پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے۔




کمنت کیجے