Home » انفرادی احکامات کے اطلاقات میں فرد کا اجتہاد
فقہ وقانون

انفرادی احکامات کے اطلاقات میں فرد کا اجتہاد

احکامِ شریعت فرد سے متعلق بھی ہیں اور اجتماع سے متعلق بھی۔ اجتماع سے متعلق احکام میں عمل و رخصت کے معیارات طے کرنا نظمِ اجتماعی کا اختیار ہے، جیسے زکوۃ کا نصاب مقرر کرنا، جہاد کی استطاعت کی تعیین کرنا وغیرہ۔
فرد سے متعلق احکام میں عمل و رخصت کے معیارات کی تعیین فرد کا اختیارہے۔ مثلاً، روزہ رکھنے اور حج کرنے کے لیے درکار استطاعت کی تعیین، بیماری یا ضُعف کے سبب سے نماز میں قیام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ۔ شریعت نے اُنھیں فرد کے اجتہاد پر چھوڑ دیا ہے۔
انفرادی احوال اِس قدر متنوِّع ہوتے ہیں فرد سے متعلق شرعی احکام پر عمل و رخصت کے یکساں معیارات طےکرنا بے جا تکلف اور زحمت کا سبب بنتا ہے۔ مثلاً، مسافرت میں پیش آنے والی مشقت کی حد کیا ہو جو نمازکے قصر و جمع کی رخصت کو جائز کر دیتی ہے۔ شریعت نے اِس کی کوئی حد مقرر نہیں کی، تاکہ ہر فرد خود کو درپیش حالات کے مطابق خود فیصلہ کر لے۔ لیکن فقہا نے یہاں بھی معیار مقرر کرنا چاہا۔ چنانچہ اپنے دور کے اسفار کو دیکھ کر اُنھوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف فاصلوں کو حد مقرر کیا جو شہر کی حدود سے باہر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن اِن میں سے کسی ایک راے کا انتخاب پھر فرد ہی کا اختیار ہے۔
حالات بدلے تو ہزاروں میل کے اسفار میں بھی وہ مشقت درپیش نہ رہی جو پہلے چند میل کے سفر میں ہوتی تھی۔ دوسری طرف شہر اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ اندورونِ شہر سفر باعث مشقت ہوگیا کہ بسا اوقات، ٹریفک کے رش کی وجہ سے وقت پر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں ہوتا اور نمازوں کو اُن کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے۔ فقہا کے مقرر کردہ معیارات قابل عمل نہ رہے۔ تاہم، لوگ نماز میں رخصت کے لیے مشقت کا لحاظ مشقت کی کیفیت سے کرنے کی بجائے کلومیٹر کے حساب سے کرتے ہیں اورزحمتیں اٹھاتے ہیں۔
فقہ کا یہ معاملہ انفرادی احکامات میں جہاں عمل میں آیا اس نے زحمتیں پیدا کیں۔
اللہ تعالی نے اعلان کیا ہے کہ اُس کا دین آسان ہے اور وہ لوگوں کے لیے آسانی چاہتا ہے، مشکل نہیں چاہتا۔ لیکن یہاں شریعت کے احکام میں رخصت پر عمل ایک غیر مطلوب عمل بنا دیا گیا ہے۔
بنی اسرائیل کے فقہا نے جو بے جا فقہی پابندیاں ایجاد کر لی تھیں، قرآن مجید اُنھیں اَصرار (بوجھ) اور اَغلال (بندشیں) کے عنوان سے ذکرکرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک فریضہ یہ بھی بتایا گیا کہ وہ لوگوں کو اُن کی خود ساختہ بندشوں سے نجات دلانے آئے تھے (الاعراف 7: 157)۔ مگر خود آپ کا لایا ہوا دین ہی انفرادی احکام میں فقہی قیود کا شکار ہو کر ناروا پابندیوں کا مجموعہ بنا دیا گیا۔
انفرادی دائرے کے احکام میں رخصت کے حصول میں اجتہاد کرنا فرد کے علم و دیانت کی آزمایش ہے۔ انسان اِسی لیے پیدا کیا گیا ہے کہ اپنے حصے کی آزمایش پوری کرے۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد

ڈاکٹر عرفان شہزاد، نیشنل یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اسلام آباد میں استاذ ہیں اور ادارہ علم وتحقیق المورد کے ساتھ بطور تحقیق کار وابستہ ہیں۔
irfanshehzad76@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں