Home » مذہب، آئیڈیالوجی اور جنگ
تاریخ / جغرافیہ سیاست واقتصاد شخصیات وافکار کلام

مذہب، آئیڈیالوجی اور جنگ

وسیم رضا ماتریدی

جوہر صاحب کی تحریر کا ایک وجودی و فکری تنقیدی جائزہ

24 مارچ 2026 کو جوہر صاحب نے اپنی فیسبک  وال پر ایک تحریر شائع کی جس کا عنوان تھا: “شیعہ اسلام، سنی اسلام اور جنگِ ایران” ۔ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں جو تاثرات، سوالات، اور فکری نتائج پیدا ہوئے، انہیں میں ذیل میں ترتیب وار درج کر رہا ہوں۔

1۔ جوہر صاحب کی زیرِ نظر تحریر اپنے ظاہری اسلوب میں ایک تاریخی و سیاسی نقد ہے، لیکن اس کی باطنی ساخت محض تنقیدی نہیں بلکہ تعبیراتی ہے:

میرے خیال میں اگر اس تحریر کو محض ایک سیاسی تبصرے کے طور پر پڑھا جائے تو اس کی شدت، اس کی خطیبانہ قوت، اور اس کی مسلکی صف بندی یقیناً بعض قارئین کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی اسے ایک فکری متن کے طور پر پرکھا جائے، یہ بات فوراً واضح ہونے لگتی ہے کہ یہ تحریر اپنے دعووں کی کثرت کے باوجود اپنے منہج میں کمزور، اپنے تاریخی فیصلوں میں عجلت پسند، اور اپنے مذہبی شعور میں ایڈیالوجی کی اسیر ہے۔
جوہر صاحب بظاہر وہابیت اور سنیت پر نقد کرتے ہیں، مگر ان کی پوری تحریر خود اسی مرض کی دوسری صورت بن جاتی ہے؛ یعنی دین کو حضوری، اخلاق، اور وجودی صداقت کے بجائے تاریخی غلبے، جنگی صف بندی، اور مسلکی تقدیر کے آئینے میں دیکھنا۔ اسی لیے اس تحریر پر نقد صرف جزوی تاریخی تصحیح سے نہیں ہو سکتا۔ یہاں زیادہ گہرے کام کی ضرورت ہے۔ اصل بات یہ سمجھنے کی ہے کہ جوہر صاحب کی بنیادی غلطی کسی ایک واقعے کی تعبیر میں نہیں، بلکہ فکر کی ساخت میں ہے۔ وہ مذہب کو سمجھنے کے لیے جس عدسے کو استعمال کرتے ہیں، وہی عدسہ حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے۔
چنانچہ ان کی اس تحریر، بلکہ وسیع تر طور پر ان کے فکری رجحان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس میں چند مبالغے موجود ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پورے فکری نظام میں تاریخ کو صف بندی، مذہب کو طاقت، اور جنگ کو صداقت کی آخری کسوٹی بنا دیا گیا ہے۔

2۔ جوہر صاحب کی پہلی بنیادی غلطی “ مذہبی تاریخ کو جوہریت میں بدل دینا “

جوہر صاحب کی تحریر کی پہلی نمایاں کمزوری یہ ہے کہ وہ “شیعہ اسلام” ، “سنی اسلام” ، “وہابیت” ، “ملتِ اسلامیہ” اور “باطل تہذیب” جیسی اصطلاحات کو اس طرح برتتے ہیں جیسے یہ سب ٹھوس، یکساں، داخلی اختلاف سے خالی، اور تاریخ میں ہمیشہ ایک ہی صورت میں موجود اکائیاں ہوں۔ یہ اسلوب علمی کم اور نظریاتی زیادہ ہے۔ اس میں حقیقت کی تہیں کم کھلتی ہیں، ذہنی نقشہ زیادہ مسلط ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جوہر صاحب تاریخ کو تاریخ کی حیثیت سے نہیں پڑھتے، بلکہ پہلے سے قائم شدہ تصورات کے تحت اس کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ ان کے ہاں “سنی اسلام” ایک پیچیدہ تہذیبی روایت نہیں رہتا بلکہ ایک شکست خوردہ سیاسی وجود میں سمٹ جاتا ہے؛ “شیعہ اسلام” ایک تاریخی تنوع نہیں رہتا بلکہ ایک فعال مزاحم وحدت میں بدل جاتا ہے؛ اور “وہابیت” ایک مخصوص تاریخی و فکری تحریک نہیں رہتی بلکہ دو صدیوں کی مسلم سیاست کی جامع کنجی بن جاتی ہے۔ اس طرح حقیقت کی تفہیم نہیں ہوتی، بلکہ حقیقت کو اپنی سہولت کے مطابق چھانٹا جاتا ہے۔
یہی جوہریت کا مرض ہے۔ جب آپ بڑے مذہبی عنوانات کو ان کی اندرونی کثرت سے کاٹ کر ایک سادہ وحدت میں بدل دیتے ہیں تو پھر آپ کے پاس تاریخ نہیں رہتی، صرف شناختی بلاک رہ جاتے ہیں۔ میری نظر میں جوہر صاحب کی تحریر میں یہی ہوا ہے۔ وہ زندہ تاریخ کے بجائے مسلکی جغرافیہ لکھنے بیٹھ گئے ہیں۔ یہ فکری تنقید نہیں، نظریاتی ترتیب ہے۔ یوں مذہب کو ایک وجودی تجربہ سمجھنے کے بجائے ایک ایڈیالوجی سے نکال کر دوسری ایڈیالوجی میں بند کر دیا گیا ہے۔

3۔ جوہر صاحب مذہب کو معنی نہیں، طاقت کے عنوان سے پڑھتے ہیں:

جوہر صاحب کی پوری تحریر اس مفروضے پر قائم ہے کہ مذہب کی اصل اہمیت اس کی سیاسی فعلیت میں ہے۔ گویا زیادہ اہم یہ نہیں کہ مذہب نے انسان کے باطن، اخلاق، یا خدا کے ساتھ تعلق میں کیا تبدیلی پیدا کی، بلکہ یہ کہ کس مذہبی تعبیر نے اقتدار پر اثر ڈالا، کس نے تاریخ میں جگہ بنائی، کس نے مزاحمت کی، اور کون میدان میں باقی رہا۔
اس پورے فریم میں مذہب کا اصل جوہر؛یعنی انسان کے باطن کی تطہیر، اخلاقی شعور کی بیداری، خدا کے حضور کی کیفیت، اور وجودی بے معنویت سے نجات؛یا تو ثانوی ہو جاتا ہے یا تقریباً غائب۔ میرے نزدیک جوہر صاحب کی تحریر اپنے باطن میں اسی جدید مرض کا شکار ہے جس نے مسلم فکر کو کمزور کیا ہے: دین کو طاقت کی زبان میں ترجمہ کر دینا۔

یہ ماننا مشکل نہیں کہ مذہب کا ایک اجتماعی اور سیاسی پہلو بھی ہوتا ہے، مگر جب مذہب کی صداقت کو بنیادی طور پر سیاسی صف بندی، مزاحمت، اور تاریخی قوت سے ناپا جائے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے الٰہی اور اخلاقی مرکز سے ہٹنے لگتا ہے۔ پھر خدا کا تعلق ضمیر سے کم اور جغرافیہ سے زیادہ ہو جاتا ہے؛ حق کا تعلق سچائی سے کم اور محاذ سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

جوہر صاحب عملاً یہی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں مذہب ایک روحانی یا اخلاقی حقیقت نہیں بلکہ ایک تاریخی طاقت ہے۔ اور جب مذہب کو طاقت کے اس پیمانے پر سمجھا جاتا ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو زیادہ منظم، زیادہ مزاحم، یا زیادہ نمایاں ہو، وہی “اصیل” دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہیں سے مذہب کی باطنی سچائی اوجھل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ تاریخی وزن لے لیتا ہے۔ میرے خیال میں یہی بنیادی انحراف ہے۔

4۔ جوہر صاحب وہابیت پر نقد کرتے ہوئے خود ایک نئی ایڈیالوجی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں:

جوہر صاحب کی تحریر کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ وہ وہابیت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے عقیدے کو ایک سیاسی نظریہ بنا دیا، مذہب کو شناختی قوت میں بدل دیا، اور مسلم دنیا میں ایک نیا ideological order قائم کیا ہے ۔ یہ اعتراض اپنی جگہ وزنی ہے، اور میں بھی اس کے ایک بڑے حصے سے اتفاق رکھتا ہوں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جوہر صاحب خود کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ مذہب کو واقعی اس ایڈیالوجی سے آزاد کر رہے ہیں؟ میرے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ وہ محض ایک ایڈیالوجی کے مقابلے میں دوسری ایڈیالوجی کھڑی کر رہے ہیں۔
ان کے ہاں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ دین انسان کو کیا بناتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا مذہبی بلاک باطل سے برسرِپیکار ہے، کون سا بلاک منہدم ہو رہا ہے، اور کس بلاک کے ہاتھ میں مستقبل آ سکتا ہے۔ یہ منطق بعینہٖ ایڈیالوجی کی منطق ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عنوان بدل گیا ہے۔ پہلے وہابیت مذہب کو صف بندی میں بدل رہی تھی، اب جوہر صاحب مذہب کو ایک دوسری صف بندی میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میرا اعتراض کسی ایک مسلکی سیاسی تعبیر پر نہیں بلکہ خود دین کے ideological capture پر ہے۔ جب مذہب حضوری سے ہٹ کر شناخت بن جائے، اخلاق سے ہٹ کر وفاداری بن جائے، اور خدا سے نسبت کے بجائے جنگی نقشے کی زبان میں پڑھا جانے لگے، تو وہ اپنے اصل مقام سے اتر جاتا ہے۔ جوہر صاحب اسی انحراف کا شکار ہیں۔ وہ مذہب کو ایڈیالوجی سے بچا نہیں رہے، صرف ایڈیالوجی کے مرکز کو بدل رہے ہیں۔

5۔ جوہر صاحب کی تاریخ نگاری خطیبانہ ہے، محققانہ نہیں:

جوہر صاحب کی تحریر میں ایک خاص قسم کا فیصلہ کن لہجہ ہے۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جیسے تاریخ ان کے سامنے پوری طرح کھلی ہوئی ہو اور اس کے بڑے بڑے فیصلے اب قطعی طور پر صادر کیے جا سکتے ہوں۔ لیکن علمی اعتبار سے یہی مقام سب سے زیادہ کمزور ہے۔ ان کے دعوے بڑے ہیں، مگر ان کے لیے درکار تاریخی تحلیل موجود نہیں۔ وہ نتائج پہلے بیان کرتے ہیں، دلائل بعد میں بھی نہیں دیتے۔
مثلاً یہ کہنا کہ اٹھارہویں صدی کے اواخر تک مراکزِ تہذیب میں شیعت کا تقریباً مکمل غلبہ ہو گیا تھا، یا انیسویں صدی میں سنی اسلام کو وہابیت کے ہاتھوں شکستِ فاش ہوئی، یا برصغیر کے تمام اہم سیاسی تصورات وہابیت سے ماخوذ ہیں، یا موجودہ جنگ کے بعد وہابیت ایک سیاسی نظریے کے طور پر منہدم ہو جائے گی—یہ سب اتنے بڑے دعوے ہیں کہ ان کے لیے دقیق تاریخی تجزیہ، استنادی امتیاز، علاقائی تفریق، اور سنجیدہ شواہد درکار ہیں۔ مگر جوہر صاحب انہیں اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے محض تحریر کی قوتِ اظہار ان کے لیے کافی ہو۔
یہی خطابت اور فکر کا فرق ہے۔ خطابت شدت سے کام لیتی ہے؛ فکر امتیاز سے۔ خطابت فیصلہ سناتی ہے؛ فکر سوال اٹھاتی ہے، دلائل مرتب کرتی ہے، اور پھر نتیجہ اخذ کرتی ہے۔ جوہر صاحب کی تحریر قاری کو متاثر ضرور کرتی ہے، مگر قائل نہیں کرتی۔ اس میں یقین بہت ہے، مگر تحقیق کم۔ فکری سطح پر یہ ایک بڑی کمزوری ہے۔

6۔ جوہر صاحب کا سنی اسلام کے بارے میں فیصلہ غیر منصفانہ اور غیر متوازن ہے:

جوہر صاحب کی تحریر میں سنی اسلام کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا گیا ہے، وہ تنقیدی کم اور حاکمانہ زیادہ ہے۔ وہ سنی اسلام کو تقریباً دو صدیوں سے سیاسی فکر اور عمل سے بے دخل قرار دیتے ہیں، گویا سنی روایت تاریخ میں اب محض ایک ماضی زدہ، شکست خوردہ، اور غیر مؤثر شے رہ گئی ہو۔ یہ بات نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ تہذیبی طور پر منصفانہ۔
سنی روایت صرف اقتدار کی روایت نہیں۔ اس کے اندر فقہ، اصول، کلام، تصوف، عوامی دیانت، مدرسہ، شہر، خانقاہ، سلطنت، اصلاح، مزاحمت، اور استعماری ردِّ عمل—یہ سب مختلف درجات میں موجود رہے ہیں۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جدید دنیا میں سنی روایت ایک ہمہ گیر اور زندہ سیاسی فلسفہ پیدا کرنے میں کئی مواقع پر ناکام رہی، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ تاریخ سے تقریباً خارج ہو گئی، یہ تنقید نہیں بلکہ تجاہل عارفانہ یا فکری خطا ہے۔
جوہر صاحب یہاں سنی روایت کی کمزوریوں کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس کی داخلی قوتیں بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ یہی نظریاتی تحریر کی علامت ہے: وہ مخالف یا کم تر سمجھی جانے والی روایت کو اتنا reduce کر دیتی ہے کہ وہ ایک زندہ حقیقت کے بجائے ایک کاریکچر بن جاتی ہے۔ یہ انصاف نہیں، تمثیل ہے۔ میرے نزدیک معتبر تنقید وہ ہے جو مخالف کو بھی اس کی اصل پیچیدگی کے ساتھ سمجھے، نہ کہ اسے ایک جملے میں دفن کر دے۔

7۔ جوہر صاحب کی “رسمِ شبیری” والی تعبیر مذہب اور جنگ کے تعلق کو خطرناک طور پر مقدس بنا دیتی ہے:

جوہر صاحب جب معاصر جنگی صورتِ حال کو “رسمِ شبیری کی تکمیل” سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ دراصل ایک نہایت حساس اور بلند مذہبی علامت کو ایک موجودہ ریاستی و عسکری تصادم پر منطبق کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صرف ادبی یا خطیبانہ مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا دینی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔
کربلا محض مزاحمت کا استعارہ نہیں؛ وہ حق، قربانی، تنہائی، اخلاقی استقامت، اور ظلم کے مقابلے میں ضمیر کی آخری گواہی کا استعارہ ہے۔ اس عظیم مذہبی علامت کو براہِ راست معاصر ریاستی جنگوں کے ساتھ جوڑ دینا دوہرا خطرہ رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ جدید طاقت کی سیاست کو مقدس رنگ دیتا ہے، دوسری طرف مقدس تاریخ کو سیاسی منصوبہ بندی کے اندر تحلیل کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ہر جنگ اپنے لیے ایک کربلا تلاش کرنے لگتی ہے، اور ہر ریاست اپنے لیے ایک مقدس سوانح لکھنے لگتی ہے۔
یہیں مذہب کے سوء استعمال کا ایک بڑا دروازہ کھلتا ہے۔ قربانی کے استعارے کو طاقت کے جواز میں بدل دینا دراصل اس استعارے کی روح کے خلاف ہے۔ جوہر صاحب کی تحریر میں یہی خطرہ موجود ہے۔ ان کے ہاں جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری امر نہیں رہتی بلکہ ایک مقدس اخلاقی ڈراما بن جاتی ہے۔ اس سے تنقیدی فاصلہ ختم ہو جاتا ہے، اور جہاں تنقیدی فاصلہ ختم ہو جائے وہاں مذہبی شعور بہت جلد تقدیسِ طاقت میں بدل جاتا ہے۔

8۔ جوہر صاحب جنگ کو انسان کے بجائے نظریے کے پیمانے پر دیکھتے ہیں:

جوہر صاحب کی تحریر کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں جنگ کا پہلا موضوع انسان نہیں بلکہ نظریہ ہے۔ ان کے ہاں سوال یہ نہیں کہ جنگ انسان پر کیا اثر ڈالتی ہے، سماج کو کیسے توڑتی ہے، خون کی اخلاقی قیمت کیا ہے، عام آدمی پر کیا گزرتی ہے، اور تہذیبی حافظے میں کون سے زخم چھوڑتی ہے؛ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جنگ میں کس فکر کی صداقت نمایاں ہوئی، کون باطل کے مقابل کھڑا ہوا، اور کون تاریخ کے امتحان میں کامیاب رہا۔
یہ زاویہ مذہبی شعور کے لیے خطرناک ہے۔ کیونکہ جب جنگ میں نظریہ انسان پر غالب آ جائے تو خون مجرد ہو جاتا ہے، تباہی علامت میں بدل جاتی ہے، اور لاشیں استعارے بن جاتی ہیں۔ مذہب اگر واقعی خدا کی طرف نسبت ہے تو اسے جنگ میں بھی انسان کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اگر وہ انسان کو بھول جائے تو پھر وہ محض پرچم رہ جاتا ہے، رحمت نہیں۔
جوہر صاحب کی تحریر میں یہی کمی نمایاں ہے۔ ان کے ہاں جنگ کا روحانی اور اخلاقی احتساب کم ہے اور نظریاتی بڑھوتری زیادہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنگ کی اصل قدر اس میں نہیں کہ وہ کتنی تباہی لاتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کس فکری قوت کو سچ ثابت کرتی ہے۔ میرے فہم کے مطابق نظریہ انسان کے لیے ہے، انسان نظریے کے لیے نہیں۔

9۔ “باطل تہذیب” کے عنوان سے جوہر صاحب فکری تجزیے کو نعرے میں بدل دیتے ہیں:

جوہر صاحب “باطل تہذیب” کی اصطلاح کو ایک بڑے تہذیبی فیصلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مگر اس کے اندر کوئی مفہومی ترتیب نہیں دیتے۔ یہ نہیں بتاتے کہ اس باطل تہذیب سے ان کی مراد کیا ہے: مغرب؟ سرمایہ داری؟ صہیونیت؟ سامراج؟ لبرل ازم؟ سیکولر جدیدیت؟ امریکی عسکری غلبہ؟ یا یہ سب؟ جب اتنی مختلف اور پیچیدہ حقیقتوں کو ایک ہی لفظ میں سمو دیا جاتا ہے تو تجزیہ کم اور نعرہ زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
اس نوع کا اجمال فکری کمزوری کی علامت ہے۔ اس سے قاری کے اندر غصہ تو پیدا ہوتا ہے، بصیرت نہیں۔ تہذیبی نقد اس وقت معتبر بنتی ہے جب وہ امتیاز کرے، چیزوں کی الگ الگ سطحوں کو سمجھے، اور یہ دکھائے کہ جبر، اخلاق، قانون، طاقت، علم، اور تہذیبی دعوے کس طرح ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں۔ جوہر صاحب ایسا نہیں کرتے۔ ان کے لیے “باطل تہذیب” ایک ہم جنس دشمن ہے، اور یہی سادگی ان کی تحریر کو خطیبانہ بناتی ہے۔
میرے خیال میں یہ درست نہیں۔ کیونکہ سچی فکری نقد ہمیشہ نعرے سے آگے جاتی ہے۔ وہ دشمن کی ساخت کو سمجھتی ہے، محض اس کا نام نہیں رکھتی۔ اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے اندر بھی اس امکان کو دیکھتی ہے کہ کہیں وہ خود بھی اسی جبر، اسی تقدیسِ طاقت، اور اسی نظریاتی تنگی کا شکار نہ ہو رہی ہو۔ جوہر صاحب کی تحریر میں یہ خودتنقیدی عنصر تقریباً مفقود ہے۔

10۔ جوہر صاحب کا مستقبل بینی کا دعویٰ دراصل ایک خواہش کی توسیع ہے:

جوہر صاحب کی تحریر کے آخری حصے میں ایک خاص قسم کی تاریخی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا موجودہ جنگی صورتِ حال کے بعد وہابیت اور سنیت ایک سیاسی نظریے کے طور پر اپنی ساکھ کھو دیں گی، ایک بڑا خلا پیدا ہوگا، اور ایرانی انقلاب اپنی فاتحانہ تشکیلِ نو کے امکانات پورے کرتا ہوا نظر آئے گا۔ میرے نزدیک یہ حصہ ان کی پوری تحریر کے نظریاتی باطن کو سب سے زیادہ واضح کرتا ہے۔
یہاں تاریخ کا مطالعہ کم اور آرزو کی توسیع زیادہ نظر آتی ہے۔ ان کی پوری تحریر میں جو صف بندی قائم کی گئی تھی، وہ یہاں آ کر ایک متوقع فتح میں بدل جاتی ہے۔ یعنی آغاز میں جس تعبیر کے ذریعے انہوں نے ماضی کو مرتب کیا، آخر میں اسی تعبیر کے ذریعے مستقبل کو بھی اپنی پسندیدہ سمت دے دی۔ یہ منہج علمی نہیں۔ جب مستقبل بینی تاریخی تجزیے سے زیادہ ذہنی میلان کی تابع ہو جائے تو وہ فکر نہیں رہتی، ایک طرح کی نظریاتی تمنّا بن جاتی ہے۔
میرے فہم کے مطابق مستقبل کا سوال کبھی محض اس سے حل نہیں ہوتا کہ کون سا مسلکی یا سیاسی بلاک آگے بڑھے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنے مذہبی شعور کو ایڈیالوجی سے آزاد کر سکے گی؟ کیا وہ خدا کو دوبارہ طاقت کے پرچم سے الگ کر کے اخلاقی حضوری کے طور پر دریافت کر سکے گی؟ کیا وہ انسان کو مسلک سے پہلے دیکھ سکے گی؟ اگر نہیں، تو خواہ ایک سیاسی نظریہ گرے اور دوسرا اٹھے، بحران اپنی اصل میں باقی رہے گا۔ یہی جوہر صاحب کی فکر کی حد ہے: وہ زوال پزیر چہروں کو بدل رہے ہیں، اساس کو متعین نہیں کر پا رہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں