Home » ایمان والدین اور رجوع قاری
مدرسہ ڈسکورسز

ایمان والدین اور رجوع قاری

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین کریمین کے ایمان کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف چلتا آ رہا ہے۔علماء متقدمین کے ہاں اس مسئلہ پر زیادہ گفتگو نہیں ملتی انہوں نے جزوی طور پر ہی اس مسئلہ کو چھیڑا ہے لیکن متاخرین میں اس مسئلہ پر تفصیلی آراء سامنے آئیں۔ جس میں علامہ جلال الدین سیوطی رح نے باقاعدہ رسائل لکھ کر والدین کریمین کو اہل ایمان ثابت کیا تو آپ کے معاصرین میں علامہ شمس الدین محمد سخاوی رح نے عدم ایمان کے مؤقف کی ترجمانی کی۔ عدم ایمان کے قائلین میں ایک اور بڑا نام معروف حنفی عالم ملا علی قاری رح کا ہے۔ ملا علی قاری رح نے عدم ایمان کے مؤقف کے حق میں باقاعدہ رسالہ لکھا اس لحاظ سے باقی لوگوں سے وہ ممتاز ہو گئے۔ ملا علی قاری رح کے بارے میں بعد کے علماء میں خیال عام ہو گیا کہ ملا علی قاری نے اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا۔ کیونکہ اس رجوع کا نتیجہ کافی خوشگوار تھا اور مزاج و جذبات کا عکاس تھا تو بعد کے علماء نے اس رجوع کے بارے میں زیادہ تحقیق کی کوشش نہیں کی۔ مفتی اعجاز بشیر صاحب جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں نے ملا علی قاری رح کے رجوع کے حقیقت کے بارے میں قلم اٹھایا جس پر انہوں نے ایک رسالہ ‘ایمان والدین اور رجوع قاری ‘ لکھا ہے جس کو ورلڈ ویو پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔

کتاب کے شروع میں مفتی اعجاز صاحب نے اپنا موقف بیان کر دیا کہ وہ والدین کریمین کے ایمان کے قائل ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مسئلہ تحقیقی و علمی ہے اس میں دونوں آراء کو علم و تحقیق کے میزان پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے چونکہ اس کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے ہے تو اس پر زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب نے یہ بھی ابتدا میں لکھا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر عوام میں گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ موضوع اہل علم کی مجالس تک ہی محدود رہنا چاہیے۔

مفتی صاحب نے شروع میں ملا علی قاری رح کا مختصر تعارف کرایا ہے۔ ان کے علمی سفر، اساتذہ و تلامذہ اور تالیفات کا ذکر کیا ہے۔ مفتی صاحب نے بتایا ہے کہ ملا علی قاری رح کی خدمات دین سے انکار ممکن نہیں۔ ان کی تالیفات اسلام کے لیے بالعموم اور فقہ حنفی کی ترجمان ہیں۔ لیکن اس خاص مسئلہ پر ان سے خطاء ہوئی اپنے اس موقف سے انہوں نے کبھی بھی رجوع نہیں کیا۔ اس بارے میں جو رجوع کا قول کیا جاتا اور اس پر دلائل دئیے جاتے ہیں مفتی صاحب نے ان کا جائزہ لیا اور بتایا ہے کہ وہ بہت کمزور دلائل ہیں۔

مفتی صاحب نے رجوع کا موقف رکھنے والے بعض اہل علم کی عبارات نقل کی ہیں۔ جن میں شیخ محمد بن بالی عمرزادہ حنفی رح، شیخ ابو المحاسن محمد قاوقجی طرابلسی رح، شیخ طرابلسی کی عبارت کو سمجھنے میں محقق شیخ احمد الخیر الخطیب کو غلطی لگی، شیخ حسن الزماں حیدرآبادی رح، شیخ محمد بن علوی المالکی رح سمیت دیگر علماء جن میں شیخ زاہد الکوثری رح، علامہ غلام رسول سعیدی رح، قاضی برخوردار ملتانی رح ،علامہ محمد علی نقشبندی رح ، مفتی فیض احمد اویسی رح اور مولانا کوکب نورانی سمیت مزید چودہ شخصیات کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ملا علی قاری کے اس موقف سے رجوع کے حق میں لکھا ہے۔

ملا علی قاری رح کے رجوع کے حق میں جو بڑی دلیل پیش کی جاتی ہے جس کو شیخ محمد بن علوی المالکی رح سمیت کئی اہل علم نے ذکر کیا کہ ملا علی قاری رح کی آخری کتاب شرح الشفاء میں انہوں نے دو جگہ اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع کا ذکر کیا ہے۔
اس پر مفتی صاحب نے بتایا کہ شرح الشفاء کی جن عبارات سے شیخ قاری کا رجوع ثابت کیا جاتا ہے وہ تحریف شدہ ہیں۔ اس پر انہوں نے شرح الشفاء کے سولہ مختلف مخطوطات کا ذکر کیا ہے جس میں یہ عبارت نہیں ہے۔ اس کے علاؤہ تین مطبوعہ نسخوں کا ذکر کیا ہے جس میں یہ عبارت نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ وسیع تلاش کے باوجود انہوں کوئی ایک بھی ایسا مخطوطہ میسر نہیں آیا جس میں یہ عبارت موجود ہو۔

ان عبارات کے غیر اصل اور محرفہ ہونے کی دوسری دلیل مفتی صاحب نے یہ دی ہے کہ شرح الشفاء میں ہی مزید تین مقامات پر اس مسئلہ پر بات کی ہے جس میں انہوں نے اپنے رسالے کا ذکر کیا ہے اور علامہ سیوطی رح کے موقف کو رد کیا ہے۔

مفتی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ بالفرض ان دو عبارات کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی قائلین رجوع کی دلیل سے کمزوری رفع نہیں ہوتی کیونکہ شرح الشفاء ملا علی قاری رح کی آخری تالیف نہیں ہے۔ مصنف نے مختلف حوالوں سے بتایا ہے کہ شرح الشفاء کی تکمیل تقریباً ۱۰۱۰ اور ۱۰۱۱ ہجری میں ہوئی ہے۔ اس کے بعد ملا علی قاری رح نے شرح مسند ابی حنیفہ ، الاسرار المرفوعہ اور شرح عین العلم جیسی ضخیم کتابیں لکھیں۔ ان میں سے شرح مسند ابی حنیفہ اور الاسرار المرفوعہ میں شیخ قاری نے پھر اس مسئلہ کو اٹھایا ہے اور اپنے رسالے کا حوالہ دیا ہے۔ نیز شرح الشفاء کے زمانے میں ہی ملا علی قاری رح کی ایک اور تصنیف شم العوارض میں بھی انہوں والدین کریمین کے عدم ایمان کو صراحتاً بیان کیا ہے۔

قائلین رجوع ایک اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ملا علی قاری رح نے کئی جگہ علامہ سیوطی رح کے رسائل پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ بھی بہت کمزور دلیل ہے۔ کیونکہ شرح مشکوٰۃ جس میں انہوں نے عدم ایمان کا قول کیا اس میں بھی انہوں نے علامہ سیوطی رح کے رسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ سیوطی رح کے رسائل پڑھنے کی ترغیب جانبین کے دلائل کے بارے میں معلومات کو وسعت دینا ہے۔

مصنف نے معاصر عرب محقق شیخ مشہور حسن سلمان جو کہ علامہ البانی کے شاگرد ہیں کی بھی ایک خطاء کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے ملا علی قاری رح کے جوابات کے پس منظر کو ذکر کیا ہے مصنف نے بتایا کہ وہ درست نہیں ہے۔

شیخ قاری کے رجوع کو ثابت کرنے کے لیے ایک خواب کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ جس میں ان کے چھت سے گر کر ٹانگ ٹوٹنے کا ذکر ہے کہ یہ والدین کریمین کے ایمان کی نفی کرنے کی سزا ہے۔ اس خواب کو ملا علی قاری رح کے استاد علامہ ابن حجر مکی رح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس پر مصنف نے بتایا ہے کہ شیخ ابن حجر مکی رح جن کا وصال ۹۷۴ ہجری میں ہوا تو اس وقت ملا علی قاری ابھی تعلیمی مراحل میں تھے انہوں نے تالیف کے میدان میں قدم نہیں رکھا تھا۔ ملا علی قاری کا تالیفی زمانہ ۹۹۰ ھ سے ۱۰۱۴ ھ تک کا ہے لہذا اس خواب کا انتساب علامہ ابن حجر مکی رح کی طرف کرنا خلاف حقیقت ہے۔
مفتی صاحب کہتے ہیں کہ یہ خواب دیکھنے والی شخصیت شیخ عبد القادر طبری الشافعی رح تھے جو کہ ملا علی قاری رح کے شاگرد بھی تھے اور اپنے استاد کی زندگی میں ہی ان کا تحریری و تقریری رد بھی کیا۔ مصنف نے شیخ محمد بن عبد الرسول برزنجی رح اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رح کے حوالے سے مزید وضاحت کی ہے جس میں خواب دیکھنے والی شخصیت کا درست تعین ہے۔ البتہ مخدوم ہاشم ٹھٹوی رح نے چند الفاظ کا اضافہ کیا جو کہ خلاف حقیقت ہیں مصنف نے ان کی بھی نشاندھی کر دی ہے۔

مصنف نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ عدم ایمان جو ملا علی قاری کو موجب تنقید و وعید بنایا گیا وہ بھی شریعت سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ یہ مسئلہ اجتہادی ہے جس پر کفر و ایمان کا مدار نہیں ہے۔ البتہ مصنف کہتے ہیں کہ شیخ قاری کا اس مؤقف پر مصر رہنا اور اس کا بار بار ذکر کرنا ان کی ناصرف خطاء بلکہ بے ادبی ہے لیکن اس مسئلہ میں ملا علی قاری رح اکیلے نہیں ان سے قبل بھی محدثین و علماء اس موقف کے قائل رہے ہیں۔

آخر میں مصنف نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف جو عدم ایمان کے مؤقف کی نسبت فقہ اکبر کے حوالے سے کہ جاتی ہے اس پر مختصر کلام کیا کہ یہ تحقیقی لحاظ سے ثابت نہیں تاہم اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس پر تحقیق کر رہے ہیں اور اس پر امید ہے ان کے نتائج فکر کی روشنی میں الگ سے کتاب بھی آئے۔

مفتی اعجاز بشیر صاحب کا اسلوب کافی سنجیدہ و علمی ہے۔ وہ اختلاف بھی بہت سلیقے سے کرتے ہیں اور نقد کرتے ہوئے جہاں دلیل کو تنقید بناتے ہیں تو اس دوران شخصیت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں جو کہ قابل تحسین ہے۔ بیشک اگر ملا علی قاری رح نے اپنے اس موقف سے رجوع کیا ہو تو وہ ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے لیکن اس کے لیے دلیل کی دنیا کو دیکھا جائے تو مصنف نے بتایا کہ شیخ قاری رح کی اپنی تصنیفات اس کی نفی کرتی ہیں۔ اس پر اگر کوئی اہل علم مفتی صاحب کے نتائج فکر سے اختلاف کرے تو اس کی گنجائش موجود ہے لیکن پھر اس کے لیے مفتی صاحب کے قائم کردہ دلائل کو غلط ثابت کرنا ہوگا جو کہ فی الحال کافی مضبوط نظر آتے ہیں۔

 

راجہ قاسم محمود

راجہ قاسم محمود پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں اور مختلف علمی وفکری موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔
rajaqasimmehmood@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں