Home » تخلیقِِ آدم
تفسیر وحدیث شخصیات وافکار کلام

تخلیقِِ آدم

قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق تین مراحل میں مکمل فرمائی تھی: پہلے زمین کی مٹی سے اُس کا حیوانی وجود بنایا، پھر اُس حیوانی وجود کو توالد و تناسل کے طریقے پر نسل در نسل آگے بڑھایا اور اُس کے بعدجب وہ ہر لحاظ سےدرست ہو گیا تو اُس میں اپنی روح پھونک کر اُسے فہم و ادراک اور بصیرت و بصارت کا حامل انسان بنا دیا۔ ارشاد فرمایاہے:
الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ. ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ. ثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ.(السجدہ 32: 7- 9)
’’(وہی کہ) جس نے جو چیز بھی بنائی ہے، خوب ہی بنائی ہے۔ انسان کی تخلیق کا آغاز اُس نے مٹی سے کیا۔ پھر اُس کی نسل حقیر پانی کے خلاصے سے چلائی۔ پھر اُس کے نوک پلک سنوارے اور اُس میں اپنی روح میں سے پھونک دیا اور تمھارے (سننے کے) لیے کان اور (دیکھنے کے لیے) آنکھیں اور (سمجھنے کے لیے) دل بنا دیے ــــ تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو!‘‘
سورۂ سجدہ کی اِن آیات میں جن تین مراحل کا ذکر ہوا ہے، استاذِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کی روشنی میں اُن کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
1۔ مٹی سے حیوانی وجود کی ابتدائی تخلیق
قرآنِ مجید نے بتایا ہے کہ انسان کی تخلیق کا آغاز مٹی سے کیا گیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جیتا جاگتا حیوانی وجود یکایک کھڑا نہیں کر دیا گیا، بلکہ مٹی کے اجزا کو مٹی ہی کے اندر مختلف مراحل سے گزار کر اُسے پیدا کیا گیا۔ گویا جس طرح کا ارتقائی عمل بعد ازاں بطن مادر میں جاری ہوا، اُسی طرح کا تدریجی عمل ابتداءً زمین کے پیٹ میں اختیار کیا گیا۔ اِس کے لیے ’بَدَاَ خَلْقَ الْاِنسَانِ مِن طِينٍ‘ کے الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ استاذِ مکرم اِن کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’یہ پہلے مرحلے کا بیان ہے، جب انسان کا حیوانی وجود تخلیق ہوا۔ اِس کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو انسان کی پیدایش کے لیے اب اختیار کیا جاتا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ اب جو عمل ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، اُس وقت زمین کے پیٹ میں ہوا۔ چنانچہ مٹی کے وہی اجزا جو غذا کی صورت میں ہمارے اندر جاتے اور حقیر پانی کے خلاصے میں تبدیل ہو کر اُس عمل کی ابتدا کرتے ہیں جس سے انسان بنتے ہیں، اُس وقت سڑے ہوئے گارے کے اندر اِسی عمل سے گزرے۔ یہاں تک کہ جب خلقت پوری ہوگئی تو اوپر سے وہی گارا انڈے کے خول کی طرح خشک ہو گیا جس کے ٹوٹنے سے جیتی جاگتی ایک مخلوق نمودار ہوئی جسے انسان کا حیوانی وجود کہنا چاہیے۔ اِس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دوسری تمام مخلوقات بھی پہلی مرتبہ اِسی طریقے سے وجود میں آئیں۔‘‘(البیان 4/ 96)
2۔ حیوانی وجود میں توالد و تناسل
پہلے مرحلے میں تخلیق پانے والے انسان کا حیوانی وجود دیگر حیوانات کی طرح جسمانی اور جبلی خصائص کا حامل تھا اور توالد و تناسل کے طریقے پر اپنی نسل کو آگے بڑھا سکتا تھا۔ چنانچہ اُس کا آغاز ہوا اور یہ حیوانی انسان اپنی نسل کو آگے بڑھاتا رہا۔اِس مرحلے کو ’ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ ‘ کے الفاظ میں ادا فرمایا ہے۔ اِس کے بارے میں استاذِ مکرم نے لکھا ہے:
’’یہ دوسرا مرحلہ ہے جس میں اِس طرح بنائی جانے والی مخلوق نے اپنی نسل آپ پیدا کرنی شروع کر دی۔ چنانچہ وہی عمل جو زمین کے پیٹ میں ہوا تھا، اب وہ ماں کے پیٹ میں ہونے لگا۔ یہ انسان کا وہ دور ہے، جب وہ علم و ادراک سے محروم محض ایک ناتراشیدہ حیوان تھا۔‘‘
(البیان 4/ 96)
یہ مرحلہ کتنی مدت پر محیط تھا، کتنی نسلیں گزریں اور اُن کے اندر کیا حیاتیاتی تبدیلیاں واقع ہوئیں، قرآنِ مجید اِن سوالات سے تعرض نہیں کرتا۔
3۔ حیوانی وجود کا تسویہ اور اُس میں نفخ روح
تیسرا مرحلہ ’ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ یہ مرحلہ دو حصوں پر مشتمل ہے: تسویہ اور نفخ روح۔ تسویہ سے مراد یہاں حیوانی وجود کی کمیوں اور زیادتیوں کو ٹھیک کرنا اور اُس کی نوک پلک سنوار کر اُسے ایک موزوں اور متوازن صورت دینا ہے۔ نفخِ روح سے مراد تسویہ شدہ حیوانی وجود میں روح پھونکنا ہے۔استاذِ مکرم کےنزدیک’نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ ‘کی تعبیر اُس موقعے کے لیے اختیار کی گئی ہے، جب انسان کو اُس کی شخصیت ودیعت کی گئی تھی۔ یہ عمل اُس وقت موجود حیوانی وجود کے حامل افراد میں سے دو افراد کے ساتھ کیا گیا۔ یہ آدم اور حوا تھے۔ اِنھی سے بنی نوع انسان کا سلسلہ شروع ہوا۔ استاذِ مکرم لکھتے ہیں:
’’یہ تیسرا مرحلہ ہے جس میں غالباً کئی نسلوں کے اختلاط سے انسان کے حیوانی وجود کو نک سک سے درست کیا گیا، یہاں تک کہ وہ اِس قابل ہو گیا کہ اُسے انسان کی شخصیت عطا کی جائے۔ چنانچہ اِس مخلوق کے جو افراد اُس وقت موجود تھے، اُن میں سے دو کا انتخاب کر کے خدا کی طرف سے ایک لطیف پھونک کے ذریعے سے جسے قرآن میں روح کہا گیا ہے، یہ شخصیت اُسے عطا کر دی گئی۔ یہی آدم و حوا تھے۔ اِس کے بعد جو انسان پیدا ہوئے، وہ سب اِنھی کی اولاد ہیں۔ ‘‘
(البیان 4/ 96)
روح پھونکنے سے انسان کے اندرعلم و شعور اور فہم و فراست کی جو صلاحیت پیدا ہوئی، اُس کے بارے میں استاذِ مکرم نے لکھا ہے:
’’یہ نفخ روح کا نتیجہ ہے جس نے بصیرت و ادراک سے محروم ایک حیوان کے اندر سمع و بصر اور دل و دماغ کی وہ صلاحیتیں پیدا کر دیں جو تمام حیوانات کے مقابل میں اُس کے لیے وجہ امتیاز ہیں۔ چنانچہ اب وہ اِس قابل ہو گیا کہ اُسے مخاطب کر کے یہ کہا جا سکے کہ ہم نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے۔ ‘‘ (البیان 4/ 97)
سورۂ سجدہ کی مذکورہ آیات کی اِس شرح و وضاحت کا خلاصہ یہ ہے:
* انسان کی تخلیق کا عمل مرحلہ وار ہوا ہے۔
* پہلےاِس زمین کے اندر مٹی سے اُس کا حیوانی وجود تخلیق ہوا ہے، پھر اُس حیوانی وجود میں نامعلوم عرصے تک کے لیے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا ہے اور بالآخر جب وہ حیوانی وجود انسانی شخصیت کے تحمل کا اہل ہوا تو اللہ نے اپنی روح میں سے پھونک کر اُسے انسانی شخصیت عطا فرمائی ہے۔
* نفخ روح کے موقع پر، ممکن ہے کہ کرۂ ارض پر حیوانی وجود کے حامل بے شمار انسان موجود ہوں، مگر اللہ نے اِس مقصد کے لیے دو انسانوں کو منتخب فرمایا۔ اِن منتخب انسانوں کے نام آدم و حوا ہیں۔
* اِنھی دو انسانوں سے انسانیت کے سلسلے کا آغاز ہوا ہے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ آدم علیہ السلام انسانی جسم کے اولین ظہور کا نقطۂ آغاز نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے اُس مرحلے کا آغاز ہیں، جہاں انسان اپنی شخصیت کے ساتھ خدا کے خطاب کا مخاطب بنا ہے۔جسمانی وجود اور انسانی شخصیت کے اِسی فرق کو سورۂ مومنون کا بیان ایک دوسرے زاویے سے مزید واضح کرتا ہے۔ارشاد ہے:
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ. ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ. ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ. )23: 12- 14 ( ’’(تمھارے منکرین اِس کو نہیں مانتے تو دیکھیں کہ) ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک لوتھڑے کی صورت دی اور لوتھڑے کو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ ‘‘
غامدی صاحب کے نزدیک یہاں پہلے انسان کی تخلیق کی نسبت مٹی سے کی گئی ہے، پھر اُس پیدایشی عمل کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جس سے انسان اب دنیا میں آتے ہیں۔ یعنی نطفہ، علقہ، مضغہ اور جسمانی تشکیل کے دوسرے مراحل۔ اِن مراحل کے اختتام پر فرمایا:’ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ‘ پھر ہم نے اُسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔یہ تعبیر اُس مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں حیوانی وجود اپنی تشکیل مکمل کر چکا ہے اور نفخِ روح کے بعد ایک نئی انسانی حیثیت میں سامنے آتا ہے۔ چنانچہ اب وہ محض ایک حیوانی جسم نہیں رہتا، بلکہ شعور، ارادے اور اخلاقی ذمہ داری رکھنے والی شخصیت بن جاتا ہے۔اِس طرح سورۂ مومنون میں ’خَلْقًا اٰخَرَ‘ کے الفاظ میں اُسی حقیقت کو اجمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جسے سورۂ سجدہ ’سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ‘ کے الفاظ میں قدرے تفصیل سے واضح کرتی ہے۔ دونوں مقامات کو سامنےرکھیں تو جسمانی وجود کی تکمیل اور انسانی شخصیت کے ظہور کے درمیان نہایت واضح امتیاز سامنے آتا ہے۔
قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کو مٹی کی طرف اُس کی ابتدائی نسبت کے اعتبار سے منسوب کیا جاتا ہے، اگرچہ اُس کے اور مٹی کے درمیان پیدایش کے متعدد واسطے اور مراحل موجود ہوں۔سورۂ مومن میں فرمایا ہے:
هُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ.) 40: 67 ( ’’وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے۔‘‘
اور سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے:
اَکَفَرۡتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا.) 18: 37) ’’ کیا اُس ہستی کا انکار کر رہے ہو جس نے تمھیں مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے،پھر تم کو ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟‘‘
اِن دونوں سورتوں میں اِسی دنیا کے انسان مخاطب ہیں، جن کی پیدایش براہِ راست مٹی سے نہیں ہوئی۔ وہ اپنے والدین سے پیدا ہوئے، نطفے اور رحمِ مادر کے مراحل سے گزر کر دنیا میں آئے۔ اِس کے باوجود قرآن اُن کی تخلیق کی نسبت مٹی کی طرف کرتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’مٹی، پھر نطفہ‘‘ لازماً ایک ہی مادے کی بلاواسطہ تبدیلی کا بیان نہیں۔ مٹی انسان کی اصل تخلیق کو بیان کرتی ہے، جب کہ نطفہ اُس نظامِ تولید کا مرحلہ ہے جس کے ذریعے سے انسان دنیا میں آتا ہے۔
قرآنِ مجید کے اِن تمام مقامات کو سامنے رکھیں تو غامدی صاحب کی تعبیر کا بنیادی مقدمہ پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جسمانی اور تولیدی وجود پہلے قائم ہوا، جب کہ شعوری و اخلاقی انسانی شخصیت بعد میں اُس سے وابستہ ہوئی۔ آدم و حوا علیہما السلام اِسی مرحلے پر انسانی تاریخ میں داخل ہوتے ہیں۔
انسان کی تخلیق کے حوالے سے سورۂ سجدہ کی آیات کی تفسیر میں یہ استاذِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا بیان ہے۔ ’’المورد‘‘ کے فاضل عالم و محقق جناب ڈاکٹر ساجد حمید اِس بارے میں مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔اُن کے نزدیک آدم علیہ السلام ہی انسان کی پہلی جسمانی اور شعوری تخلیق تھے۔ اُن سے پہلے کوئی ایسا انسانی یا انسان سے متعلق حیاتیاتی و تولیدی سلسلہ موجود نہیں تھا، جس کے تسلسل سے آدم علیہ السلام وجود میں آئے ہوں۔گویاغامدی صاحب جس زندہ اور تولیدی حیوانی وجود کو آدم علیہ السلام سے پہلے کا ایک مرحلہ سمجھتے ہیں، ساجد صاحب اُسے خود آدم علیہ السلام کے وجود کی تخلیق کے ابتدائی مراحل قرار دیتے ہیں۔ مٹی سے آغاز، زندگی کا پیدا ہونا، جسمانی تشکیل، تسویہ اور پھر انسانی شعور کا ظہور، سب اُن کے نزدیک ایک ہی فرد، یعنی آدم علیہ السلام کی تخلیق کے مختلف مراحل ہیں۔
ساجد حمید صاحب کے استدلال کے اہم اجزا یہ ہیں:
1۔ سورۂ مومنون پہلی تخلیق ہی کا مسلسل بیان ہے۔
اُن کے نزدیک ’سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ‘ سے ’خَلۡقًا اٰخَرَ‘ تک ایک ہی تخلیقی سلسلہ بیان ہوا ہے اور اِس پورے بیان کا مصداق آدم علیہ السلام ہیں۔ اُن کی تعبیر میں مٹی سے ایک خاص خلاصہ اخذ ہوا، وہی اگلے مرحلے میں نطفہ بنا، پھر علقہ اور مضغہ کی صورتوں سے گزرتا ہوا جسمانی تشکیل کے مراحل مکمل کرتا گیا، یہاں تک کہ ’خَلْقًا اٰخَرَ‘کے مرحلے پر آدم علیہ السلام ایک مکمل انسانی وجود کی حیثیت سے سامنے آئے۔
2۔ نطفہ پہلی زندہ حیاتیاتی حقیقت ہے۔
اُن کے نزدیک اِس مقام پر نطفہ عام انسانی تولید میں پیدا ہونے والا نطفہ نہیں، بلکہ مٹی سے اخذ کیے گئے اُس ابتدائی مادے کی پہلی زندہ صورت ہے، جس میں خدا کے حکم سے حیات پیدا ہوئی۔ گویا اُن کی تعبیر میں مٹی کا خلاصہ پہلے ایک زندہ حیاتیاتی وجود بنا اور قرآن نے اُسی مرحلے کو نطفہ سے تعبیر کیا ہے۔
3۔ قرارِ مکین رحم نہیں، زمین ہے۔
چونکہ یہ آدم علیہ السلام کی پہلی تخلیق تھی اور اُس وقت کوئی انسانی رحم موجود نہیں تھا، اِس لیے ساجد صاحب ’قرارِ مکین‘ سے رحمِ مادر کے بجاے زمین کا ایک محفوظ تخلیقی ماحول مراد لیتے ہیں، جہاں یہ ابتدائی زندہ وجود نشوونما پاتا اور اپنی جسمانی تشکیل کے مختلف مراحل سے گزرتا رہا ہوگا۔
4۔ نفسِ واحدہ اولین حیاتیاتی وحدت ہے۔
ساجد صاحب کے تصور میں یہی ابتدائی وحدت بعد میں دو وجودوں میں تقسیم ہوئی اور آدم و حوا سامنے آئے۔ اِسی سے وہ پوری انسانیت کی نسبت ایک نفسِ واحدہ کی طرف کیے جانے کو بھی سمجھتے ہیں۔
5۔ ’خَلۡقًا اٰخَرَ ‘ پہلی انسانی مخلوق کے ظہور کا بیان ہے۔
اُن کے نزدیک ’ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا اٰخَرَ‘ اُس آخری مرحلے کی تعبیر ہے، جہاں یہ ابتدائی حیاتیاتی وجود پہلی مرتبہ ایک مکمل انسانی مخلوق کی صورت میں سامنے آیا۔
6۔ سورۂ سجدہ کا’ ثُمَّ ‘لازماً زمانی ترتیب کے لیے نہیں ہے۔
ساجد حمید صاحب کے مطابق سورۂ سجدہ میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کے مراحل لازماً زمانی ترتیب کے ساتھ بیان نہیں ہوئے۔ اُن کے نزدیک ’ثُمَّ‘ بعض اوقات واقعات کے زمانی تعاقب کے بجاے مختلف افعال یا اوصاف کو ترتیبِ ذکر کے ساتھ بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ نسل کا ذکر تسویہ اور نفخِ روح سے پہلے ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے بالفعل کوئی نسل موجود تھی، اُن کے نزدیک اِسے آدم علیہ السلام میں نسل آگے بڑھانے کی صلاحیت پیدا کیے جانے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے: ’’میں نے مضامین لکھے، پھر کتابیں لکھیں، پھر لیکچر دیے‘‘ تو یہاں ’پھر‘ لازماً اِن سرگرمیوں کی زمانی ترتیب بیان نہیں کرتا۔
7۔ آدم و عیسیٰ علیہما السلام کی مماثلت اور کلمۂ کن۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.
)آل عمران 3: 59 ( ’’اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اُسے مٹی سے بنایا، پھراُس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘
ساجد صاحب کے نزدیک کلمۂ ’کُن‘ آدم علیہ السلام کی ایک غیر معمولی اور مستقل تخلیقی ابتدا کی دلیل ہے۔ اُن کے مطابق مٹی سے حاصل مادہ حکمِ الہٰی سے پہلی زندہ حیاتیاتی صورت میں تبدیل ہوا۔ چونکہ قرآن ’کُن‘ کو ایسے مواقع پر لاتا ہے، جہاں معمول کا قدرتی یا تولیدی نظام کارفرما نہیں ہوتا، اِس لیے وہ آدم علیہ السلام کو کسی سابق حیوانی نسل کے ارتقائی تسلسل کا نتیجہ نہیں سمجھتے۔ آدم و عیسیٰ علیہما السلام کی مماثلت بھی اُن کے نزدیک اِسی نکتے کی تائید کرتی ہے: عیسیٰ علیہ السلام باپ کے بغیر اور آدم علیہ السلام ماں باپ، دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔
اِن تمام نکات کو جمع کیا جائے تو ڈاکٹر ساجد حمید صاحب کے مطابق آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے شروع ہوئی، اُسی مادی وجود میں زندگی پیدا ہوئی، وہ ایک محفوظ زمینی ماحول میں مختلف حیاتیاتی مراحل سے گزرا، اور بالآخر اُسی اولین زندہ وجود سے آدم و حوا علیہما السلام سامنے آئے۔
آیندہ سطور میں ہم اِس تعبیر اور اس کے استدلال کے بنیادی نکات اور علمی بنیاد کا جائزہ لیں گے۔
استدلال کا جائزہ
ساجد حمید صاحب کی تعبیر کی پوری صورت سامنے آ جانے کے بعد اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے الفاظ، اُن کی تالیف اور سیاق و سباق سے کس حد تک ثابت ہوتی ہے؟ قرآن ایک مرتب اور مربوط کلام ہے، اِس لیے کسی لفظ کے محض ممکنہ معانی کسی تعبیر کے اثبات کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ کسی خاص مقام پر اُس کے مفہوم کا تعین جملے کی ساخت، الفاظ کے باہمی تعلق اور کلام کے داخلی قرائن سے ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی لفظ یا تعبیر کو اُس کے معروف اور متبادر مفہوم سے ہٹا کر کسی دوسرے معنی میں لیا جائے تو خود کلام میں ایسا قرینہ موجود ہونا چاہیے جو اُس معنی کو اختیار کرنے کی واضح بنیاد فراہم کرے۔
اِن اصولوں کو سامنے رکھیں تو سب سے پہلے سورۂ سجدہ کا بیان توجہ چاہتا ہے، کیونکہ دونوں تعبیرات کے درمیان بنیادی اختلاف تخلیق کے اِنھی مراحل کی ترتیب سے پیدا ہوتا ہے۔
1۔ سورۂ سجدہ میں ’ثُمَّ‘ کا مفہوم
پہلا سوال یہ ہے کہ سورۂ سجدہ کے مذکورہ مقام پر ’ثُمَّ‘ کس مفہوم میں آیا ہے؟ آیت کے الفاظ ہیں: ’بَدَاَ خَلْقَ الْاِنسَانِ مِن طِينٍ‘، پھر ’ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ ‘ کے الفاظ میں نسل کا ذکر آیا اور اُس کے بعد ’ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ ‘ کے ذریعے سے تسویہ اور نفخِ روح کا بیان ہوا۔یہ درست ہے کہ عربی زبان میں ’ثُمَّ‘ کا استعمال ہمیشہ زمانی تعاقب ہی کے لیے نہیں ہوتا، لیکن لغت میں کسی معنی کا ممکن ہونا اور کسی خاص مقام پر اُس معنی کا مراد ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ کسی لفظ کا متعین مفہوم اُس کے مجرد لغوی امکانات سے نہیں، بلکہ جملے کی تالیف، نحوی ساخت اور کلام کے داخلی قرائن سے طے ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ ’ثُمَّ‘ کن کن معانی میں آ سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اِس خاص مقام پر آیت خود کس معنی کی طرف رہنمائی کرتی ہے؟
اِس مقام پر فیصلہ کن قرینہ ’بَدَاَ‘ کا لفظ ہے۔ آیت پہلے تخلیق کا آغاز متعین کرتی ہے، پھر ’ثُمَّ‘ سے نسل، اور دوسرے ’ثُمَّ‘ سے تسویہ اور نفخِ روح کا ذکر کرتی ہے۔ اِس ساخت میں یہ مراحل محض الگ الگ افعال کے ذکر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس ظاہری ترتیب سے ہٹنے کے لیے خود کلام میں کسی واضح قرینے کی ضرورت ہے، جو یہاں موجود نہیں۔
ساجد صاحب کی مثال میں اگر کوئی شخص کہے: ’’میں نے مضامین لکھے، پھر کتابیں لکھیں، پھر لیکچر دیے‘‘ تو اُن کے نزدیک ’پھر‘ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ تینوں کام اسی زمانی ترتیب سے واقع ہوئے ہوں۔ ممکن ہے کہ مقصود صرف مختلف علمی سرگرمیوں کو یکے بعد دیگرے ذکر کرنا ہو۔ لیکن اگر کہا جائے: ’’میں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز مضامین سے کیا، پھر کتابیں لکھیں، پھر لیکچر دیے‘‘ تو ’آغاز‘ کا لفظ پہلے عمل کو باقاعدہ نقطۂ آغاز بنا دیتا ہے اور بعد کے افعال اُس کے بعد آنے والے مراحل کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ سورۂ سجدہ میں ’بَدَاَ‘ بھی یہی فرق پیدا کرتا ہے۔
قرآن مجیدکے دوسرے مقامات پر بھی ’بَدَاَ‘ اور ’ثُمَّ‘ کی یہی ترکیب ترتیب کو بیان کرتی ہے۔ ارشاد ہوا:
اِنَّہٗ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ.
(یونس 10: 4) ’’اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اُس کو دہرا دے گا۔ ‘‘
اَللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ.
(الروم 30: 11) ’’اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے۔ (اُس کے لیے کچھ مشکل نہیں )، پھر وہ اِسی طرح اُسے دوبارہ پیدا کر دے گا۔‘‘
فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ.(العنکبوت 29: 20) ’’اور دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر وہی اللہ اُسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ ‘‘
اِن تمام مقامات پر ’بَدَاَ‘ کے بعد ’ثُمَّ‘ ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی ترتیب بیان کرتا ہے۔ چنانچہ سورۂ سجدہ میں اسی ترتیب کو زمانی تعاقب کے بجاے کسی دوسرے مفہوم پر محمول کرنے کے لیے خود آیت میں ایسا واضح قرینہ ہونا چاہیے جو اِس ظاہری ترتیب سے ہٹنے کی بنیاد فراہم کرے۔یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
مزید یہ کہ آیت صرف یہ بتارہی ہے کہ اُس وجود میں نسل بڑھانے کی صلاحیت رکھ دی گئی تھی۔ فرمایا: ’نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ‘،یعنی اُس کی نسل حقیر پانی کے خلاصے سے قرار دی گئی۔ یہاں ’نَسۡلَہٗ‘ خود سلسلۂ نسل کو بیان کر رہا ہے، محض آیندہ تولید کی صلاحیت کو نہیں۔ اِسے صرف تولیدی استعداد کے معنی میں لینے کے لیے بھی الگ قرینہ درکار ہوگا،جوآیت میں موجود نہیں ہے۔
لہٰذا یہاں اصل مسئلہ مدت کا نہیں، ترتیب کا ہے۔ قرآن یہ نہیں بتاتا کہ اِس دوران میں کتنی نسلیں گزریں یا یہ عمل کتنے عرصے پر پھیلا ہوا تھا۔ اُس کا بیان صرف اتنا ہے کہ مٹی سے آغاز کے بعد نسل کا ذکر آتا ہے اور اُس کے بعد تسویہ اور نفخِ روح ہوا۔
2۔ سورۂ مومنون، تالیف اور سباق
ساجد صاحب کی تعبیر میں سورۂ مومنون آدم علیہ السلام کی پہلی تخلیق کا مسلسل بیان ہے۔ اِس تعبیر کے قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آیت میں مذکور ’مٹی کا خلاصہ‘ ہی آگے چل کر نطفہ بنا ہو، کیونکہ اگر ’سلالہ‘ اور ’نطفہ‘ ایک ہی مادی وجود کے مسلسل مراحل نہ ہوں تو یہ بیان آدم علیہ السلام کی پہلی تخلیق کی مسلسل حیاتیاتی سرگذشت نہیں رہتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ خود آیت کی تالیف اِس مادی تسلسل کو بیان کرتی ہے یا نہیں۔ آیت کے الفاظ ہیں:
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ. ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ.
یہاں ’ جَعَلۡنٰہُ ‘ میں ’ہُ‘ کی ضمیر مذکر ہے، اِس لیے اُس کا ظاہر مرجع ’الْانسَانَ‘ ہے، کیونکہ ’الْاِنسَانَ ‘ مذکر ہے، جب کہ ’سُلٰلَۃٍ ‘ مونث ہے۔ گویا آیت یہ کہتی ہے کہ انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا گیا، پھر اُسی انسان کو نطفے کی صورت میں ایک محفوظ جگہ میں رکھا گیا۔ اگر مقصود یہ ہوتا کہ ’سلالہ‘ ہی آگے چل کر نطفہ بن گیا تو عبارت کی تالیف اُس مادی تبدیلی کو براہِ راست بیان کرتی۔اگلی آیت اِس فرق کو مزید نمایاں کر دیتی ہے:
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً.
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں ایک مادی مرحلہ واقعی دوسرے میں تبدیل ہوتا ہے، قرآن اُس تبدیلی کو نام لے کر بیان کرتا ہے: نطفہ علقہ بنا اور علقہ مضغہ، لیکن ’سلالہ‘ اور ’نطفہ‘ کے درمیان ایسی کوئی تصریح موجود نہیں۔ اِس لیے یہ کہنا کہ ’سلالہ ہی نطفہ بن گیا‘ ساجد صاحب کی حیاتیاتی تعبیر کا ایک قیاسی مقدمہ ہے، آیت میں اس کاسرے سے کوئی ذکر نہیں۔’خَلۡقًا اٰخَرَ ‘ کو بھی اِسی سباق میں سمجھنا چاہیے۔ ساجد صاحب اِسے پہلی مرتبہ انسانی نوع کے وجود میں آنے کی تعبیر سمجھتے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک، اِس کے برعکس، یہ جسمانی و حیوانی تشکیل کے بعد اُس نئی انسانی حیثیت کا بیان ہے جو نفخِ روح کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یعنی وہ وجود اب محض ایک زندہ جسم نہیں رہتا، بلکہ شعور، ارادے اور اخلاقی ذمہ داری رکھنے والے انسان کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔تاہم، لفظ ’أَنشَأَ‘بہ ذاتِ خود پہلی انسانی نوع کے ظہور کے لیے مخصوص نہیں۔ اِسی سورۂ مومنون میں فرمایا ہے:
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ.
(23: 31) ’’پھر اِن کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم اٹھائی۔‘‘
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قُرُوۡنًا اٰخَرِیۡنَ.
(23: 42) ’’پھر اِن کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھائیں۔‘‘
اِن مقامات پر پہلے سے موجود انسانی نوع ہی کی بعد کی قوموں کے وجود میں آنے کے لیے بھی ’أَنشَأَ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس لیے ’ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ‘ سے ایک نئی حیثیت کا ظہور تو ضرور معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ نئی حیثیت لازماً پہلی حیاتیاتی انسانی نوع ہی ہو، یہ بات لفظ اپنے اندر متعین نہیں کرتا۔ اِس کے تعین کے لیے اِس آیت کے سبا ق میں تخلیق کے اِن مراحل کے فوراً بعد فرمایا:
ثُمَّ اِنَّکُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوۡنَ. ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تُبۡعَثُوۡنَ.
(المومنون 23: 15- 16) ’’پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے۔‘‘
یعنی تم اِن مراحل کے بعد مرو گے اور پھر قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔
یہاں خطاب کسی ایک فرد، یعنی آدم علیہ السلام سے نہیں، بلکہ تمام انسانوں سے ہے۔ اُن کی تخلیق کے مراحل بیان کرنے کے بعد اُنھی کی موت اور پھر قیامت میں اُن کے دوبارہ اٹھائے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ اِس طرح پورا بیان پیدایش سے موت اور بعث تک عام انسانی زندگی کے تسلسل کو بیان کرتا ہے۔ چنانچہ آیات 12 تا 14 کو صرف آدم علیہ السلام کی مخصوص حیاتیاتی سرگذشت قرار دینا کلام کے اِس واضح تسلسل اور اُس کے عمومی خطاب کےبالکل خلاف ہے۔
3۔ نطفہ اور قرارِ مکین
ساجد صاحب کے نزدیک یہاں ’نطفہ‘ سے مراد زندگی کی پہلی حیاتیاتی صورت ہے، لیکن قرآن مجید کے دوسرے استعمالات میں ’نطفہ‘ مسلسل انسانی تولید کے معروف مرحلے ہی کے لیے آیا ہے۔ ارشادہوا ہے:
اَلَمۡ یَکُ نُطۡفَۃً مِّنۡ مَّنِیٍّ یُّمۡنٰی.
(القیامہ 75: 37) ’’کیا وہ حقیر پانی کی بوند نہ تھا جو ٹپکا دی جاتی ہے۔ ‘‘
مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اِذَا تُمۡنٰی. (النجم 53: 46) ’’پانی کی ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ ‘‘
اِنَّاخَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ.
(الدہر 76: 2)
’’یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو پانی کی ایک ملی جلی بوند سے پیدا کیا ہے۔‘‘
اِن نظائر کے ہوتے ہوئے ’نطفہ‘ کو ’’زندگی کی پہلی خلوی صورت‘‘ کے معنی میں لینا ایک تصوراتی تطبیق تو ہو سکتی ہے، لیکن لفظ کا معروف مفہوم نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اِس معنی کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، لہٰذا اِسے یہاں اِس مفہوم میں لینے کے لیے خود مقام سے کوئی واضح قرینہ درکار ہوگا۔
اِسی طرح قرارِ مکین کے معاملے میں قرآن ایک دوسری جگہ مزید رہنمائی کرتا ہے۔ارشاد ہوا ہے:
اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ. فَجَعَلۡنٰہُ فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ. اِلٰی قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ.
(المرسلات 77: 20- 22) ’’(تم سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد ہم تمھیں اٹھا نہ سکیں گے)؟ کیا ہم نے ایک بے وقعت پانی سے تم کو پیدا نہیں کیا؟ پھر اُس کو ہم نے ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ اُس کو ایک مقرر وقت تک۔‘‘
’قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ‘ کے الفاظ اپنی جگہ ایک محفوظ ٹھکانے پر دلالت کرتے ہیں، لیکن اِس مقام پر اُن کا مصداق سباق سے متعین ہوتا ہے۔ آیت پہلے ’مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ‘ کا ذکر کرتی ہے، پھر بتاتی ہے کہ اُسے ایک محفوظ مقام میں رکھا گیا اور وہاں ’اِلٰی قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ‘، یعنی ایک مقرر مدت تک ٹھہرایا گیا۔ یہ پورا بیان انسانی حمل کے معروف عمل سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، جس میں تولیدی مادہ رحمِ مادر میں قرار پاتا اور ایک متعین مدت تک وہیں نشوونما پاتا ہے۔ چنانچہ اِس مقام پر ’قرارِ مکین‘ کا مصداق رحمِ مادر کے علاوہ مراد نہیں لیا جا سکتا۔
قرآن کی اپنی صراحت کے بعد سورۂ مومنون میں اسی تعبیر کو رحمِ مادر کے بجاے زمین کے کسی مخصوص تخلیقی ماحول کے معنی میں لینے کے لیے خود کلام سے کوئی واضح قرینہ درکار ہوگا۔ محض یہ فرض کر لینا کہ وہاں آدم علیہ السلام کی پہلی تخلیق بیان ہو رہی ہے، اِس معروف مفہوم کو بدل دینے کے لیے کافی نہیں۔
4۔ نفسِ واحدہ اور انسانی نسب
ساجد صاحب ’نفسِ واحدہ‘ کو ایک ابتدائی حیاتیاتی وحدت کے طور پر سمجھتے ہیں اور ’مِنْهَا زَوْجَهَا‘ کو اُس وحدت سے آدم و حوا علیہما السلام کے وجود میں آنے کی تعبیر قرار دیتے ہیں۔ اِس استدلال میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ لفظ ’نفس‘ کے معنی کیا ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خود آیت اُس نفس کو کس نوعیت کے وجود کے طور پر پیش کرتی ہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ہواہے:
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا.
(الاعراف 7: 189) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا تاکہ اُس سے تسکین پائے۔ ‘‘
الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً. (النساء4: 1) ’’جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور اِن دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں۔ ‘‘
اِن آیات میں ’نفس‘ کسی غیر شخصی حیاتیاتی مادے کے طور پر سامنے نہیں آتا۔ اُس کا ایک زوج ہے، وہ اُس زوج سے سکون حاصل کرتا ہے اور آگے دونوں سے مردوں اور عورتوں کے پھیلنے کا ذکر ہوتا ہے۔ سورۂ اعراف میں اِسی بیان کے تسلسل میں ازدواجی تعلق اور حمل کا ذکر بھی آ جاتا ہے۔ چنانچہ خود آیت اُس ’نفس‘ کو ایک شخصی اور انسانی وجود کے طور پر پیش کرتی ہے، نہ کہ محض کسی ابتدائی خلوی وحدت کے طور پر۔
اسی طرح ’مِنْهَا زَوْجَهَا‘ سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ ایک جسمانی وجود منقسم ہو کر دو افراد میں بدل گیا۔ قرآن عام انسانوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے:
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا. (الروم30: 21) ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے۔ ‘‘
یعنی تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے۔ اِس استعمال سے واضح ہے کہ اِس نوع کی تعبیرات کسی جسمانی انقسام کو لازم نہیں کرتیں، بلکہ ایک ہی جنس سے تعلق کے بیان کے لیے آتی ہیں۔
چنانچہ یہاں تین الگ الگ دعوے ہیں،جن میں فرق کرنا ضروری ہے۔ پہلی بات، خود قرآن کا بیان ہے کہ موجود انسانی نسل کی نسبت ایک ’نفسِ واحدۃ‘ کی طرف کی گئی ہے۔ دوسری بات، یہ ایک قیاس ہے کہ اُس نفس کا حیاتیاتی مصداق ایک اولین زندہ خلیہ قرار دیا جائے۔ تیسری بات، یہ مفروضہ ہے کہ یہی ابتدائی خلیہ منقسم ہوا اور اُس کے نتیجے میں آدم و حوا علیہما السلام وجود میں آئے۔ پہلی بات آیت کے الفاظ میں موجود ہے، دوسری ایک قیاسی حیاتیاتی تطبیق ہے اور تیسری اُس تطبیق پر قائم ایک مزیدمفروضہ ہے، جس کی کوئی بنیاد قرآن مجید میں نہیں ہے۔ لہٰذا ’نفسِ واحدۃ‘ کے الفاظ موجود انسانی خاندان کے نقطۂ آغاز کو بیان کرتے ہیں۔ اُسے انسانی جسم کی تمام ماقبل حیاتیاتی تاریخ کی نفی پر محمول کرنا آیت کے بیان سےتجاوز ہے۔
5۔ آدم، عیسیٰ اور کلمۂ کن
ساجد صاحب آدم و عیسیٰ علیہما السلام کی مماثلت کو بھی اپنے موقف کی ایک اہم دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں:
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.
)آل عمران 3: 59 ( ’’اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اُسے مٹی سے بنایا، پھراُس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘
لیکن آیت کا سیاق و سباق آدم علیہ السلام کی حیاتیاتی تاریخ بیان کرنے کا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غیر معمولی ولادت سے اُن کی الوہیت اخذ کرنے کی تردید کا ہے۔
استدلال یہ ہے کہ اگر خدا کے غیر معمولی طریقۂ تخلیق سے پیدا ہونا کسی کو معبود بنا دیتا ہے تو آدم علیہ السلام اِس کے بہ درجۂ اولیٰ مستحق ہوتے، جن کی تخلیق کو قرآن مٹی اور کلمۂ کن سے نسبت دیتا ہے۔ جب آدم علیہ السلام اِس بنا پر معبود نہیں ہوئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غیر معمولی ولادت بھی اُن کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی۔ چنانچہ دونوں کے درمیان مماثلت کا مدار تخلیق کی تمام جسمانی جزئیات کا یکساں ہونا نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ دونوں کا وجود خدا کے آزاد تخلیقی ارادے سے قائم ہوا۔ اگر مماثلت ہر حیاتیاتی تفصیل میں مطلوب ہوتی تو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا وجود دونوں کے طریقۂ پیدایش کو مختلف کر دیتا۔ پس آیت ایک خاص نسبت میں مماثلت قائم کرتی ہے، تمام مراحل کی یکسانیت میں نہیں۔
اسی طرح ’کُنۡ فَیَکُوۡنُ‘ کو بھی کسی مرحلہ وار تخلیقی عمل کی نفی کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ حضرت مریم سے فرمایا گیا:
اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.)آل عمران 3: 47 ( ’’وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہوجا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔ ‘‘
اور پھر اُسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا .
)مریم 19: 22 (
’’سو مریم اُس بچے سے حاملہ ہو گئی اور (بیت المقدس سے نکل کر) اُس حمل کو لیے ہوئے، سب سے الگ ایک دور کی جگہ چلی گئی۔ ‘‘
یعنی کُن کے باوجود حمل ہوا، مدت گزری اور ولادت اپنے مراحل سے گزر کر واقع ہوئی۔ اِس سے واضح ہے کہ کلمۂ کن کا تعلق کسی عمل کے فوری یا تدریجی ہونے سے نہیں، بلکہ خدا کے ارادے اور اُس کی تخلیقی قدرت سے ہے۔ وہ چاہے تو کسی چیز کو بلاواسطہ وجود میں لائے اور چاہے تو اُس کے لیے اسباب اور مراحل مقرر کر دے، دونوں صورتوں میں اصل حقیقت اُسی کا ارادہ ہے۔
لہٰذا آدم علیہ السلام کے بارے میں ’کُنۡ فَیَکُوۡنُ‘ یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ اُن کی تخلیق خدا کے آزاد اور غیر محتاج ارادے سے ہوئی، لیکن اِس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ مٹی سے انسانی شخصیت تک کوئی درمیانی تخلیقی مرحلہ سرے سے موجود نہیں تھا۔لہٰذاکلمۂ کن اسباب اور مراحل کی نفی نہیں کرتا، وہ خدا کی اُن سے بے نیازی کو بیان کرتا ہے۔
یہ ڈاکٹر ساجد حمید صاحب کے پیش کردہ استدلال پر ہماری طالب علمانہ گزارشات ہیں۔ ہماری نظر میں اُن کی تعبیر کے بنیادی اجزا’نطفہ‘ کو اولین زندہ خلوی صورت، ’قرارِ مکین‘ کو محفوظ زمینی ماحول، ’نفسِ واحدہ‘ کو ابتدائی حیاتیاتی وحدت اور اُس سے آدم و حوا کے ظہور پر محمول کرناقرآن مجید کے الفاظ، اُن کی تالیف اور سیاق و سباق سے ثابت نہیں ہوتے۔ یہ ایک ممکن قیاسی حیاتیاتی تصور تو ہو سکتا ہے، لیکن کسی تصور کا ممکن ہونا اور اُس کا قرآن سے ثابت ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
قرآن مجید کی تفسیر میں اصل سوال یہی ہے کہ کسی معنی تک پہنچنے کا درست اور فطری منہاج کیا ہے، لفظ اپنے معروف مفہوم میں کیا کہتا ہے، جملے کی تالیف اُس مفہوم کو کس طرح متعین کرتی ہے اور سیاق و سباق مختلف احتمالات میں سے کس معنی کو ترجیح دیتا ہے؟ استدلال کی بنیاد اِنھی امور پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی مقام پر اِن سے ہٹ کر کوئی خاص معنی اختیار کیا جائے تو اُس کے لیے خود کلام میں ایسا قرینہ موجود ہونا ضروری ہے جو اُس التفات کی بنیاد فراہم کرے۔ ہمارے نزدیک ساجد صاحب کی تعبیر میں یہی چیز مفقود ہے؛ بعض حیاتیاتی تصورات پہلے فرض کیے جاتے ہیں اور پھر آیات کو اُن کے مطابق سمجھا جاتا ہے، جب کہ صحیح منہج یہ ہے کہ تعبیر متن سے پیدا ہو، متن کو تعبیر کے تابع نہ کیا جائے۔

محمد حسن الیاس

محمد حسن الیاس علوم اسلامیہ کے ایک فاضل محقق ہیں۔انھوں نے درس نظامی کی روائتی تعلیم کے ساتھ جامعۃ المدینۃ العالمیۃ سے عربی ادب کی اختصاصی تعلیم حاصل کی۔معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کے شاگرد اور علمی معاون ہونے کے ساتھ ان کے ادارے میں تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں