وسیم رضا ماتریدی
شیخ مصطفیٰ صبری کے تصورِ عقل و علم کا«گیان رس» کے تناظر میں تنقیدی مطالعہ
انسان حقیقت کو کس طرح جانتا ہے؟ کیا انسانی معرفت کی حدود وہی ہیں جو حسی مشاہدے اور تجرباتی تحقیق کی حدود ہیں، یا عقل ان حقائق تک بھی رسائی رکھتی ہے جو محسوسات سے ماورا ہیں؟ اور اگر عقل کسی حقیقت کی صداقت ثابت کردے تو کیا یہ اثبات انسان کی باطنی زندگی میں اس حقیقت کے وجودی تحقق کے لیے بھی کافی ہے؟ شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری کے فکری منصوبے میں یہ سوالات علم، عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کی صورت میں سامنے آتے ہیں، جبکہ گیان رس کے وجودی و صوفیانہ تناظر میں یہی مسئلہ علم، معرفت، خودشناسی اور انسانی وجود کی معنوی تشکیل سے مربوط ہوجاتا ہے۔ دونوں مناہج کے تقابلی مطالعے سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت کا جاننا اور اس حقیقت کے ساتھ ایک زندہ وجودی تعلق قائم کرنا معرفت کے ایک ہی درجے کی دو صورتیں ہیں، یا ان کے درمیان ایک ایسا اصولی امتیاز موجود ہے جسے نظرانداز کرنے سے مذہبی فکر کی تفہیم نامکمل رہ جاتی ہے؟
شیخ مصطفیٰ صبری کے نزدیک جدید فلسفے کا ایک بنیادی مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب تجرباتی علوم کی کامیابی کو بنیاد بناکر تجربے کو ہر نوع کی معرفت کا فیصلہ کن معیار قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ان کے نزدیک طبیعی علوم کا دائرۂ تحقیق اپنی جگہ معتبر ہے، لیکن اس دائرے کی حدود کو تمام حقیقت کی حدود قرار دینا ایک الگ فلسفیانہ دعویٰ ہے۔ اس دعوے کے نتیجے میں خدا، روح، وحی اور دوسرے مابعدالطبیعیاتی حقائق کو محض اس بنا پر غیرعلمی سمجھا جانے لگا کہ وہ حسی مشاہدے کے تابع نہیں۔ شیخ مصطفیٰ صبری اس تصور کے مقابلے میں عقل کی مستقل علمی حیثیت اور عقلی استدلال کی حجیت کا دفاع کرتے ہیں۔وہ علم کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
حين نقول العلم نقصد به العلم التصديقي، أي معرفة مضمون قضية من القضايا۔[۱]
ترجمہ: جب ہم علم کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد تصدیقی علم ہوتا ہے، یعنی کسی قضیے کے مضمون کی معرفت۔
اس تعریف کے بعد شیخ مصطفیٰ صبری علم کے مختلف استعمالات میں امتیاز قائم کرتے ہیں۔ ایک اعتبار سے علم کسی حقیقت کو اس کے سبب یا دلیل کے ذریعے جاننے کا نام ہے، جبکہ دوسرے اعتبار سے یہ ان مدون علوم کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کے اپنے مخصوص موضوعات اور طریقۂ تحقیق ہیں، مثلاً فلسفہ، ہندسہ اور فقہ۔ ان کے نزدیک ہر علم اپنے موضوع سے متعلق مسائل میں فیصلہ کرسکتا ہے، لیکن کسی مخصوص علم کی حدود سے باہر واقع حقیقت کے متعلق اس علم کی خاموشی کو اس حقیقت کے انکار کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔
یہ امتیاز شیخ مصطفیٰ صبری کے پورے استدلال میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک تجرباتی تحقیق کسی محسوس واقعے کے وقوع، اس کی کیفیت اور دوسرے محسوس واقعات کے ساتھ اس کے تعلق کی تحقیق کرسکتی ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وجود، امکان، ضرورت، استحالہ، علت اور معلول جیسے تمام تصورات کا فیصلہ بھی صرف تجربے ہی سے کیا جائے۔ یہ تصورات عقلی استدلال سے بھی متعلق ہیں، اور انسانی علم کی تشکیل میں عقل کا یہ کردار محض حسی معلومات کی تکرار نہیں۔
اسی بنیاد پر وہ لکھتے ہیں:
ليس هذا العلم هو الميزان للعلوم، بل الميزان للعلوم هو المنطق، والحاكم هو العقل لا التجربة۔[۲]
