Home » ماڈرنائزیشن اور سیکولرائزیشن میں کیا فرق ہے؟
زبان وادب فلسفہ

ماڈرنائزیشن اور سیکولرائزیشن میں کیا فرق ہے؟

انسانی معاشرے میں ماڈرنائزیشن اور سیکولرائزیشن دونوں ہی جدیدیت کے مظاہر ہیں۔ ماڈرنائزیشن/ جدیدکاری انسانی عمل کی ہیئت کو تبدیل کر دینے سے عبارت ہے اور اس میں معاشی جہت زیادہ غالب ہے جبکہ سیکولرائزیشن انسانی عمل کی غایت کو تبدیل کرنے کا نام ہے اور اس میں سیاسی جہت غالب ہے۔ ماڈرنائزیشن انسان کے انفرادی، سماجی اور معاشی عمل کی ہیئت کو تبدیل کر دیتی ہے، اور یہ تبدیلی ایک نئی زمانیت اور مکانیت کو قائم کرتی ہے۔ یعنی اس پروسث میں انسانی عمل کے زمان و مکاں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انسانی عمل چونکہ لازماً ایک زمانیت اور مکانیت رکھتا ہےجو فطری ہوتے ہیں اور بروزِ عمل میں ایک منصے کا کام کرتے ہیں۔ ماڈرنائزیشن انھیں ایک نئے طور پر بدل دیتی ہے اور انسانی عمل میں زماں کی کھپت تیزتر ہو جاتی ہے اور مکاں نئے ابعاد میں پیدا ہوتا ہے۔ ماڈرنائزیشن کے پروسث میں ٹکنالوجی انسانی عمل سے آمیز ہو جاتی ہے جو زمان و مکاں کو ٹکنالوجیائی بنا دیتی ہے۔ ٹکنالوجیائی انسانی عمل زمان کی کھپت (consumption) اور مکاں کی پیداوار (production) سے عبارت ہے، اور دونوں فطری نہیں رہتے۔ ماڈرنائزیشن میں سب سے زیادہ اہم جدید معاشی پیداواری عمل ہے۔ انسانی عمل کی ہیئت میں تبدیلی سے اس میں سے نامیاتی پن کم یا غائب ہو جاتا ہے اور میکانکیت غالب آ جاتی ہے، اور اس کے مطالعات موجود ہیں اور وہاں اس کو دیکھ لینا مفید ہو سکتا ہے۔ ماقبل جدیدیت میں بھی انسانی عمل لازمی نفسی انسلاکات رکھتا تھا، کیونکہ عمل انسانی اور نفس انسانی میں تلازمات اولاً موجود ہیں۔ ماڈرنائزیشن میں ان انسلاکات کی نوعیت فطری سے میکانکی کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ جس طرح مجاہدات کے نفسی انتاجات ارادی اور شعوری ہوتے ہیں، اسی طرح جدید ہیئتِ عمل کے نفسی ارتسامات غیرشعوری اور جبری ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ماڈرنائزیشن میں انسانی عمل کی ہیئت میں تبدیلی کا لازمی نتیجہ اس کا سیکولر ہونا نہیں ہے۔ یہ مختصراً عرض ہے۔

سیکولرائزیشن اپنے مقاصد میں سیاسی طور پر زیادہ ریڈیکل ہے اور اس کا محیط کلی ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق انسان کے ہر ٹکنالوجیائی اور غیرٹکنالوجیائی عمل کی غایت کو تبدیل کر دینا ہے۔ اور یہ صرف عمل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں انسانی احوال، جذبات، تخیلات وغیرہ سب داخل ہیں۔ سیکولرائزیشن کا بنیادی ترین ایجنڈا انسان کو اندر باہر سے تشبیہی بنانا ہے، اور تنزیہہ کا مطلق خاتمہ ہے۔ اپنے معلوم مسائل کے ساتھ ماڈرنائزیشن مذہب کے لیے قابل قبول ہے، لیکن سیکولرائزیشن مذہب کی ضد عین ہے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں