Home » ول ڈیورانٹ کا تصورِ نبوت و رسالت
انگریزی کتب • کلام

ول ڈیورانٹ کا تصورِ نبوت و رسالت

وسیم رضا ماتریدی 

ول ڈیورانٹ نے نبوت و رسالت کے موضوع پر کوئی مستقل مذہبی یا فلسفیانہ نظریہ مرتب نہیں کیا، لیکن The        Age        of        Faith میں رسول اللہ ﷺ کی حیات، آغازِ دعوت، وحی، ہجرت، مدینہ کی ریاست، قانون سازی، عسکری قیادت اور اسلامی تہذیب کی تشکیل کے بارے میں اس کے بیانات کو یکجا کیا جائے تو نبوت کا ایک واضح تصور سامنے آتا ہے۔ اس تصور کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ول ڈیورانٹ محمد ﷺ کی غیر معمولی تاریخی عظمت، اخلاقی اثر، قائدانہ صلاحیت اور تمدنی انقلاب کو پوری قوت سے تسلیم کرتا ہے، مگر نبوت کو اس کے اسلامی مابعد الطبیعی مفہوم—یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انسان کا واقعی انتخاب اور وحی کے ذریعے اس کی ہدایت—کے بجائے زیادہ تر ایک عظیم مذہبی مصلح، صاحبِ بصیرت قائد اور اپنے عہد کی تاریخی ضرورت کو مجسم کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے سمجھتا ہے۔

ول ڈیورانٹ رسول اللہ ﷺ کے تاریخی مقام کو معمولی الفاظ میں بیان نہیں کرتا۔ آپ ﷺ کی ولادت کے ذکر کے فوراً بعد وہ آپ کو “       the        most    important        figure        in        medieval        history” قرار دیتا ہے؛ یعنی اس کی نگاہ میں محمد ﷺ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے اہم شخصیت ہیں۔[1] یہ تعبیر اس لیے اہم ہے کہ ول ڈیورانٹ کا مطالعہ صرف اسلامی تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ مسیحی، یہودی، بازنطینی اور یورپی تہذیبوں کو بھی محیط ہے۔ اس وسیع تاریخی منظرنامے میں محمد ﷺ کو مرکزی ترین شخصیات میں رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ ول ڈیورانٹ نبوی دعوت کے تاریخی نتائج سے غیر معمولی طور پر متاثر ہے۔

اسی مقام پر ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ول ڈیورانٹ آپ ﷺ کی رسمی تعلیم کی کمی کا ذکر کرنے کے بعد یہ اعتراف کرتا ہے کہ اس کے باوجود آپ نے عربی زبان کی سب سے معروف اور مؤثر کتاب پیش کی اور انسانوں کی تنظیم و قیادت کا ایسا فہم حاصل کیا جو بسا اوقات اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بھی نایاب ہوتا ہے۔[2] گویا اس کے ہاں شخصیتِ محمد ﷺ کو محض ایک مذہبی واعظ کی سطح پر نہیں رکھا جاسکتا؛ وہ آپ میں فکری، ادبی، نفسیاتی اور تنظیمی قوتوں کا ایک غیر معمولی اجتماع دیکھتا ہے۔

نبوت: الٰہی انتخاب یا تاریخی ضرورت؟

یہی مقام ول ڈیورانٹ کے تصورِ نبوت کی اصل پیچیدگی بھی ہے۔ وہ تاریخی روایت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے آپ کو اللہ کا نبی اور عرب قوم کو نئی اخلاقیات اور توحیدی ایمان کی طرف لے جانے کے لیے الٰہی طور پر مامور قرار دیا:
“the        prophet        of        Allah,        divinely        commissioned…”[3]

لیکن یہ عبارت ول ڈیورانٹ کا اپنا اعترافِ نبوت نہیں، بلکہ وہ محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو تاریخی طور پر بیان کررہا ہے۔ جب وہ اس دعوے کی توضیح کرتا ہے تو اسے رفتہ رفتہ عرب کے مذہبی، اخلاقی اور سیاسی حالات سے جوڑ دیتا ہے۔

اس کے نزدیک قبل از اسلام عرب معاشرہ بت پرستی، قبائلی جنگ، سیاسی انتشار اور اخلاقی بے سمتی کا شکار تھا۔ یہودیت کی توحید، مسیحیت کی اخلاقی تعلیم اور دونوں مذاہب کے پاس مقدس صحائف کی موجودگی نے، ڈیورانٹ کی تعبیر میں، محمد ﷺ پر یہ اثر ڈالا ہوگا کہ عربوں کو بھی ایک ایسے مذہب کی ضرورت ہے جو انھیں متحد کرے اور ان کے اخلاق کو خدائی احکام کی قوت فراہم کرے۔ وہ لکھتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے زمانے کی ایک گہری ضرورت اور آرزو کو زبان اور صورت عطا کردی:
“gave        voice        and        form        to        the        need        and        longing        of        his        time.”[4]

یہ ایک نہایت اہم جملہ ہے۔ اس میں نبوت آسمان سے زمین کی طرف آنے والے الٰہی انتخاب کے بجائے زمین کے اندر پیدا ہونے والی تاریخی ضرورت کا جواب بن جاتی ہے۔ نبی وہ شخصیت ہے جو اپنے زمانے کی منتشر خواہشات، اخلاقی اضطراب اور اجتماعی ضرورت کو سب سے گہری سطح پر محسوس کرتی اور پھر اسے ایک مذہبی تحریک کی صورت دے دیتی ہے۔

یہ تعبیر مذہبی مصلح کی عظمت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن اسلامی تصورِ نبوت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اسلامی تصور میں نبی صرف اپنے عہد کے شعور کا سب سے اعلیٰ ترجمان نہیں ہوتا؛ وہ مصطفیٰ اور مجتبیٰ ہوتا ہے، جسے اللہ اپنی مشیت سے منتخب کرتا ہے:
﴿اللّٰهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ﴾
’’اللہ فرشتوں میں سے بھی رسول منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔‘‘
(الحج: 75)»

تاریخی ماحول نبوت کے ظہور کا سیاق ہوسکتا ہے، اس کا سبب نہیں۔ عرب معاشرے میں اخلاقی اور سیاسی بحران موجود ہونا یہ توضیح کرسکتا ہے کہ نبوی دعوت کس مسئلے سے مخاطب ہوئی، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسی بحران نے نبوت کو پیدا کیا۔

یہاں تاریخی مناسبت اور علّی ماخذ کے درمیان فرق بنیادی ہے۔ کسی پیغام کا اپنے عہد کی ضرورت کے عین مطابق ہونا اس بات کی دلیل بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس ضرورت کے جواب میں آیا؛ لیکن صرف اسی حقیقت کی بنیاد پر یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ پیغام اسی معاشرے کی داخلی پیداوار تھا۔

نبوت سے اصلاحِ معاشرہ تک:

ول ڈیورانٹ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا سب سے بڑا عملی مظہر عرب معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی اصلاح کو سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق آپ ﷺ نے ایسی قوم کو ایک نئے اخلاقی تصور سے آشنا کیا جو قبائلی انتقام، داخلی کش مکش اور سیاسی انتشار میں مبتلا تھی۔ مکہ کے دور میں وہ آپ کو ایک ایسے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جو توحید، آخرت اور اخلاقی ذمہ داری کی دعوت دے رہا تھا، اور جس کی پُرجوش خطابت نے کم تعداد میں سہی، مگر مختلف طبقات کے افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔[5]

وہ یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے امیر و غریب، آزاد و غلام، عرب، مسیحی اور یہودی سب کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھا۔ خاص طور پر غلاموں کے اسلام قبول کرنے اور قریش کی طرف سے ان پر ظلم کے ذکر میں ول ڈیورانٹ یہ محسوس کرتا ہے کہ نئی دعوت مکہ کے موجود سماجی نظام کے لیے محض مذہبی نہیں بلکہ سماجی چیلنج بھی بن رہی تھی۔[6]

اس پہلو سے ول ڈیورانٹ کے ہاں نبوت ایک Moral        Reform کی تحریک ہے۔ نبی معاشرے کے مقدس تصورات ہی نہیں بدلتا، بلکہ انسانی تعلقات کی نئی تشکیل بھی کرتا ہے۔ قبائلی شرف کے مقابل اخلاقی فضیلت، بتوں کے مقابل ایک خدا، انتقام کے مقابل قانون، اور نسبی وابستگی کے مقابل ایمانی اخوت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

لیکن ڈیورانٹ اس اصلاح کو الٰہی ہدایت کے عملی ظہور کے بجائے ایک غیر معمولی مصلح کی کامیابی کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہی فرق اس کے آخری محاکمے میں پوری طرح سامنے آتا ہے، جہاں وہ محمد ﷺ کو تاریخ کے عظیم ترین مصلحین میں شمار کرتا ہے لیکن اس کامیابی کی توضیح مذہب کی نفسیاتی اور اجتماعی قوت سے کرتا ہے۔

اسلامی تصور میں نبوی اصلاح کا سرچشمہ خود نبی کا ذہن نہیں، وحی ہے۔ رسول معاشرے کی اصلاح ضرور کرتا ہے، لیکن وہ اصول اپنی طرف سے وضع نہیں کرتا:
﴿إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ﴾
’’میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔‘‘
(الأنعام: 50)»

اس لیے اسلامی منہج میں محمد ﷺ مصلح بھی ہیں کیونکہ رسول ہیں؛ جب کہ ول ڈیورانٹ کی تاریخی تعبیر میں رسالت کا تصور بتدریج ایک عظیم مصلح کے تاریخی کردار میں جذب ہوجاتا ہے۔

نبوت، ریاست اور قیادت:

ہجرتِ مدینہ کے بعد ڈیورانٹ کے ہاں شخصیتِ نبوی کی تعبیر نمایاں طور پر تبدیل ہوتی ہے۔ مکہ میں محمد ﷺ داعی، واعظ اور مذہبی مصلح ہیں؛ مدینہ میں یہی نبی ایک سیاسی قائد، قانون ساز، ثالث، منتظم اور ریاستی سربراہ بھی بن جاتا ہے۔

ول ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ مدینہ میں ’’نبی کا اختیار‘‘ ایک شہری نظم پیدا کررہا تھا، اور اب آپ ﷺ کو معاشرتی تنظیم، روزمرہ اخلاق، بین القبائلی سفارت اور جنگ و امن کے عملی مسائل سے مسلسل سابقہ تھا۔ وہ اس نظام کو مذہب اور سیاست کی عدمِ تفریق کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے مختصر طور پر “both        Caesar        and         Christ” کہتا ہے۔[7]

یہ تعبیر مسیحی سیاسی تاریخ کے پس منظر سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیورانٹ محمد ﷺ کو مسیحی معنی میں ’’مسیح‘‘ سمجھتا ہے، بلکہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ مدینہ میں روحانی اور سیاسی اقتدار ایک ہی شخصیت میں مجتمع تھا۔

لیکن اسلامی تصور کے لحاظ سے اس تعبیر میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیاسی قیادت نبوت کے مقابل کوئی دوسرا، سیکولر منصب نہیں تھی جسے نبوت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو۔ مدنی ریاست میں قضا، قانون سازی، معاہدات، جنگ و امن اور معاشرتی نظم سب رسالت کے عملی دائرے کا حصہ تھے۔ اسی لیے قرآن اطاعتِ رسول کو مستقل دینی اصول بناتا ہے:
﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ﴾
’’جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
(النساء: 80)»

ول ڈیورانٹ مدینہ کے سیاسی نظم کی غیر معمولی کامیابی کو پہچانتا ہے۔ وہ ایمانی اخوت کے ذریعے مہاجرین و انصار کے تعلق، یہودی قبائل سے معاہدے اور قبائلی خون کے رشتے کی جگہ مذہبی برادری قائم کرنے کے عمل کو بیان کرتا ہے۔ اس کے ہاں یہ نبوی قیادت کی عملی ذہانت اور سفارتی بصیرت کا اظہار ہے۔

یہاں ڈیورانٹ کا تجزیہ اپنی قوت بھی دکھاتا ہے: وہ رسول اللہ ﷺ کو ایسا مذہبی کردار نہیں سمجھتا جو صرف عبادت اور روحانیت تک محدود ہو؛ وہ تسلیم کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے اجتماعی نظم کی ایک نئی صورت قائم کی۔ لیکن اس کا تاریخی فریم اس پورے عمل کو زیادہ تر State          Formation اور Social        Organization کی اصطلاحوں میں دیکھتا ہے، جب کہ اسلامی تصور اسے رسالت کی اجتماعی تکمیل سمجھتا ہے۔

داعی سے سپہ سالار اور سفارت کار تک:

ول ڈیورانٹ رسول اللہ ﷺ کی عسکری اور سفارتی صلاحیت کا بھی واضح اعتراف کرتا ہے۔ مدنی دور کے آخری حصے کے متعلق وہ لکھتا ہے:

«“The        Prophet        had          by        this         time          become        an        able         general.”[8]»

اور اسی کے فوراً بعد وہ آپ ﷺ کو ایک مؤثر سفارت کار قرار دیتا ہے جو جانتا تھا کہ جنگ کو کب صلح کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔ صلح حدیبیہ کو وہ اسی سیاسی بصیرت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

فتحِ مکہ کے موقع پر ڈیورانٹ اس عمومی معافی کو بھی نمایاں کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے سابق دشمنوں کے لیے جاری کی۔ وہ لکھتا ہے کہ آپ ﷺ نے مکہ میں قوت کے ساتھ داخل ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کی غالب اکثریت کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔[9]

یہاں ول ڈیورانٹ کی تصویر یک رخا نہیں رہتی۔ ایک طرف وہ بعض جنگی واقعات پر سخت اخلاقی زبان استعمال کرتا ہے، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی شجاعت، سفارت، عفو، ریاستی نظم اور فیصلہ سازی کی تعریف کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے ہاں محمد ﷺ نہ محض ’’جنگجو‘‘ ہیں اور نہ محض ’’صوفیانہ نبی‘‘؛ بلکہ وہ مذہبی دعوت اور عملی اقتدار دونوں کو جمع کرنے والی پیچیدہ تاریخی شخصیت ہیں۔

اسی پیچیدگی کو سمجھنا ڈیورانٹ کے تصورِ نبوت کے لیے ضروری ہے۔ وہ نبوت کو ایک ایسی قیادت میں تبدیل ہوتے دیکھتا ہے جو:- ایمان تشکیل دیتی ہے؛قانون دیتی ہے؛برادری قائم کرتی ہے؛سفارت کرتی ہے؛جنگ کی قیادت کرتی ہے؛اور بالآخر ایک قوم وجود میں لاتی ہے۔

لیکن اسلامی تصور میں یہ ’’نبوت سے سیاست کی طرف تبدیلی‘‘ نہیں، بلکہ ایک ہی رسالت کے مختلف مراحل ہیں۔ مکہ میں ایمان کی تشکیل اور مدینہ میں معاشرتی و قانونی نظام کا قیام ایک دوسرے سے منقطع نہیں۔

قانون سازی اور وحی: ول ڈیورانٹ کی سب سے بنیادی تنقید

رسالت کے بارے میں ول ڈیورانٹ کا سب سے زیادہ تنقیدی زاویہ مدنی قانون سازی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ کوئی منظم ’’سائنسی قانون ساز‘‘ نہیں تھے جو پہلے سے مکمل ضابطۂ قانون مرتب کرکے بیٹھے ہوں۔ حالات پیدا ہوتے گئے اور ان کے مطابق احکام جاری ہوتے گئے۔ وہ بعض احکام کو ایسے فیصلوں کے طور پر دیکھتا ہے جنھیں وحی کی نسبت دینے سے خدائی تقدس حاصل ہوگیا۔[10]

یہاں اس کا تصورِ نبوت اس کے تصورِ وحی سے براہِ راست جڑ جاتا ہے۔ اگر وحی واقعی اللہ کی طرف سے نہیں، تو رسول اللہ ﷺ کے جاری کردہ دینی احکام دراصل نبوی یا ریاستی فیصلے ہیں جنھیں مذہبی زبان میں پیش کیا گیا۔ اسی تناظر میں ول ڈیورانٹ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے واقعے کو بھی شخصی ضرورت کے لیے وحی کے استعمال کی مثال بناتا ہے۔[11]

اسلامی تصور میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ رسول اللہ ﷺ شریعت کے خود مختار خالق نہیں؛ ان کا تشریعی اختیار اللہ کی عطا کردہ حجیت پر قائم ہے۔ قرآن کا مدنی دور میں حالات کے مطابق نازل ہونا اس کے انسانی ماخذ کی دلیل نہیں، بلکہ اسلامی تصور کے مطابق تدریجِ تشریع اور زندہ انسانی معاشرے کی الٰہی رہنمائی کا طریقہ ہے۔

قانون کا واقعات کے جواب میں نازل ہونا اور قانون کا انسان کی طرف سے گھڑا جانا ایک چیز نہیں۔ جدید قانون بھی واقعات، مقدمات اور نئے معاشرتی مسائل کے تناظر میں ترقی کرتا ہے؛ اس سے اس کی قانونی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح قرآن کا واقعات کے درمیان نازل ہونا اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ احکام کا حقیقی مصدر کون ہے۔

ول ڈیورانٹ کے یہاں اس فرق کی پوری رعایت نہیں رہتی۔ وہ نبوی قانون سازی کے historical         occasion کو کبھی کبھی اس کے        human origin کی طرف منتقل کردیتا ہے۔

نبوی شخصیت: سادگی، اخلاق اور اقتدار:

ول ڈیورانٹ کا رسول اللہ ﷺ کی ذاتی زندگی سے متعلق محاکمہ خاص توجہ کا مستحق ہے، کیونکہ یہاں اس کی تنقیدی زبان کے ساتھ غیر معمولی تحسین بھی موجود ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ اقتدار اور وسائل کے باوجود رسول اللہ ﷺ کی عمومی زندگی سادہ رہی۔ آپ ﷺ اپنے کپڑے اور جوتے درست کرتے، گھر کے معمولی کام انجام دیتے، بازار سے ضرورت کی چیزیں لیتے، سادہ غذا کھاتے اور اپنے اوپر بہت کم خرچ کرتے تھے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ حاصل ہونے والی دولت کا بڑا حصہ خیرات میں صرف ہوتا تھا۔[12]

آپ ﷺ کے معاشرتی رویے کے بارے میں وہ بیان کرتا ہے کہ آپ بڑے لوگوں کے ساتھ باوقار، کمزوروں کے ساتھ خوش اخلاق اور عام انسانوں کے لیے قابلِ رسائی تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے، جنازوں میں شریک ہوتے، اقتدار کی ظاہری شان و شوکت سے گریز کرتے اور غلام کی دعوت بھی قبول کرتے۔

یہ اعتراف ڈیورانٹ کے اس مفروضے کے ساتھ ایک داخلی سوال پیدا کرتا ہے جس میں بعض مواقع پر مذہب کو شخصی یا سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہونے والا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ اگر محمد ﷺ کا بنیادی مقصد ذاتی دولت، طبقاتی برتری یا شاہانہ آسائش ہوتا تو اقتدار کے عروج پر ان کی زندگی کا یہ سادہ نمونہ کم از کم اس مفروضے کی مزید توضیح کا مطالبہ کرتا ہے۔

ول ڈیورانٹ کی زبان بہرحال یکساں نہیں۔ وہ ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ کو ’’عادل منصف‘‘ تسلیم کرتے ہوئے بعض جنگی فیصلوں کے لیے نہایت سخت اخلاقی الفاظ بھی استعمال کرتا ہے۔[13] اس لیے اس کا مجموعی محاکمہ مدح یا مذمت میں سے کسی ایک خانے میں نہیں رکھا جاسکتا۔

یہی چیز اس کی تاریخ نگاری کو ایک طرف دلچسپ اور دوسری طرف تنقید کا محتاج بناتی ہے: وہ رسول اللہ ﷺ کی تاریخی عظمت سے انکار نہیں کرسکتا، مگر اس عظمت کو روایتی اسلامی تصورِ رسالت کے بجائے اپنی طبیعی و تاریخی تعبیر کے اندر سمجھنا چاہتا ہے۔

نبی بطور قوم ساز مصلح:

ڈیورانٹ کی شخصیتِ محمد ﷺ کے بارے میں سب سے اہم اور جامع عبارت آپ ﷺ کی وفات کے ذکر کے بعد آتی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

«“If        we        judge        greatness        by         influence,        he        was        one        of         the        giants         of          history.”[14]»

پھر وہ وضاحت کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے ایک سخت جغرافیائی اور قبائلی ماحول میں رہنے والی قوم کا روحانی اور اخلاقی معیار بلند کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس مقصد میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اس کے مطابق جب آپ ﷺ نے اپنی دعوت شروع کی تو عرب مختلف بت پرست قبائل کا منتشر مجموعہ تھا؛ وفات کے وقت وہ ایک قوم بن چکا تھا۔

یہ ڈیورانٹ کے تصورِ نبوت کا شاید سب سے مثبت پہلو ہے۔ اس کے نزدیک محمد ﷺ کی عظمت محض اس وجہ سے نہیں کہ لاکھوں انسان انھیں نبی مانتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انھوں نے تاریخ کی سمت بدل دی۔ انھوں نے:منتشر قبائل کو وحدت دی؛مذہبی شعور کو توحید کے گرد منظم کیا؛اخلاقی نظم قائم کیا؛نئی اجتماعی شناخت پیدا کی؛ریاست وجود میں لائی؛اور ایک ایسی تہذیبی تحریک شروع کی جو ان کی وفات کے بعد بھی مسلسل پھیلتی رہی۔

لیکن اسی عبارت میں ڈیورانٹ دوبارہ اپنی طبیعی تعبیر کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کے مطابق محمد ﷺ نے مذہب کے ذریعے یہ کامیابی اس لیے حاصل کی کہ وہ خود مذہبی تھے اور اس عہد کے عربوں کو حرکت دینے کے لیے مذہب ہی مؤثر ترین وسیلہ تھا۔ پھر وہ اسلام کو یہودیت، زرتشتیت اور عرب کے سابق مذہبی تصورات پر قائم کردہ ایک نئے اور طاقت ور نظام کے طور پر بیان کرتا ہے۔[15]

یہاں نبی ایک مرتبہ پھر رسولِ خدا سے زیادہ Founder        of        a         Religion بن جاتا ہے۔

یہی ڈیورانٹ کے تصور کی بنیادی حد ہے۔ وہ اثر کو تسلیم کرتا ہے، شخصیت کی عظمت تسلیم کرتا ہے، اخلاقی اصلاح تسلیم کرتا ہے، غیر معمولی قیادت تسلیم کرتا ہے، حتیٰ کہ اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا تاریخی انقلاب برپا کیا جس کی مثال کم ملتی ہے؛ لیکن وہ نبوت کی صداقت کو اس عظمت کی توضیح میں داخل نہیں ہونے دیتا۔

اسلامی تصور میں یہ تمام تاریخی نتائج نبوت کے متبادل نہیں بلکہ اس کی علامات اور ثمرات ہیں۔ محمد ﷺ پہلے مصلح نہیں جو بعد میں نبی قرار پائے؛ وہ رسول ہیں، اسی لیے اصلاح کرتے ہیں۔ وہ پہلے سیاسی قائد نہیں جو اپنے اقتدار کو مذہبی تقدس دیتے ہیں؛ وہ نبی ہیں، اس لیے ان کی سیاسی قیادت بھی رسالت کے دائرے میں آتی ہے۔

تنقیدی محاکمہ:

ول ڈیورانٹ کے تصورِ نبوت کی سب سے بڑی علمی خوبی یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تاریخی عظمت کو روایتی یورپی تحقیر کے تحت ختم نہیں کرتا۔ وہ آپ کو غیر معمولی ذہانت، اخلاقی اثر، قوتِ خطابت، شجاعت، انتظامی صلاحیت، سفارت، قانون سازی اور قوم سازی کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت تسلیم کرتا ہے۔ اس کے ہاں محمد ﷺ محض کسی ’’جھوٹے مدعی‘‘ کی سطح پر نہیں، بلکہ تاریخ کے عظیم ترین مؤثر انسانوں میں شامل ہیں۔

اس کے باوجود اس کا بنیادی منہج تاریخی اختزال کا شکار ہوجاتا ہے۔ نبوت کی حقیقت کو اس کے تاریخی نتائج سے بدل دیا جاتا ہے۔ سوال:
’’کیا محمد ﷺ اللہ کے واقعی رسول تھے؟‘‘
رفتہ رفتہ اس سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے:
’’محمد ﷺ نے کس طرح اپنے عہد کی ضرورتوں کو محسوس کرکے ایک کامیاب مذہبی، اخلاقی اور سیاسی تحریک پیدا کی؟‘‘

دوسرا سوال اپنی جگہ جائز اور اہم ہے، لیکن وہ پہلے سوال کا جواب نہیں۔

اسی طرح یہ کہنا کہ محمد ﷺ نے اپنے زمانے کی ضرورت کو زبان دی، اس تاریخی کامیابی کی ایک جہت بیان کرتا ہے؛ مگر یہ امکان ختم نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی تاریخی ضرورت کے وقت ایک رسول مبعوث کیا ہو۔

نبوت کا دعویٰ تاریخی ماحول سے ہم آہنگ ہونا اور نبوت کا اسی ماحول کی پیداوار ہونا دو مختلف مقدمات ہیں۔

ول ڈیورانٹ نبوی شخصیت کے انسانی پہلو کو پوری قوت سے دیکھتا ہے۔ وہ محمد ﷺ کو ایسا انسان دکھاتا ہے جو غم محسوس کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے، جنگ کرتا ہے، صلح کرتا ہے، خاندان رکھتا ہے، حکومت چلاتا ہے اور اپنی قوم کی عملی مشکلات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ یہ پہلو اسلامی تصورِ نبوت سے متصادم نہیں، کیونکہ قرآن خود رسول اللہ ﷺ کی بشریت پر زور دیتا ہے:
﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ﴾
’’کہہ دیجیے: میں تمھاری ہی طرح ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘
(الکہف: 110)»

اصل فرق اس آیت کے آخری الفاظ میں ہے: ﴿يُوحَىٰ إِلَيَّ﴾۔

ول ڈیورانٹ ’’بشر مثلكم‘‘ کو پوری تفصیل سے دیکھتا ہے، لیکن ’’يوحى إلي‘‘ کو ایک مابعد الطبیعی حقیقت کی حیثیت سے قبول نہیں کرتا۔ اس لیے اس کا محمد ﷺ ایک عظیم انسان، مصلح، قائد، قانون ساز، سپہ سالار اور قوم ساز تو ہے، مگر اسلامی معنی میں رسول ثابت نہیں ہوتا۔

یوں ول ڈیورانٹ کے تصورِ نبوت کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس نے نبوت کی تاریخی عظمت کو تسلیم کیا، لیکن اس کی الٰہی بنیاد کو انسانی تاریخ میں تحلیل کردیا۔

اس کی تعبیر کی قوت یہ ہے کہ وہ نبوی شخصیت کے تہذیبی اثر کو نمایاں کرتی ہے؛ اس کی کم زوری یہ ہے کہ وہ اثر اور مصدر کے درمیان فرق قائم نہیں رکھتی۔ محمد ﷺ نے تاریخ کو بدل دیا—اس پر ڈیورانٹ کو تقریباً کوئی شبہ نہیں؛ اختلاف یہ ہے کہ اس تبدیلی کی آخری توضیح ایک نابغۂ روزگار انسان میں تلاش کی جائے یا اللہ کے رسول میں۔

حواشی و حوالہ جات

[1] Will Durant,        The         Age         of         Faith:        A         History        of        Medieval        Civilization—Christian,        Islamic,         and       Judaic—   from        Constantine        to         Dante,        A.D. 325–1300,         The        Story        of         Civilization,         Vol. IV (New York: Simon        and Schuster, 1950), Chapter VIII, “Mohammedanism,” §II, “Mohammed in Mecca.” ڈیورانٹ محمد ﷺ کو “the        most important         figure          in medieval           history” کہتا ہے۔

[2] Ibid. ڈیورانٹ رسول اللہ ﷺ کی عدمِ کتابت کے ذکر کے ساتھ انسانی تنظیم و قیادت کے غیر معمولی فہم کا اعتراف کرتا ہے۔

[3] Ibid., §II. اصل عبارت میں محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو “       the        prophet        of        Allah,        divinely        commissioned        to          lead        the Arab        people…” کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

[4] Ibid. اصل الفاظ: “Like        every         successful        preacher,        Mohammed         gave        voice        and         form         to          the         need           and          longing         of         his         time.”

[5] Ibid., “Mohammed         in         Mecca.”

[6] Ibid. قریش کی مخالفت، غلاموں کے قبولِ اسلام اور ابتدائی مسلمانوں پر ظلم سے متعلق بحث۔

[7] Ibid., §III, “Mohammed       in          Medina,” p. 167 کے قریب۔ ڈیورانٹ مدینہ میں مذہبی و سیاسی اختیار کے اجتماع کے لیے “both        Caesar         and           Christ” کی تعبیر استعمال کرتا ہے۔

[8] Ibid., p. 170۔ اصل الفاظ: “The           Prophet          had        by          this           time          become         an          able          general.” اس کے بعد ڈیورانٹ آپ ﷺ کی سفارتی صلاحیت کا ذکر کرتا ہے۔

[9] Ibid., “Mohammed           Victorious.” فتحِ مکہ پر عام معافی کے ذکر کے لیے ملاحظہ ہو۔

[10] Ibid., “Mohammed           Victorious.” ڈیورانٹ مدنی قانون سازی کو حالات کے مطابق صادر ہونے والے احکام کے طور پر تعبیر کرتا ہے۔

[11] Ibid. حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بارے میں ڈیورانٹ کی تنقیدی تعبیر اسی مقام پر ہے۔

[12] Ibid., pp. 173–174 کے قریب۔ نبوی سادگی، گھریلو کام، محدود ذاتی خرچ اور خیرات سے متعلق تفصیل۔

[13] Ibid. ڈیورانٹ ایک ہی عبارت میں رسول اللہ ﷺ کی عدالتی انصاف پسندی کا اعتراف اور بعض جنگی فیصلوں پر سخت تنقید کرتا ہے۔

[14] Ibid., p. 174۔ اصل عبارت: “If         we            judge           greatness          by          influence,           he           was          one           of           the          giants         of           history.”

[15] Ibid., p. 174۔ ڈیورانٹ محمد ﷺ کی اخلاقی و روحانی اصلاح، عرب کی وحدت اور اسلام کے بعد کے تہذیبی اثر کو بیان کرتا ہے۔

[16] عبد الرحیم خیر اللہ عمر الشریف، ’’المؤرخ ويل ديورانت وآراؤه بشأن مصدر القرآن الكريم في كتاب قصة الحضارة: عرض ونقد‘‘۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں