علامہ ابن سینا کے واجب الوجود کا قصہ ملاحظہ کرنے کے بعد اب ان کے ہاں قدیم عالم اور موجودہ حوادث کی توجیہ کی مشکل کی جانب چلتے ہیں۔ ابن سینا عالم میں جاری حوادث کہ چیزیں یک بعد دیگرے نمودار و تبدیل ہورہی ہیں نیز ان کے وجود و فنا کا شکار ہونے کی تشریح کے لئے عقول عشرۃ کے نام پر ایک دیومالائی قسم کا فلسفہ وضع کرتے ہیں۔ اس دیومالا کی تفصیل ضرورت پڑنے پر کسی دوسری فرصت میں ذکر کی جائے گی۔ اس کہانی کے مطابق واجب الوجود سے صرف واحد ہی کا صدور ہوسکتا ہے اور اس واحد کا نام یہ لوگ عقل اول رکھتے ہیں، پھر اس عقل سے متعدد عقول و افلاک کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے جہاں افلاک ازل سے حرکت میں ہیں۔ تاہم ان کی مشکل یہ سوال ہے کہ آخر قدیم و حوادث میں ربط کیسے ہوگیا نیز اشیا ایک دوسرے سے موخر کیوں کر ہیں؟
ان فلاسفہ کا موقف ہے کہ حادث چیز قدیم علت سے براہ راست صادر نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے ایک قدیم مادہ (استعدادِ اصلیہ) ضروری ہے جس پر متعدد صورتیں مرتب ہوں۔ چنانچہ زمانی طور پر موخر حوادث کی توجیہ کے لئے فلاسفہ حادث استعدادوں کا ایک غیر متناہی متعاقب سلسلہ (infinite chain of successive potentialities) فرض کرتے ہیں جن میں ہر پہلے والی اپنے سے بعد والے سے مسبوق ہو اور یہ سلسلہ غیر متناہی ہو، اور بالاخر یہ سب افلاک کی ایک قدیم حرکت پر قائم ہوتا ہے (ان کے مطابق افلاک کی حرکت میں دو حیثیتیں ہیں: ایک استمرار (دوام) اور دوسری تجدد (نیا ہونا)۔ انہی دو اعتباروں سے وہ قدیم اور حادث کے درمیان واسطہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ استمرار کے اعتبار سے اس کا صدور قدیم سے جائز ہے، اور تجدد کے اعتبار سے وہ قدیم سے حوادث کے صدور کا واسطہ بن جاتی ہے۔ یہ کہانی بذات خود پرابلمیٹک ہے، جس پر ان شاء اللہ الگ سے بات کریں گے)۔ یوں ان کے مطابق حوادث کے سلسلے کا قدیم سے استعدادات کے واسطے سے صادر ہونا ممکن ہے۔
تبصرہ
موخر حوادث کی توجیہ کے لئےیہ ساری کہانی غیرمفید ہے، ذیل میں ہم اس پر ان تین اشکال کا خلاصہ کریں گے جو علامہ علا الدین طوسی حنفی سمرقندی (م 887 / 1482) نے کتاب “الذخیرۃ” مشہو بنام “تھافت الفلاسفة” میں وارد کئے ہیں (یہ کتاب آپ نے اپنے حاکم وقت سلطان ابو الفتح کے کہنے پر تالیف کی تھی، اس کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے مسلم فلاسفہ کے علامہ نصیر الدین طوسی (م 672 / 1274) جیسے شارحین کی توجیہات کو بھی اس کتاب میں کور کرلیا ہے)۔ یہ تینوں اشکالات دراصل ابن سینا کے فلسفے کے داخلی تضادات کو نمایاں کرنے سے عبارت ہیں۔
پہلا اعتراض:
ابن سینا کی یہ انٹالوجی تین ایسے باہم متضاد اصولوں پر قائم ہے جو جمع نہیں ہوسکتے:
موخر حوادث کی توجیہ کے لئے یہ ساری کہانی البتہ غیر مفید ہے کیونکہ ابن سینا کی یہ انٹالوجی تین باہم متضاد اصولوں پر قائم ہے جو جمع نہیں ہوسکتے:
۱۔ مادہ کبھی صورت سے جدا نہیں ہوتا،
۲۔ معلول اپنی علت کے ساتھ ہوتا ہے،
۳۔ قدیم ہر حادث پر سابق ہونا چاہیے۔
ابن سینا کے نزدیک کلی کا خارج میں الگ سے کوئی وجود نہیں بلکہ وہ جزئی کے تحت ہوتی ہے (یعنی صورت سے خالی مادے کا کوئی وجود نہیں)۔ اب قدیم مادے پر غیر متناہی حادث استعدادوں کے متواتر وارد ہونے کا قول متناقض ہے، کیونکہ قدیم کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ہر حادث سے پہلے موجود ہو اور حادث اسے کہتے ہیں جو مسبوق بالعدم ہو۔ لیکن اگر حوادث کا سلسلہ لامتناہی ہو تو ایسا کوئی قدیم نہیں ہوسکتا جو لامتناہی حوادث سے ماقبل ہو بلکہ ماننا ہوگا کہ وہ بعض کے ساتھ ہو۔ مثال سے بات سمجھئے۔ فرض کریں کوئی کہے کہ یہ دریا ہر حادث موج سے پہلے ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ “کیا کوئی لمحہ ایسا تھا جب دریا میں ایک بھی موج نہ تھی؟”، اور وہ کہے: “نہیں بلکہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی موج تھی”، تو اسے کہا جائے گا کہ پھر دریا ہر موج سے پہلے کیسے ہوا، وہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی موج کے ساتھ ہی تھا؟ چونکہ علت و معلول ان کے نزدیک منفک (separable) نہیں ہوتے بلکہ ساتھ پائے جاتے ہیں، لہذا اگر قدیم مادہ ہمیشہ کسی نہ کسی حادث کے ساتھ ہے تو وہ حوادث بھی اس سے منفک نہیں ہوں گے جو اس قدیم سے مقارن (concurrent) حادث پر مرتب ہوتے ہیں۔ نتیجتاً عالم میں موخر حوادث کا ہونا ناممکن ہوجاتا ہے اور پورا سلسلہ قدیم قرار پاتا ہے۔
مزید آسان یوں کرلیں کہ فلاسفہ کے نزدیک ترتیب یوں ہے:
قدیم ← مادہ ← استعداد متعاقبہ ← حوادث
تاہم اگر مادہ ہمیشہ کسی نہ کسی حادث صورت کے ساتھ موجود ہے تو وہ ہر حادث سے پہلے موجود نہیں بلکہ صورت حال یوں ہے:
مادہ + حادث
پھر
مادہ + حادث
وقس علی ذلک
یوں نرا سابق مادہ (یا استعداد یا امکان) کبھی بھی نہیں پایا جاتا۔
لہذا جس سابق مادے کو موخر حوادث کے صدور کا واسطہ بنایا جا رہا ہے، وہ خارج میں کبھی متحقق ہی نہیں ہوتا۔ نیز اگر علت ہمیشہ اپنے معلول کے ساتھ ہے اور مادہ ہمیشہ کسی نہ کسی حادث کے ساتھ ہے، تو موجودہ حوادث کی تاخیر کی کوئی معقول توجیہ باقی نہیں رہتی۔ اس صورت میں تین امکانات رہ جاتے ہیں:
۱) تمام حوادث بلکہ پورا عالم قدیم ہونا چاہئے،
۲) علت و معلول کی معیت (simultaneity) کا اصول ترک کر دیا جائے، یا
۳) یہ تسلیم کیا جائے کہ حادث براہ راست قدیم سے صادر ہوا، جو خود فلاسفہ کے اصول کے خلاف ہے۔
خلاصہ یہ کہ ابن سینا کے ہاں موخر یا آج کے حوادث کی توجیہ کا کوئی ہم آھنگ اصول میسر نہیں۔ بغور دیکھا جائے تو یہ دراصل افلاک کی حرکات اور ماقبل استعدادوں کے غیر متناہی ہونے، بلکہ مطلقاً یہ کسی قدیم موجود کے ساتھ غیر متناہی متعاقب حوادث جمع ہوسکنے کے قول کی غلطی کو ظاہر کررہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں قدم عالم (اور اس کے پس پشت علت تامہ) کا ان کا نظریہ باطل ہے۔
دوسرا اعتراض
“سابق مادے سے لامتناہی حوادث کا صدور ہوتا ہے” پر دوسرے اشکال کو سمجھنے کے لئے کسی معین شے مثلاً بکرے کے ہیولی (استعداد) کو لیجئے۔ یہ تین میں سے کسی ایک حاصل سے خالی نہیں ہوگا:
۱۔ یا یہ کسی انفرادی تشخص (individuated identity) کے بغیر خارج میں پایا جائے گا، لیکن یہ بات خود فلسفی بھی نہیں مانتے کیونکہ کلیات کے مستقل خارجی وجود کے یہ لوگ قائل نہیں بلکہ کلی ان کے نزدیک جزئی کے تحت پائی جاتی ہے نیز یہ بات بالکل واضح ہے کہ خارج میں جزئی بکرے پائے جاتے ہیں، “بکرا بحیثیت کلی” نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔
۲۔ یا وہ مشخص صورت میں پایا جائے گا۔ اس کی پھر دوصورتیں بنیں گی: یا وہ اپنی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت ایک سے زائد افراد میں موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ عالم میں متعدد اشیا دراصل ایک ہی شخص ہوں، یہ جمع بین الضدین ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک (one and same) ہی ماہیت و حقیقت متعدد افراد میں متحقق ہو، اس سے لازم آتا ہے کہ متعدد و متباین افراد حقیقت میں ایک ہی شخص ہو۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے مصنف یہ مثال لائے ہیں کہ فرض کرو ایک بکرا مر جائے جسے پھر کوئی شیر کھا جائے یا متعدد علاقوں کے پرندے اسے کھا جائیں۔ اگر اس کے ہیولی کی وہی شناخت باقی رہی تو مطلب یہ ہوا کہ وہی ایک ہیولی بیک وقت مختلف جانوروں اور مختلف مقامات میں موجود ہو جبکہ یہ جائز نہیں۔ بات سمجھنے کے لئے مزید آسان مثال لیجئے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی سیبیت درخت پر لٹکی ہو، وہی سیبیت کوئی کھا رہا ہو، وہی سیبیت کسی کے ٹھیلے پر پڑی ہو اور اسی سیبیت کو کوئی اپنے تھیلے میں ڈالے گھر لے جارہا ہو وغیرہ۔
۳۔ یا وہ اپنی وحدت کو برقرار نہ رکھے بلکہ تبدیل یا معدوم ہوجائے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ھیولی حادث ہو جبکہ فلاسفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں نیز قدیم پر عدم محال ہے۔
الغرض یہ تینوں صورتیں محال ہیں، لہذا ثابت ہوا کہ سابق ھیولی یا استعداد کو موخر حوادث کی توجیہ کا خارجی محل قرار دینا باطل ہے۔ اس کے بعد مصنف افلاطون کی اس بات کہ خارج میں مجرد کلیات یعنی پلاٹونک فارمز کا وجود ہوتا ہے، اس پر مختصر مگر دلچسپ تبصرہ کرتے ہیں: یہ ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی وقعت نہیں اور اس کی تاویل ہی کی گئی ہے! اس تبصرے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹھیٹھ اشعری و ماتریدی متکلمین افلاطون کے فلسفے کو کتنی حیثیت دیتے تھے!
تیسرا اعتراض
اب آئیے ان کے اس دعوے پر کہ افلاک کی حرکت میں دو حیثیتیں ہیں: ایک استمرار اور دوسری تجدد ، نیز انہی دو اعتباروں سے وہ قدیم اور حادث کے درمیان واسطہ بنتی ہے۔ یہاں فلاسفہ کی دلیل یہ ہے کہ قدیم سے براہ راست حادث صادر نہیں ہوسکتا بلکہ ایک ایسی چیز چاہیے جس میں دو جہتیں ہوں: استمرار (جس کی وجہ سے وہ قدیم سے متعلق ہوسکے) اور تجدد (جس کی وجہ سے وہ حادثات کا مبدا بن سکے) ۔
اس پر اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ حرکت کا ایسا کوئی معنی و تفسیر نہیں جو مطلوب مقصد کے لئے مفید ہو:
۱۔ اگر حرکت کا استمرار (continuous motion) ہو تو وہ از خود کوئی مستقل موجود شے نہیں جو واسطہ بن سکے،
۲۔ اگر حرکت کا معنی توسط (the state of being between beginning and end) ہو ، تو وہ ایک بسیط حالت ہےجس سے تجددِ حوادث کی مطلوبہ توجیہ حاصل نہیں ہوتی، اور
۳۔ اگر حرکت کا معنی فاصلے کا قطع (the traversing of distance or successive positions) ہو، تو وہ خود حادث اور منقسم ہے، لہٰذا قدیم و حادث کے درمیان رابطہ نہیں بن سکتی۔
اگر فلاسفہ کی جانب سے یہ کہا جا ئے کہ حرکت کی حقیقت کے استمرار سے مراد یہ ہے کہ زمانوں میں کوئی ایسا زمانہ نہیں جس میں حرکت کی حقیقت موجود نہ ہو بلکہ حرکت کی ماہیت خود دائماً موجود رہتی ہےاور حرکت کبھی معدوم نہیں ہوتی، تو “حرکت کی ماہیت” دائماً موجود کہنے کے لئے اسے خارجی کلی (universal existing in reality) ماننا پڑے گا۔ حالانکہ ابن سینا خود یہ نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک خارج میں صرف افرادِ حرکت موجود ہیں، نہ کہ “حرکت بما هي حركة”۔ نیز اگر مراد صرف کسی نہ کسی فردِ حرکت کا موجود رہنا ہے، تو اس سے اشکال حل نہیں ہوتا ، کیونکہ سوال یہ تھا کہ قدیم اور حادث کے درمیان واسطہ کون سی چیز ہے؟ اگر جواب دیا جائے:
- اگر جواب ہے “فلاں فردِ حرکت”، تو وہ خود حادث ہے،
- اگر جواب ہے “حرکت کی ماہیت”، تو وہ ابن سینا کے نزدیک خارج میں موجود نہیں۔
- اگر جواب ہے “تمام افراد کا مجموعہ”، تو وہ کوئی ایک خارجی موجود نہیں، اور
الغرض یہ کہ فلسفی جس “حرکت” کو قدیم اور حادث کے درمیان واسطہ بنانا چاہتا ہے، وہ یا تو صرف ایک ذہنی کلی ہے، یا حادث افراد کا مجموعہ ہے، یا ایک حادث فرد ہے۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی قدیم و حادث کے درمیان مطلوبہ خارجی واسطہ نہیں بن سکتا۔
پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ازلی استمرار (ہمیشہ سے جاری رہنا) سابقیت (پہلے ہونے) کے خلاف ہے جبکہ سابقیت حرکت کی ماہیت اور حقیقت کے لوازم میں سے ہے اس لیے کہ حرکت دراصل ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی کا نام ہے، بلکہ دوسرے وجود (کونِ ثانی) کا نام ہے، اور یہ سب سابق حالت کے بغیر تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ یہ کہ قدم عالم اور ثانوی علل کے دفاع میں ابن سینا کی پیش کردہ توضیحات قدیم مادے اور موخر حوادث کے باہمی ربط کو ایک ہم آہنگ اور غیر متناقض صورت میں واضح کرنے کے بجائے ایک معمہ بنا دیتی ہیں۔




کمنت کیجے