علم کے بارے میں غلط تصورات میں سے ایک یہ ہے کہ علم اعتقاد (belief) ہے جسے ذہن کی ادراکی رپریزنٹیشن کہا جاسکتا ہے نیز علم و جہل وجودی طور پر یکساں ماہیت (essence) کے اعتقاد ہیں جن میں فرق کسی اضافی وصف جیسے کہ خارج سے مطابقت ( correspondence to extramental reality) و عدم مطابقت سے کیا جاتا ہے۔
اگر علم کی حقیقت اعتقاد ہو تو فرض کیجئے زید کا اعتقاد یہ ہے کہ راشد کمرے میں ہے جبکہ راشد اس وقت کمرے میں نہیں۔ اس تعریف کی رو سے یہ اعتقاد جہل ہوگا۔ اب فرض کیجئے کہ راشد کچھ دیر بعد کمرے میں چلا گیا لیکن زید کو یہ بات معلوم نہیں۔ مطلب یہ بنا کہ زید کا عین ابتدائی اعتقاد اب جہل سے علم ہوگیا اس لئے کہ اب وہ واقعے کے مطابق ہے جبکہ یہ بات غلط ہے کہ ایک ہی اعتقادی کیفیت جہل بھی ہے اور علم بھی۔ اس تعریف کے مطابق علم و جہل کا فرق خود علم و جہل کی ماہیت سے نہیں کیا جارہا (یعنی اعتقاد) بلکہ ایک اضافی وصف سے کیا جارہا ہے، گویا علم و جہل کا فرق ذاتی (essential) نہیں بلکہ عرضی (accidental) ہے جو خود علم کی ذات سے ماورا ہے، یعنی علم کو خود علم سے ماورا کوئی شے علم بناتی ہے۔
علم کو ذہن کی ادراکی رپریزنٹیشن کہنا علم کو “کشف” سے “نقش” میں بدل دینا ہے۔ علم کے اس تصور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا علم ذہن میں کسی شے کے نقش کا حصول (acquisition or obtaining) ہے یا اس نقش کے ساتھ تعلق ہے؟ اگر یہ حصول ہے تو علم از خود کچھ نہ رہا بلکہ یہ “معلوم” (object of knowledge) کے ہم معنی ہوگیا، اور علم بذات خود کوئی کشفی صفت (factive state) نہیں رہا یہاں تک کہ “علم” نام ہی غلط ہے اس لئے کہ اصل میں صرف object in the mind ہے۔
پھر جو یہ وجود ذہنی یا نقش ہے، یا یہ عین خارجی ماہیت (extramental reality or essence) ہوگی اور یا اس کی کوئی شبیہ ( appearance or phantom) وغیرہ۔ خارجی ماہیت کا ہونا محال ہے اس لئے کہ اس صورت میں مثلاً آگ کے علم سے ذہن میں گرمی اور برف کے علم سے ٹھنڈک ہونا چاہئے جبکہ یہ نہیں ہوتا۔ اور اگر یہ اس خارجی ماہیت کی کوئی شبیہ ہے تو یہ وہ ماہیت نہیں جو خارج میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس قول کے مطابق علم کا یہ تعلق ذھن کے اس نقش یا شبیہ کے ساتھ بنا، جس کے بعد یہ طے کرنے کا کوئی پیمانہ نہ رہا کہ یہ خارج کے مطابق ہے یا نہیں کیونکہ علم کو خارج سے متعلق کہا ہی نہیں گیا بلکہ ذھنی رپریزنٹیشن کے ساتھ تعلق قرار دیا گیا۔ خارج کے ساتھ اس ذھنی نقش یا شبیہ کی مطابقت (correspondence) کا ادراک تبھی ممکن ہے جب ذھنی نقش کے علاوہ خارجی شے کا بھی ادراک ہو اور پھر دونوں میں موازنہ کیا جاسکے لیکن یہ نظریہ اس کا قائل نہیں۔ مزید یہ کہ خود اس مطابقت کے ادراک کے لئے بھی ایک اور علمی تعلق و رپریزنٹیشن درکار ہوگا اور یہ سلسلہ لامتناہی چلے گا۔
اس نظرئیے کا حاصل یہ ہے کہ صدق و کذب (truth and falsity) میں فرق یا محال اور یا غیر متعین ہوجاتا ہے، نتیجتاً خارج کے ساتھ اس رپریزنٹیشن کی “درست مطابقت” کا دعوی یا محض زبانی جمع خرچ ہے اور یا دور (circularity) ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ نظریہ علم و جہل میں تمیز کو ہی ختم کردیتا ہے کیونکہ دونوں ذہنی رپریزنٹیشن ہیں اور بس۔ خلاصہ یہ کہ یہ نظریہ علم و جہل کے درمیان حقیقی امتیاز کو ختم کر دیتا ہے اور انہیں ایک ہی قسم کی ذہنی حالتیں بنا دیتا ہے جن میں فرق ایک اضافی چیز کے اعتبار سے بتانے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ علم کی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور اس اضافی چیز کا تحقق بھی محال ہے۔
علم سے متعلق اس قسم کا نظریہ اسلامی تاریخ میں بعض معتزلہ اور بالخصوص وجود ذہنی (mental existence) کے قائلین کے ہاں رہا ہے اور کتب کلام میں اس پر بحث موجود ہے، ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ اسے رد کرتے ہیں۔ مغربی فلسفے میں مشہور ہونے والی رپریزنٹیشنل امپریسزم اور اس پر مبنی کانٹین نظریہ معرفت بھی اسی غلط تصور علم پر قائم ہے اور اسی لئے یہ علم (یعنی کشف حقیقت) کو ناممکن بتاتا ہے۔ اسی بنا پر مغرب میں علم کے بارے میں سبجیکٹو قسم کے تصورات عام ہوئے ہیں۔




کمنت کیجے