متکلمین جب دین اسلام کا تعارف کراتے ہوئے “اصول الدین” لکھتے ہیں تو اس کا آغاز علمیات کی بحث سے کرتے ہیں، پھر آنٹالوجی بتاتے ھوئے مذھبی عقائد کے ثبوت کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس ترتیب کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ عقیدہ محض ایک مفروضہ یا ازخود اختیار کیا جانے والا نقطہ آغاز نہیں رہتا بلکہ ایک علمی نظام کے اندر اپنی جگہ حاصل کرتا تھا۔
بیسویں صدی میں دین کے تعارف کے لئے لکھے گئے لٹریچر میں البتہ علمیات و آنٹالوجی کے ابواب غائب نظر آتے ہیں اور اس میں دین پیش کرنے کی ترتیب ہی بدل دی گئی ہے۔ یہاں اسلامی تہذیب کے اصول کا آغاز دینی عقائد جیسے خدا، نبی، آخرت پر ایمان سے ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تبدیلی کی کئی وجوھات ہیں جن میں سے ایک علم کلام کو غیر مفید سمجھتے ہوئے براہ راست قرآن و سنت سے بات کا آغاز کرنے کا ذوق بھی ہے۔ اس طریقہ کار کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ دین کا مقدمہ کسی عمومی علمیاتی پس منظر کے بغیر بطور ماننے کی چیز سمجھنے کا رجحان عام ہوا ہے۔ یہ حضرات مذھبی عقائد کے چند دلائل بیان بھی کریں تو ان دلائل کے علمیاتی و وجودی مقدمات کو منظم نہیں کرتے۔ مثلاً خدا کے وجود پر دلیل دی جاتی ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ علم کیا ہے، دلیل کیا ہے، دلیل سے علم کیسے حاصل ہوتا ہے، دلائل کی اقسام و ترتیب کیا ہے، عقل کی حجیت کیا ہے، علیت یا امتناعِ دور و تسلسل جیسے اصولوں کی حیثیت کیا ہے، موجودات کی نوعیت کیا ہے وغیرہ۔ نتیجتاً دلیل کا پورا پس منظر قاری کے سامنے نہیں آتا۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس دینی لٹریچر سے تیار شدگان میں مدمقابل فلسفوں سے مقابلے کی کوئی لیاقت پیدا نہیں ہوتی، لیکن اس لٹریچر کو پڑھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دین کا کافی و شافی فہم حاصل ہوگیا ہے نتیجتاً وہ دین کے ایک ناقص تعارف کے باوجود اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق الٹے سیدھے متبادل متعارف کراتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید اسلامی ڈسکورس میں بعض اوقات یہ عجیب صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ اسلام کا دفاع تو کیا جارہا ہوتا ہے، لیکن اسلام کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والا نظریہ علم خود اسلام کش فلسفیانہ مفروضات پر قائم ہوتا ہے۔ ہمارے ذہین پڑھے لکھے حضرات میں جو یہ بات عام ہے کہ “علم اور ایمان الگ چیزیں ہیں” یا “جاننا الگ ہے اور ماننا الگ”، ان کے پس پشت جہاں بعض مغربی فلاسفہ کے افکار کا ہاتھ ہے ساتھ ہی اس جدید دینی لٹریچر کی ساخت کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جو دین کا تعارف بطور ماننے کی چیز کا تاثر عام کرتا ہے۔ متکلمین کے ہاں ایمان ایک علمی مسئلہ ہے، جدید مذھبی ڈسکورس میں یہ اکثر ایک مفروضہ بن کر رہ گیا ہے۔




کمنت کیجے