ترجمہ: یہ علم تمام علوم کا معیار نہیں ہے، بلکہ علوم کی جانچ کا معیار منطق ہے، اور فیصلہ کرنے والی قوت عقل ہے، نہ کہ تجربہ۔
اس عبارت میں شیخ مصطفیٰ صبری کا اعتراض تجرباتی علم پر نہیں، بلکہ اس کے ایک مخصوص فلسفیانہ استعمال پر ہے۔ وہ اس تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ کسی حقیقت کے علمی اثبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ تجربہ گاہ یا حسی مشاہدے کے دائرے میں آجائے۔ ان کے نزدیک تجرباتی طریقۂ تحقیق کی افادیت تسلیم کرنا اور اسے ہر نوع کی معرفت کا واحد معیار قرار دینا دو مختلف باتیں ہیں۔
تاہم یہاں ایک اہم علمی احتیاط ضروری ہے۔ منطق کسی استدلال کی ساخت اور اس کے مقدمات سے نتائج کے درست اخذ کی جانچ کرتی ہے، لیکن کسی استدلال کا منطقی طور پر درست ہونا بذاتِ خود اس کے تمام مقدمات کی خارجی صداقت کی ضمانت نہیں۔ اس لیے مابعدالطبیعیاتی حقائق کے اثبات کے لیے محض تجربیت کی حدود واضح کردینا کافی نہیں؛ ایسے عقلی دلائل بھی فراہم کرنا ضروری ہیں جن کے مقدمات اور نتائج مستقل تنقیدی جانچ پر پورے اترتے ہوں۔ شیخ مصطفیٰ صبری کے عقلی منہج کی علمی اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے کہ وہ مذہبی عقائد کے دفاع کو محض جذباتی وابستگی کے بجائے استدلال کی بنیاد پر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ تجرباتی علم کی اجارہ داری پر مزید تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فالواجب أن نرفض نحن المسلمين احتكار الإثبات العلمي للتجربة، ونعلم المحتكرين الاستدلال العقلي الذي يقوم بإثبات علمي أفضل مما يقوم به العلم الحديث۔[۳]
ترجمہ: لہٰذا ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ علمی اثبات کو تجربے کے ساتھ مخصوص کرنے کے دعوے کو مسترد کریں، اور اس اجارہ داری کے قائلین کو عقلی استدلال کی اہمیت سے آگاہ کریں، جو بعض حقائق کے اثبات میں جدید تجرباتی علم سے زیادہ مضبوط علمی دلیل فراہم کرتا ہے۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ شیخ مصطفیٰ صبری کے نزدیک عقل مذہبی فکر کے لیے محض ایک دفاعی وسیلہ نہیں، بلکہ حقیقت کی معرفت کا مستقل ذریعہ بھی ہے۔ وہ مذہب اور عقل کے درمیان ایسے تعارض کو قبول نہیں کرتے جس میں مذہبی صداقت کو برقرار رکھنے کے لیے عقلی استدلال کی اہمیت کم کرنا ضروری ہوجائے۔ ان کے نزدیک مذہبی فکر کو عقل سے فرار کے بجائے عقل کی علمی حیثیت کا دفاع کرنا چاہیے۔
لیکن اس مقام پر ایک دوسرا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی حقیقت کا عقلی اثبات انسان کے اس حقیقت کو وجودی طور پر جاننے کے لیے بھی کافی ہے؟
یہ سوال گیان رس کے فکری تناظر میں خاص اہمیت اختیار کرتا ہے۔ کتاب کے ابتدائی مباحث میں «وجودی تشنگی اور معرفت کے ذائقے» کے تصور کے ذریعے انسانی معرفت کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جس میں حقیقت کو جاننے کا تعلق محض علمی تصدیق سے نہیں، بلکہ انسان کی داخلی زندگی، اس کے شعور اور اس کی معنوی طلب سے بھی ہے۔ یہاں معرفت کسی قضیے کو درست تسلیم کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سوال سے وابستہ ہوجاتی ہے کہ حاصل شدہ حقیقت انسان کی ذات میں کس طرح مؤثر ہوتی ہے۔[۴]
اس تناظر میں علم اور معرفت کے درمیان ایک بنیادی امتیاز سامنے آتا ہے۔ علم کسی حقیقت کے متعلق درست معلومات، دلائل اور تصورات فراہم کرسکتا ہے، جبکہ معرفت اپنے وسیع تر وجودی مفہوم میں انسان اور اس حقیقت کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم کرتی ہے جو اس کی خودفہمی، احساسات، اخلاقی فیصلوں اور زندگی کے مقاصد کو متاثر کرتا ہے۔
اس امتیاز کا مطلب یہ نہیں کہ علم اور معرفت ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ عقلی علم لازماً روحانی تجربے سے خالی ہوتا ہے یا ہر شخصی تجربہ خودبخود معتبر معرفت قرار پاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کے متعلق علمی تصدیق اور اس حقیقت کی انسانی زندگی میں معنوی تاثیر کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جاسکتا۔
گیان رس میں اس سوال کو انسان کی وجودی تشنگی سے مربوط کیا گیا ہے۔ انسان کے پاس کائنات کے متعلق وسیع معلومات ہوسکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے وجود کے مقصد، اپنی داخلی شناخت اور زندگی کی آخری معنویت سے متعلق اضطراب محسوس کرسکتا ہے۔ یہ اضطراب صرف معلومات کی کمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس امر کی نشان دہی بھی ہوسکتا ہے کہ علمی معلومات اور انسانی وجود کی معنوی تشکیل دو الگ مسائل ہیں۔
کتاب کے ابتدائی صفحات میں علم، حکمت، محبت، فن اور روحانی تجربے کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے اسی نکتے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ انسانی زندگی کی تمام معنوی جہتوں کو محض نظری معلومات میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ علم کا ایک پہلو حقیقت کی توضیح ہے، جبکہ اس کی انسانی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب وہ حکمت، اخلاقی شعور اور زندگی کے عملی تجربے سے مربوط ہوجائے۔[۵]
اس زاویے سے شیخ مصطفیٰ صبری کا تصورِ عقل ایک نئی تنقیدی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ ان کے نزدیک عقل کی بنیادی اہمیت اس کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان محسوسات سے ماورا حقائق کے متعلق معتبر نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وجودی و صوفیانہ نقطۂ نظر یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ انسان جس حقیقت کو عقلی طور پر ثابت کرتا ہے، کیا وہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کے ساتھ کوئی زندہ تعلق بھی قائم کرتا ہے؟
مثلاً خدا کے وجود کا عقلی اثبات ایک فلسفیانہ اور کلامی مسئلہ ہے۔ اس میں دلائل، مقدمات، علت، امکان، وجوب اور دوسرے عقلی تصورات کے ذریعے ایک اعتقادی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن خدا کے ساتھ انسانی تعلق کا مسئلہ صرف اس عقلی نتیجے تک محدود نہیں رہتا۔ اس میں محبت، اعتماد، امید، خوف، اخلاقی ذمہ داری، دعا، عبادت اور انسان کی اپنی ہستی کا شعور بھی شامل ہوجاتا ہے۔
یہاں سوال خدا کے وجود کے اثبات کی اہمیت کو کم کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ مذہبی حقیقت کی معرفت کے لیے عقلی تصدیق اور وجودی وابستگی میں کیا نسبت ہونی چاہیے۔ اگر انسان خدا کے وجود کو عقلی طور پر تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کا اعتقاد اس کی زندگی میں کوئی اخلاقی، روحانی یا معنوی تبدیلی پیدا نہیں کرتا تو اس اعتقاد کے وجودی تحقق کے متعلق ایک مستقل سوال پیدا ہوتا ہے۔
گیان رس میں «عالم کی دریافت، خود کی دریافت سے شروع ہوتی ہے» کے عنوان سے انسان کی خودشناسی کو اس کے خارجی عالم کی تفہیم سے مربوط کیا گیا ہے۔ اس بحث میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ انسان دنیا کو محض ایک غیرمتعلق مشاہد کی حیثیت سے نہیں دیکھتا، بلکہ اس کی اپنی داخلی کیفیت، شعور اور خودفہمی بھی اس کے تجربۂ حقیقت میں حصہ لیتی ہے۔[۶]
یہاں ایک اہم امتیاز برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انسانی شعور کا تجربۂ حقیقت میں مؤثر ہونا اس امر کی دلیل نہیں کہ خارجی حقیقت انسان کے شعور کی پیداوار ہے، یا حقیقت کی صداقت کا فیصلہ صرف شخصی احساس کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ خودشناسی انسانی معرفت کا ایک اہم موضوع ضرور ہے، لیکن اس سے خارجی عالم کی مستقل حقیقت یا عقلی استدلال کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔
اسی مقام پر شیخ مصطفیٰ صبری کے برہانی منہج اور گیان رس کے وجودی منہج کے درمیان ایک حقیقی اصولی سوال پیدا ہوتا ہے۔ شیخ مصطفیٰ صبری مذہبی صداقت کے اثبات کے لیے ایسے استدلال کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں جس کی جانچ عقلی اصولوں کے مطابق کی جاسکے۔ دوسری طرف وجودی و صوفیانہ فکر اس امر پر زور دیتی ہے کہ مذہبی حقیقت انسان کے لیے صرف ایک نظری مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے شخصی وجود اور داخلی تبدیلی کا معاملہ بھی ہے۔
یہ فرق گیان رس کی بحث «ایمان: ایک شخصی انتخاب» میں مزید نمایاں ہوتا ہے۔ اس بحث میں ایمان کو محض موروثی انتساب یا غیرشعوری قبولیت کے بجائے ایک ایسے وجودی انتخاب کے طور پر سمجھا گیا ہے جس میں انسان کا شعور، اس کی داخلی طلب اور اس کی اخلاقی ذمہ داری شریک ہوتی ہے۔ ایمان کا یہ شخصی پہلو اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ اعتقادی تصدیق اور انسان کی زندگی میں اس کے عملی تحقق کے درمیان ایک بامعنی تعلق موجود ہے۔[۷]
تاہم اس تصور کے سامنے ایک سنجیدہ علمی اعتراض بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر مذہبی معرفت کو بنیادی طور پر شخصی تجربے اور داخلی احساس کی بنیاد پر سمجھا جائے تو مختلف اور بعض اوقات باہم متعارض مذہبی تجربات کی صداقت کا فیصلہ کس معیار سے ہوگا؟ کیا ہر ایسا تجربہ جو کسی شخص کے لیے بامعنی ہو، ایک خارجی حقیقت کی درست معرفت بھی فراہم کرتا ہے؟
یہاں شیخ مصطفیٰ صبری کا عقلی منہج ایک ضروری تنقیدی معیار فراہم کرتا ہے۔ کسی شخصی تجربے کی معنوی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس تجربے سے اخذ کیے جانے والے اعتقادی دعووں کی صحت کے لیے مستقل علمی و عقلی تحقیق ضروری ہے۔ اسی طرح وجودی فکر شیخ مصطفیٰ صبری کے منہج کے سامنے ایک دوسرا سوال قائم کرتی ہے: اگر مذہبی حقیقت کے عقلی اثبات کو مکمل مذہبی معرفت سمجھ لیا جائے تو انسان کی داخلی تبدیلی، روحانی تجربے اور اخلاقی تشکیل کی علمی حیثیت کیا ہوگی؟
اس اعتبار سے دونوں نقطۂ ہائے نظر میں اختلاف عقل کی اہمیت کے انکار و اقرار کا نہیں، بلکہ مذہبی معرفت کی تکمیل اور اس کے علمی معیارات کا ہے۔ شیخ مصطفیٰ صبری اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ مذہبی دعوے عقلی تحقیق سے ماورا نہیں، جبکہ وجودی و صوفیانہ نقطۂ نظر اس امر پر زور دیتا ہے کہ مذہبی حقیقت کے ساتھ انسانی تعلق محض عقلی تصدیق پر ختم نہیں ہوتا۔
گیان رس میں «سفرِ ذات: باطن کی آزادی اور انسان کی حقیقی بیداری» کے تحت انسانی شناخت کی تشکیل کو شعوری انتخاب، آزادی اور عمل سے مربوط کیا گیا ہے۔ اس تصور میں انسان محض معلومات اور موروثی شناختوں کا حامل نہیں، بلکہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جو اپنے فیصلوں اور اعمال کے ذریعے اپنے وجود کی تشکیل کرتی ہے۔[۸]
یہ تصور مذہبی معرفت کی بحث میں ایک نئی جہت پیدا کرتا ہے۔ اگر علم انسان کی زندگی میں کوئی معنوی یا اخلاقی تبدیلی پیدا نہیں کرتا تو اس کے باوجود وہ درست علم ہوسکتا ہے، لیکن اس کی وجودی تاثیر محدود رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی تجربہ انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے تو اس کی معنوی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہوسکتی ہے، لیکن اس سے اس تجربے کے تمام علمی اور اعتقادی دعوے خودبخود ثابت نہیں ہوجاتے۔
اس امتیاز کی روشنی میں مذہبی معرفت کے تین باہم مربوط مراحل سامنے آتے ہیں: حقیقت کی عقلی تصدیق، اس حقیقت کی شعوری تفہیم، اور انسانی وجود میں اس کے اخلاقی و روحانی اثرات۔ یہ مراحل لازماً ہر شخص کی زندگی میں ایک ہی ترتیب سے واقع نہیں ہوتے، لیکن مذہبی فکر کی جامع تفہیم کے لیے ان تینوں کی علمی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
شیخ مصطفیٰ صبری کی فکر اس سلسلے میں ایک مضبوط کلامی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ مذہبی حقیقت کو محض تجرباتی علم کی حدود میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ وہ عقل کی حجیت کا دفاع کرکے مذہبی صداقت کو ایسے استدلال کا موضوع بناتے ہیں جو شخصی احساس یا محض تاریخی روایت سے آگے بڑھ کر علمی تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں گیان رس کا وجودی و صوفیانہ تناظر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ انسانی زندگی کا مسئلہ صرف درست تصورات حاصل کرنے کا نہیں، بلکہ ان تصورات کے ذریعے اپنے وجود کی معنویت دریافت کرنے کا بھی ہے۔
یہ دونوں زاویے ایک دوسرے کی تکمیل کرسکتے ہیں، لیکن ان کے درمیان ممکنہ اختلافات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر عقل کو حقیقت کی معرفت کا واحد معتبر ذریعہ سمجھ کر انسانی روحانی تجربے کی ہر نوع کی معنوی حیثیت غیرمتعلق قرار دے دی جائے تو مذہبی زندگی کی ایک اہم جہت نظرانداز ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اگر روحانی تجربے کو عقلی تحقیق سے بالاتر ایک غیرمشروط معیار بنادیا جائے تو مذہبی صداقت کے دعووں کی تنقیدی جانچ مشکل ہوجائے گی۔
اسی لیے بنیادی سوال عقل اور معرفت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں، بلکہ ان کے باہمی تعلق اور حدود کے تعین کا ہے۔ عقل حقیقت کے متعلق دلائل فراہم کرتی ہے، جبکہ وجودی معرفت انسان کی اس حقیقت سے وابستگی اور اس کے اثرات کو موضوع بناتی ہے۔ دونوں کو یکساں قرار دینا بھی درست نہیں اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر غیرمتعلق سمجھنا بھی علمی طور پر قابلِ دفاع نہیں۔
شیخ مصطفیٰ صبری کے تصورِ عقل اور «گیان رس» کے وجودی و صوفیانہ منہج کا تقابلی مطالعہ اسی بنیادی نتیجے کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ مذہبی معرفت کی جامع تفہیم کے لیے حقیقت کی عقلی صداقت اور انسان کی زندگی میں اس کے معنوی تحقق، دونوں کو سنجیدہ علمی موضوع بنانا ضروری ہے۔ عقل کے بغیر مذہبی تجربے کی صداقت کا سوال تشنۂ تحقیق رہ سکتا ہے، جبکہ وجودی اور اخلاقی تشکیل کو نظرانداز کرکے مذہبی حقیقت کی انسانی اہمیت کو پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکتا۔ جدید علمِ کلام کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ مذہب کی صداقت کے عقلی دفاع کے ساتھ اس کی انسانی، روحانی اور وجودی معنویت کو بھی اپنے فکری مباحث میں ایک مستقل مقام فراہم کرے۔
حواشی و حوالہ جات
[۱] مصطفیٰ صبری، موقف العقل والعلم والعالم من رب العالمين وعباده المرسلين، طبع دوم، بیروت: دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء، ج ۲، ص ۲۶۵؛ بحوالہ جمال مرشد عبود محمد، المنهج النقدي عند شيخ الإسلام مصطفى صبري، تحقیقی مقالہ، جامعۃ العلوم الإسلامیۃ العالمیۃ، عمان، ۲۰۱۵ء، ص ۱۲۷۔ اسی مقام پر شیخ مصطفیٰ صبری نے علمِ تصدیقی، عقلی استدلال اور مدون علوم کے مفہوم میں امتیاز بیان کیا ہے۔




کمنت کیجے