Home » ایمان و شعور کا تعلق ( سوال و جواب )
کلام

ایمان و شعور کا تعلق ( سوال و جواب )

سوال :

ایمان کیا ہے؟ یعنی اس کی شعور سے نسبت کیا ہے؟کیا وہ شعور کے احوال میں سے ایک حال ہے؟ اگر مختلف ہے تو کیسے؟ ایمان شعور پر ارادتاً خود طاری کر لینے والے حال سے کس طرح مختلف ہے؟وہ تجربے سے حاصل ہونے والے حال سے کس طرح مختلف ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اس ساری بات کو ہم کس طرح بیان کریں گے؟
جواب:
میرا خیال ہے کہ آج کی دنیا میں یہ مشکل ترین سوال ہے جس کا جواب دینے کی کوئی مسلمان کوشش کر سکتا ہے۔ میں نے روایت کے وسائل کو intact رکھتے ہوئے، اور انسانی شعور کی جدید ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ایک جواب اپنے لیے قائم کیا ہے وہی آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔ بعثت نبوی علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اساسی ترین مقصد انسان کو اس کی انفرادی حیثیت میں شہادت کی دعوت دینا ہے اگرچہ انسان اپنی اجتماعی حیثیت میں بھی اس دعوت ہی کے مخاطب ہیں کہ ”تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لاشریک اور معبود حقیقی ہے، اور میں [یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام] اللہ کا عبد اور رسول ہوں۔“ اگر آپ اس پر غور فرمائیں تو اس دعوت کا جواب نہ عقل سے دیا جا سکتا ہے، اور نہ نفسی تجربے سے کیونکہ عقل (علم) اور نفسِ انسانی (تجربہ) کے پاس وہ وسائل ہی فراہم نہیں ہیں جن کی مدد سے یہ جواب دیا جا سکے۔ عقل شعور کی باگ ہے اور نفسِ انسانی وجود کی باگ ہے۔ شہادت کی دعوت کا مخاطب فطرت انسانی ہے اور جو شعور و وجود سے ماقبل اور مقدم ہے۔ میثاقِ الست غیب الغیاب کا ”واقعہ“ ہے جبکہ شہادت کی دعوت شہود میں میثاقِ الست کا replay ہے۔ شہادت کی دعوت کا جواب مطلق ہاں ہے یا ناں ہے، درمیانی چیز کچھ نہیں۔ جنھوں نے درمیانی چیز کو ڈھونڈا وہ درکاتِ اسفل کے سزاوار ٹھہرائے گئے۔ سادہ لفظوں میں ایمان، شہادت کا حاصل ہے، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اور میثاقِ الست سے ڈھلی ہوئی فطرتِ انسانی پر بحال ہو جانے کا شرفِ انسانی ہے۔ فطرت شعور و وجود سے ماقبل اور مقدم ہے، اور شعور اور وجود کے برعکس زمان و مکاں کے مؤثرات کی اثرپذیری سے ماورا ہے۔ شعور و وجود تاریخ کی رہگزر میں ہیں اس لیے یہ ان سے اثرات قبول کرتے ہیں، اور فطرتِ انسانی شعور و وجود کو پیس دینے والے زمان و مکاں کے پاٹوں سے ماورا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی علیہ کے بموجب ایمان کسی کمی بیشی سے ماورا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ ایسی چیز سے متعلق ہو جو خود زمان و مکاں سے ماورا ہو کیونکہ کمی بیشی زمان و مکاں کی صفت ہے، اور ان اشیا کی جو زمان و مکاں کے اندر ہوں۔
اب ”حال“ کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”حال“ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ مظروف ہوتا ہے، اور کسی شے کا محتویٰ ہوتا ہے۔ انسان میں علم کا محاط (container) شعور ہے جبکہ جذب کا محاط نفسِ انسانی ہے، اور یہ دونوں زمان و مکاں کے پاٹوں میں ہیں، یعنی حال کا جزو اعظم زمانیت ہے۔ علم شعور کا تجربہ ہے، اور جذب نفس کا تجربہ ہے۔ تصوف و سلوک میں تجربے کو حال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سلوک میں، حال میں رہنے کو نقص شمار کیا جاتا ہے، اور مقصود اس سے آگے سفر کرنا بیان کیا جاتا ہے۔ اس تقدیر پر علم شعور کو اور جذب نفس کو transcend نہیں کر سکتا۔ ایمان اس معنی میں شعور یا نفس کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اور قبل علمی اور قبل تجربی ہے، اور خود transcendence ہے۔ ایمان کا اصل نکتہ یہ ہے:
To        be is        to         witness.
مولانا محمد ایوب دہلوی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ علم حاصل کرنے کے لیے انسانی زندگی بہت تھوڑی ہے۔ مولانا نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان یہاں علم حاصل کرنے نہیں آیا، شہادت دینے آیا ہے اور شہادت دینے کے لیے یہ عمر کافی ہے۔
شعور میں نیت /توجہ اور نفس میں ارادہ حال کی حفاظت کر سکتے ہیں اگر وہ فطرت ایمانی سے کمک پاتے ہوں، ورنہ زمانیت نیت اور ارادے کے ذریعے شعور و وجود پر غالب آ جاتی ہے اور انسان محض مٹی کا تودہ ہی رہ جاتا ہے۔ حال شعور و نفس کی ان کیفیات کا نام ہے جو متغیر رہتی ہیں، اور تغیر کا کوئی تصور زمان و مکاں کے بغیر محال ہے۔ احوال مجاہدے سے مقامات بن سکتے ہیں کیونکہ مقام میں انسان کا شعور اور نفس فطرتِ ایمانی کا رنگ پیدا کر لیتے ہیں اور انھیں ایک ثبات و استقرار حاصل ہو جاتا ہے۔ اس باعث ایمان کو شعور کا حال کہنا مناسب نہیں ہے بلکہ خطرناک ہے۔ انسانی شعور کو حاصل ہونے والا علم ایک وضعی رائے (formal        opinion) سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا اور ایمان ہرگز اس چیز کا نام نہیں ہے، اور نفس ِانسانی میں جذب بھی زمان و مکاں کی وجہ سے ہر وقت ہچکولوں میں ہوتا ہے، اور ایمان کی محکم اساس نہیں بن سکتا۔ یہ ضرور ہے کہ مابعد ایمان، شعور انسانی اور نفس انسانی ایمان کو چکھ سکتے ہیں۔ ایمان لفظ کے ساتھ حق آگاہ علم کی صورت میں شعور کا روحانی تجربہ بن جاتا ہے؛ اور ایمان لفظ کے بغیر صرف اپنے معنی میں تراوشِ فیض کی صورت میں نفسِ انسانی کا تجربہ بن جاتا ہے۔
ایمان بصورت شہادت، فطرت انسانی میں دائمی حضور حق ہے، اور حالتِ شہادت زمان و مکاں سے ماورا ہے جبکہ شعور اور نفس انسانی میں حضور حق چار چیزوں سے مشروط ہے: زمان و مکاں، نیت و ارادہ۔ شہادت میں نیت اور ارادہ انفعالاً شامل ہوتے ہیں، لیکن شہادت پورے انسان کی ایسی وجودی حرکت ہے جو کسی علمی قضیے کے نتیجے کی طرح نہیں ہوتی اور نہ یہ کسی نفسی راجح کو اختیار کرنے کا معاملہ ہی ہوتا ہے۔ شہادت اللہ تعالیٰ کے وحدہٗ لاشریک ہونے اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے عبد اور رسول ہونے کی شہادت کے ساتھ ساتھ اپنے ہونے کی گواہی بھی ہے۔ اور ہونا شعور کا مسئلہ اور نہ وجود کا، یہ انسان کا مسئلہ ہے۔ شہادت دیتے ہی انسان اس عالم تکوین (cosmic order) میں اپنے اصل مقام پر فروکش ہو جاتا ہے، جو عبدیت ہے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں