Home » علم کی حقیقت: اشعری ماتریدی موقف
اسلامی فکری روایت فلسفہ

علم کی حقیقت: اشعری ماتریدی موقف

اس سے قبل ہم نے معتزلہ، مسلم فلاسفہ اور وجودی مفکرین کے بعض نظریات کا تعارف کراتے ہوئے ان پر تبصرہ کیا، بالخصوص ان کا وہ نظریہ جو اس خاص تصور علم پر مبنی ہے کہ علم ایک ایسے وجودی تعلق کی مانند ہے جس کے اطراف میں کچھ موجود ہونا لازم ہے تاکہ اصول اثبات (         affirmation principle) کے تحت جملوں کا صدق متحقق ہوسکے۔ معتزلہ کا “معدوم شے”، مسلم فلاسفہ کا “وجود ذہنی” اور وجودی مفکرین کا “اعیان ثابتہ” اسی اصول پر مبنی ہیں۔ یہاں ہمیں اہل سنت کے ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے تصور علم کو واضح کرنا ہے جو اس بحث میں انہوں نے اپنایا۔
جیسا کہ واضح کیا گیا کہ معتزلہ، مسلم فلاسفہ اور وجودی صوفیا کے نزدیک “خدا کو زید کا علم ہے” جملہ تب درست ہوسکتا ہے جب زید کسی نہ کسی صورت پایا جائے اور چونکہ خدا کا علم ازلی ہے، لہذا زید کا ثبوت بھی کسی معنی میں قدیم ہونا چاہئے تاکہ مطابقت (correspondence) کا ان کا مخصوص نظریہ درست رہے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک معلوم کا وجود علم کی شرط نہیں بلکہ معدوم کا علم بھی ممکن ہے، لہذا خدا کے ازلی علم سے حدوث عالم سے قبل مخلوق کا کسی بھی طرح کا وجود ثابت نہیں ہوتا، اس نوع کے سب نتائج علم کی حقیقت سے متعلق خلط مبحث پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق علم نہ اعتقاد (belief) ہے، نہ عالم (knower) و خارج میں متحقق معلوم کے مابین تعلق، نہ ہی کوئی آلہ (instrument) اور نہ ہی ذات میں “معلوم کے حصول” کے ہم معنی، بلکہ علم صفت ہے جو کسی ذات کے ساتھ قائم ہوتی ہے اور اس کی ماہیت حقیقت کا کشف یا معرفت (factive        disclosure) ہے، اس لئے اسے factive        state کہتے ہیں۔ امام اشعری و امام ماتریدی وغیرہ سے علم کی یہی تعریف منقول ہے (کسی الگ تحریر میں یہ تعریفات بھی پیش کی جائیں گی ان شاء اللہ)۔ اس موقف کی تفہیم کے لئے اسے چند نکات کی صورت پیش کیا جاتا ہے:
1) علم حقیقت کا خالق یا واضع نہیں بلکہ اس کے مطابق ہوتا ہے، یعنی جب ہم کہتے ہیں کہ “مجھے فلاں بات کا علم ہے” تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ “فلاں بات سچ ہے”۔ اسے یوں بھی ادا کرتے ہیں کہ علم کسی حقیقت کی اتباع یا نشاندہی کرتا ہے (knowledge        tracks        a         reality)۔
2) علم اپنی ماہیت (essence) میں نسبتی (relational) مفہوم کا حامل ہے اور علم کا یہ نسبتی مفہوم داخلی ہے نہ کہ خارجی۔ باالفاظ دیگر “کسی کے بارے میں ہونا” (aboutness) اس کا اندرونی معنی ہے، علم میں یہ نسبتی معنی (ofness) اپنے سے خارج میں موجود کسی شے کے ساتھ رسی کی مانند جڑنے سے پیدا نہیں ہوتا۔ اسے یوں بھی کہتے ہیں کہ علم ناقابل تحلیل و تقلیل یا بنیادی (non reducible        or         primitive) صفت ہے۔
3) اسی لئے اس نسبتی مفہوم کے لئے کسی خارجی شے کا وجود ہونا شرط نہیں بلکہ معدوم کا علم بھی ممکن ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ “خدا کو زید کا علم ہے”، تو اس کا مطلب دو موجود اشیا کے مابین نسبت کے قیام کا بیان نہیں ہوتا بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا کو ایک فیکٹو سٹیٹ حاصل ہے جو اپنی ماہیت میں زید کے بارے میں ہے۔ چنانچہ یہاں اصول اثبات (affirmation        principle) کا اطلاق سبجیکٹ کے بارے میں اس صفت کے صدق پر موقوف ہے نہ کہ زید کے وجود یا عدم پر۔ زید موجود ہے یا معدوم، یہ جملہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا بلکہ زید یہاں معنوی تابع (semantic        dependent) ہے۔ یاد رہے معنوی تابع جملے میں نہ موضوع (subject) ہوتا ہے اور نہ ہی محمول (predicate)۔ “خدا کو زید کا علم ہے” جملے میں سبجیکٹ خدا ہے اور اس کا پریڈیکیٹ “عالم ہونا” ہے جبکہ زید متعلق خبر ہے۔ پس “کسی کو زید یا جل پری کا علم ہے” جملے کا صدق اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ زید یا جل پری موجود ہو، کیونکہ یہاں اس جملے میں زید یا جل پری کی موجودگی یا معدومیت پر کوئی حکم لاگو نہیں کیا جاتا بلکہ اس جملے میں اس “کسی” کے بارے میں یہ حکم لگایا جاتا ہے کہ وہ اسے جاننے والا ہے۔ چنانچہ امام اشعری واضح کرتے ہیں کہ “زید معلوم ہے” جملے میں کس بات کا اثبات کیا جاتا ہے، اسے اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ “زید معلوم نہیں ہے” میں کسی چیز کی نفی کی جاتی ہے۔ “زید معلوم نہیں ہے” میں علم کی نفی کی جارہی ہے جو کسی خاص فاعل مثلاً عمر کو حاصل نہیں، اسی طرح “زید معلوم ہے” میں بھی صرف یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ ایک سبجیکٹ مثلاً عمر کو ایک علم حاصل ہے۔ پس “زید معلوم ہے” کا مطلب یہ ہے کہ ” کوئی ذات الف ایک صفت ب سے متصف ہے جو اپنی ماہیت میں زید کے بارے میں ہے”، اس جملے سے زید کا موجود ہونا کسی طور ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی اس جملے کا صدق زید کے وجود پر موقوف ہے۔
4) تکنیکی زبان میں مختصراً بات کی جائے تو یہ ہے کہ اس معنوی تابع (semantic         dependent) کو متعلقِ قصد (intentional         objects) کہا جاتا ہے جبکہ ان سے متعلق ایجنٹ کی صفت کو حالت التفات یا قصد (intentional        states) کہتے ہیں۔ انٹنشنل سٹیٹس کسی ایجنٹ کی ذاتی صفات ہوتی ہیں جن کی حقیقت فاعل میں مکمل ہوتی ہے، اگرچہ وہ اپنی ماہیت میں “کسی کے بارے میں” (directed        to        wards) ہوتی ہیں۔ علم کی حقیقت کی بحث میں خلط مبحث اس بنا پر پیدا ہوتا ہے کہ انٹنشنل آبجیکٹس کو جملے کا سبجیکٹ اور انٹنشنل سٹیٹس کو جملے کا پریڈیکیٹ بناکر ان سبجیکٹس پر وجود کا حکم لگا دیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ جملہ دیکھئے:
• ” یہ دیوار کالی ہے”
اس کے صدق کے لئے سبجیکٹ یعنی دیوار کا ثبوت لازم ہے۔ اس کے برعکس یہ جملے دیکھئے:
• “حبل کی پرستش کی جاتی ہے”
• “چائے پسند کی جاتی ہے”
• “عمر معلوم ہے”
یہاں بظاہر حبل، چائے اور عمر جملے کے سبجیکٹس ہیں جس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کا خارج میں تحقق ضروری ہے، تاہم جملوں کی درست ساخت یہ ہے:
• “مشرکین مکہ حبل کی پرستش کرتے ہیں”
• “اقبال کو چائے پسند ہے”
• “زید کو عمر کا علم ہے”
چنانچہ “پرستش کرنا”، “پسند کرنا” اور “علم ہونا”، یہ سب مشرکیین مکہ، اقبال اور زید کے بارے میں ہیں (کہ مثلاً پرستش کرنے کا فعل مشرکین مکہ میں متحقق ہے اور اسی پر اس جملے کا صدق موقوف ہے، نہ کہ حبل کے وجود و عدم وجود پر)۔
5) علم کی ناقابل تحلیلیت (non reducibility) بذات خود یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایک ایجنٹ کیوں کر کچھ جانتا ہے (یعنی “میں جانتا ہوں” کی توجیہ یہ ہے کہ “مجھے علم ہے”، یعنی میں علم سے جانتا ہوں)۔ اگر علم کا نسبتی مفہوم داخلی نہیں خارجی ہو، تو علم کی اپنی کوئی حقیقت نہ ہوگی بلکہ اس کی حیثیت و ماہیت محض آلے کی ہوگی جس کی حقیقت خود اس کی اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے سے خارج سے متعین ہوگی اور نتیجتاً علم کا مفہوم عرضی (accidental) ہوگا۔ یعنی اس صورت میں بذات خود علم اس بات کی توجیہ نہیں کرتا کہ ایک ایجنٹ کیوں کوئی بات جانتا ہے بلکہ یہ توجیہ ایک اضافی میکینزم کی محتاج ہوگی۔ یہ اسی نوع کی غلطی ہے جو لوگوں کو ارادے کا مفہوم سمجھنے میں لگی اور جس کی بنا پر وہ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ “ارادے کی علت یا وجہ ترجیح کیا ہے؟”، جبکہ یہ سوال ہی غلط ہے اس لئے کہ ارادے کا مطلب ہی وجہ ترجیح ہونا ہے، یعنی وجہ ترجیح ہونا ارادے کا داخلی مفہوم ہے۔ اسی طرح “کسی کے بارے میں ہونا” یہ علم کی صفت کا داخلی معنی ہے، نہ کہ اس بنا پر کہ علم کسی معدوم شے، کسی وجود ذہنی یا کسی عین ثابتہ سے مطابقت کی وجہ سے علم ہے۔
6) چنانچہ یہ بات اگرچہ درست ہے کہ اگر کسی کو یہ علم ہے کہ “زید بیٹھا ہوا ہے” تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ “زید بیٹھا ہے”، لیکن یہ علم کے منطقی لزوم (logical        implication) کا معاملہ ہے نہ کہ محتاجی کے تعلق (dependence        relation) کا۔ معتزلہ وغیرہ کے نزدیک علم ایک نوع کے وجودی تعلق سے عبارت ہے جو معلوم کے وجود پر منحصر ہے جبکہ لزومی تعلق صرف یہ کہتا ہے کہ اگر کسی ذات کو ایک حقیقت (fact) معلوم ہے تو فی الواقع وہ حقیقت ہے۔ چنانچہ مثلاً خدا کو ان تمام حقائق کا ازلی علم ہونا ممکن ہے:
• زید 1970 میں پیدا ہوگا
• 1970 سے قبل زید معدوم ہے
• 2040 کے بعد زید مرجائے گا
مگر اس کے باوجود ان جملوں کے صدق کے لئے 1970 سے قبل اور 2040 کے بعد زید نام کی ماہیت کا خارج، “معدوم شے”، “وجود ذہنی” یا “عین ثابتہ” وغیرہ میں وجود یا ثبوت لازم نہیں۔ چنانچہ جب کہا جاتا ہے کہ مثلاً “فرعون موجود نہیں ہے”، تو مطلب یہ نہیں ہوتا کہ “فرعون کا عدمِ وجود بذات خود کوئی شے ہے” اور نہ ہی یہ کہ “نہ ہونا بھی کوئی شے ہے”، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ “خارج میں فرعون نہیں پایا جاتا” اور بس، اور اسی پر اس کا صدق موقوف ہے۔
خلاصہ بحث
خلاصہ یہ کہ علم سے متعلق ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف یہ ہے کہ علم ایک سادہ (simple) یا غیر تحلیلی (non-reducible) کشفی صفت (       factive state) ہے جو اپنی ذات و ماہیت میں کسی کے بارے میں ہوتی (یعنی نسبتی) ہے اور اس کے تحقق کے لئے معلوم کا موجود ہونا شرط نہیں، معلوم (known) موجود و معدوم دونوں ہوسکتا ہے۔ اس مفہوم میں ان ائمہ کے نظریہ معرفت کے مطابق علم ایک ایسا مُفسِّر ہے جو خود کسی مزید تفسیر و توجیہ کا محتاج نہیں (it        is        unexplained        explainer)۔ یہ موقف اصولِ اثبات (affirmation        principle) سے معارض بھی نہیں، اگرچہ ان کے مخالفین کی جانب سے عموماً انہیں یہ الزام دیا جاتا ہے۔ یہ غلط فہمی دراصل ان جملوں سے پیدا ہوتی ہے جہاں متعلقِ قصد (intentional        object) کو سبجیکٹ اور حالتِ قصد (intentional        state) کو خبر بنا دیا جاتا ہے، لیکن جب ان جملوں کو درست صورت میں ڈھالا جائے تو محض اس بنا پر کہ کسی شے کو معلوم کہا گیا ہے، اس کے وجود کا استنباط لازم نہیں رہتا۔ علم حقیقت کا کشف و معرفت (factive        state) ہے، اسی اصول پر اہل سنت نے خدا کے لئے صفت علم کا اثبات کیا ہے کیونکہ یہ معنی، ان کی اصطلاح میں، شاہد و غیب دونوں کو جامع ہے۔ جن گروہوں نے علم کو اعتقاد، معلوم کے ساتھ وجودی تعلق، حصول صورت، وجود ذہنی یا کوئی نمائندگی وغیرہ کہا، انہیں ذات باری کے لئے صفت علم کے اثبات میں مشکلات رہیں۔ اس تفصیل سے اس پراپیگنڈے کی غلطی کو سمجھنے میں مزید مدد ملتی ہے کہ علامہ ابن سینا سے ماقبل کلام گویا محض جدلی نوعیت کا ہے جبکہ مابعد ابن سینا اس میں فلسفیانہ گہرائی وغیرہ پیدا ہوئی۔ آخری بات یہ کہ نالج رئیل ازم کا یہ اشعری ماتریدی موقف ان تمام موضوعی (subjectivist) تصورات معرفت کی بھی تردید کرتا ہے جو مغرب کے متعدد نامور فلاسفہ نے پیش کئے، اور مغرب ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں بھی کئی مفکرین اس کے زیر اثر رہے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں