Home » تصوف اور جدید انسان
تاریخ / جغرافیہ تصوف تہذیبی مطالعات

تصوف اور جدید انسان

انسان تین چیزوں کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے: شعور، نفس اور ارادہ۔ ایمان اور عمل صالح کے دینی مطالبات بالترتیب شعور اور عمل سے ہیں۔ نفس احوال اور کیفیات کے مجموعے کا نام ہے۔ احوال دیرپا ہوتے ہیں، کیفیات کو جنم دیتے ہیں اور انسانی طبیعت کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ اخلاقی اقدار نفس سے براہ راست متعلق ہوتی ہیں۔ شعور، نفس اور ارادہ تاریخی مؤثرات سے لازماً متاثر ہوتے ہیں۔ تاریخی مؤثرات انسان کو ان تینوں جہتوں سے ڈھالنے کی مکمل استعداد رکھتے ہیں اور نتیجتاً ان کی ہیئت بدل کر حالات کے تابع اور مطابق ہو جاتی ہے۔ ہم عصر علم، ریاست اور سرمائے کے قائم شدہ سسٹم کا فرد پر دباؤ اور اس کی داخلیت پر گہرا اثر، اور ثقافتی مؤثرات انسان کو ایک بالکل نئی ہیئت دے دیتے ہیں۔ جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا ایسے طاقتور اور ہر لمحہ فعال مؤثرات سے لیس ہے جو انسان کو اپنے مطالبات پر ڈھالنے کی پوری استعداد رکھتے ہیں۔ مذہبی معنی میں اس سے مراد ہے کہ جدیدیت آدمی کو اپنا مکمل بندہ بنانے کی غیرمعمولی قوت رکھتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا صرف تاریخی مؤثرات ہی انسان کی داخلیت کو فیصلہ کن طریقے سے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا تشکیلِ داخلیت کے کوئی متبادل ذرائع بھی ہیں؟ آزاد اور مکلف ہونے کی حیثیت سے انسان اس بات کا مکمل اختیار رکھتا ہے کہ وہ اپنے شعور، نفس اور ارادے کی تشکیل اقدارِ حق کی بنیاد پر کرے، یعنی اپنی خودی کی تشکیل ماورائے تاریخ سے حاصل ہونے والی ہدایتی اقدار کی بنیاد پر اپنی آزاد مرضی سے سامنے لائے، اور ارادے سے حاصل ہونے والی ایجنسی کو معاشرے اور تاریخ کے ساتھ اپنے انفس میں بھی مؤثر کر دے۔ تاریخی مؤثرات کا کھلونا بننے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کی طرح اپنے غیر جسمی پہلوؤں میں بھی دنیا کی مرادات پر ڈھل کر مٹی ہی رہے۔ اسلامی تہذیب نے شعور، نفس اور ارادے کو اقدار حق کے تحت میں رکھنے کے لیے بالترتیب کلام، تصوف اور فقہ کے عظیم الشان علوم پیدا کیے۔

فی الوقت ہمارا موضوع تصوف اور جدید انسان ہے۔ اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا روایتی تصوف کے بہم شدہ وسائل جدید انسان کے لیے بھی پذیرا ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ جدید انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جس کی سماجی، ثقافتی اور علمی فضا جدیدیت نے مکمل طور پر بدل دی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ علم اور ثقافت دونوں مطلقاً مادی ہو گئے ہیں اور تنزیہ علم سے اور کلچر سے مکمل طور بیدخل ہو چکی ہے۔ بعینہٖ جدیدیت کے پیدا کردہ تاریخی مؤثرات نے عملاً نفس انسانی کی ساخت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ روایتی تصوف سلوک اور عرفان کی جہت سے غیر اہم ہو گیا ہے بلکہ یہ کہ جدید انسان کے نفسی احوال میں ساخت کی ریڈیکل تبدیلیوں کی وجہ سے غیر متعلق ہو گیا ہے۔ اس میں اہم یہ ہے کہ اگر علم، تعلیم، کلچر اور ریاست و معیشت مکمل طور پر مادی ہو جائیں تو فرد کی داخلیت سے بھی اخلاقی اور روحانی عناصر بتدریج غائب ہو جاتے ہیں۔

