Home » نظر کا وجوب (1)
اسلامی فکری روایت کلام

نظر کا وجوب (1)

اول الواجب اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔ اس سے ہمارا کلی اتفاق ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ بھی ہے اور علمی موقف بھی۔ اول الواجب ”معرفت“ ہے یا ”نظر“، محلِ غور ہے۔ ”نظر“ کو اولین فریضہ قرار دینے میں کئی مسائل ہیں، جنہیں ہم اس تحریر میں موضوع بنائیں گے۔
معرفت کا لفظ اپنے ابتدائی معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ اور یہ لفظ اپنے منتہیانہ مفہوم میں بھی مستعمل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات سمیت جاننا، سمجھنا اور ماننا۔ کونسی چیز اس پر جائز ہے اور کونسی چیز اس کے لیے ممتنع ہے اور توحید اور شرک کے مابین باریک فروق کو مدِ نظر رکھنا۔ وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے دلائل کی معرفت رکھنا اور جن اعتراضات سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے خالق و مالک، سمیع و بصیر، عادل و رحیم اور عالم الغیب اور قادر مطلق ہونے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اُن اعتراضات کا کافی و شافی جواب دینے کی قدرت رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ جہاں تک معرفت کے ان معنوں کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے اور اس کے سوا کسی الٰہ کے نہ ہونے کی گواہی دی جائے، تو اس کے اول الواجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن معرفت کو اس کے منتہیانہ معنوں میں سب مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں پر واجب قرار دینے میں بہت کچھ حرج پایا جاتا ہے۔ یہ دین کا مطالبہ ہے اور نہ ہی اس کا مقصد۔ اِن معنوں میں محض چند خاص لوگ ہی اس فریضہ کے متحمل ہو سکتے ہیں، جنہیں ہم علماء کی جماعت کی حیثیت میں جانتے ہیں۔
نظر کا استعمال اضطراری ہے، اختیاری نہیں۔ جس مانند بصارت کا تعامل ہمارے لیے ضرورت اور لزوم کا درجہ رکھتا ہے اور ہم اپنی سماعت کو بروئے کار لانے پر فطرتاً مائل ہیں، اسی طرح ہم اپنی عقل کو استعمال کرنے پر متشکل ہیں۔ فرق نظر کے وجوبی استعمال میں نہیں، بلکہ اس کی فطری استعداد اور اس کی فنی صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا لحاظ ضروری ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے، جس کو باہمی اختلافات کے عدم توازن میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اختلاف جب تعصب کی عینک چڑھا لے اور تمام کوششوں کا محور و مرکز مخاصم کی تضحیک و تضلیل ہو، تو اصل بات کا اوجھل ہوجانا عجب نہیں۔
صلاحیتوں کا تفاوت مطلوب کی یافت اور اس کی قبولیت کے اسالیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک ہی جیسی صلاحیت کے حامل افراد جب کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں، تو لامحالہ وہ اس امر کو ایک ایسے تناظر میں لیجانے کی کوشش کرتے ییں، جو محض ان سے متعلق اور جڑا ہوا ہو۔ علم الکلام کی روایت سے جڑے افراد علم کی قبولیت کا جو معیار متعین کرتے ہیں، وہ ان کی صلاحیتوں سے ہم آہنگ اور دوسرے لوگوں سے متفاوت ہے۔ فقہ و حدیث سے متعلق افراد اس معیارِ قبولیت کو ماننے سے محترز ہونگے۔ لیکن اِس سے بڑا مسئلہ عوام الناس کا ہے۔ عام آدمی چیزوں کے ردوقبول کا معیار رکھتا ہے۔ وہ معیار علمی و فنی نہیں ہو سکتا۔ اُن کے معیارات علم کی بنیادوں سے ضرور مَس رکھتے ہونگے۔ لیکن اُنھیں ”نظر“ کا مفہوم معلوم ہوگا اور نہ معقولات کی سدھ بدھ ہوگی۔ فہم و فراست کی عام صورتیں جس میں تمام لوگ کم و بیش یکساں اہلیت کے حامل ہوتے ہیں، وہ اِنھی کو بنیاد بنا کر قبولِ حق کے فرائض انجام دیں گے۔
مثال کے طور پر اگر ایک دوست نے اپنے دوست کو ہمیشہ سچ بولتے دیکھا اور پایا ہے اور اُس نے کسی لومۃ لائم کی پرواہ کیے بغیر سچ بولا ہے اور سچ بولتے ہوئے،اس نے کبھی اپنے نقصان کی بھی پرواہ نہیں کی، تو اِس بندہ کا اپنے دوست کے سچے ہونے پر یقینِ مُحکم ہوگا۔ وہ اُسے صادق سمجھے گا۔ اب اگر وہ دوست کوئی ایسا دعوی کرتا ہے، جس کی فوری تصدیق کا کوئی دوسرا راستہ میسر نہیں، تو وہ بندہ اپنے دوست کے دعوی کو سچا ہی سمجھے گا۔ اُسے اوّلیات عقلیات کا کوئی علم نہیں۔ لازمی وجودی حقائق کی اسے کوئی خبر نہیں۔ صغریٰ و کبریٰ کو کس طرح ترتیب دیا جاتا ہے، اُن کا علم نہیں۔ یہ نتیجہ استقرائی ہے یا استخراجی، اُسے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ”نظر“ کے کسی معیاری تعریف پر پورا اترتا ہے، وہ اِس چیز کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔ وہ ایک فیصلہ کے روبرو کھڑا ہے اور شواہد کی بنیاد پر اُسے ایک فیصلہ لینا ہے۔ وہ فیصلہ لیتا ہے اور پھر اِس پر جم جاتا ہے۔ یہ ”نظر“ کی اُس جہت کا استعمال یے، جسے ہم نے اضطراری قرار دیا ہے۔ وہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے۔ یہ ذہنی سے زیادہ اُس کے لیے وجودی اور اخلاقی معاملہ ہے۔ وجودی اِن معنوں میں کہ وہ اپنے دوست کے بارے میں فیصلہ لینے جا رہا ہے، جس دوست کے ساتھ اُس کا برسوں کا ساتھ ہے اور اخلاقی اِن معنوں میں کہ وہ کسی سچے کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ یے۔
عمل کی دنیا علم کی دنیا سے ویسے ہی کافی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن عمل بسا اوقات اختیاری نہیں رہتا، وجود کی ضرورت بن جاتا ہے اور بنیادی اخلاقیات کا تقاضا بھی۔ ایسی صورت میں دستیاب معلومات کی روشنی میں فیصلے کیے جاتے ہیں، کیونکہ معلومات میں مزید جاننے کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے۔ عمل کی دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا علم میسر ہے کہ ہم فیصلہ لینے کی پوزیشن میں ہیں۔ جب ہم اپنے علم کے کافی ہونے پر مطمئن ہوتے ہیں، ہم فیصلہ لے لیتے ہیں۔ ایسے وقتوں میں فیصلہ لینا اِس لیے ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا کوئی فیصلہ نہ لینا بھی ایک فیصلے جیسا ہوتا ہے۔ جب ہم فیصلہ کرتے ہیں، تو ہم اپنے وجود کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ ہم گو مگو کی کیفیت میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ ایک متشکک جس کی طبیعت میں تشکیک مُدغم ہے، صرف وہ تسلسل کے ساتھ شک کی فضا میں جی سکتا ہے۔ بالعموم لوگ ایسا نہیں کرتے۔ وہ کسی موقف پر کھڑا ہونا پسند کرتے ہیں۔ اُن کے دلائل کچھ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ علم کی دنیا میں غیر معیاری اور غیر مقبول ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے دلائل کی بنیاد پر ایک موقف کے حامل ہوتے ہیں۔ اُن مواقف میں وہ موقف جو مستقل اور غیر متغیر ہونے کی پوزیشن حاصل کرلیں، وہ اِس شعور کے ایمانی مواقف کہلاتے ہیں۔
متکلمین جب ”نظر“ کو شرعی واجب قرار دیتے ہیں، تو وہ اِس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ سب لوگ متکلمین نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انفس و آفاق میں خدا کی نشانیوں پر غور و فکر کی جو دعوت دی ہے، اّس میں کوئی فنی اور تکنیکی پیچیدگی نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے لازم نہیں کیا کہ جب تک تم لوگ اِن نشانیوں پر غور کرتے ہوئے دلیلِ حدوث تک نہیں پہنچتے اور اِن میں سلسلۂ علل کو اِس طرح نہیں دیکھتے کہ جس سے نظریۂ ارتقاء اور بگ بینگ جیسے نظریات کا رد ہو سکے، تب تک تم مقبول معرفت کے حامل نہیں ہو سکتے۔ ”نظر“ کے وجوب کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ہمارے اصولیین اس سے یہ مراد لیتے ہیں۔ ان کا مطمح نظر بھی خدا کی وحدانیت کی گواہی ہے۔ خدا کی معرفت کا حصول مقصد ہے اور اس مقصد کی طرف لے جانے والا ہر راستہ اپنا جواز خود رکھتا ہے۔
دلیلِ حدوث کو سمجھنا اہم ہو سکتا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر صرف و نحو کا فنی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ لوگ زبان بولتے ہیں اور جن اصولوں پر یہ زبان متشکل ہوتی ہے، انھیں اِن اصولوں کی الف ب بھی معلوم نہیں ہوتی۔ اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انھیں زبان کا درست فہم نہیں۔ وہ زبان کو برت رہے ہیں اور اِس سے روز مستفید ہوتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ جس نے ”نظر“ سے صرفِ نظر کیا، اس نے خدا کی معرفت سے صرفِ نظر کیا۔ یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ جو اس نتیجہ کو نکالتا ہے اور اِس کی ترویج کو اپنی زندگی کا مشن بناتا ہے، اِسے علم سے کوئی مَس نہیں اور اُسے ایمان کا بھی کچھ پتا نہیں۔ حاملِ زبان ہونا ہماری فطرت ہے اور اِس فطرت کی پرداخت ہمارے گھر اور محلہ سے ہوتی ہے۔ حامل ایمان ہونا بھی ہماری فطرت ہے اور اِس کی پرداخت بھی ہمارے گھر اور محلہ سے ہوتی ہے۔ زبان کے معاملہ میں معاشرہ کبھی ڈے زیرو پر نہیں کھڑا ہوتا۔
متکلمین خدا کی معرفت کے معاملہ میں پوری مسلم تہذیب کو ڈے زیرو پر تصور کرتے ہیں۔ اور تاریخ کے ہر موڑ پر کرتے ہیں۔ یہ بھی اُن فلسفیوں جیسی بات ہوئی کہ انسانی ذہن خالی سلیٹ کی مانند ہے اور ہم اپنے تجربے سے اُس پر لکھتے ہیں، جو کچھ لکھتے ہیں۔ خدا کی معرفت کا حصول واجب ہے۔ لہذا نظر کو بروئے کار لانا واجب ہے۔ اِس سے یہ مطلب نکلا کہ نظر سے پہلے اور نظر کے بغیر اس معرفت کی کوئی صورت لائقِ تسلیم ہے اور نہ لائقِ تحسین۔ لائقِ تسلیم اس لیے نہیں، کیونکہ اُن کے نزدیک خدا کی معرفت کا واحد ذریعہ ”نظر“ ہے۔ لائقِ تحسین اس لیے نہیں، کیونکہ وہ معرفت ”نظر“ سے حاصل نہیں ہوئی۔ لہذا اہلِ کلام کی ایک جماعت مجبور ہے کہ اپنے غلط تصور کی بنا پر معرفتِ خداوندی کو جہالت سے تعبیر کریں۔ اور یہ کام وہ بخوشی سر انجام دیتے ہیں۔ اُن کی دلیل سادہ ہے۔ دلیل یہ ہے کہ نظر و استدلال کے بغیر جو معرفت حاصل یے، چاہے وہ صحت کی حامل ہو، اس میں اور غلط معرفت میں امتیاز کی کوئی لکیر نہیں کھینچی جا سکتی۔ لہذا معرفت بطور نتیجہ کے حاصل بھی نظر و استدلال ہونی چاہیے، تاکہ وہ جہالت قرار نہ پائے اور تاکہ اس کا جہالت سے امتیاز مدلل ہو سکے۔ چناچہ ان کے نزدیک معرفت کا مدلل ہونا ضروری ہے۔
آپ غور کریں کہ متکلمین کے اس فارمولہ سے معرفت کا وجوب اٹھ کر حصولِ معرفت کے طریقہ کار پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ معرفت مقصد نہیں رہا، بلکہ وہ معرفت حاصل کیسے ہوئی ہے۔ یہ چیز زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ علم کی آفات ہیں، جن سے ہمارے سلف صالحین ہمیشہ پناہ مانگا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ آپ کچھ ایسے عقلی اصول خود سے وضع کر لیں اور پھر ان اصولوں کو بچاتے بچاتے کچھ ایسی نتائج تک جا پہنچے، جن کا دین سے تعلق تو دور کی بات ہے، وہ خود دین لیے مضر بن جائیں۔ ایمانی معرفت کے وجوب سے جب بات ایمانی معرفت کے مدلل ہونے پر منتج ہوتی ہے، تو لامحالہ ایمانی معرفت جسے صغریٰ و کبریٰ کی منطقی ترتیب کے بغیر حاصل اور بیان کیا گیا ہو، وہ جہالت قرار پاتی ہے۔ العیاذ بااللہ۔ دین کی نصرت کے لیے تشکیل کردہ علم الکلام دین ہی پر حملہ آور ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ خود مدلل ہونے سے کیا مراد ہے اور کیا مدلل ہونا لازم ہے کہ فنی معنوں میں نظری ہو۔ کیا اس کی کوئی متفقہ علیہ صورت پائی جاتی ہے، جس سے ایک انچ اِدھر سے اُدھر نہیں ہوا جا سکتا۔ یہ پہلا مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہر درست مقدمہ کے لیے کیا گیا استدلال ضروری نہیں کہ درست ہو۔ خدا کے وجود پر استدلال قطع نظر اس سے کہ غلط ہے یا صحیح ہے، خدا کے موجود ہونے کو متاثر نہیں کرتا۔ یہ استدلال غلط ہے، تو بھی اِس سے لازم نہیں آتا کہ خدا موجود نہیں۔ صحیح استدلال کا بھی یہ معنی نہیں کہ خدا کا وجود محض اُس استدلال کا پابند ہو گیا ہے۔ خدا کا وجود ایک آفاقی حقیقت ہے۔ یہ وہ سچائی ہے، جس پر تمام سچائیاں منحصر ہیں۔ لہذا یہ کسی ایک دلیل کا مدلول نہیں کہ وہ دلیل ڈھ جائے، تو یہ عقیدہ بھی غلط ہوجائے۔ یا اُس دلیل کا سرے سے غلط ہونا متعین ہو جائے، تو یہ مقدمہ بھی مخدوش ہو جائے۔ یہ صورت حال ہر اس مقدمہ کی ہے، جو کسی ایک استدلال کا حاصل نہیں۔ ایسے مقدمات تمام معلوم و غیر معلوم دلائل کا حاصل ہوتے ہیں۔ اُن پر یقین ہر استدلال پر سبقت رکھتا ہے۔ لہذا ایک دلیل گرتی ہے، تو ذہن دوسری دلیل لانے کے درپے ہوتا ہے۔ ذہن اّن کے حق میں ایسے دلائل لاتا ہے، جو اُن پر یقین لانے کے لیے کبھی پہلے قائم نہیں کیے گئے تھے۔ یعنی ایسے دلائل جن کا حاصل یہ معرفت نہیں، بلکہ وہ اس معرفت کے دفاع میں وضع کیے گئے ہیں۔ ذہن ایسے نئے دلائل وضع کرتا ہے، جو اس فہرست کا بالکل بھی حصہ نہیں تھے جن معلوم و نامعلوم دلائل کا حاصل یہ معرفتِ خداوندی ہے۔ جب مدلول دال سے بڑا ہو اور اُس پر سبقت رکھتا ہو، استدلال کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ کاش ہمارے جدید متکلمین اس بات کو سمھیں۔ خدا کے موجود ہونے اور اس طرح کے دوسرے مقدمات کے ضمن میں استدلال کی اہمیت کو اس قدر بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ استدلال ان مقدمات پر اوّلیت + فوقیت رکھتا ہے۔ یعنی دال بڑا اور مدلول اس کے برابر یا کم تر ہے۔ یہ دوسری قباحت ہے، جس کو جاننا اور جس سے بچنا ضروری ہے۔
اگر عام آدمی کا استدلال بھی نظر ہے اور علامہ آمدی کی تعریف کے تحت نظر بھی ”نظر“ ہے، تو اس پوری بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علمی ایلیٹ نے اپنی تفننِ طبع کی خاطر کچھ اصطلاحات وضع کی ہیں، جن سے وہ اپنا تفوق قائم کرتے ہیں اور بس دل بہلاتے رہتے ہیں۔ اّن کا حقیقت کا ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت کے ساتھ تعلق کے لیے ضروری ہے کہ عام آدمی کے طرز استدلال اور علماء کے طرز استدلال کو توڑے موڑے بغیر ان کی درست پوزیشن واضح کی جاسکے۔ وہ درست پوزیشن یہ ہے کہ خدا کی معرفت ضروری ہے۔ اس کا حصول کا ذریعہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم معاشرے کے قیام کا ایک بڑا مقصد اس معرفت کو نظر و استدلال سے بالاتر معاشرت کا حصہ بنانا ہے۔ یہ مقصد حاصل ہو جائے، تو کسی دوسری چیز کی کیا ضرورت ہے۔ بلکہ دوسری کوئی بھی چیز اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہوگی۔ یاد رہے ہم مسلم معاشرے کی بابت عام مسلمانوں کے حق میں یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اِس کا کوئی تعلق علماء کی جماعت سے نہیں۔ علماء کے لیے ضروری ہے کہ نصرتِ دین اور مسلم عقیدہ کے دفاع کی خاطر تمام علوم میں مہارت حاصل کریں۔ عام مسلمان اس سے بری الذمہ ہے۔ علماء کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے۔

جہانگیر حنیف

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں