ایک تحریر میں معتزلہ کے معدوم شے اور وجودی صوفیا کے اعیان ثابتہ کے ربط پر روشنی ڈالی گئی۔ یہاں ہم اختصار کے ساتھ وجود ذہنی کے نظرئیے پر روشنی ڈالتے ہیں جو علامہ ابن سینا سے شروع ہوکر مسلم فلاسفہ، وجودی فلاسفہ و بعض متکلمین کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔
یہ نظریہ معتزلہ کے “معدوم شے” (اور نظریہ حال) کا متبادل تھا، اور یہ کہتا ہے کہ ماہیات دو مختلف قسم کے وجود میں مختلف طرح پائی جاسکتی ہیں: خارجی وجود (extramental existence) اور ذہنی وجود (mental existence)۔ وجود ذہنی ماننے کی ایک بنیادی دلیل وہی ہے جو معتزلہ نے پیش کی، یعنی علم سے متعلق یہ مخصوص نظریہ کہ علم رسی کی مانند ایک ایسا تعلق ہے جس کے لئے معلوم (known or object of knowledge) کا خارج میں تحقق لازم ہے۔ اسے اصولِ اثبات (Affirmation Principle) کہتے ہیں، یعنی جب کسی چیز کے لیے کوئی محمول (predicate) ثابت کیا جائے تو اس چیز کے وجود کا التزام بھی ضروری ہے جس کے بارے میں وہ محمول کہا جارہا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ “الف ب ہے”، تو لازما الف موجود ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس اصول کی بنا پر وجود ذہنی کے قائلین کا کہنا ہے کہ اگر معلوم کا کوئی وجود نہ ہو، تو اس سے اصولِ اثبات کی خلاف ورزی ہوگی۔ مثلاً اگر جملہ “زید اللہ کے ہاں معلوم ہے” سچ ہے، تو اصولِ اثبات کے مطابق زید کو کسی نہ کسی درجے میں موجود ہونا چاہیے۔ پس اگر وہ (مثلاً ازل سے) خارج میں موجود نہیں ہے، تو کم از کم ذہن میں یا کسی اور طور پر اس کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ یہ جملہ سچ ہوسکے۔ اس نظرئیے کو قبول کرنے کی دوسری بڑی وجہ کلیات کی توجیہ کا مسئلہ ہے کہ چونکہ کلی مقولات و ماہیات خارج میں الگ سے موجود نہیں، لہذا کلی محمولات (universal predicates) کی سچائی کے لئے ماننا ہوگا کہ وہ خارج سے انتزاعی (abstraction) طور پر ذہن میں وجود رکھتے ہیں اور جملے کے کلی محمولات کا صدق اس وجود ذہنی سے متعلق ہوتا ہے۔ اس بات کو نوٹ کر رکھنا چاہئے کہ کلی محمولات کی توجیہ کا یہ مسئلہ بھی علامہ ابن سینا (م 428 / 1037) سے قبل معتزلہ کے ہاں “نظریہ احوال” (theory of states) میں زیر بحث تھا اور ابن سینا و مابعد روایت نے اس معاملے میں بھی کسی ایسے نئے منہج کا اضافہ نہیں کیا جسے متقدمین کے کلام کے مقابلے میں بعد کے دور کا کوئی “گہرا کلام” کہا جاسکے، البتہ انہوں نے اس بحث کو ارسطوی و نیوپلاٹونسٹ فریم میں فٹ کرنے کی کوشش کی (یہاں سائیڈ نوٹ کے طور پر یاد رہے کہ بعض مفکرین جیسے کہ علامہ طوسی (م 672 / 1274) وغیرہ کے مطابق یہ کلی ماہیات وغیرہ ایک کلی عقل (universal intellect) میں پائی جاتی ہیں جبکہ وجودی مفکرین کے مطابق یہ وجود کی بالا تعیینات میں پائی جاتی ہیں جس کے اوپری سرے پر اعیان ثابتہ ہیں)۔
امام رازی (م 606 / 1206) نے اس نظرئیے کے مسائل کو تفصیل سے اجاگر کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ جس وجود ذہنی کی بات کی جارہی ہے یا وہ عین خارجی ماہیت ہوگی اور یا اس کی کوئی شبیہہ وغیرہ۔ اگر وہ عین خارجی ماہیت ہے تو آگ کے علم سے ذہن کو جلنا چاہئے جبکہ ایسا نہیں ہوتا، اسی طرح ایک ہی ذات میں بیک وقت متضاد صفات کا اجتماع ماننا ہوگا (مثلا ذہن بیک وقت ٹھنڈک و گرمائش دونوں سے متصف ہو وغیرہ)۔
امام رازی کے اس اعتراض سے بچنے کے لئے وجود ذہنی کے قائلین نے بعد میں یہ نظریہ اختیار کیا کہ ذہن میں عین خارجی ماہیت نہیں بلکہ اس کی شبیہہ (phantom or representation) وغیرہ کا حصول ہوتا ہے اور علم اس سے متعلق ہے۔ تاہم اس متبادل پر امام صاحب پہلے ہی تبصرہ فرما چکے تھے کہ اگر اس ذہنی وجود کے بارے میں کسی کا یہ کہنا ہے کہ یہ عین خارجی ماہیت نہیں بلکہ کوئی شبیہہ وغیرہ ہے تو اس نے اپنا اصل نظریہ چھوڑ دیا کہ ایک ہی ماہیت دو جگہ پائی جاتی ہے۔ اس بنا پر بعض متاخرین (مثلاً علامہ سید شریف جرجانی (م 816 / 1413)) نے وجود ذہنی کے ان مدافعین پر نقد کیا اور امام رازی کے اعتراض کا حل تجویز کرنے کے لئے اس بات پر زور دیا کہ دراصل وجود بذات خود دو قسم کا ہے، خارجی اور ذہنی، نیز وجود کی نوعیت ( mode of existence) بدلنے سے ماہیت کا ظہور بدل جاتا ہے اور اسی لئے جو ماہیت خارجی وجود میں گرمائش رکھتی ہے وہ ذہنی وجود میں مختلف نوعیت کی حامل ہوتی ہے۔ یوں معتزلہ کے ہاں حقیقت سے متعلق وجود و ماہیت کی دوئی (duality) وجود ذہنی کے نظرئیے میں سہ گانہ (tri-partite) تقسیم کا شکار ہوجاتی ہے: ماہیت، وجود خارجی اور وجود ذہنی۔ یہاں البتہ یہ یاد رہے کہ علامہ شریف جرجانی وغیرہ وجود خارجی و ذہنی کے علاوہ از خود ماہیت کے کسی تیسرے قسم کے وجود کے قائل نہ تھے جسے معدوم شے، اعیان ثابتہ یا یونیورسل انٹلیکٹ وغیرہ کہا جاتا ہے، نیز اس نظرئیے کے حاملین کے ہاں وجود ذہنی سے مراد صرف بندے کا علم نہیں ہے بلکہ خدا کا علم بھی ہے۔ بعض متاخرین اس وجود ذہنی کو “وجود علمی” بھی کہہ دیتے ہیں۔
وجود ذہنی کے نظرئیے میں متعدد مسائل و تناقضات ہیں جو یہاں موضوع بحث نہیں (ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ “معدوم شے” اور “وجود ذہنی” کو رد کرتے ہیں)۔ ان سب مسائل سے سہو نظر کرکے اگر اس نظرئیے کو قبول بھی کرلیا جائے تب بھی امام رازی کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں کہ اس سے وہ سوال کیسے حل ہوا جس کے پیش نظر معدوم شے یا وجود ذہنی (اور یا اعیان ثابتہ) کا نظریہ قبول کیا گیا ہے: یعنی خدا کے ازلی علم کی توجیہ؟ مثلاً مان لیتے ہیں کہ علم رسی کی مانند ایک تعلق ہے جو معدوم اشیا (یا اعیان ثابتہ یا کلی عقل یا وجود ذہنی وغیرہ) سے متعلق تھا۔ اس نظرئیے کے مطابق خدا کے علم کا تعلق انہی معلومات سے متعلق تھا جو ذہن میں یا اعیان میں یا کلی عقل میں یا معدوم شے میں ثابت تھیں، تاہم وہ خارج میں ان صفات کے ساتھ متحقق نہ تھیں جو حدوث کے بعد انہیں لاحق ہوئیں۔ چنانچہ اگر خالق کو ازل میں ذہنی شے کا مکمل علم ہو، تب بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ بعد از حدوث خارج میں متعین اور جزئی صورت میں موجود ہونے والی شے کا علم اسے کیسے ہوا کیونکہ اس نظرئیے کے قائلین کے مطابق بھی وہ ازل میں موجود نہ تھیں؟ مثلاً زید کا عین ثابتہ (یا معدوم ثابت ماہیت وغیرہ) اور وہ زید جو زمان و مکان میں چلتا پھرتا اور کھاتا پیتا ہے، یہ دونوں بہرحال عین (identical) نہیں (اسے یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ زید کا عین ثابتہ کسی صفت کے تجدد کے بغیر ہی خارج میں بعینہ پایا جاتا ہے اور یا اس میں کسی وصف کا تجدد ہوا، پہلی صورت کے یہ لوگ بھی قائل نہیں اور دوسری صورت سوال کو جنم دیتی ہے)۔ پس اگر علم کے لیے عالم اور معلوم کے درمیان ایک وجودی نسبت درکار ہے، اور مجرد ذہنی شے یا عین ثابتہ پوری طور پر خارجی شے کا عین نہیں، تو کسی مجرد شے کا علم اس خارجی شے کے علم سے کوئی لازمی تعلق نہیں رکھتا۔ لہذا یہ سوال پھر وضاحت کا متقاضی ہے کہ ذہنی شے کا علم آخر کس طرح اس حادث موجود ہونے والی عینی شے کے علم کو مستلزم ہے؟ پھر اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اس کی کوئی توضیح موجود ہے، تو اس کا مطلب بہرحال یہ کہنا ہے کہ اشیا دو مختلف طریقوں سے معلوم ہوتی ہیں:
(1) ذہنی اشیا کی براہ راست حضوری (direct presentation) کے ذریعے، اور
(2) خارجی اشیا کی نمائندگی (representation) کے ذریعے۔
دوسری صورت میں عالم اور خارجی معلوم کے درمیان براہ راست نسبت قائم نہیں ہوتی بلکہ صرف عالم اور شے کی نمائندگی (ذہنی صورت) کے درمیان تعلق ہوتا ہے۔ لیکن اگر علم کے لیے عالم اور معلوم کے درمیان نسبت ضروری ہے، تو محض نمائندگی کا دعوی اس نظرئیے کی کفایت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ علم سے متعلق اس نظرئیے کے قائلین کو دو میں سے کوئی ایک بات کہنا ہوگی: (الف) صرف معدوم ماہیات (یا اعیان ثابتہ) ہی نہیں بلکہ تمام موجودات قدیم ہیں، (ب) خدا کو حادث موجودات کا ازلی علم نہیں، اور یا انہیں اپنا نظریہ رد کرکے ماننا ہوگا کہ معدوم کا علم بھی ممکن ہے (ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کا یہی موقف ہے)۔ امام رازی کا یہ اشکال معدوم (جیسے کہ محال) کے علم کے معاملے میں اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے کیونکہ جب خارج میں کوئی شے موجود ہی نہیں جس کی نمائندگی کی جائے، تو گویا ایک ایسی نمائندگی کی نسبت فرض کرنا ہوگی جس کے اطراف (relata) موجود ہی نہیں۔ اسی طرح معتزلہ کی ایک دلیل یہ تھی کہ اگر معدوم شے نہیں تو خدا کا ارادہ کس چیز سے وابستہ ہوا؟ امام رازی کا جواب یہاں بھی بالکل متعین ہے کہ معدوم کو شے مان لینے کے باوجود بھی آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ قصد اس شے کا نہیں کیا جاتا جو پہلے سے موجود ہو۔ پس اگر ارادہ اس معدوم شے کو موجود کرنے سے متعلق تھا جو بہرحال آپ کے مطابق بھی موجود نہ تھی، تو یہی سوال آپ پر بھی لاگو ہے کیونکہ یہاں بھی ارادہ اس “حادث وجود” سے متعلق ہے جو معدوم ہے۔
یہاں ہم اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے کہ مغرب میں “ذہن پر موقوف حقیقت” (mind dependent reality) کے جو مختلف نظریات (جیسے آئیڈئیل ازم، ٹرانسنڈنٹل آئیڈئیل ازم، کنسپچوئیل ازل وغیرہ) پروان چڑھے ہیں، وہ اسی قسم کے وجود ذہنی کے نظرئیے کی بازگشت ہیں جس پر اسلامی تاریخ میں بحث ہوئی (اگرچہ ہر مخصوص نظرئیے کے پروان چڑھنے کی وجہ کسی الگ مسئلے کا حل ہو)۔ مثلاً یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ کانٹ نے وجود ذہنی کے نظرئیے کے مسائل کے پیش نظر یہ کہا کہ جن ماہیات و کلیات کو خارج سے انتزاع کہا جارہا ہے وہ بہرحال خارج کا عین نہیں، لہذا درست بات یہ کہنا ہے کہ وہ ماقبل تجربی یا ادراکی ساخت ہیں جو تجربے کی شرط اور اس کی ہیئت کو مقرر کرنے والی ہیں نہ کہ وہ کسی خارجی موجود ماہیت کی نمائندگی کرتی ہیں (اسے ہم بنائے فاسد علی الفاسد کہتے ہیں)۔




کمنت کیجے