جدید انسان ذہنی اور نفسی جہت سے دو بہت ہی گہری تبدیلیوں سے دوچار ہوا ہے اور روایتی تصوف ان ساختی تبدیلیوں کا کوئی ادراک نہ رکھنے کی وجہ سے غیرمؤثر ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم نفس انسانی کو ”پانی“ فرض کر لیں تو روایتی تصوف رذائل و فضائل کے تناظر میں اس پانی کو عبادات و مجاہدات کے ذریعے سے ٹھنڈا یا گرم کرنے کے اشغال کو بروئے کار لاتا تھا۔ جبکہ جدید انسان کا نفس پانی کی طرح نہیں رہا بلکہ ”برف“ کے بلاک کی طرح بن گیا ہے جہاں تصوف کی پرانی ہر تکنیک ناکام ہو گئی ہے۔ جدید انسان کے روحانی سردخانے میں پڑا نفس کا یہ برفانی تودہ پگھلتا بھی نہیں ہے، حوادث ذاتی کی ضرب سے بس ٹوٹ جاتا ہے اور جسے ہم ڈپریشن کا تجربہ کہتے ہیں۔

ابھی میں نے جدید انسان کی داخلیت میں واقع ہونے والی دو ریڈیکل تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے؛ ان میں سے ایک رنجوری (Melancholy) ہے اور دوسری بیگانگی (Alienation) ہے۔ یہ تبدیلیاں نفسِ انسانی کی اخلاقی تصریفات سے زیادہ گہری اور وجودی ہیں۔ تصوف جبتک ان دو تبدیلیوں کا کوئی تجربی علم فراہم کر کے ان کا حل تجویز نہیں کرتا، اپنے روایتی اشغال کو متعلق اور بامعنی نہیں بنا سکتا۔ روایتی کلام میں دنیا کو مجردات اور مادیات کا مجموعہ قرار دیا جاتا تھا۔ جدیدیت کی پیدا کردہ مجردات ازحد کثیر ہیں اور تعلیم، علم، کلچر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی ذہن اور نامیاتی عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ مجرداتِ جدیدیت کا آغاز نشاۃ الثانیہ میں ظاہر ہونے والے علم سے ہوا، اور مادیات کی میکانیات میں تبدیلی کا آغاز تحریک تنویر سے ہوا۔ اول الذکر کا نتیجہ رنجوری (Melancholy) کی صورت میں نکلا اور مؤخر الذکر حالات بیگانگی (Alienation) کی صورت میں سامنے آئے، اور یہ دونوں احوال استعمار کی پیشرفت کے ساتھ عالمگیر ہوتے چلے گئے ہیں۔ رنجوری اور بیگانگی کے سامنے روایتی تصوف کا چراغ گل ہو گیا، کیونکہ ان دونوں تبدیلیوں نے انسان کو وجودی سطح پر تبدیل کر دیا ہے جبکہ تصوف کا بنیادی فریضہ اخلاقی تصریفات تک محدود ہے۔ رنجوری اور بیگانگی پر وجودی تشکیل کی وجہ سے جدید انسان اپنے انفس میں تحول عظیم سے گزرا ہے۔ اس کا براہ راست نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ نفسی سطح پر اقدار سے متعلق ہونے کی استعداد کھو بیٹھا ہے کیونکہ معاشرے اور تاریخ میں موجود میکانکی مؤثرات نفس انسانی اور اخلاقی اقدار کے بیچ ایک بہت فعال اور مضبوط روک کے طور پر قائم ہو چکے ہیں جن پر غالب آنا اولاً ضروری ہے۔

رنجوری ایک خاص ذہنی حالت ہے جو مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے بعد سامنے آئی جب یونانی علوم نئے سیکولر چولے میں ظاہر ہونا شروع ہوئے، اور استعمار کے ساتھ یہ علوم بتدریج عالمگیر ہوتے چلے گئے۔ نئے علوم نے مذہبی ذہن میں عقیدے کی یکتائی اور یکسوئی میں خلل ڈال دیا اور وہ بتدریج رنجوری کے احوال پر قائم ہو گیا۔ آگے چل کر جب تحریک تنویر کا پراجیکٹ سامنے آیا اور سائنسی علوم کی بنیاد پر صنعتی پیداواری عمل کا آغاز ہوا تو دیگر وسائل کی طرح انسان بھی اس میں ایک resource کے طور پر متضمن ہو گیا۔ صنعتی پیداواری عمل نے انسان میں بیگانکی پیدا کر کے ایسی فراموشگاری کو جنم دیا جہاں عرفانِ ذات کی جگہ کتمانِ ذات نے لے لی اور اس کے انفس میں وہ ملکات جو اقدار سے متعلق ہو سکتے تھے، کھرنڈ بن کر اس کی ذات سے جھڑ گئے۔

تصوف اصلاً becoming ہے، یعنی بارآور عمل سے نردبان وجود پر صعود کرتے چلے جانا یہاں تک کہ بندگی آدمی کا پورا حال بن جائے۔ جدید دنیا میں نامیاتی انسانی عمل کا خاتمہ ہو گیا ہے کیونکہ وہ ٹیکنالوجی میں متضمن ہو کر میکانکی ہو گیا ہے۔ اخلاقی اور نفسی اقدار نامیاتی انسانی عمل سے جڑ کر انفس میں مؤثر ہوتی تھیں۔ میکانکی انسانی اعمال نے اخلاقی اور نفسی اقدار کو زندہ نہیں رہنےدیا کیونکہ وہ خود آلاتی ہو گئی ہیں، اور نفس انسانی کو سینچنے اور گوندھنےکا کام نہیں کرتیں۔ اخلاقی اقدار آلاتی ہونے کی وجہ سے وہ مزاج اور مفاد کی تابع مہمل بن کر رہ گئی ہیں، اور تصوف و سلوک کے بنیادی ترین مقاصد کے حصول میں کارگر نہیں رہیں۔ جدید عہد میں مصروفیت کا اصل مطلب یہی ہے کہ نامیاتی عمل انسانی جو اقدار سے جڑ کر تزکیے کا ذریعہ بن سکتا تھا اب میکانکی مؤثرات کے شکنجے میں آ چکا ہے۔

تصوف کے غیر مؤثر ہو جانے کا مطلب ہے اخلاقی اقدار اور مکارم الاخلاق کا غیرمؤثر ہو جانا اور اس صورت حال کا مداوا یہ ہے کہ عقیدے کی طرف دھیان دیا جائے۔ عقیدے کے فرقہ وارانہ ہو جانے میں بظاہر جن امور کا ذکر ہوتا ہے ان پر درست موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ لیکن مسلم عقیدے میں جو بنیادی تبدیلی آئی ہے وہ اس کا تشبیہی ہو جانا ہے۔ جس طرح اخلاقی اقدار مزاج اور مفاد کے تابع ہو کر باقی نہیں رہ سکتیں، بعینہٖ عقیدہ جدید تشبیہی علم کے تابع ہو کر تنزیہی نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ دو سو سال میں مسلم عقیدے کی عقل سے ہر ممکنہ نسبت ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے کہ یہ کہنا کہ عقل نے عقیدے میں کوئی خرابی پیدا کر دی ہے درست نہیں۔ کم از کم برصغیر کی حد تک، مذہبی علوم میں عقل کے مطلق خاتمے اور ایک بالکل نئے تعبیری نظام استدلال نے عقیدے کو مکمل تشبیہی بنا دیا ہے، اور عقل سے عاری اس نئے تعبیری نظام استدلال کے حاملین ہی تصوف کے بڑے ناقد ہیں۔ اگر عقیدہ تشبیہی ہو جائے تو اخلاقی اقدار بھی آلاتی ہو جاتی ہیں۔ تنزیہہ کی طرف واپسی سے ہمارا تصوف بھی ازسر نو زندہ ہو جائے گا۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں