Home » کیا ابن تیمیہ اشاعرہ و ماتریدیہ کی طرح عدم سے تخلیق کے قائل ہیں ؟
اسلامی فکری روایت شخصیات وافکار کلام

کیا ابن تیمیہ اشاعرہ و ماتریدیہ کی طرح عدم سے تخلیق کے قائل ہیں ؟

ہمارے ایک فاضل دوست فرماتے ہیں کہ عدم سے تخلیق (creation ex-nihilo) کے معاملے میں علامہ ابن تیمیہ اشاعرہ ہی کی طرح ہیں، بس اتنا فرق ہے کہ ابن تیمیہ تخلیق کے عمل کو کسی خاص نکتے سے شروع کرانے کے بجائے اسے ماضی کی جانب لامتناہی دھکیل دیتے ہیں تاکہ خدا پر فارغ بیٹھ کر وقت گزارنے (یعنی تعطل صفات) کا الزام نہ آئے۔
ہمارے فاضل دوست کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اصطلاحات کو بغیر وضاحت کے برتتے چلے جاتے ہیں اور شاید اصلاح کئے جانے کو مناظرہ سمجھتے ہیں۔ خلق کا مطلب عدم سے وجود دینا ہے اور کسی شے کو کاز کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا وجود کسی خاصیت کی وجہ سے دوسرے وجود پر موثر اور اسے لازم کرنے والا ہے۔ اب ان اصطلاحات کو ذہن میں رکھ کر ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ نری غلط فہمی ہے کہ ابن تیمیہ واقعی اشاعرہ و ماتریدیہ کی طرح عدم سے تخلیق کے قائل ہیں، ان کے دو اصولوں کو جان رکھنا ضروری ہے:
1۔ کسی شے کا ماقبل شے کے بغیر وجود میں آنا ممکن نہیں، ہر شے کا امکان اس سے ماقبل شے میں ہوتا ہے۔ خدا نے ہر شے سے قبل ایک اور شے پیدا کی اور یہ سلسلہ لامتناہی چل رہا ہے۔
2۔ وہ چیزوں میں تاثیرات، یعنی کازیلٹی، کے قائل ہیں (زیر بحث گفتگو میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اشیا کی وہ تاثیرات ذاتی ہیں یا عطائی)
چنانچہ ہمارے دوست اس بات کو یکسر اگنور کررہے ہیں کہ مثلاً اگر الف شے واقعی ب کا کاز ہے تو یہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں کہ خدا ب کو خلق کرتا ہے، اس اصول کی رو سے خدا صرف الف کو خلق کرتا ہے جبکہ ب اس کی وجہ سے وجود میں آجاتا ہے (یہاں خدا ب کا مجازی معنی میں بالواسطہ خالق ہوسکتا ہے نہ کہ حقیقی معنی میں)۔ اور اگر خدا دونوں کو خلق کرتا ہے تو الف کے ب کا کاز ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں، یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ You cannot have your lunch and eat it too
لیکن ہمارے دوست ایک طرف یہ بھی کہے جارہے ہیں کہ خدا خلق کرتا ہے اور ساتھ سیکنڈری کازیلٹی کی بات بھی کرتے جا رہے ہیں۔ اب اگر کسی کے ذہن میں یہ چل رہا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ خدا خلق بھی کررہا ہو اور چیزوں میں تاثیر بھی ہو، تو یاد رکھنا چاہئے کہ ایک شے کے دو کازز ہونا محال ہے۔
اب اسے علامہ صاحب کے اس اصول کے ساتھ جوڑیں کہ اگر شے کا وجود اس سے ماقبل شے میں موجود امکان سے نتھی ہے اور چیزوں میں واقعی تاثیر ہے، تو خدا کسی خاص سیریز کے صرف کسی ابتدائی موجود کا خالق رہ جاتا ہے، سیریز کی باقی موجودات اپنے ماقبل موجودات کے معلول ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کاز ایفکٹ کی صورت جڑے ہوئے ہیں اور خدا کو انہیں خلق کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب تک آپ اشیا میں تاثیر یا کازیلٹی کو قبول کریں گے، تب تک بعض چیزیں بعض چیزوں سے وجود میں آئیں گی نہ کہ عدم سے، فافھم۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک اس عالم میں سب کچھ عدم سے وجود میں آتا ہے (یعنی خدا ہر موجود پر واحد موثر اور ہر شے کا خالق ہے) جبکہ ابن تیمیہ کے ہاں ایسا نہیں، ان کے نزدیک فلاسفہ و معتزلہ کی طرح بعض چیزیں بعض چیزوں سے وجود میں آتی ہیں (اگرچہ تفصیل میں کچھ ضمنی اختلاف ہو)۔
یاد رکھنا چاہئے کہ اشاعرہ و ماتریدیہ جسے عدم سے تخلیق کہتے ہیں اس کے دو اجزا ہیں:
1۔ حوادث کا آغاز
2۔ حوادث کے ایک دوسرے پر موثر ہونے کی نفی
ابن تیمیہ دونوں کا انکار کرتے ہیں۔
الغرض علامہ ابن تیمیہ کا موقف اس باب میں بھی اشاعرہ و ماتریدیہ جیسا نہیں۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ دیگر معاملات کی طرح انہوں نے یہاں بھی متضاد باتوں کو اکٹھا کرکے ایک فلسفہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ چیزوں میں تاثیر بھی مانی جاتی رہے اور خدا کو ہر شے کا خالق بھی کہا جاتا رہے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں