اشیا کے مابین اقتران (concurrence) کی توجیہہ سے متعلق:
1) ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ اشیا میں پیوست تاثیرات (intrinsic potentials) سے عبارت ہے، یہ ارسطو کا قول ہے۔ اس قول کے مطابق استقرا کے ذریعے جب ہم کوئی کلی قانون تعمیر کرتے ہیں تو وہ خارجی اشیا پر مبنی ان تاثیری روابط کا بیان ہوتا ہے۔
2) ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ نری ذہنی عادت (mental habit) ہے، یہ ہیوم کا قول ہے۔ اس نظرئیے کی رو سے استقرائی قوانین انسان کی ایک نفسی میلان (psychological tendency) کے مظہر ہیں، ان روابط کے خارجی وجود کا کوئی علم نہیں۔
3) ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ ذہن میں موجود تفہیمی مقولات (mental categories of understanding) کا نام ہے، یہ کانٹ کا قول ہے۔ اس کے مطابق استقرائی قوانین اشیا کی تاثیرات نہیں بلکہ ذہن کی ساخت کے مظاہر ہیں، خارج میں ان کے وجود سے متعلق ہمیں خبر نہیں۔
4) ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک فاعل مختار کی عادت کی بنا پر ہے، یہ اشاعرہ و ماتریدیہ اور معتزلہ کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اس موقف کی رو سے استقرائی قوانین کی بنیاد ایک فاعل کا ارادی فعل کرنا ہے، چنانچہ ذہن کے تعمیر کردہ استقرائی قوانین کی ایک خارج از ذہن بنیاد موجود ہے۔
اب اگر آپ درج بالا اقوال کو دیکھیں تو اس میں سب سے برا قول ہیوم کا ہے اور اس کے بعد کانٹ کا۔ یہ دونوں علم کو ذہن سے ماورا کسی خارجی بنیاد سے کاٹ کر سبجیکٹو بنادیتے ہیں۔ ارسطو کا قول ان دونوں سے بہرحال بہتر ہے اگرچہ وہ ایک طرف قدم عالم جیسے محال امور کو لازم ہے اور دوسری طرف جمادات وغیرہ سے متعلق بلا دلیل یہ غیر عقلی و غیر ضروری مفروضہ قائم کرنے پر مبنی ہے کہ یہ بھی مؤثر ہیں۔ عقلی و فلسفیانہ طور پر سب سے مضبوط قول متکلمین کا ہے۔
یہاں غور کرنے کی تین مزید باتیں بھی ہیں:
1۔ مغربی فلسفے سے واقف بعض لوگوں کو کہنا ہوتا ہے کہ جدید فلسفیانہ خیالات نے کلامی نظریات کو غیر معقول یا پھر غیر متعلق ثابت کردیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ہیوم و کانٹ کے پیش کردہ یہی وہ خیالات ہیں جن کے زور پر یہ دعوی کیا جارہا ہے تو اسے شیخی اور بیچارگی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر ایسے خیالات کی بنا پر کوئی کانٹ کو تمام اہل مذہب کی عقل سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے تو یہ صرف شاعری ہے۔
2۔ اس دعوے کی غلطی پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ متکلمین کا فریم ورک یونان سے مستعار ہے۔ ایسی بات پر وہ اصرار کرتا ہے جسے علت و معلول کی بحث میں متکلمین کے موقف کی اوریجنیلٹی کا علم نہ ہو۔ پھر یہ عجب بات ہے کہ کانٹ وجود ذہنی کے ابن سینا کے موقف کو بنیاد بنا کر علت کو خیال قرار دے تو یہ فلسفے کی دنیا میں “پاتھ بریکنگ “کنٹریبیوشن بن جائے اور متکلمین ارسطو کے نظریہ تاثیر کو رد کرکے فاعل مختار کے ذریعے اس مسئلے کا حل پیش کریں تو یہ اہل یونان کی پیروی کہلائے۔ الغرض فلسفیانہ اوریجنیلیٹی جانچنے کے کیا ہی خوب پیمانے ہیں۔ اگر جزوی مشابہتوں کی موجودگی ایسی پیروی کا پیمانہ ہے تو کسی بھی فلسفی کی فکر اوریجنل نہیں۔
3۔ کچھ لوگ متکلمین کے نظرئیے کو تجرباتی علم کے امکان کا دشمن سمجھتے ہیں اور ہیوم و کانٹ کو سائنس کا خادم۔ ہمیں ان حضرات پر حیرت ہی ہوتی ہے، جو لوگ علم کی خارجی بنیاد کی جڑ کاٹ دینے والے تھے وہ ان کی نظر میں سائنس کے چمپئین کیسے بن جاتے ہیں!
کمنت کیجے