ڈاکٹر شیر علی ترین کی تصنیف Perilous Intimacies کے چوتھے باب کا ترجمہ وتلخیص
تعارف
ہندوستان میں متشدد ہندو قوم پرستوں کی جانب سے گاے کی قربانی کے مسئلے پر مسلمانوں کے خلاف مسلسل پر تشدد تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2015 سے لے کر 2018 تک اسی مسئلے پر متشدد ہندؤوں کی جانب سے 36 مسلمان قتل اور 280 زخمی کیے گئے ہیں۔ گاے سے اس قدر جذباتی وابستگی صرف ہندو قوم پرستوں کے علاوہ جانوروں کے حقوق کے ترقی پسند کارکنوں میں بھی ہے۔ اس جدید پس منظر کے علاوہ آزادی سے قبل استعماری دور میں بھی مسلم ہندو موالات کی حدود کی تعیین میں یہ مسئلہ مسلمان علما کے مناقشوں اور اختلافات کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ اور اس باب میں اس موضوع پر برصغیر کے دو نامور اہل علم مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے خیالات کا تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
گاو کشی کا استعماری پس منظر
گاے کی قربانی ہندوستان میں استعمار کی آمد سے پہلے بھی رائج رہی ہے۔ تاہم انیسویں صدی میں برطانوی استعمار کی ریاستی مداخلت نے اس مسئلے پر شدید اختلافات کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور ہندؤوں، اونچی اور نچلی ذات کے ہندؤوں، اور ہندؤؤں اورانگریز کے درمیان شدید تفریق پیدا ہوئی۔ اسی دور میں گاوکشی کی بندش پر برصغیر کی انگریزی عدالتوں میں بڑے پیمانے پر مقدمہ بازی شروع ہوئی۔ مشہور ہندو مصلح اور رہ نما دیانندا سروستی نے 1881 میں مجلسِ تحفظِ گاو (گوراکشنی سبھا) کے نام پر ایک تنظیم بنائی، جو پنجاب اور شمالی ہندوستان میں کافی متحرک رہی۔ اس تنظیم کی فعالیت کے نتیجے میں ہندؤوں میں گاے ایک استعمار مخالف علامت اور ہندؤوں کو تحریک دینے اورتشدد پر ابھارنے کے لیے ایک عنوان کے طور پر ابھری۔ 1893 میں جوناگڑھ، اودھ اور رنگون میں گاوکشی پر فرقہ وارنہ فسادات میں کم وبیش 100 لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔ اسی دور میں تحریک خلافت کے تناظر میں ہندومسلم موالات کی حدود کے ضمن میں گاوکشی کی شرعی حیثیت پر علما کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔
واضح رہے کہ برطانوی استعمار گاوکشی کا قائل تھا لیکن ہندؤوں کی مذہبی حساسیتوں کو دیکھتے ہوئے اس نے مخصوص مقامات پر گاے کی قربانی پر پابندی عائد کی تھی۔ گاو کشی پر فرقہ وارانہ تشدد نے مذہبی امور میں استعماری ریاست کی غیرجانب داری کا پول کھول دیا، اور سیکولر ریاست کی بنیادی منطق میں ایک اہم تضاد کی نشان دہی کہ باوجود مذہبی معاملات میں غیرجانب داری کے دعوے کے وہ غیر جانب دار نہیں ہے۔
بنیادی استدلال
اس پورے باب میں ڈاکٹر ترین کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلامی سطنت اور مسلمانوں کے تہذیبی غلبے کے زوال کے بعد مسلمان اہل علم نے چن چن کر ان اسلامی شعائر/احکام پر زور دیا، جو عوامی دائرے میں مسلمانوں کی حاکمانہ طاقت ، غلبہ اور امتیاز وبرتری کی علامات ہیں۔ گاے کی قربانی بھی ان علامات میں سے ایک ہیں۔
گاوکشی: اعلیٰ حضرت کا موقف
گاوکشی کے موضوع پر مولانا احمد رضا خان نے متعدد مقامات پر اپنی راے کا اظہار کیا ہے، لیکن ان کا سب سے تفصیلی موقف 1880ء میں چھپنے والے ایک رسالے أنفس الفکر في قربان البقر میں ہے، جو انھوں نے ایک استفتا کے جواب میں قلم بند کیا ہے۔ اعلی حضرت عیدالاضحی کے موقع پر گاے کی قربانی اور اس کے عمومی ذبیحے میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک دونوں کا حکم ایک ہے۔ اگر چہ گاوکشی اصلا مباح ہے، لیکن ہندوستان کے مخصوص پس منظر میں گاوکشی نہ صرف مباح بلکہ واجب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی فقہ کا مسلمہ اصول ہے کہ علت کی تبدیلی سے حکم تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے عہد نبوی میں خواتین کا مساجد میں آنا جائز تھا، لیکن بعد میں فتنے کی وجہ سے مساجد میں خواتین کی آمد پر پابندی عائد کی گئی۔ اسی طرح ہندوستان میں گاوکشی کے وجوب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دین اسلام کے ان شعائر میں سے ہے، جس کی وجہ سے عوامی دائرے میں اسلام کی عزت وبرتری ظاہر ہے۔ اعلی حضرت کے مطابق کانگریس یا ہندؤوں کی خوشی کے لیے گاے کی قربانی چھوڑنا اسلام کی تذلیل اور دشمنانِ اسلام کی برتری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اعلیٰ حضرت نے مستفتی کے کو تلقین کی ہے کہ ہندو لیڈروں کی رضامندی کے لیے ترک گاوکشی ‘ترک’ کے بجاے ‘کف’ (جبرا رکنا) ہے، جو اسلام کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔
اعلی حضرت اور استعماری حکومت
اعلی حضرت کے استدلال کا تاریخی پس منظر مسلمانوں کے تہذیبی غلبے کے ماقبل جدید دور کا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ استعماری طاقت سے بےخبر یا لاتعلق تھے۔ اس کے برعکس استعماری نظام نے جو فوائد ومواقع پیدا کیے تھے، وہ نہ صرف ان سے اچھی طرح واقف تھے، بلکہ اپنے استدلال کو ان سے ہم آہنگ کرکے اس کو زیادہ مقبول بنانے کے لیے بھی ساعی تھے۔ مثلا انھوں نے تحفظِ شعائر کے ذیل میں ‘پبلک آرڈر’، ‘برداشت’ اور ‘مذہبی آزادی’ کے استعماری تصورات کو استعمال کیا ہے۔
گاوکشی کے متعلق اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے انھوں نے استعماری حکومت وقانون سے تعامل کرتے ہوئے دو چیزوں پر زور دیا۔ ایک یہ کہ گاوکشی کے مسئلے پر برطانوی قانون اور فقہ اسلامی میں ہم آہنگی ہے، کیونکہ دونوں کی نظر میں گاوکشی جائز ہے۔ اس جواز کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ہندؤوں کے خوف سے گاوکشی سے رکنا ناجائز اور موجب تذلیل ہے۔ برطانوی استعمار کی دی گئی مذہبی آزادی کی رو سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات جبرا نہیں دبایا جا سکتا۔ دوسری یہ کہ ہندؤوں کے خوف سے گاے کی قربانی سے رک جانا مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ اس امر کے اثبات کے لیے انھیں یہ ثابت کرنا پڑا کہ گاے کی قربانی از روے مذہب ضروری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے قرآن وسنت اور فقہی نصوص کے بکثرت حوالہ جات پیش کیے۔
لیکن یہ واضح رہے کہ اعلی حضرت برداشت اور مذہبی رواداری کے جدید سیکولر لبرل تصورات واقدار کے وکیل نہیں تھے، بلکہ وہ ان تصورات واقدار کو اپنے کلامی وفقہی ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ استعماری حکومت کی طرف سے ممنوعہ مقامات پر قربانی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ قانون توڑنے کی وجہ سے سزا ملے گی، جو مسلمانوں کی بدنامی اور غیروں کی خوشی کا سبب بنے گی۔
اعلی حضرت نے صرف قرآن وسنت اور فقہی نصوص پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ گاو کشی کے فعل وترک کے عملی فوائد ونقصانات پر بھی تفصیلی بحث کی، جو ان کی عملیت پسندی کی دلیل ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ترک گاوکشی سے مسلمانوں کو بھاری معاشی نقصان ہوگا، کیوں کہ گاے کا گوشت بکری کی بنسبت سستا ہے۔ مزید یہ کہ جب ایک بار گاے کی گوشت پر پابندی عائد ہوگئی تو دوبارہ اس عمل کا احیا بہت مشکل ہو جائے گا، اور اس سے مسلمانوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ پھر یہ کہ گاے کی کھال سے چپل اور دیگر اشیا کی بڑی صنعتیں وابستہ ہیں۔ ان صنعتوں میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو روزگار ملتا ہے، اور سرکاری خزانے میں بھی کروڈوں روپے کی آمدنی آتی ہے۔ گاے کی پابندی سے یہ تمام صنعتیں برباد ہونے کا خدشہ ہے۔
اعلی حضرت اور تقابل ادیان
اپنے موقف کو تقویت پہنچانے کے لیے اعلی حضرت نے اس موضوع پر ہندو مذہب کی متون سے بھی اعتناکیا۔ اعلی حضرت نے بتایا کہ گاے کو حاصل موجودہ تقدس اصل ہندومت کا حصہ نہیں بلکہ بعد کی ایجاد ہے۔ ویدوں کے مطابق ہندؤوں کے مختلف دیوتاؤں رام، کرشن اور لکشمن سب نے گاوکشی کی۔ اعلی حضرت نے ان لوگوں کو نشانے پر لیا جو کہتے ہیں کہ گاوکشی قرآن وسنت کے بجاے فقہی مصادر سے ثابت ہے۔ انھوں نے الزاماً پوچھا کہ ترک گاوکشی تو ہندو مذہب کے ویدوں کے بجاے شاستروں سے ثابت ہے۔ اگر آپ یہاں پر ویدوں کے بجاے شاستروں کی مانتے ہیں، تو پھر اسلام میں قرآن وسنت کے ساتھ حنفی فقہی اجتہادات کو کیوں نہیں مانتے۔ لیکن یہاں پر اعلی حضرت کی اپنی فکر میں ایک اہم تضاد کا تذکرہ ضروری ہے کہ وہ خود تو قرآن وسنت اور مابعدی اجتہادات کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن ہندؤوں کے معاملے میں ویدوں کو بنیادی مصدر مان کر شاستروں میں موجود احکامات کی نفی کرتے ہیں۔ دراصل ہندو قوم پرستوں کے خلاف جدید سیکولر مؤرخین جیسے ڈین این جھا نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس طریق کار کے مطابق کسی نظریے کو اصلی مصادر سے انحراف قرار دے کر اسے بےاعتبار ثابت کرنا ہوتا ہے۔ حالانکہ ترکِ گاوکشی کے متعلق موجودہ ہندوانہ رسم پیچیدہ دلائل پر مبنی ہے، جسے مذہبی کتابوں سے شواہد پیش کرکے بمشکل رد کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد اعلی حضرت کہتے ہیں کہ گاے کے گوشت کے حوالے سے ہندؤوں کے رویوں میں بذات خود تضاد ہے۔ کچھ ہندو اس معاملے میں اس قدر سخت ہیں کہ گوشت کی بو بھی سونگھنے کو روا نہیں سمجھتے، جب کہ بعض دیگر دھڑلے سے گاے کا گوشت کھاتے ہیں۔ اب جب کہ خود ہندؤوں میں سے کچھ لوگ ان حساسیتوں کا خیال نہیں رکھتے، تو مسلمانوں کو اس پر کیوں کر مجبور کیا جا سکتا ہے، جب کہ مسلمانوں کو ترک گاوکشی کے مقابلے میں کچھ ملتا بھی نہیں۔ کیا ہندو اپنے مشرکانہ بھجن اور منتر پڑوس کے مسلمانوں کی حساسیت کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں؟ ایسی غیرمساوی رواداری مسلمانوں کی حیثیت کو کمزور کرتی اور ان کے اور دیگر مذاہب کے درمیان طاقت کے توازن کو بگاڑتی ہے۔
پھر یہ کہ اگر مذہبی رواداری اور امن عامہ کے نام پر گاوکشی پر پابندی لگائی جائے، تو کل کلاں ہندو کسی اور جانور حتی کہ سانپوں کے مارنے پر پابندی عائد کردیں گے، کیوں کہ بعض ہندؤوں کے نزدیک وہ بھی دیوتا ہیں۔ اس طرح سے مسلمانوں کے بہت سی رسوم اس خود ساختہ منطق کی بنا پر ناجائز قرار پائیں گی۔ اعلی حضرت اقدامی وار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ تو گاے کے ہندو محافظین پبلک آرڈر کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں۔ جہاں قانونی اجازت ہے، یہ وہاں بھی قربانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ پبلک آرڈر گاوکشی سے نہیں، بلکہ قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہوتا ہے، اور ہندو قانون پر عمل نہیں کرتے۔ پبلک آرڈر کے نام پر مسلمانوں کے تمام شعائر کو مٹانے سے بچانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ گاے کی قربانی سے نہ رکا جائے۔
گاوکشی سے متعلق اعلی حضرت نے جن مصادر سے حوالہ جات پیش کیے ہیں، وہ بھی کافی دل چسپ ہیں۔ ویدوں میں گاوکشی کے جواز پر ان کے حوالہ جات ایک انگریزی ہفت روزہ ‘پائنیر’ (Pioneer) کے ایک تفصیلی مضمون سے ماخوذ ہے، جس کا مصنف معلوم نہیں۔ یہ اخبار 1833 میں ایک انگریز تاجر جارج ایلن نے جاری کیا تھا۔ اسی طرح وہ گاوکشی سے متعلق ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بھی حوالے دیتے ہیں۔ اس پوری بحث میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو مذہب سے اعلی حضرت کے تعامل میں دو اہم پہلو ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ اپنے عہد کے اداروں اور ٹیکنالوجی سے لاتعلق نہ تھے۔ دوسری یہ کہ ہندو مذہب اور مقدس کتابوں کی تفہیم کے حوالے سے ان کی سوچ استعماری مفروضات سے متاثر تھی۔
گاے اور مذہبی ہم آہنگی: قیام الدین مولانا عبد الباری فرنگی محلی (1876-1926)
مولانا عبدالباری برصغیر میں صف اول کے مسلمان اہل علم میں سے تھے۔ ان کی وابستگی فرنگی محل سے تھی، جو برصغیر کا ایک بلند قامت علمی وتعلیمی مرکز تھا۔ انھوں نے صرف ونحو، منطق، فقہ، کلام، تفسیر، تصوف اور اخلاقیات پر 110 سے زیادہ کتابیں اور حواشی لکھیں۔ مولانا آزاد کے برعکس وہ حنفی مذہب سے غیر مشروط وابستگی رکھتے تھے۔ وہ مشہور مدرسہ عالیہ نظامیہ کے بانی اور جمعیت علماے ہند کے بانی رکن تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کے حامی اور پرجوش رہ نما تھے۔
مولانا عبدالباری: استدلالی حکمتِ علمی
مولانا عبدالباری اپنے موقف کو قدیم کلامی وفقہی روایت سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد پر ان کا موقف لبرل تکثیریت کے بجاے اسلامی روایت کی ایک مخصوص تفہیم پر مبنی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ گاے سے متعلق فرقہ وارانہ جذبات کی شدت میں کمی لائیں، اس لیے وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ گاوکشی سے اجتناب کریں، جب کہ ہندؤوں سے کہتے تھے کہ وہ ترک گاوکشی پر اصرار نہ کریں۔ اعلی حضرت کی طرح وہ بھی عوامی دائرے میں مسلمانوں کی امتیازی حیثیت/شعائر کی برقراری کے پرزور حآمی تھے۔ گاوکشی کے موضوع پر اپنے موقف میں انھوں نے بتایا ہے کہ ان کا موقف گاندھی/کانگریس کے حکم یا اصرار پر نہیں ہے۔
مولانا عبدالباری: استدلال کے مرکزی نکات
گاوکشی سے احتراز کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد ممکن ہے، جو برطانوی استعمار کے خلاف بھرپور مزاحمت اور خلافت کے بچاو کے لیے ناگریز ہے۔ یہ تسلیم ہے کہ گاوکشی اور خلافت دونوں شعائر اسلام ہیں، لیکن خلافت کے مقابلے میں گاوکشی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے خلافت جیسے بڑے شعار کو بچانے کے لیے گاوکشی سے احتراز کی قربانی دینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔
اعلیٰ حضرت کے برعکس مولانا عبدالباری نے گاے کے ذبیحے اور عید کے موقع پر قربانی میں فرق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عید میں عمومی گاوکشی کی وجہ سے مسلم ہندو مذہبی حساسیتیں عروج پر ہوتی ہیں۔ دوسری طرف قربانی میں اچھے جانور کے ذبح کا حکم ہے، اور گاے کے مقابلے میں بکرے اور اونٹ اچھے جانور ہیں۔ اگر اس بنیاد پر عید میں گاوکشی سے احتراز کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ دیگر ایام میں گاوکشی کا عمل اسلام کے کسی شعار کے مکمل ترک نہ کرنے کی علامت ہوگی۔ مولانا عبدالباری نے یہ بھی بتایا کہ ہندؤوں کے ساتھ اشتراک عمل تعبدی امور میں نہیں، بلکہ معاشرتی امور میں ہے۔ اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ دونوں الگ ہیں اور ان کے احکام بھی الگ ہیں۔ اول الذکر ناجائز اور مؤخر الذکر جائز ہے۔
ہندوستان کی شرعی حیثیت: مولانا عبدالباری
کیا برطانوی استعمار کے قبضے کے بعد ہندوستان دارالحرب بن گیا ہے؟ اس موضوع پر مولانا عبدالباری کی راے تحریک خلافت کے دیگر مسلمان رہ نماؤں جیسے مولانا آزاد سے الگ تھی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ شاہ عبدالعزیز اور بعض علماے فرنگی محل کے فتاوی میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم، جن میں وہ خود بھی شامل ہیں، ہندوستان کو دارالاسلام مانتے ہیں۔ اپنے موقف کی وضاحت میں وہ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک دارالاسلام کی دارالحرب میں تبدیلی کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ کفار کے قبضے کے بعد وہاں سے تمام احکام وشعائر اسلام کا کلی خاتمہ ہو جائے۔ دوسری یہ کہ دارالاسلام کا کسی اسلامی علاقے کے ساتھ سرحدی اتصال باقی نہ رہے۔ یہ دونوں شرائط ہندوستان میں مفقود ہیں۔ یہاں پر بہت سے شعائرِ اسلام پر عمل اسی طرح جاری وساری ہے، جس طرح انگریزوں کی آمد سے پہلے تھا۔ دوسری یہ کہ ہندوستان کی سرحدات افغانستان سے متصل ہیں، جو ایک اسلامی علاقہ ہے۔ ان شرائط کی عدم موجودگی سے ہندوستان دارالاسلام ہے۔ ان کی نظر میں دار کی بنیاد حاکمیت اعلی یا غلبے کے بجاے شعائر اسلام سے پرزور سماجی وابستگی پر ہے۔
مولانا عبدالباری: ہجرت کی شرعی حیثیت
جہاں تک ہجرت کی بات ہے، تو وہ بالذات نہیں، بلکہ کسی خاص غرض وغایت کے لیے فرض ہے۔ وہ غرض دین کو فوری اور ناگریز خطرے کا لاحق ہونا ہے۔ ایسی صورت میں ہجرت کرنا فرض ہے، بشرطیکہ خطرے سے نمٹنے کی دیگر تمام صورتیں مسدود ہو جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ہجرت ممنوع بھی نہیں۔ تحریک خلافت کی پکار پر جن لوگوں نے ہجرت کی ہے، ان کی مخالفت جائز نہیں۔ کوئی بھی کسی وجہ سے ایسے علاقے میں ہجرت کر سکتا ہے، جو اس کی نظر میں زیادہ منصفانہ یا دین کے حوالے سے زیادہ محفوظ ہو۔ دراصل مولانا تحریک خلافت سے وابستگی کی وجہ سے ان لوگوں سے ہم دردی رکھتے تھے، جنھوں نے ہندوستان سے ہجرت کی۔ ان کے طرز استدلال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حتی الامکان مفاہمتی اور ہم دردانہ عینک سے چیزوں کو دیکھتے تھے۔
مشترکات واختلافات
گاوکشی کے موضوع پر اعلیٰ حضرت اور مولانا عبدالباری دونوں کی راے میں ہندوستان میں گاوکشی اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ صرف ہندؤوں کے خوف یا دباو سے ترکِ قربانی جائز نہیں۔ دونوں فقہ حنفی سے غیرمشروط وابستگی رکھتے ہیں، اور اپنے فقہی مواقف کو اس سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں کے مباحث کا بنیادی سیاق مسلمانوں کی تہذیبی طاقت کا ہے، اور دینی فکر کو ماقبل ومابعد جدید استعماری عہد میں یکساں طور پر قابل انتقال سمجھتے ہیں۔ جہاں تک اختلافات کی بات ہےمولانا عبد الباری اعلی حضرت کے برعکس عیدالاضحی کے موقع پر ذبیحہ اورگاے کی عمومی قربانی میں حکم کے حوالے سے تفریق کرتے ہیں۔




کمنت کیجے