نفسیات (Psychology) ایک تعلیمی اور اطلاقی شعبہ ہے جس میں رویوں اور ذہنی طریق ہائے کارکا مطالعہ کرناہوتا ہے۔ یہ ایسے علم کے انسانی سرگرمیوں کے متعد د دیگر دوائر (spheres) پر بھی اطلاق کا حوالہ دیتی ہے جن میں افراد کی روزمرہ کی زندگی کے مسائل اور ذہنی عوارض کا علاج شامل ہے۔ لفظ سائیکالوجی (نفسیات) قدیم یونانی ψυχή, psyche (سائیکی)۔ روح، ذہن) اورlogy (study) سے ماخوذ ہے۔ 1870ء کے عشرے تک نفسیات فلسفے کی ایک شاخ تھی پھر یہ جرمنی اور امریکہ میں ایک مستقل سائنسی شاخ بن گئی۔ اس کا تجرباتی مطالعہ 1879ء میں اس وقت سے شروع ہوا جب ویلہم وونٹ نے اس کی اولین تجربہ گاہ قائم کی جو جرمنی میں صرف نفسیاتی تحقیق کے لیے مخصوص کر دی گئی۔
جدید علم نفسیات رینے ڈیکارٹ اور برطانوی حامی اصولِ تجربی، براعظمی عقلیت پسند اور داعی ٔ مکاتب فلسفہ فرانسس بیکن کی تصانیف سے متاثر ہوا۔ اس کے دورِ متاخر کی تجربی نفسیات پر بے پناہ اثرات تھے۔
۔ جان لاک کے (An Essay Concerning Human Understanding, 1689)
۔ جارج برکلے کے (Treatise Concerning the Principles of Human Knowledge, 1710)
۔ ڈیوڈ ھیوم کے (A Treatise of Human Nature 1740)
۔ ڈیوڈ ہرٹلے کی کتاب (Observations on Man 1749)
۔ جان سٹوارٹ مل کی (1843 A System of Logic)
۔ بروچ سپینوزا کی ( On the Improvement of the Understanding, 1662)
۔ لائبنیز کیNew Essays on Human Understanding, 1765))
علم کی اس شاخ کی پیشرو فاضلانہ کتابیں ہیں۔ ڈنمارک کے فلسفی سورن کئیر کگارڈ نے بھی اپنی تصانیف:
The Concept of Anxiety (1844)
The Sickness Unto Death (1844 (
کے ذریعے انسان شناسی، متعلق وجود اور جدید مکاتب ِ نفسیات کو متاثر کیا۔
کانٹ نے اپنی (Metaphysical Foundations of Natural Science, 1786) میں دعویٰ کیا کہ نفسیات شاید ایک باقاعدہ فطری سائنس نہیں بن پائے گی کیونکہ دیگر اسباب کے علاوہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس کے مشاہدات کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ ( Journal of History of Behavioural Sciences, 42 (2006), p. 353- 377.)
کانٹ نے انسانی سوچ، احساس، خواہش اور عمل کی تجربی تحقیق کے لیے ایک متبادل تصور پیش کیا۔ اس کی تصنیف Anthropology from a Pragmatic Point of View (1798) متعدد پہلوؤں سے ایک تجربی نفسیات کی طرح لگتی ہے۔ ارنسٹ ہینرخ ویبر اور گستاف تھیوڈور فیکنر نے خارجی تہیجات کی طبعی مقداروں اور ان سے واقع ہونے والی شدتوں (intensities) کے درمیان ریاضیاتی کیفیات کو ناپنے (measure) کی بھی کوشش کی تھی۔
فزیالوجی (Physiology) بشمول نیورو فزیالوجی (Neurophysiology) پیشہ ورانہ مہارت کا علم ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں اس سے متعلق چند نئی دریافتیں ہوئیں جو چارلس بیل، فرینکوائیس میجنڈی، جوہانز ملر، ایمل ڈوبوائس ریمنڈ، پائری پال بروکا، کارل ورنیک، گستاف فرٹش، ایڈورڈ ہٹزگ، ڈیوڈفیرئیر، ہرمن ہیلمہولٹنراور ویلہم وونٹ کے زیر اثر ہوئی تھیں۔ آخرالذکر نے اپنی تاریخی کتاب Grundzuge der physiologischen Psychologie (Principles of Physiological Psychology) 1874 میں لکھی اور 1879ء میں ایک لیبارٹری کی بنیاد بھی رکھی جس کا مقصد Original Research in Experimental Psychology تھا۔
سگمنڈ فرائڈ نے مریضوں کے غیرشعوری اور فرضی عقائد و خواہشات کو بے نقاب کرنے اور خوابوں کی تعبیر کرنے کے طریقے وضع کئے۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے مریضوں کے اعصابی نظام میں گڑبڑ اور جذباتی ہیجانات (hysteria) کاا صل سبب یہی ہیں۔ اس نے اس طریق کار کو تحلیل نفسی(psychoanalysis) کا نام دیا۔ اور ایک فرد کے جنسی ارتقاء کے سفر، اس کے خفیہ ایجنڈے، بری خواہشات اور احساساتِ جرم کی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ چیزیں کسی فرد کی شخصیت اورا س کے رویئے کے بعض پہلوؤں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کارل گستاف یونگ، فرائڈ کا رفیق کار تھا۔ اس نے بعد میں اسے اس بنا پرچھوڑ دیا کہ وہ جنسیت (sexuality) پر بہت زیادہ زوردیتا تھا۔ اس نے لاشعور (unconscious) کے تصورات پر غور کرنا شروع کیا اور ذہن کے اُن کاموں کی تصریح کی۔ جو انا (Ego) سے تعلق رکھتے ہیںاور اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ ہیں: شعورِ ذات (Conscious self)، احساس (Sensation)، قوتِ لامسہ (Feeling)، ذہانت (Intellect) اور وجدان (Intuition)۔ یونگ ایک تجربی نفسیات پر اصرار کرتا تھا۔ جس میں نظریات کا حقائق پر مبنی ہونا ضروری تھا نہ کہ نفسیات دان کے مفروضات یا توقعات پر۔
ویلیم جیمز نے 1875ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک چھوٹی سی تجرباتی نفسیات کی لیبارٹری قائم کی جبکہ اس نے 1878ء میں ایک کتاب The Senses and the Brain and their Relations to Thoughts لکھی جس میں اس نے یہ استدال پیش کیا کہ شعور کوئی ضمنی علامت نہیں بلکہ ایک ارتقائی عمل ہے ورنہ اس نے طبعاً انسانوں کے اندر پیدا ہونے کو منتخب نہیں کرنا تھا۔ اس کی دوسری کتاب The Varieties of Religious Experiences بعد میں شائع ہوئی تھی۔ بعدازاں جلد ہی کئی یونیورسٹیوں میں تجرباتی نفسیات (experimental psychology) کی لیبارٹریاں کھل گئیں۔ 1890ء میں ولیم جیمز کی The Principles of Psychology بالآخر شائع ہو گئی۔ جس نے بہت سے ایسے سوالوں کے جوابات کی بنیادیں استوار کر دیں جن پر امریکی ماہرین نفسیات نے آنے والے برسوں میں توجہ مرکوز رکھنا تھی۔
جان ڈیوی، جیمز ہیڈن ٹفٹس، جارج ہربرٹ میڈ اور جیمز رولینڈ اینجل نے علم نفسیات کی تشکیلِ نو کرنا شروع کی۔ جس میں معاشرتی ماحول اور ذہن کی فعالیت اور رویے پر بہت زیادہ توجہ دی گئی جبکہ پہلے وونٹ کی نفسی طبیعیات (psychophysics) سے متاثرہ فعلیاتی نفسیات (psychophysics) پرانحصار کیا جاتاتھا۔ پھر انہوں نے مل کر شکاگو سکول آف سائیکالوجی کی بنیاد رکھی۔ 1892ء میں امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن قائم ہو گئی جس سے ساختیت (Structuralism) اور فعلیت (Functionalism) کی صورت گری ہوئی۔ فرانس میں نفسیات کو بنیادی تقویت علم الامراض ذہنی (Psychopathology) کے شعبے سے ملی جبکہ برطانیہ میں پہلا علمی رسالہ جو نفسیات کے موضوع کے لیے مخصوص کیا گیا اس کی بنیاد 1876ء میں ڈالی گئی۔ اس کا عنوان ذہن (Mind) تھا۔ کرداریت (Behaviourism) بیسویں صدی عیسوی میں نفسیات میں تحقیق کے لیے ایک مائل بہ عروج تجرباتی ماڈل تھا۔ اس کے زیادہ تر اسباب ایسے مشروط نظریات کی تخلیق اور ان کا کامیاب اطلاق تھا جنہیں انسانی روئیے کے لیے سائنسی ماڈل بنایا گیا تھا۔ تاہم نوم چومسکی کا دعویٰ ہے کہ زبان محض عملی مشروطیت (operant conditioning) سے نہیں سیکھی جا سکتی۔ عوام فقروں کی بے شمار اقسام وضع کر سکتے ہیں جن کی اپنی اپنی ساخت اور اپنے اپنے معنی ہو سکتے ہیں اور یہ محض فطری زبان کے تجربے سے پیدا نہیں ہوتے۔ لہٰذا یقیناً کچھ داخلی ذہنی ساختیں اور دماغ کی حالتیں ہوتی ہیں جنہیں کرداریت (Behaviourism) نے خیالی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
کمنت کیجے