Home » متاع فقیر:سردار محمد چوہدری
مدرسہ ڈسکورسز

متاع فقیر:سردار محمد چوہدری

سردار محمد چوہدری مرحوم آئی جی پنجاب رہ چکے ہیں۔ پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے تجربات کو کتابی صورت میں بھی بیان کیا۔ ‘متاع فقیر’ سردار صاحب کی ذاتی زندگی کی روداد ہے۔ جس کو سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔

سردار صاحب متحدہ ہندوستان میں بھارتی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک قصبے ٹھیڑہ جسوالاں پیدا ہوئے۔ جب تقسیم ہوئی تو سردار صاحب دس سال کے تھے۔ انہوں نے اپنے آنکھوں سے اس تقسیم کو ہوتے دیکھا اور وہ اس تقسیم جو دراصل پنجاب اور بنگال کی تقسیم تھی کے متاثرین میں سے تھے۔
تقسیم کے وقت سردار صاحب کی عمر دس سال تھی۔ ان کا آبائی علاقہ بھارتی پنجاب کا حصہ بنا۔ تقسیم سے قبل اپنے علاقے میں سردار صاحب کے خاندان کا کافی اثرو رسوخ تھا وہاں کے مقامی ہندو ان کے ساتھ اچھی طرح رہتے تھے اور مسلمانوں کو ان پر برتری تھی۔ لیکن جب تقسیم کا مرحلہ قریب آتا گیا تو ان ہندوؤں کے رویے میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی وہ مسلمانوں کی مال مویشی پر بالخصوص نظریں رکھے ہوئے تھے۔ وہاں کے مسلمانوں کے لیے ہجرت کا فیصلہ بہت مشکل تھا۔ ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات اپنے بزرگوں کی قبروں کو چھوڑ کر جانا تھا۔ اپنے عزیز و اقارب کی قبور سے وابستگی ایک فطری بات ہے جس میں ہماری روایت کا بڑا ہاتھ ہے۔ گوکہ آج یہ چیز لوگوں میں اتنی اہمیت نہیں رکھتی لیکن آج سے ستر اسی سال پہلے کے سماج میں اپنے عزیز و اقارب کی قبروں سے تعلق بہت جذباتی اور نفسیاتی طور پر بھی گہرا تھا۔ یہ رشتوں کی مضبوطی اور اپنے خاندانی نظم کو جوڑے رکھنے کا ایک عمل تھا۔ آج بھی کئی علاقوں میں بالخصوص گاؤں دیہات میں برادریوں کے الگ سے قبرستان ہیں۔لہذا ان لوگوں کا ہجرت کرنا ناصرف مالی و جانی لحاظ سے بڑا رسک تھا بلکہ اس میں ان کی جذبات اور روایات کی بھی قربانی تھی۔ جب تقسیم کا مرحلہ شروع ہوا تو پنجاب میں سکھوں کے مظالم کی داستانیں سردار صاحب کے علاقے میں بھی پہنچ رہی تھیں۔ کئی لوگ جو سکھوں کے مظالم کا نشانہ بنے ان کے قصے یہاں پہنچنا شروع ہو چکے تھے۔
جب سردار صاحب کے خاندان اور اس علاقے کے باقی مسلمان جنہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا ان کو مالی طور پر بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مال مویشی جن کو پاکستان کے کر جانا ممکن نہیں تھا، ان کو خریدنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہندوؤں کو معلوم تھا کہ ان مال مویشی کو ساتھ لے جانا ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے گاہک بننے کی بجائے انتظار کیا کہ یہ مفت میں ملنے والے تھے۔ سردار صاحب کے دادا نے ایک بھینس بھی بہت سستے داموں بے دلی سے بیچی۔ جس کی قیمت ۹۵ روپے تھی اس کو ایک ہندو نے پانچ روپے میں لیا۔ مصنف کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے دادا کی سفید داڑھی آنسوؤں میں تر ہو گئی۔
تقسیم کے وقت جس طرح سے سردار صاحب نے اپنی والدہ کے ساتھ ہجرت کی وہ بھی ایک حادثاتی واقعہ تھا۔ سردار صاحب بتاتے ہیں کہ ان کی ماں رات کے اندھیرے میں ان کو اس جنگل سے لیکر گزریں جہاں لوگ دن کو بھی جانے سے ڈرتے تھے۔ دراصل ان کے علاقے پر بلوائیوں نے اچانک حملہ کر دیا جس کی وجہ سے انہیں جلد ہی وہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔ ان کے والد اور دادا گھر پر نہیں تھے۔ جس کے بعد ان کی ماں نے سردار صاحب اور ان کی بڑی بہن کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر سردار صاحب کے ننھیال گئیں۔ اس سفر کی داستان گو کہ مختصر ہے لیکن پڑھنے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ گھڑی کس قدر مشکل تھی۔ اگلے روز وہاں پر سردار صاحب کے والد اور دادا بھی آ گئے۔ سردار صاحب اپنے والد کی بات بتاتے ہیں کہ ان کو قائد اعظم پر مکمل بھروسہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری مشکلات پاکستان پہنچنے تک ہیں۔ جیسے ہی ہم پاکستان میں قدم رکھیں گے وہاں ہمارا بندوبست بابا قائد اعظم کر دیں گے۔
ہجرت کے سفر کے دور پیش آنے والی مشکلات کا بھی مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ہوشیار پور پہنچتے ہی تاحد نگاہ مرد ، عورتیں اور بچے اپنا سامان سروں پر بیل گاڑیوں پر رکھ کر آئے ہوئے تھے۔ سردار صاحب کے چچا اور چچی مہاجر کیمپ میں ہی تھے کہ ایک صبح رفع حاجت کے لیے جاتے ہوئے سکھوں نے ان کو شہید کر دیا۔ پھر رفع حاجت کے لیے لوگوں نے کیمپوں سے باہر جانا بھی بند کر دیا جس کی وجہ سے کیمپ بھی غلاظت سے بھر گئے۔ اس وقت سکھوں نے کنوؤں میں زہر ملا دیا۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کیمپ میں روز اتنے لوگ مرتے تھے سب کو اجتماعی قبر میں دفنانا پڑتا۔ کئی لاشوں کو کتوں نے نکال کر چھیڑ پھاڑ دیا۔ یہاں مہاجر کیمپوں میں مسلم لیگ کے رضاکاروں کا بھی ذکر مصنف نے کیا جنہوں نے مہاجرین کی مدد کی انہوں نے بتایا کہ مسلم لیک کی ہائی کمان نے ان کی ذمہ داری لگائی تھی۔ یہ رضا کار اسلامیہ کالج ہوشیار پور کے طلباء تھے۔
اگلے روز ٹرین میں بیٹھ کر سردار صاحب کے خاندان نے پاکستان پہنچنا تھا کہ سردار صاحب کی والدہ کو معلوم ہوا کہ ان کی مفلوج بوا بھلی (مصنف کی والدہ کی پھوپھی) کو ان کے بچے کیمپ میں چھوڑ کر ٹرین میں سوار ہو گئے۔ سردار صاحب کی والدہ نے ضد کی کہ وہ بوا بھلی کو ساتھ لیکر جائیں گی۔ جس کی وجہ سے ٹرین چھوٹ گئی ۔ آٹھ دنوں بعد بوا بھلی چل بسیں۔ بعد میں خبر آئی کہ جس ٹرین میں بوا بھلی کے بیٹے سوار ہوئے ، اس کے سب سواروں کو امرتسر میں مار دیا گیا ہے۔ بوا بھلی کے آٹھ کے آٹھ بیٹے مارے گئے۔ اگر بوا بھلی کے لیے سردار صاحب کے گھر والے نہ رکتے تو یہ بھی اس ٹرین میں ہی سفر کرتے۔ پھر جب دوسری ٹرین سے یہ سوار ہو کر گئے تو امرتسر سے گزرتے ہوئے لاشوں کو دیکھا۔ دریائے بیاس کے کنارے ایک مہاجر کیمپ کا ذکر مصنف نے کیا ہے جو یکدم سیلاب آنے کی وجہ سے بہت سوں کو بہا کر لے گیا۔ مصنف بتاتا ہے کہ ان کی ٹرین پر بھی سکھ جھتوں نے حملے کی کوشش کی مگر بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے ان کا مقابلہ کیا۔ مصنف کہتے ہیں کہ اس دن سے ان کو بلوچ رجمنٹ کے ہر سپاہی سے جذباتی لگاؤ ہو گیا۔ حتی کہ جب پولیس کی اعلیٰ سروس کے سلسلے میں چھے ہفتے آدمی ٹریننگ کرنی تھی تو انہوں نے منہ مانگ کر اپنی attachment بلوچ رجمنٹ کے ساتھ کروائی۔ یہاں پر مصنف نے فوج کے سیاسی کردار پر بھی بات کی ہے اور بتایا ہے کہ ان مارشل لاء نے فوج کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جب وہ جرنیلوں کے غلط اقدامات پر تنقید کرتے ہیں تو لوگ ان کو فوج کا مخالف گردانتے ہیں۔ مصنف کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، انہیں فوج کے سپاہیوں سے جو ملک کی خاطر جان دیتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں سے دل سے محبت ہے۔
ویسے تو یہ محدود سوچ اب بھی پائی جاتی ہے جہاں فوج کے غیر آئینی اور غیر قانونی کردار پر تنقید کو برداشت نہیں کیا جاتا اور اپنی اس غیر قانونی حرکتوں کو ادارے کے تقدس اور شہداء کی آڑ میں چھپایا جاتا ہے۔ یہ سوچا سمجھا ردعمل ہوتا ہے جس کا مقصد اپنے اوپر اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینے سے گریز کرنا ہوتا ہے اور اپنی ہوس کو بڑھاوا دینے کے لیے کسی اور کا کندھا استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان پہنچنے کے بعد سردار صاحب نے اپنی والدہ کا ذکر کیا کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ ایک مسجد سمجھتی تھیں۔ پاکستان پہنچ کر بھی ان پر مشکل وقت آیا مگر ان کی والدہ کے ایمان میں ذرہ بھر فرق نہ آیا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد سردار صاحب ک خاندان والٹن کے مہاجر کیمپ میں رہے۔ اس کے بعد ان کا خاندان فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کہاں رہا جائے۔ سردار صاحب کے والد ٹوبہ ٹیک سنگھ جانا چاہتے تھے جہاں ان کی بہن پہلے سے آباد تھی جبکہ سردار صاحب کے ماموں پہلے لاپتہ تھے جن کو لاہور سٹیشن کیمپ پر ڈھونڈ نکالا گیا۔ وہ گجرات جانا چاہتے تھے۔سردار صاحب کی والدہ اپنے بھائی سے دور نہیں رہنا چاہتی تھیں لیکن بھاری دل کے ساتھ سردار صاحب کے ماموں کا قافلہ گجرات چلا گیا۔
سردار صاحب نے اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گیارھویں کا ختم بہت اہتمام سے کرتی تھیں۔ پاکستان پہنچنے کے بعد کچھ عرصے یہ ممکن نہ ہوا لیکن جیسے ہی ممکن ہوا انہوں نے گیارہویں کی خیرات جہانگیر بادشاہ کے مزار پر دی۔ مقبرہ جہانگیر پر سردار صاحب کی دادی اپنے پوتے کی کامیابی کی دعا کی۔
سردار صاحب نے اپنے تعلیمی سفر کی بھی داستان سنائی ہے۔ ہندوستان میں وہ پرائمری پاس کر چکے تھے۔ اس کے بعد مختلف اتفاقات کے ساتھ کچھ مقامی لوگوں کی مدد سے انہوں نے پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس سب کی داستان بھی انہوں نے ذکر کی ہے اور وہ بھی کافی دلچسپ ہے۔ ہم کو نظر آتا ہے کہ قدرت کیسے کسی کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے اور انسان اگر اس کا فائدہ اٹھائے تو کامیاب ہوتا ہے۔سردار صاحب نے اپنے اس تعلیمی سفر میں کئی محسنین کا ذکر کیا ہے جن میں شیخ سردار محمد، ماسٹر شاہ محمد، ماسٹر غلام قادر شامل ہیں ۔سردار صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ اپنی پھوپھی کے پاس تعلیم کی غرض سے گئے تو ان کے پیچھے باقی خاندان بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ آ گیا۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زمین کی اراضی کی الاٹمنٹ کے لیے بھی سردار صاحب کے خاندان کو کافی تگ و دو کرنی پڑی کیونکہ یہ تقسیم کے دو سال بعد یہاں آئے تھے تو پہلے آنے والے مہاجرین نے اپنے نام اراضی آلاٹ کرا لی تھی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ آمد کے بعد سردار صاحب کی والدہ نے اپنے عزیز و اقارب کی تلاش شروع کی اور مختلف چھٹیاں سردار صاحب سے لکھوائیں جس کے نتیجے میں کئی بچھڑے لوگ آپس میں ملے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جب میاں محمد شفیع جن کا سردار صاحب کی زندگی میں بہت گہرا اثر تھا وہ پہلی بار ایس ڈی ایم بن کر آئے تو اس کے بعد سردار صاحب کی زندگی میں بہت مثبت تبدیلی آئی۔ اس کا سردار صاحب نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ میاں شفیع صاحب پہلے تو سردار صاحب کے محسن اور استاد تھے مگر بعد میں سردار صاحب ان کے داماد بھی بنے۔ سردار صاحب میاں شفیع صاحب کی شخصیت سے بہت متاثر تھے جس کا ذکر ہمیں اس کتاب میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ میاں شفیع کی بیٹی بلقیس جو بعد میں سردار صاحب کی بیوی بنی کے بارے میں سردار صاحب کہتے ہیں کہ وہ ان کو پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگیں تھیں۔
سردار صاحب نے اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ پہلے انہوں نے سائنس کو بطور مضمون لیا مگر ان کا ذوق آرٹس کی جانب تھا جہاں انہوں نے اپنا مضمون تبدیل کرایا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں میں ہی ۱۹۵۸ کا مارشل لاء لگا۔ اس کے بارے میں سردار صاحب نے بتایا کہ اس وقت عمومی طور پر تو لوگوں کا خیال تھا کہ اچھا ہوا مفاد پرست سیاست دانوں سے جان چھوٹی۔ لیکن سردار صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت تاریخ کی کلاس میں ان کے استاد پروفیسر فیاض نے کہا کہ یہ مارشل لاء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ وہ اس دن بہت پریشان تھے اور کچھ عرصے بعد وہ ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ سردار صاحب کہتے ہیں کہ ہمیں وقت کے ساتھ پروفیسر فیاض کی باتیں سمجھ آئیں۔ اس مارشل لاء نے پاکستان کی تاریخ پر سیاہ نقوش چھوڑے ۔ اس نے ملک میں صوبائیت اور لسانیت پرستی کے وہ بیج بوئے جس سے ملک دو لخت ہوا۔ ملک کا جمہوری سفر جو اس وقت ختم کیا گیا دوبارہ کبھی تسلسل سے جاری نہ رہ سکا اور آج بھی سیاسی عدم استحکام ہمارے ملک کی قسمت ہے۔

سردار صاحب کی سول سروس کو جوائن کرنے کی داستان بھی دلچسپ ہے۔ وہ ایک دفعہ انٹرویو اور دوسری دفعہ انگریزی میں فیل ہوئے۔ پھر قانون میں عمر کی حد بندی کی تبدیلی کی وجہ سے ان کا تیسرا چانس ممکن ہوا جس کی وجہ سے وہ اس سروس میں آئے۔ اس کے ساتھ تیسری دفعہ امتحان کے لیے فیس کا انتظام بھی اتفاقی طور پر ہوا کہ ان کے دوست نے شیر محمد نے ان کو امانتاً رکھوائے۔ پھر اس کے بعد سردار صاحب کو ایک پٹواری کا مقدمہ ملا جس کی فیس سے بآسانی سردار صاحب اپنے دوست کی امانت لوٹانے کے قابل ہوئے۔ سردار صاحب کی سول سروس میں آنے کی داستان دلچسپ ہونے کے ساتھ بتاتی ہے کہ کئی دفعہ قسمت انسان پر بہت مہربان ہوتی ہے اور اگر وہ اس وقت سے فائدہ اٹھا لے تو اس کے لیے کامیابی کے راستے کھل جاتے ہیں۔

ایسے ہی سردار صاحب کی میاں شفیع کی بیٹی بلقیس کے ساتھ شادی بھی ایک اتفاق تھا۔ بلقیس کی شادی کہیں ہو چکی تھی، دو تین سال بعد ان کے شوہر کا اچانک انتقال ہوا جن سے بلقیس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس اچانک موت نے میاں شفیع کو اندر سے بجھا دیا۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے بہت پریشان تھے کہ سردار صاحب نے ہمت کرکے کچھ عرصے بعد ان سے اپنے لیے بلقیس کا رشتہ مانگا۔ یوں بلقیس کے ساتھ سردار صاحب رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔
سردار صاحب کا ہجرت کرنا، تعلیم کو جاری رکھنا، سول سروس میں آنا اور پھر بلقیس کے ساتھ ان کی شادی کو دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی میں حسن اتفاق اور قسمت کی مہربانی خوب تھی۔ ایسی ڈرامائی کہانیاں جن کا انجام خیر پر ہو کم ہی کسی کے کسی کے نصیب میں آتی ہیں اور سردار صاحب کی زندگی میں یہ واقعات کئی بار رونما ہوئے۔
سردار صاحب زندگی کی ایک تلخ حقیقت بتاتے ہیں کہ بلقیس سے شادی کے وقت وہ پولیس آفیسر بن چکے تھے۔ وہ لوگ جنہوں نے کبھی پہلے ان سے سیدھے منہ بات نہ کی بلقیس سے شادی کے فیصلے پر ان کو سمجھانے آئے کہ بیوہ کی بجائے کسی کنواری لڑکی سے شادی کریں۔ وہ ان کو اپنے گھر سے رشتے دینے کو تیار تھے حالانکہ جب سردار صاحب کے خاندان پر مشکل وقت تھا تو کبھی انہوں نے ان کا حال نہ پوچھا مگر پولیس آفیسر بننے کے بعد یہ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے لگے۔ یہ رشتے داری کا تعلق دراصل عہدے کا تعلق تھا جس کو وہ بحال کرنا چاہتے تھے۔ یہ بالعموم ہمارا سماجی المیہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلقات کی بنیاد مفاد اور مادہ پرستی ہے۔ اس کا سامنا سردار صاحب نے بھی کیا۔
لوگوں کی بے رخی اور سرد مہری کا یہ مظاہرہ سردار صاحب کی شریک حیات بلقیس نے بھی کیا۔ بلقیس نے سردار صاحب کو بتایا کہ بیوگی کے دو سال تک ان کے رشتے آتے تھے تو کسی کو بچیوں پر اعتراض ہوتا تھا تو کسی کو کسی اور بات پر، اس وجہ سے بلقیس سردار صاحب کی احسان مند تھیں۔
سردار صاحب کی زندگی پر ان کے سسر میاں شفیع کا بہت اثر تھا۔ اس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا۔ ایسے ہی ان کی موت پر بھی سردار صاحب نے الگ سے لکھا۔ وہ لندن میں فوت ہوئے۔ جنرل ایوب خان سمیت حکومتی عہدیدار ان کی تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے۔ سردار صاحب نے بتایا کہ وہ عوامی طور پر بھی بہت محبوب تھے تو جب ان کی میت لندن سے لاہور آئی تو گویا پورا شہر امڈ آیا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ سردار صاحب نے اپنی بیوی بلقیس کی موت کا بھی ذکر کیا جن کی موت بھی سردار صاحب کے لیے غیر متوقع تھی۔ سردار صاحب نے جس طرح سے اپنی بیوی کا ذکر کیا ہے اس سے نظر آتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت اچھا تعلق رہا۔

سردار صاحب نے پیشہ ورانہ زندگی کے اوپر الگ سے لکھا ہے یہ ان کی ذاتی زندگی کی روداد ہے۔ مگر اس روداد میں پڑھنے کے لئے بہت کچھ ہے اور سردار صاحب کی زندگی میں جس طرح کے نشیب و فراز آئے اس کے بعد یہ ایک دلچسپ داستان بن جاتی ہے۔ جس میں بالخصوص تقسیم اور اس کے بعد مہاجرین کو درپیش مسائل اور دکھ کو ایک عینی شاہد نے ذکر کیا ہے۔ ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ملک اپنی تخلیق کے اندر بے پناہ دکھ اور مصائب رکھتا ہے۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ کس طرح معاشی طور پر خوشحال لوگوں کے حالات یکسر تبدیل ہوئے پھر ہم کو قربانی کا جذبہ نظر آتا ہے کہ سردار صاحب کے خاندان کا قافلہ جب پاکستان آتا ہے تو وہ اپنے سب پرانے دکھ بھول جاتے ہیں۔ ان کو ایک امید نظر آتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ لوگ جو خواب آنکھوں میں سجا کر آئے تھے ان میں سے کتنے پورے ہوئے۔ اس کے بعد بھی سردار صاحب کی زندگی میں جو اونچ نیچ اور خوشگوار اتفاقات آتے رہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

راجہ قاسم محمود

راجہ قاسم محمود پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں اور مختلف علمی وفکری موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔
rajaqasimmehmood@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں