علامہ ابن تیمیہ کے مطابق حوادث دو طرح کے ہیں: وہ جو خدا کے ساتھ قائم ہیں جنہیں حوادث متصلہ کہتے ہیں اور وہ جو خدا سے خارج یا اس کا غیر ہیں جنہیں حوادث منفصلہ کہتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق کیسے ہوتا ہے، اس کی کوئی درست وجودی بنیاد ابن تیمیہ کے ہاں میسر نہیں ہوپاتی۔ اس لئے نہ ان کے ہاں وجود باری کی دلیل کا کوئی درست منہج موجود ہے اور نہ ہی اس عالم کے خدا نہ ہونے کے ثبوت کا۔ البتہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک اور غلط تقسیم کا سہارا لینے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ ہے فعل و مفعول کا فرق۔ چنانچہ دعوی کیا جاتا ہے کہ فعل و مفعول دونوں حادث ہوتے ہیں لیکن فعل فاعل کے ساتھ قائم ہونے والا حادث ہوتا ہے جبکہ مفعول (جسے فاعل نے بنایا) وہ فاعل سے الگ ہوتا ہے۔ فعل کی اس تنقیح کی بنیاد پر دعوی کیا جاتا ہے کہ خدا کے افعال میں بھی ایسا ہی معاملہ ہونا چاہئے کہ کچھ حوادث اس کی ذات میں رونما ہوتے ہیں اور کچھ خارج میں۔ پھر مزید دعوی کردیا جاتا ہے کہ یہ عالم دراصل مفعول حادث ہے اور اس کی بابت یہ علم ہمیں مختلف قرائن کے مشاہدے و استقرا سے ہوجاتا ہے۔ یوں یہ ثابت ہوگیا کہ کسی شے کو لاحق محدث کی احتیاج کی بنیاد حدوث (شے کا عدم سے وجود میں آنا) نہیں بلکہ مفعول حادث ہونا ہے۔ بالفاظ دیگر علت احتیاج حدوث نہیں مفعول ہونا ہے اور اس کے قرائن حدوث کے سوا ہوتے ہیں۔
اس استدلال کی غلطی کو ہم ترتیب وار پانچ نکات میں کھولتے ہیں:
1۔ خدا کے لئے حادث افعال و مفعول کی یہ نام نہاد تقسیم دراصل خدا کے افعال کو انسانی افعال پر قیاس کرنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے کچھ اس قسم کی ذھنیت کار فرما ہے: زید جب کوئی فعل کرتا مثلاً کرسی بناتا ہے تو اس کے جسم میں حرکت ہوتی ہے کہ مثلاً وہ اٹھتا بیٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ ہلاتا ہے، یہ حوادث زید یعنی فاعل کے ساتھ قائم ہیں۔ ان افعال سے جو شے بنتی ہے یعنی کرسی وہ حادث مفعول ہے اور یہ زید کا غیر ہے۔ ابن تیمیہ کے نزدیک خدا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ فعلِ خلق و کلام وغیرہ میں کچھ حوادث اس میں ہوتے ہیں اور کچھ باہر ہوتے ہیں۔ یہ ایک بدترین قسم کا فاسد قیاس ہے، قیاس کے لئے اصل و فرع میں مشترک معنی، حقیقت یا علت کا ہونا لازم ہے جبکہ یہاں وہ موجود نہیں۔ بندے کے افعال قدرت محدثة سے رونما ہوتے ہیں جبکہ خدا کی قدرت قدیم ہے۔ اس لئے بندے کے اندر کچھ نیا یا حادث ہونا (یعنی ایسا ہونا جو پہلے نہ تھا) قابل فہم ہے، لیکن قدیم کی جناب میں اس کا کوئی مطلب نہیں۔ الغرض ایسے فاسد قیاس کی بنیاد پر کوئی تھیوری آف فعل کھڑی کرنا بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ پس آپ موجودات میں ذات و صفات باری کے سوا حادث فعل نام کی جو ایک کیٹیگری شامل کررہے ہیں، پہلے یہ بتائیں کہ سوائے ایک فاسد قیاس اس کی دلیل کیا ہے؟
2۔ اگلی بات یہ کہ فعل کی حقیقت حادث ہونا ہے۔ فعل خارج میں مفعول سے الگ کوئی مستقل موجود نہیں،
* یا فعل سے مراد خود وہ حادث اثر ہے جو فاعل سے صادر ہوا اور وہ مفعول ہے،
* یا فعل سے مراد فاعل کی اس مفعول سے نسبت ہے اور نسبت کوئی مستقل موجود نہیں۔
فعل ہونے کا علم کسی شے کے عدم سے وجود میں آنے سے ہوتا ہے نہ کہ فاعل کے اندر رونما ہونے والی کسی تبدیلی وغیرہ کو دیکھ کر، یہی فعل کی حقیقت ہے۔ چنانچہ درست انٹالوجی یہ ہے کہ موجودات میں باری تعالی کی قدیم ذات و صفات ہیں اور حوادث ہیں جنہیں مخلوق کہتے ہیں اور جو خدا کی قدیم صفت قدرت سے متعلق افعال ہیں۔ ان کے سوا موجودات میں قدیم کے اندر یا اس کے ساتھ قائم حوادث کے وجود کی کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ وہ محال ہیں۔ زید کی جناب میں ہاتھ پیر کے جس ہلنے کو مفعول سے الگ بطور فعل حوالہ بنایا جاتا ہے، زید کے وہ سب افعال بھی مفعول (حادث) ہی ہیں اور بطور حادث وہ محدث کے محتاج ہیں۔ ایسا کوئی حادث فعل نہیں دکھایا جاسکتا جو مفعول نہ ہو، لہذا زید کے جن افعال کو ریفرنس بنا کر یہاں فاسد قیاس کیا جارہا ہوتا ہے وہ افعال بھی مفعول ہی ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا حادث فعل ہے جو مفعول نہیں تو ایسی بات کہنا اصول علیت کو درھم برھم کردینا ہے۔ دو ہی امکان ہیں کہ فعل کے نام پر جن بعض حادث موجودات کو فرض کیا جارہا ہے یا وہ کسی محدث کا اثر ہیں اور یا از خود ہیں:
* اگر فاعل انہیں وجود دیتا ہے تو وہ فاعل کا مفعول ہوئے، فھو المطلوب
* اور اگر کوئی انہیں وجود نہیں دیتا تو بعض حوادث کا بلا محدث وجود ماننا پڑے گا جس کا مطلب یہ کہنا ہے کہ بعض موجودات کسی محدث کے بغیر از خود عدم سے رونما ہوجاتے ہیں اور وہ کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ کفری انٹالوجی ہے۔
الغرض “حادث مفعول” سے الگ “حادث فعل” نام کی کوئی شے موجود نہیں، یہ سب جعلی تقسیم ہے۔
3۔ نیز زید کی جناب میں فعل کے نام پر جتنے بھی امور کو سوچا جارہا ہے وہ سب جسم کی حرکات و سکنات ہیں جبکہ خدا جسم ہونے ہی سے منزہ ہے۔ ایسے میں آپ خدا کے ساتھ کون سے افعال قائم کررہے ہیں اور خدا کے ساتھ قائم ان حادث افعال کی حقیقت کیا ہے؟ اگر اس کی کوئی معلوم حقیقت نہیں تو انسانی فعل سے اس پر قیاس بے بنیاد ہے، اور اگر اس کی کوئی متعین حقیقت ہے تو اسے بیان کیا جائے۔ اور اگر آپ نے یہی کہہ کر جان چھڑانا ہے کہ خدا کے حادث فعل اس کی شان کے مطابق ہیں جن کی حقیقت کا ہمیں علم نہیں، تو اس سے زیادہ بے معنی گفتگو اور کیا ہے؟ اللہ کی بارگاہ میں آخر آپ بلا علم لب کشائی کیوں کررہے ہیں؟
4۔ اگر ایک منٹ کے لئے اس جعلی تقسیم کو مان بھی لیا جائے تب بھی اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ عالم مفعول حادث ہے لہذا یہ محتاج ہے۔ اس مقصد کے لئے جن اوصاف کو گنوانے کی کوشش کی جاتی ہے مثلاً تحدید، تغییر وغیرہ، وہ خود ابن تیمیہ کے لئے احتیاج کی بنیاد نہیں بن سکتے کیونکہ ان کے نزدیک خدا میں تغیر بھی ہوتا ہے اور وہ محدود (finite) بھی ہے (یاد رہے کہ تغییر و تحدید حدوث ہی ہے)۔ پس اس بنائے فاسد علی الفاسد سے بھی مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔ اور یہ کیا ہی مضحکہ خیز بات ہے کہ کسی شے کا عدم سے موجود ہونا (حدوث) تو اس کے محدث کی جانب محتاج ہونے کی دلیل نہیں البتہ اس کے سوا کچھ دیگر امور اس کی دلیل ہوسکتے ہیں۔ گویا اس واضح ترین پیمانے کو ٹھکرانے کے بعد بھی اس علم کی کوئی بنیاد ہوسکتی ہے، فیا للعجب!
5۔ آخری بات یہ کہ ابن تیمیہ کے نزدیک قرآن “بطور کلام” خدا کا حادث فعل ہے لیکن وہ ہمارے سامنے و ساتھ بھی موجود ہے۔ پس اگر کلام اللہ خارج میں موجود ہوتے ہوئے خدا کے ساتھ قائم حادث ہے تو یہ کیوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ عالم یا اس کی بعض چیزیں بھی خارج میں ہوتے ہوئے خدا کے ساتھ ہی قائم ہے؟ پس حادث منفصل و متصل کا فرق مزید دھندھلا گیا۔
الغرض درست بات وہی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا تھا کہ علامہ ابن تیمیہ کے نظام فکر میں وجود باری کے ثبوت اور اس عالم کے خدا نہ ہونے کی اس ایڈھاک دعوے کے سوا کوئی درست دلیل موجود نہیں کہ ہمیں یہ فطری طور پر معلوم ہے۔




کمنت کیجے