Home » کاسمولوجیکل دلیل کے خلاف کانٹ کا اعتراض اور اس پر تبصرہ
سائنس شخصیات وافکار فلسفہ

کاسمولوجیکل دلیل کے خلاف کانٹ کا اعتراض اور اس پر تبصرہ

کاسمولوجیکل دلیل کے خلاف کانٹ نے اپنی نام نہاد اینٹی نامیز میں نقد پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اینٹی نامیز کو کانٹ اپنے ٹرانسنڈنٹل آئیڈئیل ازم کی سچائی کی بالواسطہ دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہاں ہم اس کی چوتھی اینٹی نامی کو دیکھتے ہیں (کاسمولوجیکل دلیل پر نقد کرتے ہوئے بظاہر علامہ اقبال اسی سے متاثر ہوئے تھے)۔ کانٹ کی تیسری اور چوتھی انٹینامی کے تھیسز اور اینٹی تھیسز کے طریقہ اثبات میں زیادہ فرق نہیں، سوائے اس سے کہ تیسری میں اس کے وضع کردہ خاص تصور علت کے مقابلے میں خود مختار ارادہ ہے اور چوتھی میں واجب الوجود ہستی اور یہاں کانٹ یہ کہنے کی کوشش کرتا ہے کہ عقل کی رو سے ایسی واجب الوجود ہستی موجود ہے بھی اور نہیں بھی، نہ عالم کے اندر اور نہ باہر۔ اس سے وہ یہ اخذ کرنا چاہتا ہے کہ عقل سے وجود باری پر گفتگو محال ہے کہ اس باب میں عقل ہر دو طرف کے دلائل کو مساوی جانتی ہے (اسے “تکافؤ ادلۃ” کا نظریہ کہتے ہیں، یعنی دلائل کا مساوی ہوجانا، اسلامی تاریخ میں بعض معتزلہ بھی اس کے قائل ہوگئے تھے)۔

آئیے اب اس کی دلیل کا تھیسز و اینٹی تھیسز ملاحظہ کرتے ہیں۔

– تھیسز

To          the          world          there           belongs           something           that,          either             as          a            part           of             it            or           as           its            cause,           is          an            absolutely necessary              being

یعنی کائنات کے لئے کوئی واجب الوجود موجود ہے، یا اس کے اندر یا اس کی علت کے طور پر۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر وہ تیسری انٹینامی کے تھیسز میں کرتا ہے کہ اگر یہ واجب الوجود نہ مانا جائے تو اس سے علتوں کا لامتناہی سلسلہ ماننا لازم آئے گا۔ اس علت یا واجب الوجود کا زمانے میں ہونا ضروری ہے، کیوں؟ اس لئے کہ:

* اس سے یہ ماننا لازم آئے گا کہ یہ واجب الوجود علت اس سلسلہ علت کی سیریز سے باہر ہوگی جس کے لئے یہ علت بن رہی ہے
* ایسا ہونا محال ہے کیونکہ زمانے سے متعلق علتوں کا تسلسل جاری ہونا تبھی ممکن ہے جب اس کا آغاز اس علت سے ہو جو زمانے میں موجود ہو
* لہذا اس اصل علت کا زمانے میں ہونا لازم ہے کہ علت نام ہی ماقبل زمانی شرائط و حالات کا ہے
* پس واجب الوجود کو عالم کے اندر ماننا لازم ہے، چاہے اس کے ایک جزو کے طور پر اور یا پھر علتوں کے اس مجموعے ہی کو ایسا مانا جائے

– اینٹی تھیسز

There         is        no         absolutely         necessary          being           existing           any           where,         either           in         the             world              or            outside           the          world         as its             cause

یعنی ایسی کوئی واجب الوجود علت موجود نہیں، نہ عالم کے اندر نہ اس سے باہر۔ کیوں؟ اس لئے کہ:

* اگر وہ اس کے اندر ہے
– تو ماننا ہوگا کہ عالم میں جاری علتوں کا کوئی ایسا آغاز ہے جس کی اپنی کوئی علت نہیں
– مگر یہ قانون علت کے خلاف ہے جو کہتا ہے کہ ہر شے کا وقوع اس سے ما قبل زمانی شرائط و حالات کا رہین منت ہے
– اور اگر اس کی بھی علت مانی جائے تو ماننا ہوگا کہ اس سلسلے کا کوئی آغاز نہیں ہوگا لیکن یہ ماننا بھی محال ہے کیونکہ
– اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ممکنات کی اس پوری سیریز کا ہر فرد اگرچہ علت کا نتیجہ ہے تاہم اس کا مجموعہ بغیر کسی علت کے موجود ہے

* دوسرا امکان یہ فرض کرنا ہے کہ وہ واجب الوجود اس سے ماوراء ہے،
– اس صورت میں اس علت کو علتوں کے دیگر سلسلوں کو متحرک کرنے کے لئے کچھ کرنا ہوگا
– اور اس عمل کا ظہور لازما زمانے میں ہوگا
– معلوم ہوا کہ وہ علت زمانے میں ہوگی نہ کہ اس سے ماوراء
– جس سے ثابت ہوا کہ اس علت کا عالم سے ماوراء ہونے کا ابتدائی مفروضہ غلط تھا
– اور عالم کے اندر ہونے کے مفروضے کو پہلے ہی غلط ثابت کیا جاچکا

پس نہ وہ عالم کے اندر ہے اور نہ اس سے باہر کہ ہر ایک موقف متضاد ہے

تبصرہ:

اگر آپ اس ساری تقریر کو ملاحظہ کریں تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ کانٹ یہاں علت کا ایک غلط تصور قائم کرکے تجزیہ کرتا رہا ہے۔ کانٹ کے مطابق علت ایسا اصول ہے جو زمانی تسلسل میں رونما ہونے والے حوادث (temporal        procession        of        events) میں ایسی ماقبل شرائط سے عبارت ہے جو اپنے سے مابعد حوادث کے لئے موجب (necessitating        factors) کی حیثیت رکھتا ہے۔ کانٹ کے اس مفروضہ اصول علت میں کم از کم چار غلطیاں ہیں:

الف) معلول کو علت فرض کرتے رہنا، یعنی کانٹ عام لوگوں جیسی باتیں کرتے ہوئے حادث ہی کو علت کہے جارہا ہے اور یہ بھی غور نہیں کررہا کہ حادث کی صفت ذاتی اثر ہونا ہے نہ کہ علت و مؤثر ہونا، ایسے میں “حوادث کے مابین علتوں کا تسلسل” کہاں سے در آیا اور اس کی کیا دلیل ہے؟

ب) علت ہونے کے لئے زمانی ہونے کی شرط عائد کردینا جس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ یہ شرط دراصل کانٹ کے غلط نظریہ ادراک کی پیداوار ہے جس کے مطابق حسی ادراک صرف زمانی و مکانی وجود ہی کا ممکن ہے (اس پر الگ سے گفتگو ہوتی رہی ہے)۔

ج) علت کو زمانی طور پر مقدم کہنا اور اثر کو مؤخر کہنا جبکہ یہ علت ہونے کی اس شرط کے خلاف ہے جسے طرد و عکس کہتے ہیں، یعنی جب علت ہو تو اثر ہو اور علت نہ ہو تو اثر نہ ہو۔ کانٹ یہ کہہ رہا ہے کہ جب علت موجود ہوتی ہے اس وقت اثر معدوم ہوتا ہے اور جب اثر موجود ہوتا ہے تب علت معدوم ہوتی ہے!

د) علت کو موجب کے معنی میں فرض کرلینا حالانکہ حوادث کے مابین اقتران کی توجیہہ کے سوا اس کی کوئی دلیل موجود نہیں جبکہ موجد کا نظریہ اس سے بہتر توجیہہ فراہم کرتا ہے (اور موجب کے تصور علت کے ساتھ لاحق چند مزید مسائل بھی ہیں)

چنانچہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ مسکرا کر کانٹ سے کہیں گے کہ تحکم کے زور پر علت کے اس غلط تصور کو منوانے کی کوشش کرنا چھوڑئیے اور کچھ بہتر سوچنے کی کوشش کیجئے، جب آپ معلول کا نام علت رکھ کر باتیں بنائیں گے تو ایسی ہی بنائیں گے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں