
ڈاکٹر محمد رحمان
کارل پوپر اپنی کتاب The Logic of Scientific Discovery میں لکھتے ہیں کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد میں کوئی ایسی چیز نہیں جو مطلق ہو۔ سائنس کسی سخت اور ٹھوس زمین پر کھڑی عمارت نہیں، بلکہ اس کے نظریات کی عمارت گویا ایک دلدل کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ ہم اس دلدل میں ستون گاڑتے جاتے ہیں، یہ ستون کسی فطری یا آخری بنیاد تک نہیں پہنچتے، اور ہم محض اس وقت رک جاتے ہیں جب ہمیں اطمینان ہو جاتا ہے کہ فی الحال یہ ستون عمارت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی ہیں۔
اس مثال میں اصل نکتہ یہ نہیں کہ سائنس بے بنیاد ہے، بلکہ یہ ہے کہ سائنس قطعی اور ضروری قضیوں سے شروع نہیں ہوتی، جیسا کہ فلسفے کی بعض روایتیں کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر استخراجی استدلال میں اگر استعمال کیے گئے قضایہ کی صحت پر ہمیں کامل اطمینان ہو، اور وہ بلاشبہ درست ہوں، تو ان سے اخذ کیے گئے نتائج پر بھی بغیر تردد اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سائنس کا طریقۂ کار مختلف ہے۔
خاص طور پر جدید سائنس اپنی بنیاد میں ایسے postulates پر کھڑی ہوتی ہے جن کے سچ ہونے کا یقین ہمیں تب ہوتا ہے جب ان postulates کی بنیاد پر قائم کیا گیا نظریہ ایسی پیش گوئیاں کرنے کے قابل ہو جنہیں تجربات میں پرکھا جا سکے۔ پوپر کی زبان میں بات کریں تو اس مقام پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جن ستونوں پر ہم نے عمارت قائم کی ہے، وہ فی الحال اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے کافی مضبوط ثابت ہو رہے ہیں۔
سائنس کا یہ لائحۂ عمل غیر معمولی حد تک کارآمد رہا ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پر عمل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سائنس کی بہت سی شاخیں اب اس مقام پر پہنچ چکی ہیں جہاں ہم کچھ entities فرض کرتے ہیں، کچھ ساختیں کھڑی کرتے ہیں، اور پھر دیکھتے ہیں کہ آیا یہ مشاہدات کی وضاحت کر پاتی ہیں یا نہیں۔ یہ ستون ہوا میں معلق نہیں ہوتے، مگر زمین بھی کہیں نیچے تک ٹھوس نہیں ہوتی۔ ہمیں اطمینان تب ملتا ہے جب یہ ستون قابلِ آزمائش پیش گوئیاں پیدا کریں اور تجربات میں ان کا وزن محسوس ہو۔
یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ دلدل میں ستون گاڑنا ناگزیر ہے، مگر ہر ستون یکساں نہیں ہوتا۔ بعض ستون واقعی بوجھ اٹھاتے ہیں، اور بعض محض سہارا بن جاتے ہیں۔ پوپر کے نزدیک اصل معیار یہ نہیں کہ نظریہ کتنا خوبصورت ہے یا کتنی باتوں کی وضاحت کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حد تک خود کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یعنی کیا ہم واضح طور پر بتا سکتے ہیں کہ کون سا مشاہدہ اسے غلط ثابت کر دے گا۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں نظریہ وضاحت تو کرتا رہتا ہے، مگر اس کے گرنے کا امکان بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر نئی مشکل پر ایک نیا مفروضہ، ایک نئی entity، یا ایک نیا mechanism شامل کر لیا جاتا ہے۔ ایک مسئلہ حل ہوتا ہے، مگر اس حل سے ایک نیا مسئلہ جنم لیتا ہے، اور پھر اس کے لیے ایک اور مفروضہ سامنے آ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ اتنا پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ اصل سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور ہم وضاحتی مشینری میں الجھ جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر انفلیشن کو دیکھیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں یہ نظریہ چند حقیقی کاسمولوجیکل مسائل کے حل کے لیے پیش کیا گیا۔ کچھ نئی چیزوں کی موجودگی فرض کی گئی، ان سے نئے مسائل پیدا ہوئے، پھر ان مسائل کے حل کے لیے مزید مفروضات شامل ہوتے گئے۔ ایک مقام پر یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ جن مسائل کے حل کے لیے یہ نظریہ سامنے آیا تھا، وہ مسائل شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں، اور توجہ اب خود نظریے کو سنبھالنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اسی طرح سٹرنگ تھیوری ایک اور مثال بنتی ہے۔ اضافی dimensions، مختلف compactifications، اور بے شمار ممکنہ vacua — تقریباً ہر مشاہدہ کسی نہ کسی theoretical landscape میں جگہ پا لیتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان فرینک ولزک نے تنقیدی انداز میں کہا ہے کہ بعض اوقات سٹرنگ تھیوری میں تیر پہلے پھینکا جاتا ہے، اور جہاں جا کر لگ جائے وہاں دائرہ بنا کر کہا جاتا ہے کہ نشانہ درست تھا۔ یہ نظریہ اندرونی طور پر مربوط ہونے کا دعویدار ہے، مگر تجربے کی براہِ راست گرفت سے بہت دور۔ یہاں بھی ستون دلدل میں ہیں، مگر گرنے کا خطرہ بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔
اگر ہم حیاتیات کی طرف آئیں تو میکرو ارتقاء ایک اور زاویہ فراہم کرتا ہے۔ یہ کوئی واحد formal theory نہیں، بلکہ تاریخی وضاحتوں کا مجموعہ ہے۔ یہاں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ماضی کے منفرد واقعات کو دیکھ کر بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ نئے concepts، نئی اصطلاحات اور نئے path ways سامنے آتے ہیں جو مشاہدات کو معنی دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ وضاحتیں صحیح ہیں یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ ان میں پیش گوئی اور امتحان کا کردار کہاں تک واضح ہے، اور کہاں ہم محض بعد از واقعہ کہانی ترتیب دے رہے ہیں۔
ان تمام مثالوں میں مشترک بات یہ ہے کہ سائنس دلدل پر ہی کھڑی ہوتی ہے، مگر ہر دلدل میں ستونوں کا معیار یکساں نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مفروضے کیوں بناتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں واقعی آزمانے کے لیے تیار بھی ہیں، یا صرف انہیں اس طرح ایڈجسٹ کرتے رہتے ہیں کہ وہ کبھی گریں ہی نہیں۔
اس مقام پر بعض سائنسی مباحث فلسفے کے قریب آ جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی کم مضبوط محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ فلسفہ کم از کم اپنی بحث کو ضروری قضایہ اور واضح منطقی اصولوں سے جوڑ کر آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، سائنس کے نام پر پیش کی جانے والی بعض قیاس آرائیاں نہ تو قابلِ مشاہدہ پیش گوئیاں فراہم کرتی ہیں اور نہ ہی ان کے ستون اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے مضبوط دکھائی دیتے ہیں اس طرح سائنس کی یہ شاخیں اچھی سائنس کی بجائے برا فلسفہ بن جاتی ہیں۔




کمنت کیجے