Home » ایک علمی مکالمہ : مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے مکتوبات
خط و کتابت مدرسہ ڈسکورسز

ایک علمی مکالمہ : مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے مکتوبات

ہمارے اسلاف کے ہاں مہذب گفتگو اور تبادلۂ خیال کی ایک طویل اور شاندار روایت رہی ہے — مکتوب نگاری کی وہ روایت جس میں سوال طعن کے لیے نہیں، طلب کے لیے اٹھایا جاتا تھا، اور جواب فتح کے لیے نہیں، افادے کے لیے دیا جاتا تھا۔ اور اپنے جواب کے بارے میں بھی میں یہی کہنا پسند کروں گا کہ وہ اِفادے کے لیے تھا، اِسکات کے لیے نہیں۔ ابو حیان توحیدیؒ نے ابنِ مسکویہؒ کے سامنے جو سوالات رکھے اور ابنِ مسکویہؒ نے جو جوابات مرحمت فرمائے، اُسی خط و کتابت سے کلاسیکی اسلامی روایت کی وہ نادر کتاب وجود میں آئی جسے ہم “الہوامل والشوامل” کے نام سے جانتے ہیں — یعنی ایک نجی مراسلت جو امت کا مشترکہ سرمایہ بن گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکتوب اول

(سوال و جواب)

نامۂ گرامی

پروفیسر ڈاکٹر محمد غیاث، لاہور  ·  ۱۶ اگست ۲۰۲۶ء

محترم پروفیسر ابراہیم موسیٰ صاحب،  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا مضمون “الوقوف على العتبة: المدرسۃ بین التوارث والملاءلہ” فکری بالیدگی اور عمیق بصیرت کا ایک نادر نمونہ ہے۔ روایت اور جدت کے مابین قائم اس تخلیقی مکالمے میں مغربی استعماری بیانیے اور مسلمان معاشروں کے فکری جمود پر آپ کی جرأت مندانہ اور متوازن تنقید انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ بالخصوص “حوارات المدارس” کا علمی و عملی تحرک اسلامی فکر کو عصرِ حاضر سے ہم آہنگ کرنے کی ایک بہترین کاوش ہے۔

تاہم، مضمون کے آخری حصے پر ایک مخلصانہ نقد اور چند التماس پیشِ خدمت ہیں:

١ — مغربی فکری اصطلاحات پر انحصار: اسلامی روایت اور فقہی بنیادوں کو پرکھنے کے لیے فوکو، پوسٹ ماڈرنزم اور مغربی اکیڈمی کے مفاہیم پر غیر معمولی انحصار یوں تاثر دیتا ہے جیسے اسلامی فکر اپنی حقانیت کے لیے مغربی فکری سند کی محتاج ہے۔

٢ — روایتی علماء کے خدشات کی علمی تلافی: مغربی و عیسائی اداروں (مثلاً ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن) کی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبوں پر روایتی علماء کے تحفظات کو محض “سازشی نظریات” یا دفاعی رویہ قرار دے کر صرفِ نظر کرنا مناسب نہیں۔ ماضی و حال کی استعماری تاریخ کے تناظر میں ان کی تشویش کے پیچھے واقعی کچھ فکری خدشات موجود تھے۔

تجاویز:

١ — روایتی علوم کی اصلاح و تجدید کے لیے مغربی مناہجِ فکر کی بجائے خود اسلامی روایت (مثلاً حکمتِ اشراق، فقہ المقاصد اور شاہ ولی اللہ دہلوی و علامہ اقبال کا فکری فریم ورک) سے ہی تنقیدی معائنے کے اصول وضع کیے جائیں۔

٢ — مستقبل کے ایسے تجدیدی منصوبوں کو بیرونی اداروں پر منحصر کرنے کے بجائے خود مسلمان امت اور آزاد اسلامی علمی اداروں کے تعاون سے استوار کیا جائے تاکہ روایتی طبقے کا اعتماد مکمل طور پر بحال ہو سکے۔

آپ کی مزید فکری و تحقیقی جولانیوں کے لیے دعا گو،

پروفیسر ڈاکٹر محمد غیاث  ·  ۱۶ اگست ۲۰۲۶ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند توضیحات

ابراہیم موسیٰ بنام ڈاکٹر محمد غیاث  ·  ۱۸ اگست ۲۰۲۶ء

محترم و مکرم جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد غیاث صاحب،  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گرامی نامہ موصول ہوا۔ سب سے پہلے شکریہ کہ آپ نے مضمون کو توجہ سے پڑھا اور اس کے بعض پہلوؤں کو قابلِ قدر جانا۔ علمی دنیا میں پڑھا جانا اور سنجیدگی سے پرکھا جانا بجائے خود ایک نعمت ہے، اور میں اسے اسی نگاه سے دیکھتا ہوں۔

بشار بن برد کا ایک مصرع اس وقت خاطر میں آیا:

لِلَّهِ دَرِّي، أَهْوَىٰ وَأَجْتَنِبُ

میں چاہتا تو خاموشی اختیار کر لیتا اور بعض اشارات، کنایات اور نیم پوشیده الزامات کو نظرانداز کر دیتا — یہی آسان راستہ تھا۔ لیکن چونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ کی ذات سے خیرِ کثیر کی توقع ہے، اور آپ جیسے صاحبِ علم کا قلم اگر درست معلومات پر استوار ہو تو بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے، اس لیے میں نے اسے اپنا فرض سمجھا کہ صحیح صورتِ حال آپ کے سامنے رکھ دوں۔ یہ تحریر معارضہ نہیں، محض توضیح ہے۔

اوّل: ایک بنیادی گزارش مطالعہ ابھی نامکمل ہے

آپ کے اٹھائے ہوئے نکات سے اندازه ہوتا ہے کہ مضمون کی آخری قسط ابھی آپ کی نظر سے نہیں گزری۔ یہ عرض کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آپ نے جن دو باتوں کو مرکزی نقد بنایا ہے — مغربی اصطلاحات پر انحصار، اور روایتی علما کے تحفظات کا مقام — دونوں پر صراحتاً اسی آخری حصے میں گفتگو ہے۔ اصل مضمون یہاں ملاحظہ فرمائیے:

hashiya.org/posts/inhabiting-threshold-dihlz میری گزارش ہے کہ پہلے پورا متن ملاحظہ فرما لیجیے۔ ممکن ہے آدھے سے زیاده اختلاف وہیں رفع ہو جائے، اور جو باقی رہے وه حقیقی اور قابلِ گفتگو ہو۔

دوم: نصیحت کا ادب اور تحقیق کی شرط

نصیحت اسلامی اخلاقیات کا ایک بلند مقام ہے — »الدِّینُ الن َّصِیحَةُ«۔ مگر اسی روایت نے نصیحت کے لیے شرائط بھی مقرر کی ہیں: علم، تثبّت، اور رفق۔ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا  (بنی اسرائیل: ٣٦)

اور:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ  (الحجرات: ١٢)

آپ نے جن اداروں، طریقِ کار اور مالی انتظامات پر تحفظات ظاہر فرمائے ہیں، ان کے بارے میں پہلے راقم سے یا اہلِ معاملہ سے استفسار فرما لیا ہوتا تو معاملہ چند سطروں میں طے ہو جاتا۔ بشار ہی نے کہا تھا:

إِذَا بَلَغَ الر َّأْيُ المَشُورَةَ فَاسْتَعِنْ … بِرَأْيِ نَصِیحٍ أَوْ نَصِیحَةِ حَازِمِ

یعنی رائے جب مشورے کے مرحلے تک پہنچے تو کسی خیرخواه کی رائے یا کسی صاحبِ عزم کی نصیحت سے مدد لی جائے۔ نصیحت مشورے کے بعد آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔

دوسری گزارش لہجے سے متعلق ہے، اور یہاں میں اپنے موقف کی وضاحت بھی کر دوں۔ میں نے مضمون میں علمائے کرام پر کوئی حملہ نہیں کیا؛ میں نے انہیں اس منصوبے کے ناقدین کے طور پر ذکر کیا۔ ہاں، یہ ضرور لکھا کہ ایک طبقہ سازشی طرزِ فکر میں الجھ گیا ہے — اور اس بات پر میں آج بھی قائم ہوں۔ لیکن یہ ایک کھلی، مدلل اور بامواجہہ بات تھی، تعریض یا اشاره نہیں۔ میری التماس صرف اتنی ہے کہ جواب بھی اسی صراحت کے ساتھ آئے۔ اگر کوئی حقیقی شکایت ہے تو وه نام لے کر، دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے؛ اور اگر محض شبہ ہے تو اس کا علاج تفتیش ہے، تلمیح نہیں۔ یہی میں آپ سے توقع رکھتا ہوں، اور یہی آپ کے مرتبے کے شایان ہے۔

سوم: “مدرسہ ڈسکورسزکی علمی بنیاد

یہ تاثر کہ اس منصوبے میں اسلامی فکر کو مغربی فکری سند کا محتاج ٹھہرایا گیا ہے، حقائق کے مطابق نہیں۔ نصاب کی اساس اوّلاً و بالذات اسلامی علمی سرمایہ ہے: غزالی، رازی، ابن سینا، ابن رشد، ابن تیمیہ، شاطبی، ابن خلدون، ملا صدرا، شاه ولی الله دہلوی، اور اقبال۔ ان کے ساتھ جدید علوم — تاریخ، علومِ کائنات، عمرانیات، فلسفۂ اخلاق — کا مطالعہ اس لیے شامل ہے کہ آج کے سوالات انہی میدانوں سے اٹھ رہے ہیں۔

اس باب میں سب سے صریح رہنمائی خود امام غزالیؒ سے ملتی ہے۔ میزان العمل میں طالبِ علم کے وظائف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الوظیفة الخامسة: للمتعلّم أن لا یدع فنّاً من فنون العلم، ونوعاً من أنواعھ إلا وینظر فیھ نظراً یطّلع بھ على غایتھ ومقصده وطریقھ. ثم إن ساعده العمر وأتتھ الأسباب طلب التبحّر فیھ، فإن العلوم كلھا متعاونة مترابطة بعضھا ببعض، ویستفید منھ

في الحال حتى لا یكون معادیاً لذلك العلم بسبب جھلھ بھ. فإن الناس أعداء ما جھلوا. قال تعالى: ﴿وَإِذْ لَمْ یَھْتَدُوا بِھِ فَسَیَقُولُونَ ھَٰذَا إِفْكٌ قَدِیمٌ﴾ … فلا ینبغي أن یستھین بشيء من أنواع العلوم، بل ینبغي أن یحصّل كل علم ویعطیھ حقھ ومرتبتھ، فإن

العلوم على درجاتھا إما سالكة بالعبد إلى الله، أو معینة على أسباب السلوك، ولھا منازل مرتبة في القرب والبعد من المقصد

اس اقتباس میں تین باتیں ہمارے موضوع سے براهِ راست متعلق ہیں۔ اوّل، طالبِ علم پر لازم ہے کہ علم کی کوئی شاخ ایسی نہ چھوڑے جس میں کم از کم اتنی نظر نہ ڈالے کہ اس کی غایت، مقصد اور طریقِ کار سے واقف ہو جائے۔ دوم، اس کی علت خود غزالیؒ نے بیان فرما دی: “فإن العلوم كلھا متعاونة مترابطة بعضھا ببعض” — تمام علوم باہم معاون اور باہم مربوط ہیں۔ سوم، اور یہ سب سے نازک نکتہ ہے: اس مطالعے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آدمی کسی علم کا محض اپنی ناواقفیت کی بنا پر دشمن نہ بن جائے — “فإن الناس أعداء ما جھلوا”۔

علوم کی باہمی ارتباط اور آپ کا سوالِ فوکو

اسی اصول پر میں فوکو اور اس نوعیت کے دیگر حوالوں کے بارے میں گزارش کروں گا۔ اگر علوم فی الواقع »متعاونۃ مترابطۃ« ہیں، تو علم کا انقسام مشرق و مغرب کی خطی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ کوئی علم بندے کو الله کی طرف لے جاتا ہے یا اس سفر کے اسباب میں معاون بنتا ہے — اور اسی نسبت سے اس کا درجہ متعین ہوتا ہے۔ اس معیار کے مطابق ایک تجزیاتی آلہ — خواه وه اقتدار اور علم کے تعلق کا تجزیہ ہو یا اداره جاتی نظم کا — استعمال کیا جا سکتا ہے، پرکھا جا سکتا ہے، اور جہاں ناقص ہو وہاں رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ آلہ اپنے صانع کا مذہب نہیں رکھتا۔ فوکو مضمون میں سند کے طور پر نہیں آتا؛ وه ایک سوال پوچھنے کا ذریعہ ہے، اور جواب اسلامی روایت ہی سے مستنبط ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ جس منطق کو غزالیؒ نے اصولِ فقہ کا مقدمہ بنایا وه سرچشمے کے اعتبار سے یونانی تھی؛ اور جس ہیئت و حساب کو ہمارے اسلاف نے اپنایا وه ہندی و فارسی ورثے سے آیا۔ روایت نے کبھی حکمت کو اس کے مولد کی بنا پر رد نہیں کیا:

الحِكْمَةُ ضَال َّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَ أَحَق ُّ بِھَا

اور اقبال کی مثال

اسی ضمن میں ایک بات جو شاید وقتی طور پر ذہن سے اوجھل ہو گئی۔ آپ نے تجویز فرمایا کہ مغربی مناہجِ فکر کے بجائے علامہ اقبالؒ کے فکری فریم ورک سے تنقیدی اصول اخذ کیے جائیں۔ میں اس تجویز کا خیرمقدم کرتا ہوں — مگر عرض یہ ہے کہ تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ بجائے خود اس بات کی سب سے نمایاں مثال ہے کہ ایک مسلمان مفکر مغربی فکر میں کس گہرائی تک اترا اور پھر اسے اسلامی مقاصد کے تابع کر کے واپس لایا۔ اقبالؒ نے میونخ اور کیمبرج میں تعلیم پائی، برگساں کے تصورِ زمان، وائٹ ہیڈ کی مابعد الطبیعیات، آئن سٹائن کی نظریۂ اضافیت، نطشے، ہیگل، اور جدید نفسیات — ان سب سے براهِ راست مکالمہ کیا، اور خطبات کے صفحات ان حوالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کا مقالۂ ڈاکٹریٹ ہی        The        Development        of Metaphysics in         Persia        تھا، جو مغربی تحقیقی مناہج پر لکھا گیا۔

تو جو کچھ اقبالؒ نے کیا، وہی اصول ہے جس پر ہم چل رہے ہیں: جدید علم سے اعراض نہیں، بلکہ اس پر تصرف۔ اگر اقبالؒ کا راستہ قابلِ اقتدا ہے — اور یقیناً ہے — تو اسی راستے پر چلنے والوں پر مغرب زدگی کا الزام قائم نہیں ره سکتا۔

اور یہ عرض کر دوں کہ جن مجالس پر یہ اعتراض ہے، ان میں تدریس کرنے والے اور شریک ہونے والے دونوں طبقے علمائے اسلام ہی ہیں — اپنے مدارس کے فارغ التحصیل، اپنی روایت کے وارث۔

چہارم: مالی وسائل کا مسئلہ چند حقائق

یہاں میں پوری صراحت کے ساتھ عرض کروں گا، کیونکہ اسی نکتے پر سب سے زیاده مغالطہ ہے۔

ایک: بین الاقوامی تحقیقی گرانٹ کا نظام میرٹ اور محکّمانہ جائزے (weiver        reep ) پر مبنی ہوتا ہے۔ تجویز پیش کی جاتی ہے، ماہرین اسے جانچتے ہیں، اور منظوری کے بعد علمی مواد، نتائج اور آرا مکمل طور پر محققین کی اپنی ملکیت رہتی ہیں۔ اداره نہ مضامین لکھواتا ہے، نہ نتائج طے کرتا ہے، نہ کسی نظریے کی پابندی عائد کرتا ہے۔ جامعاتی معاہدے صراحتاً علمی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔

دو: یہ کوئی استثنائی صورت نہیں۔ پاکستان کی سینکڑوں جامعات اور تحقیقی ادارے — سرکاری و نجی دونوں — ہر سال غیر ملکی و بین الاقوامی وسائل سے استفاده کرتے ہیں: فل برائٹ، برٹش کونسل، DAAD ، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، JICA اور دیگر۔ خود HEC کے متعدد پروگرام اسی زمرے میں آتے ہیں۔

تین: تناسب کا لحاظ فرمائیے۔ پاکستان کو تمام دوطرفہ اور کثیرالجہتی عطیہ دہندگان سے مجموعی طور پر سالانہ تقریباً چار سے ساڑھے چار ارب ڈالر کی سرکاری ترقیاتی امداد )ODA ( موصول ہوتی ہے۔ اور یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ یہ سارا سرمایہ انہی ممالک سے آتا ہے جو یا تو عیسائی اکثریت کے حامل ہیں یا سیکولر — امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان، اور وه عالمی ادارے جن کے اصل ممد یہی ممالک ہیں۔ اگر عطیہ دہنده کا مذہب بجائے خود موجبِ جرح ہے، تو پھر یہ اعتراض صرف ایک تعلیمی منصوبے پر نہیں، پاکستان کے پورے شعبۂ صحت، تعلیم، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر عائد ہو گا۔ اس محدود سی تعلیمی گرانٹ کو »استعماری اثر« کے پیمانے پر تولنا معاملے کے حجم کے ساتھ انصاف نہیں — اور یہ نتیجہ، مجھے یقین ہے، آپ خود بھی قبول نہ فرمائیں گے۔

چار: ایک اور پہلو جس سے شاید آپ اس قدر واقف نہ ہوں: مغرب میں بسنے والے مسلمان اپنی علمی، دینی اور رفاہی سرگرمیوں میں یہاں کے تمام بڑے اداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور ان میں سے بہت سے عیسائی ادارے ہیں۔ جامعات، ہسپتال، بین المذاہب مراکز، تحقیقی فاؤنڈیشنز — یہ ہمارے روزمره کے علمی ماحول کا حصہ ہیں۔ راقم خود ایک کیتھولک جامعہ میں اسلامی علوم کا استاد ہے، اور یہاں اسلام کی تدریس مکمل آزادی کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہی وه زمینی حقیقت ہے جو دور بیٹھ کر نظر نہیں آتی، اور اسی سے یہ سوال بھی طے ہو جاتا ہے کہ تعاون بجائے خود تحلیل کا موجب نہیں ہوتا۔

پانچ: اور اصولی بات یہ کہ اسلامی علمی روایت میں کسی قول کا وزن اس کے دلائل سے متعین ہوتا ہے، اس کے مصارف سے نہیں۔ اگر مضمون میں کوئی بات خلافِ تحقیق ہے تو اس پر بالمواجہہ گرفت فرمائیے — میں ممنون ہوں گا۔ لیکن مالی وسیلے کو دلیل کے قائم مقام بنانا مغالطۂ استدلال ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے: علمائے کرام کے مخلصانہ اور مدلل تحفظات میرے نزدیک قابلِ احترام ہیں اور میں ان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ استعماری تاریخ کے تجربے سے پیدا ہونے والی حساسیت بھی قابلِ فہم ہے۔ مگر حساسیت تحقیق کا بدل نہیں بن سکتی، اور جہاں شبہ دلیل کی جگہ لے لے وہاں گفتگو رک جاتی ہے۔

پنجم: آپ کی تجاویز اور ایک درخواست

آپ کی پہلی تجویز مجھے عزیز ہے، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ وه پہلے سے عملاً موجود ہے۔ فقہ المقاصد، شاه ولی الله دہلویؒ کا فکری فریم ورک، اور اقبالؒ کی تشکیلِ جدید — یہ تینوں نصاب کے مرکزی اجزا ہیں، اور تنقیدی معائنے کے اصول انہی سے مستنبط کیے جاتے ہیں۔

دوسری تجویز — کہ ایسے منصوبے بیرونی اداروں کے بجائے خود مسلمان امت اور آزاد اسلامی علمی اداروں کے تعاون سے استوار ہوں — اصولاً بالکل درست ہے، اور یہی میری اپنی دلی خواہش رہی ہے۔ لیکن یہاں مجھے ایک ذاتی تجربہ عرض کرنا ہے۔

میں نے برسوں اسی سمت میں کوشش کی ہے۔ خلیجی ممالک کے تعلیمی اوقاف، جنوبی ایشیا اور مغرب کے مسلمان مخیر حضرات، اسلامی جامعات، بین الاقوامی اسلامی ادارے، مسلم فاؤنڈیشنز — جہاں تک رسائی ممکن تھی، دستک دی۔ بعض جگہ سے خاموشی ملی، بعض جگہ حوصلہ افزائی تو ملی مگر عملی تعاون نہ ہو سکا، اور بعض جگہ یہ کہا گیا کہ مدارس کی فکری تجدید ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ جب سارے دروازے کھٹکھٹا لیے تو جو دروازه کھلا، اسی سے کام کا آغاز ہوا — اس شرط کے ساتھ کہ علمی آزادی مکمل رہے گی، اور وه شرط آج تک پوری طرح قائم ہے۔

اب میری درخواست یہ ہے، اور یہ درخواست پورے اخلاص کے ساتھ ہے: اگر آپ کے علم میں کوئی مسلمان اداره، وقف، یا صاحبِ خیر ایسا ہے جو اس نوعیت کے کام کو سنبھالنے پر آماده ہو، تو براهِ کرم مجھے اس کی طرف رہنمائی فرمائیے۔ میں آپ کا ممنون ہوں گا، اور یہ آپ کی جانب سے حقیقی معنوں میں نصیحت ہو گی — کیونکہ نصیحت کا اصل مرتبہ یہی ہے کہ راستہ بند کرنے کے بجائے راستہ دکھایا جائے۔ اگر ایسا کوئی وسیلہ میسر آ جائے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی طرف بڑھے گا۔

ششم: مواد ملاحظہ فرمانے کی دعوت

مدرسہ ڈسکورسز کا تمام تعلیمی مواد — نصاب، تراجم، مطالعاتی رہنما، اور ویڈیو لیکچرز — عام دستیاب ہے:

madrasadiscourses.nd.edu میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ ان وسائل کو خود ملاحظہ فرمائیں، اور اگر آپ کے اپنے تدریسی یا تحقیقی کام میں ان سے کچھ فائده پہنچے تو بلا تکلف استعمال فرمائیں۔ ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔ خود دیکھ لینے سے بہتر کوئی فیصلہ کن دلیل نہیں۔

آخر میں:

ایک لطیف اتفاق پر نظر ٹھہر گئی۔ میزان العمل کے اسی مقام پر، جہاں امام غزالیؒ نے فرمایا کہ “لوگ اُس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جس سے وه ناواقف ہوں”، انہوں نے شاہد کے طور پر یہی شعر نقل کیا ہے جو مجھے اپنے بعض ناقدین کے بارے میں یاد آتا رہا ہے:

وَمَنْ یَكُ ذَا فَمٍ مُرٍّ مَرِیضٍ … یَجِدْ مُرّاً بِهِ المَاءَ الزُّلاَلَا

جس کا ذہن بیماری سے تلخ ہو، اسے میٹھا پانی بھی کڑوا معلوم ہوتا ہے۔ غزالیؒ اسے جہل کی علامت کے طور پر لائے تھے، اور اسی سیاق میں میں بھی اسے پیش کرتا ہوں — کسی شخص کی تنقیص کے لیے نہیں، بلکہ اس یاددہانی کے لیے کہ ذائقے کی خرابی کا علاج پانی بدلنے سے نہیں ہوتا۔

مجھے امید ہے کہ آپ اس تحریر کو اسی روح میں قبول فرمائیں گے جس میں لکھی گئی ہے — تصفیہ و توضیح کی روح میں، نہ کہ مخاصمت کی۔ میرے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں۔ اختلاف باقی رہے تو رہے، بشرطیکہ وه علم پر قائم ہو۔

ابراہیم موسیٰ  ·  ۱۸ اگست ۲۰۲۶ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکتوب دوم

(سوال و جواب)

استاد محترم!

ڈاکٹر محمد عرفان ندیم بنام ابراہیم موسیٰ  ·  ۲۰ اگست ۲۰۲۶ء

استاد محترمبصد تسلیم و آداب!

آپ کا جوابِ آں غزل پڑھا ، بغیر کسی مبالغہ آرائی کے سچی بات یہ ہے کہ آپ نے نہایت مدلل، جامع، متوازن اور مسکت جواب تحریر کیا ہے۔ یہ محض کسی اعتراض کا جواب نہیں بلکہ ایک ایسی سنجیدہ علمی وضاحت ہے جس میں استدلال بھی ہے، تہذیبِ گفتگو بھی، وسعتِ نظر بھی اور فکری دیانت بھی۔

تحریر پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ استدلال ہاتھ باندھے آپ کے سامنے کھڑا ہے اور آپ نے اسے نہایت سلیقے، ترتیب اور قرینے کے ساتھ مختلف جہتوں میں استعمال کیا ہے۔ آپ نے محض اعتراضات کا تعاقب نہیں کیا بلکہ ان کے پسِ پشت موجود مقدمات، مفروضات اور ذہنی رویوں کو بھی گرفت میں لیا ہے۔ یہی چیز اس تحریر کو ایک عام جوابی مضمون سے بلند کرکے ایک سنجیدہ علمی مکالمے کی صورت عطا کرتی ہے۔

آپ کی تحریر میں الفاظ کا انتخاب انتہائی نپا تلا، گنا چنا اور برمحل ہے۔ کہیں عبارت میں تصنع محسوس نہیں ہوا اور کہیں استدلال پر خطیبانہ جذباتیت غالب نہیں آئی۔ ہر جملہ اپنے محل پر ہے اور ہر لفظ اپنے مفہوم کو پوری قوت کے ساتھ ادا کررہا ہے۔ خصوصاً مناسب مقامات پر اشعار کا استعمال محض حسنِ کلام کے لیے نہیں بلکہ استدلال کو مزید معنوی گہرائی اور تاثیر عطا کررہا ہے ۔اس طرح تحریر میں شعر محض آرائشِ سخن نہیں رہا بلکہ دلیل کا ایک مؤثر حصہ بن گیا ہے۔

سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ آپ نے ہر سوال اور ہر اعتراض کو اس کی جڑ سے پکڑا ہے۔ کسی اعتراض کے بنیادی مقدمے کو سمجھ کر اسے اسی مقام پر چیلنج کرنا جہاں سے وہ جنم لیتا ہےایک الگ علمی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہےاور آپ نے یہی کیا ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے ، مجھ سمیت بہت سے احباب نے مختلف مواقع پر لکھا اور اپنے اپنے انداز میں اس پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن آپ نے جس وسعت اور وضاحت کے ساتھ اس معاملے کو نمٹایا وہ قابل تحسین ہے۔ آپ نے شخصیات، اداروں اور نعروں کے بجائے اصول، علمی منہج اور فکری مقاصد کی بنیاد پر گفتگو کی ہےاور یہی اس جواب کی اصل قوت ہے۔

خصوصاً امام غزالیؒ اور علامہ اقبالؒ کے حوالوں نے بحث کو ایک بالکل مختلف سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ان دونوں عظیم مفکرین کے حوالے یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہیں کہ اسلامی روایت کوئی جامد اور منجمد تصور نہیں بلکہ اس کے اندر نقد، تجدید، اجتہاد، سوال، مکالمہ اور فکری ارتقا کی ایک نہایت توانا روایت موجود ہے۔میرے خیال میں ان حوالوں کے بعد ایک سنجیدہ روایت پسند کے لیے بھی اس نوع کے منصوبوں کو محض شبہے کی بنیاد پر مسترد کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اور آخر میں ’’درخواست‘‘ کے عنوان سے آپ نے جو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی خوب ہے ۔ آزاد اسلامی اداروں کے باہمی اشتراک سے علمی کام کرنے کی خواہش کو جس طرح آپ نے بے نقاب کیا اوراس کے حقیقی پس منظر کو واضح کیا ہے اس کے بعد کوئی سوال اور کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔آپ نے اس پورے معاملے میں دفاع سے زیادہ وضاحت، رد سے زیادہ تفہیم اور تنقید سے زیادہ اصلاح کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریر میں سختی کے باوجود تلخی نہیں، اختلاف کے باوجود تہذیب ہے اور جواب دیتے ہوئے بھی علمی وقار پوری طرح برقرار ہے۔

اب اگر ان تمام توضیحات، دلائل، تاریخی شواہد اور فکری حوالوں کے بعد بھی کوئی شخص ایسے علمی منصوبوں کو شکوک و شبہات کی عینک سے دیکھنے پر مصر ہے تو پھر واقعی آپ کی بات موزوں ہے کہ بیمار دہن کو صحیح ذائقہ محسوس نہیں کروایا جا سکتا۔

ایک بات البتہ آخر میں عرض کرنا چاہوں گا اور شاید یہی اس پوری بحث کا وہ پہلو ہے جو میرے لیے سب سے زیادہ اضطراب کا باعث ہے۔بلاشبہ آپ نےغیاث صاحب کے اعتراضات کا علمی اور مدلل جواب دیا ہے اور ساری صورت حال واضح کر دی ہے ۔ لیکن اس کے بعد ایک سوال شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ اگر مرض کی تشخیص ہو جائے تو طبیب کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟

ایک طبیب جب کسی مرض کی تشخیص کر لیتا ہے تو وہ محض یہ کہہ کر مطمئن نہیں ہو جاتا کہ مریض بیمار ہے یا مرض کی نوعیت یہ ہے۔ بلکہ تشخیص کے بعد اس کی سنجیدگی اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ مرض کی جڑ، اس کے اسباب، اس کی پیچیدگیوں اور ممکنہ علاج کے تمام راستوں پر غور کرتا ہے، کیونکہ اس کا اصل منصب مرض کی نشاندہی نہیں بلکہ شفا کی سبیل تلاش کرنا ہے۔

اسی تناظر میں میری گزارش ہے کہ جب آپ یہ جان اور محسوس کرچکے ہیں کہ اہلِ مدرسہ وا ہل روایت میں کہیں کج فہمی موجود ہے ، اس کے ساتھ نئے علمی چیلنجز سے بے اعتنائی بھی ہے اور کہیں اپنی عظیم علمی روایت کے امکانات کا ادراک بھی محدود ہے، تو آپ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔بطور طبیب آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ مرض کی جانکاری کے ساتھ، اس کے علاج کے لیے نئے طریقے، نئی تدابیر اور نئے راستے بھی تلاش کریں؟

میرا اصل اضطراب یہی ہےاورمیں کئی برسوں سے اس سوال پر غور کر رہا ہوں کہ کس طرح اہل مدرسہ و اہل روایت کو اس مرض کا احساس دلا کر انہیں علاج کے لیے راضی کیا جائے ۔ کس طرح اہلِ مدرسہ کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کے پاس صرف ایک محفوظ ماضی نہیں بلکہ ایک ایسا علمی سرمایہ موجود ہے جو مستقبل کی تعمیر میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے؟ اور کس طرح اہلِ روایت کو یہ باور کرایا جائے کہ روایت سے وفاداری کا تقاضا صرف اسے محفوظ رکھنا نہیں بلکہ اسے زندہ رکھنا اور آگے بڑھا نا بھی ہے؟

اسی لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس پہلو پر بھی غور فرماتے رہیں۔ مدرسے کے تاریخی کردار کے احیا، اہلِ مدرسہ کے مرض کے علاج، اہل روایت کے ساتھ ہمدردانہ تعامل اور مدارس کو اسلامی روایت کی تجدید و احیا کے ایک مؤثر مرکز میں تبدیل کرنے کے ممکنہ راستوں پرغور وفکر اور عملی اقدامات اٹھاتے رہیں۔

میری یہ گزارش ایک ایسے شخص کا اضطراب ہےجو پچھلے کئی برسوں سے اس سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے ۔ شاید آپ جیسے عظیم ، مخلص ، درد مند اور اور امت کے خیر خواہ کا غوروفکر اور عملی کوششیں ، مجھ جیسے ہزاروں مضطربیں کو کسی سمت تک پہنچا سکیں۔

محمد عرفان ندیم  ·  ۲۰ اگست ۲۰۲۶ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکتوبِ تشکر

ابراہیم موسیٰ بنام ڈاکٹر محمد عرفان ندیم  ·  ۳ ستمبر ۲۰۲۶ء

جناب مولانا عرفان ندیم صاحب زید مجدکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

نامۂ گرامی جو آپ نے میرے مکتوبِ ڈاکٹر غیاث پر بھیجا تھا، اور اس کے بعد وہ محبت آمیز یاد دہانی — دونوں سرِ چشم۔ پہلے ایک اعترافِ حقیقت، پھر عرضِ شکر۔

اوّل: جو کچھ ہوا، وہ یہ ہوا

خدا گواہ ہے کہ آپ کی تحریر سے ناگواری کا شبہ بھی دل کے کسی گوشے میں نہ گزرا۔ حقیقت اس سے بہت سادہ اور بہت شرمندہ کرنے والی ہے: جس روز آپ کا مکتوب موصول ہوا، میں نے اس کی ابتدائی چند سطریں پڑھیں، دل تھم گیا، اور میں نے خود سے وعدہ کیا کہ اسے یکسوئی کے ساتھ، پورا، ٹھہر کر پڑھوں گا۔ پھر درس گاہ کا موسم شروع ہو گیا، ایک پیچیدہ مقالے کی تکمیل کا دباؤ آ پڑا، اور وقت نے وہ وعدہ مجھ سے چھین لیا۔ سو تاخیر بے اعتنائی نہ تھی، بلکہ اُس ادب کا تقاضا تھا جو ایسی تحریر کا حق تھا — اور میں اسی حق کی ادائیگی میں کوتاہ رہا۔ اس پر آپ سے معافی کا خواستگار ہوں۔

اور سچ یہ ہے کہ عمر بھر مجھے کسی یاد دہانی نے اتنی مسرت نہ دی جتنی آپ کی اس یاد دہانی نے، کیونکہ اس نے مجھے ایک ایسی تحریر کی طرف لوٹایا جو میرے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔

دوم: آپ کے مکتوب نے مجھ پر کیا کیا

جناب، ایک ہی خط میں آپ نے میرے برسوں کے وقت، محنت، اور اُن تمام جھوٹے الزامات، مہماتِ تنقیص اور بہتان تراشیوں کا حساب برابر کر دیا جو اس کام کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ میں یہ سارا کام ایک بار پھر، اوّل سے آخر تک، محض آپ کے اس بصیرت افروز اور قدر شناس مکتوب کی خاطر کرنے کو تیار ہوں۔

قرآن نے فرمایا:

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ

(کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہو سکتا ہے؟)

اور اگر مجھے قرآنی اسلوب سے ذرا سی رعایت لینے کی اجازت ہو تو میں کہوں گا:

فَمَا جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْعِرْفَان

آپ کی بصیرت بے مثال ہے، اور اپنے مشترک ورثے — تراث و روایت — کے لیے آپ کا درد اور آپ کی فکرمندی سچی بھی ہے اور بے نظیر بھی۔ میری دعا ہے کہ اللہ اس نگاہ کو اور بہت سے دلوں میں پیدا کرے، اور آپ کو مختلف مسلم گروہوں اور متضاد مکاتبِ فکر کے درمیان تبدیلی اور مکالمے کا آلۂ کار بنائے۔

سوم: قدر شناسی کی نایابی

آپ کے مکتوب کا اصل پیغام میرے لیے دلیل و استدلال نہ تھا؛ وہ آپ کی سچی محبت تھی، اور اُس کام کی قدر شناسی جو ہم مل کر کرتے ہیں۔ یہ جنس نایاب ہے۔ لوگ آپ جیسوں کی طرح دل کھول کر دینے میں بخیل ہوتے ہیں۔ عرب کا وہ مشہور مصرع یاد آتا ہے:

هَيْهَاتَ أَنْ يَأْتِيَ الزَّمَانُ بِمِثْلِهِ  ٭  إِنَّ الزَّمَانَ بِمِثْلِهِ لَبَخِيلُ

(کہاں! زمانہ اس جیسا کوئی اور لائے؟ زمانہ ایسوں کے معاملے میں بڑا ہی بخیل ہے۔)

یعنی: إِنَّ الزَّمَانَ عَلَىٰ مِثْلِكُمْ لَبَخِيلٌ — آپ جیسے لوگ، اور مدرسہ ڈسکورسز کے تمام دوست و احباب، اور خاص کر اساتذۂ کرام، سب بے نظیر افراد ہیں؛ اور زمانہ ایسوں کے معاملے میں تنگ دست اور بخیل ہے۔

اور اسی مقام پر شیکسپیئر مجھے یاد دلاتا ہے کہ کھرے، شستہ اور آزمائے ہوئے دوستوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ ہیملٹ میں پولونیس اپنے بیٹے لیئرٹیز کو نصیحت کرتا ہے:

Those         friends         thou          hast,          and          their          adoption         tried

Grapple         them          to           thy         soul          with         hoops         of           steel

جو دوست تجھے میسر ہیں، اور جن کا اپنانا آزمایا جا چکا ہے

اُنہیں فولاد کے حلقوں سے اپنی روح کے ساتھ کس کر باندھ لے

پہلا مصرع شرط ہے، دوسرا حکم: پہلے دوستی کو کسوٹی پر پرکھ لو، پھر جو کھری نکلے اُسے ڈھیلا نہ چھوڑو۔ شیکسپیئر کے پیشِ نظر یہاں لکڑی کا وہ پیپا ہے جس کے تختے اپنی جگہ نہیں ٹکتے جب تک فولاد کے چھلّے اور پٹیاں اُنہیں گرد سے جکڑ نہ لیں — دوستی بھی ایسی ہی ہے: تختے موجود ہوں تو کافی نہیں، انہیں باندھنے والا آہنی حلقہ چاہیے، ورنہ سب بکھر جاتا ہے اور جو کچھ اندر ہے وہ بہہ جاتا ہے۔ آپ کا مکتوب میرے لیے وہی آہنی حلقہ ہے۔ اور ہماری ساری دوستی علم و حکمت کے سبب قائم ہوئی — اِس سے برتر بنیاد بھلا کیا ہو سکتی ہے؟

چہارم: ابو العلاء کی دو کیفیتیں

جناب عرفان! میں چاہتا تو اپنے محبوب متقدم شاعر ابو العلاء معرّی کے اسی شکوے اور اسی تیوَر پر قناعت کر لیتا:

وَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَهْلَ فِي النَّاسِ فَاشِيًا  ٭  تَجَاهَلْتُ حَتَّى ظُنَّ أَنِّيَ جَاهِلُ

فَوَا عَجَبًا كَمْ يَدَّعِي الْفَضْلَ نَاقِصٌ  ٭  وَوَا أَسَفًا كَمْ يُظْهِرُ النَّقْصَ فَاضِلُ

جب میں نے دیکھا کہ جہل لوگوں میں عام ہو چکا ہے

تو میں نے خود کو نادان بنا لیا، یہاں تک کہ گمان کیا گیا کہ میں جاہل ہوں

سو ہائے حیرت! کتنے ناقص ہیں جو دعوائے فضل کرتے ہیں

اور ہائے افسوس! کتنے اہلِ فضل ہیں جو اپنا نقص ظاہر کرتے ہیں

مگر مجھے معرّہ کے اُس نابینا، ذہینِ کامل اور بلند پایہ شخص کی رعایت میسر نہیں، جس کے ساتھ دنیا نے بے مہری کی اور جسے اپنے دفاع کا یہی راستہ سوجھا۔ میں ہماری امت کے بارے میں اُس سے کچھ زیادہ پُرامید ہوں، اور اُن حقیقی امکانات پر یقین رکھتا ہوں جو آپ کی نسل کی دسترس میں ہیں — بشرطیکہ ہماری نسل ذرا سا دھکا دے دے۔ جہاں ہم ناکام ہوئے، وہاں آپ کی نسل کو کامیاب ہونا ہے۔ ہمارا اور آپ کا مشترکہ ورثہ زمانے کی سختیوں اور امت کی ناکامیوں سے ویران پڑا ہے۔

سو جو کچھ ہم نے مدرسہ ڈسکورسز میں کیا، اور جو ہمیں آگے بھی کرتے رہنا ہے، اُس کے لیے میں اپنا اور آپ کا نام معرّی کے اِن دوسرے مصرعوں میں لکھا دیکھنا چاہتا ہوں:

تُعَدُّ ذُنُوبِي عِنْدَ قَوْمٍ كَثِيرَةً  ٭  وَلَا ذَنْبَ لِي إِلَّا الْعُلَىٰ وَالْفَوَاضِلُ

ایک قوم کے ہاں میرے گناہ بے شمار گنے جاتے ہیں

حالانکہ میرا گناہ بلندیِ ہمت اور فضل و کرم کے سوا کچھ نہیں

پنجم: اور آخری بات

مجھے پھر دہرانے دیجیے کہ آپ کے مکتوب نے مجھے کس قدر متاثر اور کس قدر تقویت بخشی۔ خاموشی کے بعض لمحوں میں مستقبل پر میرا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے؛ آپ کی تحریر نے مجھے نہ صرف تازہ دم کیا بلکہ ازسرِ نو زندہ کر دیا۔ اور یہ بھی عرض کر دوں: میں مجرم ہوں گا، بلکہ اللہ کے نزدیک گناہ گار، اگر کبھی یہ خیال میرے دل سے گزرے کہ آپ کی نسل کو ہمارے مدارس کی روایت، علومِ اسلامیہ کی کلاسیکی میراث، اور اس کے ارتقاء و اعلاء اور عالمِ اسلام کے ہر خطے میں اس کی شادابی سے کوئی سروکار نہیں۔ آپ کے اس نہایت گہرے اور پُرمغز مکتوب نے میرا اعتماد بحال کر دیا ہے، اور مجھے زیادہ حوصلے، زیادہ بھروسے اور زیادہ امید کے ساتھ آگے محنت کرنے کے لیے تیار کر دیا ہے۔

ششم: طبیب کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟

آپ کا اضطراب میرا بھی اضطراب ہے۔

آپ نے پوچھا کہ طبیب کب تک دوا دیتا رہے؟ میرا جواب یہ ہے: جب تک مریض شفا نہ پا لے، یا خود طبیب کو ملک الموت اٹھا کر مشیّتِ ایزدی کے حوالے نہ کر دے۔ اِن دو کے سوا کوئی تیسری حد نہیں۔ ہمارے پاس اِس کی گنجائش نہیں کہ ہم اپنے لوگوں سے مایوس ہو کر ہاتھ جھاڑ لیں۔ اور اس راہ میں ہمارے پاس موعظۂ حسنہ کے سوا کوئی اور راستہ نہیں:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

(اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ بلاؤ، اور اُن سے مجادلہ اُس طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔)

ہمارا مقصد بحث جیتنا نہیں، اپنے دوستوں اور رفقاء کے دل جیتنا ہے۔ اور جس دن اُن کے دل جیت لیے گئے، وہ بھی آپ ہی کی طرح صداقت اور تنویر کے مشعل بردار بن جائیں گے۔

مگر یہاں ایک نکتہ ہے جسے امام غزالیؒ نے ہم سے کہیں پہلے سمجھ لیا تھا۔ طبیب کا کام صرف نسخہ لکھنا نہیں؛ اُسے اپنے مخاطب کی نفسیاتی حالت پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ دل جیتنا فی الحقیقت نفسیات کا معاملہ ہے — غلط اطلاعات، شبہات، اندیشے اور خوف جو مخاطب کے باطن میں جمع ہو چکے ہیں۔ ہمیں اِن کی طرف متوجہ رہنا ہو گا، ورنہ دوا اثر ہی نہ کرے گی؛ کیونکہ بارہا مرض بجائے خود مرض نہیں ہوتا، بلکہ ایک گہرے نفسیاتی اضطراب کی علامت ہوتا ہے، اور اصل سبب وہی اضطراب ہوتا ہے۔ جب تک اُس اضطراب کا مداوا نہ ہو، میٹھا پانی بھی کڑوا ہی لگتا رہے گا۔ اور جب وہ دور ہو جائے — تب، اور صرف تب، پانی میں مٹھاس لوٹ آتی ہے۔

اسی باب میں امام غزالیؒ نے القسطاس المستقیم میں اپنے مخاطب سے جو خطاب کیا ہے، وہ ہمارے اس سارے معاملے کا آئینہ ہے — اور آٹھ سو برس پرانی سطریں یوں معلوم ہوتی ہیں جیسے کل لکھی گئی ہوں:

فَإِنِّي رَأَيْتُكَ مِنَ الِاعْتِزَازِ بِالظَّاهِرِ، بِحَيْثُ لَوْ سُقِيتَ عَسَلًا أَحْمَرَ فِي قَارُورَةِ حَجَّامٍ، لَمْ تُطِقْ تَنَاوُلَهُ لِنُفُورِ طَبْعِكَ عَنِ الْمِحْجَمَةِ، وَوَضَعْتَ عَقْلَكَ عَنْ أَنْ يَعْرِفَ أَنَّ الْعَسَلَ طَاهِرٌ فِي أَيِّ زُجَاجَةٍ كَانَ.

بَلْ تَرَى التُّرْكِيَّ يَلْبَسُ الْمُرَقَّعَةَ وَالدُّرَّاعَةَ، فَتَحْكُمُ بِأَنَّهُ صُوفِيٌّ وَفَقِيهٌ — وَلَوْ لَبِسَ الصُّوفِيُّ الْقَبَاءَ وَالْقَلَنْسُوَةَ حَكَمَ عَلَيْهِ وَهْمُكَ بِأَنَّهُ تُرْكِيٌّ. فَأَبَدًا يَسْتَجِرُّكَ وَهْمُكَ إِلَىٰ مُلَاحَظَةِ غِلَافِ الْأَشْيَاءِ دُونَ اللُّبَابِ.

وَلِذَٰلِكَ لَا تَنْظُرُ إِلَى الْقَوْلِ مِنْ نَفْسِ الْقَوْلِ وَذَاتِهِ، بَلْ مِنْ حُسْنِ صَنْعَتِهِ أَوْ بِحُسْنِ ظَنِّكَ بِقَائِلِهِ؛ فَإِذَا كَانَتْ عِبَارَتُهُ مُسْتَكْرَهَةً عِنْدَكَ، أَوْ قَائِلُهَا قَبِيحَ الْحَالِ عِنْدَكَ — فِي اعْتِقَادِكَ — رَدَدْتَ الْقَوْلَ وَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِهِ حَقًّا.

القسطاس المستقیم، ص ۴۲

اردو ترجمہ:

میں نے تو تمہیں ظاہر ہی سے چمٹا ہوا پایا، ایسا کہ اگر تمہیں شہدِ احمر پچھنے لگانے والے کے شیشے میں پلایا جائے تو تم اُسے چکھ بھی نہ سکو — محض اس لیے کہ تمہاری طبیعت پچھنے کے برتن سے گھن کھاتی ہے — اور تم اپنی عقل کو اِس منصب سے معزول کر دو کہ وہ پہچانے کہ شہد جس شیشے میں بھی ہو، پاک ہے۔

بلکہ تم ترک کو گدڑی اور دُرّاعہ پہنے دیکھتے ہو تو فیصلہ صادر کر دیتے ہو کہ یہ صوفی ہے اور فقیہ ہے — اور اگر صوفی قبا اور کلاہ پہن لے تو تمہارا وہم اُس پر یہ حکم لگا دے گا کہ یہ ترک ہے۔ سو تمہارا وہم ہمیشہ تمہیں کھینچ کر چیزوں کے غلاف کی طرف لے جاتا ہے، مغز کی طرف نہیں۔

اسی سبب سے تم قول کو خود قول کی حیثیت سے اور اُس کی ذات کے اعتبار سے نہیں دیکھتے، بلکہ اُس کی خوش تراشی سے، یا اُس حسنِ ظن سے جو تمہیں کہنے والے پر ہے۔ پس اگر اُس کی عبارت تمہیں ناگوار گزرے، یا کہنے والا تمہارے اعتقاد میں بدحال ہو — تو تم قول کو رد کر دیتے ہو، خواہ وہ بجائے خود حق ہو۔

امامؒ کا سارا زور اِس ایک نکتے پر ہے: قول کو قائل کی آنکھ سے نہ دیکھو، اور مغز کو غلاف کے حساب میں نہ ڈالو۔ شہد پچھنے کے شیشے میں بھی شہد رہتا ہے۔ اور ہمارے ناقدین کا اصل مغالطہ اِس سے ایک قدم بھی آگے نہیں: وہ دلیل کو وسیلے کے، اور تحقیق کو گرانٹ دینے والے کے، آئینے میں دیکھتے ہیں۔

اور یہ بھی یاد رہے کہ ہر شخص ہماری علمی وراثت اور اُس کے خزانوں کی قدر نہ جانے گا۔ شیخ سعدی شیرازیؒ ہمیں یہی یاد دلاتے ہیں — گلستان، باب ہفتم:

اگر ژاله هر قطره‌ای دُر شدی

چو خرمهره بازار از او پُر شدی

اگر اولے کا ہر قطرہ موتی بن جاتا

تو بازار اُن سے یوں بھر جاتا جیسے کھوٹے مہروں سے

یعنی جو ہر ایک کو، ہر جگہ، بے حساب مل جائے وہ اپنی قدر کھو بیٹھتا ہے۔ سو ہمیں اپنا سرمایہ سلیقے سے، صحیح مخاطب کے سامنے، اور حُسن کے ساتھ پیش کرنا ہو گا۔ امام شافعیؒ کا قول پیشِ نظر رہے:

فَمَنْ مَنَحَ الْجُهَّالَ عِلْمًا أَضَاعَهُ  ٭  وَمَنْ مَنَعَ الْمُسْتَوْجِبِينَ فَقَدْ ظَلَمْ

جس نے جاہلوں کو علم بخشا، اُس نے اُسے ضائع کیا

اور جس نے مستحقین سے روکا، اُس نے ظلم کیا

دونوں طرف کھائی ہے: بے موقع بانٹنا اِتلاف ہے، اور اہل سے روکنا ظلم۔ درمیان کا وہ باریک راستہ ہی ہماری اصل مہارت ہے۔

اور اب ایک اور طرف سے روشنی

شیخ الاسلام، عارفِ کامل ابن عطاء اللہ الاسکندریؒ (متوفی ۷۰۹ھ / ۱۳۰۹ء) کی مجلس میں ایک شکّی مزاج شخص آیا — اُنہی مریضوں میں سے ایک، جن کے منہ کا ذائقہ خراب ہو چکا تھا۔ مگر جب اُس نے شیخ کی زبان سے احسان کی حقیقت سنی تو وہ منکر سے مرید ہو گیا۔ شیخ الازہر عبد الحلیم محمودؒ (متوفی ۱۳۹۷ھ / ۱۹۷۸ء) نے لطائف المنن کے مقدمے میں ابن عطاء اللہؒ کا تعارف کراتے ہوئے اُسی حقیقت کو اِن لفظوں میں سمیٹا ہے:

الْإِحْسَانُ هُوَ مَقَامُ شُهُودِ الْحَقِّ فِي الْقَلْبِ

(احسان وہ مقام ہے جہاں حق قلب کے سامنے مشہود ہو جائے — یعنی احسان محض عمل کی خوبی نہیں، بلکہ دل کی وہ حالت ہے جس میں حق آنکھوں سے اوجھل ہو کر بھی دل سے اوجھل نہیں رہتا۔)

— عبد الحلیم محمود، مقدمۂ لطائف المنن، دار المعارف، قاہرہ ۲۰۰۶ء، ص ۷

دیکھیے — دلیل نے نہیں، دل کی گواہی نے اُسے فتح کیا۔ یہی وہ نفسیات ہے جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔

اور یہی سبب ہے کہ ہمارا کام دو ہی کاموں پر منحصر ہے: تدلیل و تقلیب — دلیل فراہم کرنا، اور دل کا رخ پھیر دینا۔ پہلا کام قلم کا ہے، دوسرا دعا اور محبت کا؛ اور جو صرف پہلے پر قناعت کر لے، وہ آدھا طبیب ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ دوسرا کام بھی ہمارا نہیں — تدلیل ہمارے ذمے ہے، تقلیب اُس کے ہاتھ میں جسے ہم پکارتے ہیں: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْأَبْصَارِ۔

اور ابن عطاء اللہؒ نے ہمیں اپنے حِکَم میں وہ سحر انگیز حکمت بھی دی ہے:

سَوَابِقُ الْهِمَمِ لَا تَخْرِقُ أَسْوَارَ الْأَقْدَارِ

(بلند ترین ہمتوں کی پیش قدمیاں بھی تقدیر کی فصیلوں کو خود سے نہیں چیر سکتیں۔)

ظاہر میں یہ کلمہ عجز کا سبق ہے، اور ہے بھی — کہ فصیل ہمّت کے زور سے نہیں، صاحبِ فصیل کے حکم سے کھلتی ہے۔ مگر اسی میں پوشیدہ سبق یہ بھی ہے کہ جس ہمّت کو اُس کے مالک سے نسبت ہو جائے، اُس کے لیے وہی دیوار دروازہ بن جاتی ہے۔ ہمّت اور دعا جب یکجا ہو جائیں تو بندہ اُن فصیلوں پر بھی چڑھ جاتا ہے جو نظر کو نظر نہیں آتیں، اور اُن پہاڑوں کو بھی سر کر لیتا ہے جنہیں لوگ اپنی تقدیر سمجھ کر بیٹھ رہتے ہیں۔

سو میرے عزیز عرفان! میری نصیحت یہی ہے: اپنی روایت میں گہرے اترو، اُس کی بصیرتیں کھینچ کر باہر لاؤ، اور اُنہی سے مسلح ہو کر اپنے زمانے کے علوم سے مکالمہ کرو۔ پھر ہم چیلنج کے پہاڑ بھی سر کریں گے اور تقدیر کی اُن نادیدہ فصیلوں کو بھی — کیونکہ آپ نے اقبال کو بارہا کہتے سنا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

جب ہم جہد اور دعا کے جوڑ سے اپنی تقدیر بدل دیں گے، تو پانی ایک بار پھر — اور پہلے سے زیادہ — میٹھا لگنے لگے گا۔

اپنی گہری محبتوں، شفقتوں اور دعاؤں کے ساتھ — آپ کے لیے، آپ کے اہل و عیال کے لیے، اور ہماری مجالسِ علم و حکمت کے تمام شرکاء کے لیے۔ اللہ آپ کو اور اُن سب ساتھیوں کو جو اِس بزمِ علم و حکمت میں شریک ہیں، ہمیشہ اپنی برکتوں میں رکھے، اور آپ سب کے قلم و قدم کو امت کے لیے خیر کا وسیلہ بنائے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ابراہیم موسیٰ

یونیورسٹی آف نوٹرڈیم

۳ ستمبر ۲۰۲۶ء / ۲۱ ربیع الاوّل ۱۴۴۸ھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعارف مکتوب نگار :

محمد عرفان ندیم نے پی ایچ ڈی اسلامک اسٹڈیز (یونیورسٹی آف دی پنجاب) سے کی ہے۔ وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML)، لاہور کیمپس میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور مدرسہ ڈسکورسز کے دوسرے بیچ کا حصہ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے معروف اخبارات روزنامہ نئی بات اور روزنامہ اسلام میں کالم لکھتے ہیں۔ “ماہنامہ تجدیدِ فکر” کے نام سے ایک مذہبی و فکری مجلے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

نوٹ من جانب ادارہ :

پروفیسر ابراہیم موسی صاحب کی جس تحریر کے بعد مذکورہ خطوط اور انکے جوابات کا سلسلہ شروع ہوا ، تحریر کو درج ذیل لنک سے پڑھا جا سکتا ہے ۔

https://hashiya.org/posts/inhabiting-threshold-dihlz

 

 

ڈاکٹر ابراہیم موسی

پروفیسرابراہیم موسیٰ کنٹنڈنگ ماڈرنیٹیز، یونی ورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے کو ڈائرکٹر اور شعبہ تاریخ اور کروک انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل پیس اسٹڈیز میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ امریکا کے منتخب مسلم دانش وروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
emoosa1@nd.edu

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں